بجلی کے کمر توڑ بِل
ارضِ وطن میں موسمِ گرما اپنی پوری شدتوں کے ساتھ جاری ہے۔ ایسے شدید ترین موسم میں محض بجلی ہی ایک ایسا سہارا ہے جسے آپ زندگی بچانے کا حربہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہاں مگر یہ عالم کہ اے سی تو کجا محض ایک دو پنکھوں کا بجلی کا بِل بھی استطاعت سے باہر ہو چلا۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر بجلی کا بِل ادا کر دیں تو گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور انسان نانِ جویں کا محتاج۔ تکلیف دہ امر یہ کہ ہم جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں اُس سے کئی گُنا زیادہ بِل ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت خوب جانتی ہے کہ بڑھتے ہوئے بلوں کی وجوہات کیا ہیں لیکن وہ بھی اِن وجوہات کا تدارک کرنے میں بے بَس نظر آتی ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے۔ یوں تو پنجاب میں بھی بجلی چوری کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن پنجاب حکومت بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی رہتی ہے۔ اِس وقت تک پولیس نے صوبے بھر میں چوروں کے خلاف لگ بھگ ایک لاکھ مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ دیگر صوبوں میں یہ کریک ڈاؤن خال خال ہی نظر آتا ہے۔ بجلی چوری کے علاوہ آئی پی پیز کا گھُن جو ناقابلِ برداشت ہو چکا۔
لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے 1994 ء میں بینظیر بھٹو نے 15 انڈی پینڈنٹ پاور کمپنیز (آئی پی پیز) کو بجلی بنانے کے لیے کہا۔ اِن کمپنیز کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا کہ حکومت اُن کی پیداواری گنجائش کے مطابق تمام بجلی خریدے گی۔ یعنی اگر حکومت کو 100 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اور اِن کمپنیوں کی گنجائش 200 میگاواٹ ہے تو حکومت نہ صرف یہ تمام بجلی خریدنے کی پابند ہوگی بلکہ ادائیگیاں بھی ڈالرز میں کی جائیں گی۔ 2002 ء تک 30 کمپنیاں بجلی پیدا کر رہی تھیں جبکہ جنرل پرویزمشرف کے دَور میں 2006 ء تک اِن کی تعداد 68 تک پہنچ گئی۔ 2015 ء میں نواز لیگ کی حکومت نے بھی 7 سرمایہ کاروں کو آئی پی پیز کے لائسنس جاری کیے۔ اِن تمام کمپنیز کے ساتھ معاہدے اُنہی خطوط پر کیے گئے جن پر 1994 ء میں بینظیر نے کیے تھے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ واپڈا اور آئی پی پیز مل کر لگ بھگ 38 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ ملکی ضرورت کسی بھی صورت میں 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ نہیں اور فالتو میگا واٹس کی آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائیگی کی جا رہی ہے۔ طُرفہ تماشا یہ کہ واپڈا پانی سے جو بجلی پیدا کرتا ہے اُس کی قیمت ساڑھے تین روپے فی یونٹ ہے جبکہ آئی پی پیز سے واپڈا 80 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں آئی پی پیز کو 18 ہزار ارب روپے کی ادائیگی کی جا چکی جبکہ خریدی جانے والی بجلی کی کل مالیت 10 ہزار ارب روپے بھی نہیں۔ گویا ڈالرز میں 8 ہزار ارب روپے کی فالتو ادائیگی کی گئی جو پیداواری گنجائش کی مَد میں تھی۔ اگر کسی بھی صورت میں اِن آئی پی پیز سے جان چھُڑا لی جائے تو بجلی کے بِل کہیں کم ہوسکتے ہیں۔ سوال مگر یہ کہ کیا اِن کمپنیوں کے اربابِ اختیار کے دلوں میں خوفِ خُدا یا انسانیت کا درد ہے؟
