منشیات ایک بدترین لعنت


ہمارے باپ دادا کے دور میں آج کی طرح نفسانفسی نہیں تھی، انسانوں کی ضروریات اور خواہشات محدود تھیں تاہم اپنے اپنے خاندان کے کچھ ناکارہ لوگ منشیات کی لت میں پڑ جاتے تھے اور اُن میں زیادہ تر لوگ منشیات کی گندی عادت کے سبب اپنے مذاہب کی طرف راغب تھے۔ میں سمجھتی ہوں جوں جوں انسان نے دنیاوی طور پر ترقی کی تو ہم میں سے ایک مخصوص طبقہ اپنے مذہب سے دور ہوتا چلا گیا اور ایسے افراد نے ہر وہ حرام کام جس کو وہ کبھی بھی نہیں مانا کرتے تھے اپنے سکون کے لئے کرنا شروع کر دیے۔

میں پھر کہتی ہوں ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت اب دن بدن خطرناک ہوتی جا رہی ہے کہ اِس وقت پیدا ہونے والے بچے بھی منشیات کے جراثیم سے پاک نہیں، نوعمر بچوں کو چاکلیٹ اور ٹافیوں سمیت مختلف میٹھی مصنوعات میں منشیات کا عادی بنایا جا رہا ہے۔ آپ کو ہر دو قدم کے بعد ایک منشیات فروش اور اس لعنت کی لت میں گرفتار افراد دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اِن کے ایک ہاتھ میں سگریٹ کی پَنی اور دوسرے ہاتھ میں ماچس و موم بتی اور اِن کی آستینوں میں وہ چھپا ہوا زہر جس کو پینے کے لئے اب انہیں چھپنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، وہ سرعام شاہراہوں کے فٹ پاتھ پر، کسی کھنڈر نما گھر میں، محلے کے قبرستان میں یا کسی بھی ویران مقام پر اِس سلو پوائزن کو اپنے اندر اتار سکیں جس کی بو دور دور تک پھیلتی ہے اور نوجوان نسل کے ذہنوں اور جسموں پر اثر انداز ہوتی، منشیات کا ارتقاء شاید مغربی ممالک سے ہوا لیکن اِس کی انتہا تک پہنچانے کے لئے پتہ نہیں کتنی نوجوان نسل اِس کی لپیٹ میں آ رہی ہے اور کب تک آتی رہے گی۔

آج کل منشیات اِن پردہ دار عورتوں کے ذریعے بھی فروخت ہوتی ہے جس کا اندازہ شاید معاشرہ میں نہ ملے اور نہ جانے کیسے کیسے معزز گھرانوں کے مرد اور عورتیں اِس کالے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں اور یہ لعنت نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو اِس کالے دھندے کا مرتکب بناتی ہے آپ دور مت جائیے ہمارے وہ پاکیزہ ادارے جن کے اندر نوجوان نسل کو آنے والے وقت کے لئے تعلیم دی جاتی ہے اور جن سے قوم و ملک کا اثاثہ کی شکل بھی پہچاننا مشکل ہو گیا۔

ہمارے معاشرے میں برائیاں تو بے شمار ہیں لیکن اِس کے سدباب کے لئے کوئی معاشرے کا فرد یا حکومت جان توڑ محنت نہیں کرتی۔ نہ جانے کتنے چراغ اب گل ہو چکے ہیں، جن کے پیچھے ہزاروں خاندانوں کی خواہشات، تمنائیں اور احساسات و جذبات بھی گل ہوچکے ہیں۔ ہماری آج کی نوجوان نسل اِس لعنت سے کب چھٹکارا حاصل کرسکے گی۔ کیا معاشرے میں بسنے والے لوگ اِس لعنت کو نہیں مٹا سکتے؟ نہیں بالکل نہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کے با اثر لوگ منشیا ت کا کاروبار کرنے یا کرانے میں ملوث ہیں۔

