بے زبان کی فریاد: ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں


اللہ نے اونٹ کو ایسا حیرت انگیز فرماں بردار بنایا ہے کہ بچہ بھی اس کی رسی پکڑے تو وہ چل پڑے۔ قرآن پاک میں اللہ نے اسے اپنی بڑی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے۔ سورہ الغاشیہ میں ہے ؛کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللّٰہ نے اونٹ کو کس طرح پیدا کیا۔

”سورہٴ یوسف“ میں بھی اونٹ کا تذکرہ موجود ہے۔ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے فرمائش کی کہ ہمیں ایک ایسا معجزہ دکھائیں کہ ہمارے سامنے چٹان سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اسی وقت ایک بچے کو بھی جنم دے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے دعا مانگی۔ اللہ نے خوب صورت جسم والی اونٹنی کو بھیجا، جس نے سب کے سامنے ایک خوب صورت سا بچہ بھی دے دیا۔ انھوں نے اُس اونٹنی کو مار ڈالا۔ حضرت صالح نے انھیں بتایا کہ اب تم پر تباہی آ کر رہے گی اور ان پر تباہی آئی۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے دور میں بھی ایسے ہی ظالم وڈیرے اونٹوں کی دموں میں آگ لگا کر ان کے تڑپنے کا تماشا دیکھ کر قہقہے لگائے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام اپنے اشعار میں بیان کیا تھا جن کا ترجمہ ہے۔

شتر بانوں کے خیمے آباد رہیں گے
اور محلات والے برباد ہوں گے
تاریخ گواہ ہے شاہ لطیف کی بات درست ثابت ہوئی۔

سانگھڑ ضلع کے گاؤں منڈ جمرؤا میں ظالم وڈیرے نے کھیت میں داخل ہونے پر اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی۔ بے زبان اونٹنی ٹانگ کٹنے کے بعد دیر تک آسمان کی طرف منہ اٹھائے خدا سے فریاد کرتی رہی۔

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

ویڈیو سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ ہوا اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں اور لوگوں نے حکومت سے اس ظالمانہ حرکت پر زمیندار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ واقعہ ظلم ’بربریت اور بے رحمی کی انتہا ہے جو ایسی مخلوق نے کیا جو اشرف المخلوقات اور خود کو انسان کہتی ہے۔ ایک انسان سے ایسی درندگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انسان پوری طرح مہذب ہوتا تو معاشرے میں ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ مایوسی کے اس فضا میں امید کی چھوٹی سی کرن نظر آئی آنے والا زور دار ردِعمل ہے۔ جس سے تہذیب اور احساس کا اظہار جھلکتا ہے۔ اس واقعے کے اس پہلو کے علاوہ ایک اور پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا نا چاہیے کہ ہمارے ہاں انصاف اور اعلیٰ حکام کے نوٹس کے لیے کیس کا ہائی پروفائل ہونا اور میڈیا کی توجہ لازمی امر بن گیا ہے۔ اس عمل سے قانون کی حکمرانی کو سخت دھچکا لگا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو۔ نہ کہ اس بنیاد پر کہ مقدمے کا کوئی فریق کتنا اہم یا طاقتور ہے۔ طاقت کی بنیاد پر کیس کی سماعت یا فیصلہ قانون کی حکمرانی پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ عمل‘ سلیکٹو انصاف ’کو جنم دیتا ہے۔ اقوام کی ترقی سلیکٹو جسٹس سے جان چھڑانے میں ہے۔

ہمارے ہاں سلیکٹو جسٹس سسٹم کی مقبولیت پریشان کن ہے۔

اونٹ کے مالک سدورو بھن یا سومر بیہان نے کہا کہ پولیس چوکی انچارج شمس الدین اپنی بر ادری کے با اثر مرکزی ملزم کو بچانے کے لیے مختلف طریقوں سے ہمارے اوپر پریشر ڈال رہا ہے۔ پولیس نے فرضی بندے گرفتار کیے ہیں جو زمیندار کو بچانے کے لیے پیش ہوئے۔ پولیس کے مطابق اونٹ کے مالک اور کسان نے اس معاملے کے بارے میں پولیس کو اطلاع نہیں دی لیکن معاملہ سامنے آنے کے بعد حکام نے اس سے رابطہ کیا۔ کسان نے مجرم کی شناخت اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا، اس لیے ریاست کی جانب سے چھ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ میں بڑوں کے خلاف مقدمہ درج کرانا کتنا مشکل ہے؟

انسان شرف انسانیت سے گر کر درندہ بن جائے تو وہ خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ مکافات کا قانون اٹل ہے، خدا کی دی ہوئی مہلت سے انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی پکڑ کبھی نہیں ہوگی، حالانکہ اللہ کی پکڑ ایسے ایسے راستوں سے آتی ہے کہ انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ اونٹنی کا پاؤں کاٹنے والے وڈیرے کی رسی دراز تھی لیکن جب اس کی پکڑ آئی تو تمام دنیا نے اس کی یہ حرکت کیمرہ کی آنکھ سے دیکھ لی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو مارنے والے چند افراد تھے اور قہر خداوندی پوری قوم پر نازل ہوا۔ ہمیں بھی ایسے ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہیے تاکہ قوم ثمود کی طرح ہم پر بھی قہر خداوندی نہ ٹوٹے۔

 

Facebook Comments HS