ایاز میلو: وزیر اعلیٰ سندھ کے نام کھلا خط


جناب وزیراعلیٰ صاحب

امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے

صوبہ سندھ کے منتظم اعلی سے بذریعہ سوشل میڈیا مخاطب ہونے کے اس طریقہ کو سخت ناپسند کرتے ہوئے بھی بالآخر آپ سے مخاطب ہونے کا یہی واحد میسر وسیلہ استعمال کرنے پہ معافی چاہتی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جمہوری دور میں جمہوری وزیراعلی تک رسائی کے تمام راستے کم از کم میرے جیسی شہری کے لیے ناممکنات میں سے ہیں۔

عوامی طاقت پہ یقین رکھنے والے اور عوامی نمائندگی کے داعی تمام عوامی جمہوری اداروں کو عوام سے دور رکھنے کے لیے افسر شاہی سے لے کر دیگر بااثر حلقوں کی طاقت نے جس طرح یرغمال بنایا ہوا ہے وہاں تک عوام کی شخصی رسائی تو دور عوام کی آواز پہنچنے کے امکانات بھی روزبروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے مجبوراً مجھے اس سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑ رہا ہے تاکہ اس کھلے مراسلے سے آپ تک اپنی بات پہنچا پاؤں۔

جناب وزیراعلی صاحب،

مجھے معلوم نہیں کہ آپ سمیت سندھ اسمبلی کے کتنے ممبران اس فخر سندھ شاعر شیخ ایاز سے واقف ہیں جس کا شمار اس وقت فقط سندھ کے نہیں بلکہ بر صغیر کے بیسویں صدی کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے۔

شیخ ایاز ہمعصر دور میں جدید سندھی ثقافتی علامت کی حیثیت پا چکے ہیں کہ ان کی شاعری سندھ دھرتی کی تاریخ، ثقافت اور روایات کی عکاس ہے۔ لہذا ان کا نام ہی سندھی شناخت اور ورثے کا لازم جزو کی حیثیت پا چکا ہے۔ شیخ ایاز کی شاعری بیسویں صدی کی عکاس ہے جس میں سیاسی انقلاب، سماجی تبدیلیاں اور قومی تشخص کے اظہار کے علاوہ آمریت کے خلاف مزاحمت بھی شامل ہے۔

خانہ بدوش رائٹرز کیفے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دس سال سے مسلسل پاکستان کا سب سے بڑا یعنی پانچ دن کا ادبی ثقافتی میلہ ”ایاز میلو“ کے نام سے منعقد کرتا آ رہا ہے۔ ”ایاز میلو“ اب صرف حیدرآباد یا سندھ کی ہی ادبی و ثقافتی پہچان نہیں ہے بلکہ سندھ سے باہر پاکستان کے تمام صوبوں اور پاکستان سے باہر جہاں بھی اردو اور سندھی ادب و ثقافت کے شائقین ہیں وہاں تک ”ایاز میلو“ نے ’ایاز شناسی‘ اور ’سندھ کے ادبی ثقافتی بیانیے‘ کو عام کیا ہے۔

یہ پاکستان کا واحد ادبی و ثقافتی میلہ ہے جس کے انعقاد کی روایت آج سے دس سال پہلے خواتین کی قیادت میں شروع کی گئی اور یہ ہم خواتین کی قیادت کی مشترکہ دانش اور بصیرت کا نتیجہ ہے کہ ہم نے ”ایاز میلو“ کے ذریعے سندھ کے لیے ایک ایسا ’ترقی پسند ثقافتی بیانیہ‘ تشکیل دیا جو ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسی روشن خیالی کی تحریک اور جمہوری و ترقی پسند تحریک فکر فروغ دیتا ہے، جو اس تقسیم شدہ معاشرے میں سماجی تفریق کا خاتمہ کرتے ہوئے جنس، طبقے، اور شہری۔دیہی تقسیم کو مٹا کر مشترکہ شناخت کے احساس کو نمایاں کرتا ہے۔

”ایاز میلو“ نے بلاشبہ دس سال کے مسلسل انعقاد سے پاکستان اور پاکستان سے باہر رہنے والے سندھی اور اردو بولنے والے ادیبوں اور دانشوروں کو سنسرشپ یا جبر کے خوف کے بغیر، آزادانہ طور پر اظہار خیال کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔

”ایاز میلو“ نے اپنے انعقاد کے دس سالہ طویل سفر میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خلاف مزاحمت، رواداری، عوامی شمولیت، اور فکری گفتگو کے کلچر کو قابل تقلید نمونہ بنا کر پیش کیا پے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمعصر دنیا میں آرٹ اور ثقافت کی ناقابل تسخیر طاقت کسی بھی رجعت پسند غیر جمہوری سیاسی بیانیے کو شکست دے سکتی ہے اور اسی خیال کے زیر اثر ہم ”ایاز میلو“ کو علامتی طور پہ ایک ایسی دنیا کے تصور کی ترغیب کے طور پہ پیش کرتے ہیں جہاں تنوع کا جشن منایا جاتا ہے، تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے، اور خواتین اور پسے ہوئے طبقے کے ادب کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔

”ایاز میلو“ ایک ایسے نامیاتی کلچر کی تشکیل کرتا ہے جس سے سوچنے والوں، فنکاروں اور تبدیلی لانے والوں کی ایک نئی نسل فکری طور پہ تیار ہوتی ہے جس کو سندھ اور اس سے آگے کے ثقافتی منظرنامے کو تشکیل دیتے ہوئے ہمعصر سیاسی و سماجی چیلینجز کا مقابلہ کرنا ہے۔

پچھلے سالہ خانہ بدوش رائیٹرز کیفے نے ”ایاز میلو“ کو شیخ ایاز کے جنم کی ایک صدی مکمل ہونے کی نسبت سے صد سالہ جشن کے طور پہ منایا اور ہم بے حد شکر گزار ہیں کہ اس کا افتتاح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب نے کیا۔

محترم بلاول بھٹو صاحب کی خانہ بدوش میں آمد اور ”ایاز میلو“ کے صد سالہ جشن کا افتتاح کرنا ہمارے لیے باعث فخر تھا اور یہ ہماری ایک شعوری کوشش بھی تھی کہ سیاسی قیادت کو عوام کے ثقافتی اظہار کے جشن میں شریک کر کے براہ راست سندھ و پاکستان کے نامور ادیبوں، دانشوروں سے بات کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ واقف رہیں کہ ادیب و دانشور سماجی بیانیے کی تشکیل کس طرح کرتے ہیں اور دوسری جانب سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، فنکاروں اور سیاسی قیادت کے درمیان خلیج کو بھی کم کیا جا سکے تاکہ ایک ممکنہ مشترکہ نکتہ نظر کی تشکیل ہو کہ جہاں سیاست، سماج سے الگ کھڑی ہونے کے بجائے اس سے جڑی ہوئی ہو۔

جناب وزیراعلی، ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ آپ خود بھی ”ایاز میلو“ کے صد سالہ جشن میں نہ صرف چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ہمراہ شریک تھے بلکہ آپ خود شاہد ہیں کہ اس وقت بلاول بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں نہ صرف ”ایاز میلو“ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ مزید کلچرل اسپیس کی تخلیق پہ زور دیا۔ جناب چیئرمین نے ”ایاز میلو“ میں مقررہ شیڈول سے زیادہ وقت سندھ کے ادیبوں دانشوروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات سے ڈائیلاگ کو دیا اور اس قسم کے غیر رسمی ڈائیلاگ کی ضرورت پہ زور دیتے رہے۔

جناب وزیراعلی،

میں ماضی کو دہرانا نہیں چاہتی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہی کچھ سازشی عناصر نے خانہ بدوش رائٹرز کیفے کو بند کرنے اور اسے کسی معتدل گرانٹ سے محروم رکھنے کے لیے پچھلے دس سال میں کیا کیا نہیں کیا مگر ہمیں قوی امید تھی کہ ”ایاز میلو“ کا ”عوامی ثقافتی بیانیہ“ اس افسر شاہی کی تمام رکاوٹوں کو ایک دن عبور کر لے گا۔ میرا خیال ہے کہ مجھے یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں جہاں ثقافتی اظہار کے لیے زمین تنگ کی جائے، وہیں انتہا پسندی کی فصل اگنے لگتی ہے جو سماج کو ناقابل برداشت حد تک پھیلے تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ثقافتی اظہار کے راستے مسدود کرنے کی سازش پرتشدد انتہا پسندی کا راستہ آسان کرنے کے مترادف ہے۔ اور خانہ بدوش کے اس ثقافتی اظہار کی اسپیس کو ختم کرنے کے لیے کئی قوتیں پس پردہ کام کرتی رہی ہیں مگر امید تھی کہ یہ جگہ ایک دن آپ کی توجہ ضرور مرکوز کرانے میں کامیاب ہو گی۔

میں مختصر طور پہ ”خانہ بدوش رائٹرز کیفے“ اور ”ایاز میلو“ کو درپیش ان رکاوٹوں آپ کو گوش گزار کرتی چلوں کہ