اگر سب شہری چاہیں بھی تو اِس لعنت سے چھٹکار ا حاصل نہیں کر سکتے۔ کیا ہمارا ضمیر اِس چیز کو گوارا کرتا ہے؟ تاکہ آنے والی نوجوان نسل کے لئے پاکیزہ اور صحتمند ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اب تو درختوں کے پتے بھی اس لعنت کے سبب زرد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر آپ محاسبہ کریں تو آپ ایک درخت کے نیچے اِس لعنت کو جلائیے تو اِ س کے دھوئیں سے اِس درخت کے سر سبز پتے بھی پیلا ہٹ اختیار کرنے لگ جائیں گے تو آپ سوچئے جس کے دھوئیں سے ہرے بھرے پتے پیلے پڑ جاتے ہیں تو جو شخص اِس لعنت کو استعمال کرتا ہے اِس کے جسم کا اندر سے کیا حشر ہوتا ہو گا۔

نشے کا عادی ہر شخص دین اور دنیا کو بھول جاتا ہے اور اُس کو ہر وقت نشے ہی کی طلب رہتی ہے اور اِس کا ضمیر بھی مردہ ہو جاتا ہے اور اِس کو اپنے اور پرائے کی کوئی خبر یا تمیز نہیں رہتی یہاں تک کہ وہ اپنے خون کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ جب نوجوان اپنی ابتدائی درسگاہ سے اِس موذی مرض لعنت کا منہ دیکھتا ہے تو اِس کے اثرات بھی اِس پر مرتب ہوتے ہیں جس بچے کا سربراہ اپنے گھر کے سامنے بیٹھ کر نشہ کرے تو اِس بچے سے مستقبل کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

اس نے اپنے آبا و اجداد کے طور طریقے پر چلنا ہے آج کی ہماری نوجوان نسل بے روزگاری، مایوسی اور محرومی کا شکار ہے جب وہ اپنے دورِ جدید میں زندگی کے لوازمات پورے نہیں کر پاتے تو معاشرہ اُنہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں استاد کے ہاتھ میں سگریٹ ہوگی تو اس درسگاہ سے طالب علم نشہ کی تعلیم ہی حاصل کر سکتے ہیں نہ جو کہ انہیں اپنے مستقبل کے لئے تعلیم حاصل کرنا تھی وہ نہیں کر پاتے، جس معاشرے کے اندر پہلے ہی نشہ آور لوگ موجود ہوں وہاں پر صحت مند معاشرے سے کیسی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ چار منٹ کا سکون آنے والی نسل کو بھی برباد کر دیتا ہے۔

وہ ننھے پھول جن کو کھلنے کے بعد معاشرے میں خوشبو پھیلانی چاہیے تھی اور راہ گیروں کے سامنے سے کانٹے ہٹانے چاہئیں تھے لیکن وہی نوجوان نسل آنے والی نسلوں کے لئے خوشبو پھیلانے کی بجائے ان کی راہوں میں کانٹے بچھا ر ہے ہیں لیکن یہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم اس معاشرے کے اندر رہتے ہوئے بھی اس لعنت سے نوجوان نسل کی جان چھڑا سکتے ہیں۔ لیکن یہ ناممکن ہے کیونکہ معاشرے کا کوئی فرد بھی اور نہ ہی کوئی سیاسی یا مذہبی پارٹی یا کوئی این جی او اس لعنت کو مٹانے کے لئے تیار ہیں۔

حالانکہ ہمیں بحیثیت قوم اس کا تدارک کرنا چاہیے۔ ایک نشے کے عادی شخص کی اولاد کبھی بھی اِس معاشرے کے لئے خوشحال ماحول فراہم نہیں کر سکتی کیونکہ منشیات کی لعنت لوگوں کی عادت بن جاتی ہے اور ان کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ اندھیرے انسان کو اپنے ضمیر سے غافل کر دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے ضمیر سے غافل ہو جاتا ہے تو اِس میں سوچ بچار کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ صرف اپنا مفاد چاہتا ہے خواہ کسی کے کتنے ہی لعل اور جانیں ضائع کیوں نہ ہو جائیں۔ آؤ ہم یہ عہد کریں۔ کہ اِس لعنت کو ختم کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے تاکہ ہماری آنے والی نسل کی اس لعنت سے حفاظت کی جا سکے اور ہم ایک خوشحال اور پر سکون زندگی بسر کرسکیں۔

 

Facebook Comments HS