کمیونسٹ انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا جنوبی ایشیا
راقم جب اسکول کا طالب علم تھا تو چندی پور گاؤں میں اپنے کزن اور بہنوئی شیخ عبدالرحیم انجم کی ذاتی لائبریری میں موجود کتابوں کو گاہے بگاہے پڑھ لیا کرتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ کرنل رفیع الدین کی کتاب ”بھٹو کے آخری 323 دن“ کوثر نیازی کی ”اور لائن کٹ گئی“ اور زبیر رانا کی ”کیا مارکسزم ناکام ہو گیا؟“ وغیرہ کا مطالعہ کیا تاہم کم عمری کی وجہ سے مارکسزم کے جدلیاتی فلسفہ کو سمجھ نہ سکا۔ پھر اُس وقت کمیونزم کے خلاف پروپیگنڈا بھی پورے زوروں پہ تھا کہ کمیونزم انسان کو مسلمان سے کافر بنا دیتا ہے لہذا اس کا مطالعہ کرنے کو اچھا ہی نہ سمجھا جاتا تھا۔
جب میں گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج کا طالب علم بنا تو کالج کے قریب رہائش رکھنے کی وجہ سے ناشتہ یا رات کے کھانے کے لیے قریب واقع اندرون فرید گیٹ بازار چلا جاتا تھا۔ وہاں نواب ہوٹل اور نگار ہوٹل میں روزانہ کی بنیاد پہ دانشوروں، فلاسفروں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کی نشست لگا کرتی۔ ان کے ساتھ تھوڑا بہت اُٹھنا بیٹھنا ہوا۔ وہاں پہ جہاں دنیا بھر کے موضوعات زیرِ بحث لائے جاتے تو کمیونزم اور سوشلزم کو بھی ڈسکس کیا جاتا۔ سنٹرل لائبریری بھی آنا جانا رہا۔ اس دوران راقم کو ول ڈیورانٹ کی کتابیں”ہندوستان، تاریخ، تمدّن، تہذیب، فلسفہ“ اور ”داستانِ فلسفہ“ وغیرہ پڑھنے کا موقع ملا تو فریڈرک اینگلز اور کارل مارکس کے فلسفہ پہ لکھی گئی چند کتابوں کو بھی پڑھا۔
راقم نے جون 2021 کو ایک بلاگ بعنوان ”کیا پاکستان اور جنوبی ایشیا میں کمیونسٹ انقلاب کی آمد ممکن ہے؟ اکبر شیخ اکبر کا تجزیہ و تجویز۔ 106“ لکھا تھا۔ اُس میں ایک جگہ میں نے لکھا تھا کہ ”کمیونزم یا سوشلزم کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ معاشرے کے محروم طبقات کو مزید استحصال سے بچا کے کچھ تحفظ اور زندگی کی کچھ ضروری سہولیات ایک اجتماعی چھتری کے نیچے فراہم کر دی جائیں لیکن ہوا یہ کہ کمیونزم یا سوشلزم کو متعارف کرانے والوں سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے مذہب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کمیونزم اور سوشلزم کے مخالفین نے عوام کے اندر یہ بات پھیلا دی کہ کمیونسٹ مذہب دشمن ہوتے ہیں یہ تم سے تمہاری مذہبی آزادی چھین لیں گے۔ نتیجہ یہ کہ یہ انقلاب چند ممالک سے آگے بڑھ ہی نہ سکا۔ اس دوران کیپٹل ازم اپنی جڑیں پھیلاتا گیا اور زیادہ تر ممالک میں ممکنہ کمیونسٹ یا سوشلسٹ انقلاب کے سامنے طاقتور بند باندھ دیے گئے۔ خیال ہے کہ اس وقت جنوبی ایشیا میں کمیونسٹ یا سوشلسٹ انقلاب لانے کے تمام تر حالات اور مواقع ہونے کے باوجود یہ انقلاب فوری طور پہ یا آئندہ کئی دہائیوں تک آئے گا نہیں۔ وجہ۔ وجہ یہ کہ نہ تو اس وقت جنوبی ایشیا کی عوام کو مخلص لیڈرشپ میسر ہے اور نہ اس طرح کے انقلاب کو سپورٹ فراہم کرنے والی قوتوں میں کوئی دم خم باقی رہا ہے۔ چین بتدریج سرمایہ داری نظام کی طرف جا چکا ہے۔ روس اپنی سابقہ سپر پاور والی حیثیت کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہے یا یوکرائن سے الجھا ہوا ہے۔ رہ گیا کیوبا تو اس کی حیثیت بس ایک بجھے ہوئے سگار کی سی رہ گئی ہے۔ فی الحال آپ چی گویرا کی تصویروں سے دل بہلائیں“ ۔
آج 16 جون 2024 کو میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو میں اپنے سابقہ بلاگ میں کیے گئے تجزیہ کہ جنوبی ایشیا میں کمیونسٹ انقلاب لانا ممکن نہیں رہا کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ راقم اپنے مشاہدہ اور پاکستانی و انڈین پنجاب میں جاری کسان تحریک، بلندیوں کو چھوتی ہوئی مہنگائی، مڈل کلاس کی زوال پذیری، بے روزگاری اور سوشل میڈیا کے زیرِ اثر سیاسی شعور حاصل کرتی نوجوان نسل کے اذہان کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ جنوبی ایشیا کمیونسٹ انقلاب کی طرف قدم بڑھا چکا ہے۔
جنوبی ایشیا کا عام آدمی اس وقت جن حالات اور کیفیت سے گزر رہا ہے اُسے آپ میری درج ذیل نظم کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔
روز بم گرتے ہیں ہم پہ
روز ہم شہید ہوتے ہیں
روز مُفلسی ڈاکا ڈالے ہم پہ
روز ہم فقیر ہوتے ہیں
روز فردِ جرم لگے ہم پہ
روز فیصلے تحریر ہوتے ہیں
روز آزمائش اکبر میاں
روز پابند زنجیر ہوتے ہیں
راقم کا اندازہ ہے کہ سال 2030 کے بعد کمیونسٹ تحریک جنوبی ایشیا میں زور پکڑ لے گی اور عوام کی بڑی تعداد اس کا حصّہ بن جائے گی تاہم یہ سوال کہ کمیونسٹ تحریک جنوبی ایشیا میں اقتدار کب سنبھالے گی؟ ممکن ہے کہ اُس وقت کے آنے میں بیس یا تیس سال لگ جائیں۔ جنوبی ایشیا میں کمیونسٹ تحریک کے سرخیلوں کے لیے اکبر شیخ اکبر کی تجویز ہے کہ فرد کی مذہبی آزادی کو اپنے منشور کا لازمی حصّہ بنائیں ورنہ مستقبل میں اقتدار میں آنے کے باوجود آپ کو ایک خاموش بغاوت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے سبب آپ کا اقتدار زوال پذیر ہو جائے گا۔
فی الحال اس بلاگ میں یہ دعوٰی بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اگر مستقبل میں جنوبی ایشیا ایک کمیونسٹ کنفیڈریشن میں تبدیل ہو جاتا ہے تو کیا وہ چین اور روس کا حصّہ بن جائے گا یا اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھے گا؟ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں برسرِ اقتدار آنے والی کمیونسٹ پارٹیاں کمیونزم کے پرانے روایتی نظریے میں کچھ تبدیلی لاتے ہوئے سرمایہ داری نظام یا فرد کی جائیداد پہ محدود ملکیت کے لیے بھی تھوڑی بہت گنجائش نکال لیں۔ خیر۔
احباب سے گزارش ہے کہ درج بالا بلاگ کو راقم کے غیر جانبدار تجزیہ کے طور پہ لیا جائے۔ اس بلاگ کو میرے جذبات نہ سمجھے جائیں۔ مجھے تسلیم ہے کہ یہ بلاگ حرفِ آخر نہیں۔