1۔ خانہ بدوش رائٹرز کیفے کے دس سالہ قیام سے لے کر آج تک سندھ حکومت نے کسی بھی بجٹ میں کوئی مخصوص گرانٹ نہیں رکھی جبکہ خانہ بدوش ”ایاز میلو“ ایونٹ اور دیگر ادبی و ثقافتی ڈسکورس کی وجہ سے اپنے روشن خیال ترقی پسند فکری اساس کی بنا پہ پاکستان اور پاکستان سے باہر ایک روشن خیال عوامی ادبی و ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پہ اپنی پہچان قائم کر چکا ہے۔

2۔ خانہ بدوش رائٹرز کیفے اس وقت سندھ کے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں واحد ادارہ ہے جس نے بغیر کسی گرانٹ اور اسپانسر شپ کے سب سے زیادہ ادبی و ثقافتی پروگرام کیے ہیں جس میں پاکستان سے جرمنی، امریکا، برطانیہ سے کئی رائیٹرز خان بدوش کے ادبی پروگراموں میں مہمان اسپیکر طور شرکت کر چکے ہیں۔ جرمنی کے اخبارات میں خانہ بدوش کی ادبی سرگرمیوں کے متعلق وہاں کے ادیبوں نے آرٹیکلز بھی لکھے ہیں۔ رواداری پہ کام کرنے والے اسکالرز کی ایک سے زیادہ تحقیقی کتابوں میں بھی خانہ بدوش کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں اور ”ایاز میلو“ کو پاکستان میں روشن خیال فکری رواداری کی مثال کے طور پہ پیش کیا گیا ہے جو کہ سندھ کے لیے بھی ایک اعزاز سے کم نہیں۔

3۔ ”ایاز میلو“ پاکستان میں سب ادبی میلوں سے یکتا ہے کہ یہ پانچ روزہ میلو ہوتا ہے جس میں دیگر صوبوں سے ادیب اور سندھ بھر سے فنکار اپنی گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اس کو دوسرے ثقافتی ایونٹس کے مقابلے ملنے والے فنڈ انتہائی ناکافی ہوتے ہیں اور ہر سال کئی فنکار اور ادیب محض فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے شرکت سے محروم رہتے ہیں

4۔ ”ایاز میلو“ کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال ایاز میلو میں شرکت کرنے والوں کی رجسٹریشن شیٹ میں تقریباً سندھ کے ہر شہر سے اور دیگر صوبوں سے بھی شرکت رہتی ہے جو کہ ایک ہم میلو کے اختتامیہ پہ پیش کرتے ہیں مثلاً پچھلے پانچ سال میں شرکت کے حوالے سے ہزاروں لوگوں کی شرکت سے قطع نظر صرف مختلف پینلز پہ اسپیکرز کی تعداد 582، مشاعرہ پڑھنے والے شاعروں کی تعداد 750، محفل میں سنگرز کی تعداد بھی 235 ہے جبکہ والنٹیرز کے طور پہ کام کرنے والے رجسٹرڈ نوجوانوں کی تعداد 1050 ہے۔ یاد رہے کہ تمام لوگوں کے طعام اور کچھ مہانوں کے قیام اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی ایاز میلو کے منتظمین کرتے ہیں اس لحاظ سے اس کو ملنے والے فنڈ نہ صرف قلیل ہوتے ہیں بلکہ پاکستان بھر سے آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے طعام و قیام کے لیے بھی ناکافی ہوتے ہیں۔

5۔ ”ملکی سطح پہ“ ایاز میلو ”کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے نہ صرف ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں بلکہ عوام کی شرکت ہوتی ہے۔ پچھلے تین سال میں دوسرے صوبوں کے مختلف شہروں سے شرکت کے رجسٹریشن کا ریکارڈ کہتا ہے کہ

ایاز میلو 2023 میں دوسرے صوبوں سے شرکت
پنجاب کے 26 شہروں سے شرکت رہی
کے پی 12 شہروں سے شرکت رہی
بلوچستان 16 شہروں شرکت رہی
ایاز میلو 2022 میں دوسرے صوبوں سے شرکت
پنجاب کے 21 شہروں سے شرکت رہی
خیبر پختونخوا 9 شہروں سے شرکت رہی
بلوچستان کے 13 شہروں سے شرکت رہی
ایاز میلو 2021 سے دوسرے صوبوں سے شرکت
پنجاب کے 16 شہروں سے شرکت رہی
خیبرپختونخوا کے 5 شہروں سے شرکت رہی
بلوچستان کے 8 شہروں سے شرکت رہی