اگر ایک طرف آئی پی پیز نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے تو دوسری طرف بجلی چور بھی کسی سے کم نہیں۔ کے پی، بلوچستان اور اندرونِ سندھ میں بجلی چوری کی شرح اِس حد تک بڑھ چکی کہ سرکاری دستاویز کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خاں، ٹانک اور شانگلہ میں 100 فیصد صارفین کُنڈے ڈال کر قومی خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ مردان میں بجلی چوری سے 11 بلین کا نقصان ہوتا ہے۔ سوات کو 16 بلین کی بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ وصول 14 بلین ہوتے ہیں۔ ایک دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ماہانہ 49 ارب 9 کروڑ روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ ایک سال کے دوران 116 ارب 50 کروڑ یونٹس خریدے گئے جبکہ 97 ارب 34 کروڑ صارفین کو فروخت کیے اور 19 ارب 17 کروڑ چوری اور کُنڈے کی نذر ہو گئے۔ پشاور اِس معاملے میں سرِفہرست جہاں 77 ارب روپے کے یونٹس چوری ہوئے۔
وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بجلی کا تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ڈی آئی خاں میں ایک ہجوم کے ہمراہ گرڈ سٹیشن میں داخل ہو کر بجلی بحال کردی اور ساتھ ہی وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”میں آئی ایم ایف کو بتا دوں گا کہ حکومت ہمارے نام پر پیسے لے کر اپنی جیبیں بھرتی ہے۔ مجبور نہ کریں کہ آپ کی حکومت کو دھکا دے کر نکالیں پھر لانے والے بھی آپ کو نہیں بچا سکیں گے“ ۔ گنڈاپور نے نیشنل گرڈ کی بجلی بند کرنے کی بھی دوبارہ دھمکی دی۔ وہ ہر روز ایسی ہی بڑھکیں مارتا رہتا ہے۔ نیشنل گرڈ سٹیشن مرکزی حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں جہاں گنڈاپور نے زبردستی گھُس کر بجلی بحال کی۔ یہ ویسا ہی عمل ہے جیسا 9 مئی کو کیا گیا۔ پھر بھی حکومت پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت خاموش ہے۔ دراصل تحریکِ انصاف کی شدید ترین خواہش ہے کہ ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا کی جائے تاکہ ملک ڈیفالٹ کر جائے اور وہ خوشی سے بغلیں بجاتی پھرے۔ شاید یہی مصلحت آڑے آ رہی ہو کہ تحریکِ انصاف کے شَرپسندوں پر ہاتھ ڈالنے سے افراتفری کا خدشہ ہے جس کا فی الحال ملک متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ آئی ایم ایف سے اگلا معاہدہ بہت ضروری اور افراتفری کی صورت میں اِس معاہدے کی تکمیل ناممکنات میں سے۔
بات دوسری طرف نکل گئی، آمدم بَرسرِ مطلب سندھ اور بلوچستان میں بھی صورتِ حال ویسی ہی جیسی خیبر پختونخوا میں۔ سیکرٹری پاور راشد لنگڑیال کے مطابق سندھ کے ضلع جیکب آباد میں سب سے زیادہ ( 59 فیصد) بجلی چوری ہوتی ہے۔ لاڑکانہ میں 57 فیصد، شکارپور، دادو اور نوشہرو فیروز میں 52 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے جبکہ نواب شاہ میں بجلی چوری کی شرح 43 فیصد ہے۔ حیدرآباد میں بِل جمع کرانے کی شرح 5 فیصد، ٹنڈو الہ یار میں 9 فیصد، ٹنڈو محمد خاں میں 15 فیصد ہے۔ سکھر میں 40 فیصد اور لاڑکانہ میں 60 فیصد صارفین کُنڈے ڈالتے ہیں۔ بلوچستان میں پشین، سِبی، مکران، خضدار اور لورالائی میں کُنڈا کلچر عام ہے۔ اِس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں یونٹس کی مَد میں 300 ارب روپے کا نقصان کرتی ہیں جبکہ 200 ارب روپے کے بِل وصول ہی نہیں کیے جاتے۔
اِس وقت صورتِ حال یہ کہ بجلی چوری کے علاوہ ہر ماہ ہزاروں یونٹس اعلیٰ سرکاری افسران، ججز، جرنیلوں اور واپڈا ملازمین کو مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اِس مفت سہولت کی وجہ سے بجلی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہمارے شاپنگ مالز اور بازاروں میں بھی بجلی کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے بازار اور شاپنگ مالز دوپہر 12 بجے کے بعد کھُلتے اور رات گئے بند ہوتے ہیں جبکہ امریکہ اور یورپ جیسے امیر ممالک میں شاپنگ مالز اور بازار سرِشام بند کر دیے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں یہ نظام رائج کرنے کی کوشش کی جائے تو تاجر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہی کہ اِن سب کا علاج ”آہنی ہاتھ“ جو ہمارے حکمرانوں کے پاس نہیں۔