پچھلے دو سال سے ایاز میلو کے منتظمین نے دس سالہ تجربے اور ناکافی فنڈز کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کو بذریعہ خط اور وزیر ثقافت کو بذریعہ خط اور ایمیل درخواست دی کہ ایاز میلو کی اہمیت و ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے سندھ گورنمنٹ سالانہ بجٹ میں اس کا مخصوص بجٹ مختص کردے مگر یہ بات ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی بجٹ میں دیگر کئی ادبی اور ثقافتی میلوں / اداروں کا بجٹ بڑھایا گیا مگر ایاز میلو کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔

ہم سندھ حکومت کی جانب سے سندھ کے اندر تمام ثقافتی میلوں اور اداروں کے لیے حالیہ بجٹ میں مختص کیے جانے والے بجٹ کو خوش آئند سمجھتے ہوئے اس کو سندھ حکومت کا مثبت قدم سمجھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ”ایاز میلو“ کو بجٹ سے محروم رکھنے پہ شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ”ایاز میلو“ کے لیے کوئی بجٹ نہ رکھنا سندھ حکومت کی جانب سے ناصرف سندھ، پاکستان اور بیرون ملک ”ایاز میلو“ کے شائقین کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ یہ ”ایاز میلو“ میں شرکت کے خواہشمند پاکستان بھر کے ان تمام دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے لیے بھی سندھ حکومت کی جانب سے ایک مایوس کن پیغام ہے جو صرف فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے اس سال ایاز میلو میں شرکت سے محروم ہو جائیں گے۔

جناب وزیراعلی!

”ایاز میلو“ کو سندھ سرکار کی جانب سے اس سال کی پیش کردہ بجٹ میں یوں یکسر نظرانداز کرنا کسی طور بھی مناسب نہ تھا یہ نہ صرف منتظمین ”ایاز میلو“ بلکہ سندھ اور سندھ سے باہر ان تمام ادیبوں، دانشوروں کے لیے بھی مایوس کن بات تھی کہ جب ”ایاز میلو“ جیسا عوامی مقبولیت رکھنے والا ایک علمی و ثقافتی پروگرام بھی آپ کی توجہ پانے میں ناکام ہے تو پھر دیگر عوامی بیانیے کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔

اگر کسی صورت ہم بجٹ یا فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس سال یا آئندہ ایاز میلو منعقد نہیں کر پاتے یا اس کو مختصر کر کے صرف سندھ تک محدود کرتے ہیں تو یقین جانیے کہ یہ صرف منتظمین، شائقین، دانشوروں ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں ہی کا نقصان نہیں ہو گا مگر سندھ میں ایک ’روشن خیال فکری و تہذیبی بیانیے‘ کا بھی نقصان ہو گا جس کی قیمت ہماری عوامی و جمہوری و سیاسی حکومت ہی کو چکانا پڑے گی کیونکہ آپ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انتہا پسندی کا نشانہ صرف عام آدمی ہی نہیں بلکہ جمہوری فکر، معتدل قوتیں، عوامی سوچ اور جمہوری حکومتیں بھی بنتی ہیں۔

اس لیے، جناب وزیر اعلیٰ، ہم ایک بار پھر آپ سے بجٹ پہ نظر ثانی کی گزارش کرتے ہیں کہ ”ایاز میلو“ کو افسر شاہی کے رحم و کرم پہ چھوڑنے کی بجائے آپ اس سال کے بجٹ میں سندھ کے دیگر میلوں اور غیر سرکاری ثقافتی اداروں کی طرح ”ایاز میلو“ اور ”خانہ بدوش رائٹرز کیفے“ کے لیے بجٹ کا اعلان کریں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ایاز میلو کے منتظمین کا یہ کھلا مراسلہ اپنی ممکنہ توجہ پانے میں کامیاب رہے گا۔ اگرچہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ سرکاری سطح پر یہ بات آپ تک پہنچائی جائے مگر اب بھی لگتا ہے کہ افسر شاہی کے گھیرے میں یرغمال حکومتی حصار میں عوامی بات سنی جانا بہت مشکل ہے، اس لیے آپ سے اب براہ راست سوشل میڈیا کی طرف سے مخاطب ہیں۔

جناب وزیراعلیٰ

ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ آپ کلچر ڈپارٹمنٹ کے بجٹ میں ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مختص کی جانے والی رقم میں سے ”ایاز میلو“ کے لیے مخصوص بجٹ کا اعلان اسی بجٹ سیشن میں کر دیں گے۔

فقط

امر سندھو
منتظم اعلی
ایاز میلو کمیٹی (خانہ بدوش رائیٹرز کیفے)

Facebook Comments HS