کیلاشی گھر ، بشالینی اور میں


ساری دوپہر ان کے دو منزلہ چوبی گھروں کی دید میں گزری ۔شیر خان نامی لڑکا میرا رضاکارانہ گائیڈ بن گیا۔ سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہتا ٹھنڈا ٹھار پانی ندی نالوں کے ساتھ ساتھ زینہ در زینہ کھیتوں پھلدار اور سایہ دار درختوں سے گھرے یہ گھر جن کے آنگن دیودار جیسی قیمتی لکڑی کے ڈھیروں سے بھرے پڑے تھے۔ چوبی زینے جن پر سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا تھا۔

سیاہی سے اٹے ہوئے گھر کہ یوں گمان گزرے جیسے کوئلے کی کان میں داخل ہوئے ہوں۔ تختوں پر دھرے ایلومینیم چینی اور لکڑی کے برتن۔ تخت پوش اور کسی گھر میں ایک آدھ کرسی میز بھی۔ بڑے کمرے کے وسط میں آگ جلتی تھی اورچیستان (چاول کے بھُس اور رسیوں کی آمیزش سے بنی) چٹائیاں بچھی تھیں۔

کہیں تپاک محبت بھری مسکراہٹیں ٹوٹی پھوٹی باتیں۔ کہیں بے اعتنائی بیزاری سبھی جذبوں سے واسطہ پڑا۔

اب میں تھوڑی دیر کہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔ سستانے کو دل کرتا تھا۔ اس گرم دوپہر میں فطرت کا خاموشی سے نظارہ کرنا بھی مقصود تھا۔

شیر خان سے معذرت کرتے ہوئے میں ایک کشادہ سے میدان میں اخروٹ کے گھنے درخت تلے پڑے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی۔ میرے آس پاس درختوں نے اپنے پھل یوں زمین پر گرائے ہوئے تھے کہ جیسے اپنے مال کی زکوٰۃ نکالی ہو۔ یہ اور بات ہے کہ اس زکوٰۃ کو لینے والا کوئی نہیں تھا۔

گندم کٹ کر سمیٹی جا چکی تھی۔ اور اب ہر طرف مکئی کے ہرے کچور پودوں کا راج تھا۔ ان کی ہریالی اور گھنیرا پن آنکھوں کو طراوت اور دل کو شادمانی دیتا تھا۔

میں نے اپنے سامنے دیکھا تھا ۔ خاموش پُر اسرار بھید بھرے پہاڑ جانے کب سے کھڑے تھے۔ وادیوں کی خوشیوں غموں کے بے زبان سنگی۔ انکے رازوں کے امین۔ اس گرم دوپہر میں ان کی طرف مسلسل دیکھنا گویا اپنے آپ کو ایک ہولناکی سے دوچار کرنا تھا کہ وہ تو چُپ چاپ آپ کو گھورتے چلے جاتے ہیں۔ دید کے ہر لمحے نئی نئی خوفناک صورتوں کا روپ دھارتے دھیرے دھیرے آپ کی رگ رگ میں خوف سرایت کرتے چلے جاتے ہیں۔

میں نے کوہساروں سے منہ موڑ کر اُن بچیوں کی طرف توجہ کی جو میرے ارد گرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔ پر یہاں ادائیں تھیں اور پیسوں کی طلب۔ میں حسن پرست تو نہیں پر حُسن سے متاثر ضرور ہوتی ہوں۔ اور یہ چہرے متاثر کن تھے۔ اپنے روایتی ملبوسات میں شہابی رنگتوں نیلی اور بھوری آنکھوں اور رسیلے ہونٹوں کے ساتھ کم عمری اور آگہی کے جدید ذرائع سے دوری کے باوجود حسین بننے والے کچھ لوازمات کی لیپا پوتی اُن چہروں پر تھی۔

قریبی بہتی کھال کے پانی سے میں نے منہ ہاتھ دھویا اور اُسے پیا۔

اُس پانی میں کیسی خنکی کیسی مٹھاس سی تھی کہ جس نے میرے اندر جا کر ساری حرارت کو جذب کر لیا تھا۔ یہ چھوٹی سی کھال بلندیوں سے آ رہی تھی۔ وادی کے کھیت کھلیان اور لوگ ان کوہساروں کے کس قدر احسان مند تھے کہ جو سرمائی شدتوں کی سوغاتیں اپنے سینوں میں سمیٹ کر اُنہیں اس موسم میں حیات بخش تحفے کی صورت میں عنایت کرتے تھے۔ ہزاروں فٹ گہرے ندی نالے آبپاشی کے لیے کب موزوں تھے۔

میں نیچے سڑک پر آئی۔ اور ایک نئے منظر سے آشنا ہوئی۔ یہ سڑک سے قدرے ہٹ کر پختہ سرخ اینٹوں کا ایک بند کمرہ تھا جس کے دروازے پر کھڑی چند لڑکیاں ہنستی تھیں۔ دو تین داہنی دیوار کے ساتھ چپکی ہوئی تھیں۔ میرا سارا بچپن چھوٹے چھوٹے دیہاتی ریلوے سٹیشنوں کے ساتھ اسی طرز تعمیر والے کمروں کو دیکھتے گزرا تھا۔ لڑکیاں کھی کھی کرتیں چہرہ چھپاتی اور ادائیں دکھاتی تھیں۔

پھر میرے ہتھے ایک گائیڈ چڑھا۔ جس کے کندھے پر لٹکے تھیلے میں بہت سی نادر چیزیں تھیں۔ پہلا مرحلہ تصویروں کا تھا۔ کالاشی لڑکیوں ، قبرستان میں دھرے ٹوٹے پھوٹے تابوتوں میں بکھرے انسانی اعضاء اور کھوپڑیاں، چوب کاری کے اعلیٰ نمونوں والے دو منزلہ گھر۔

’’ میں نے تو اب تک ایک بھی ایسا گھر نہیں دیکھا ۔ تم نے کن کی تصویر کشی کی ہے؟‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔

’’یہی گھر ہیں۔ فرق نئے اور پرانے کا ہے۔ ‘‘
بہر حال تصویروں کی چھانٹی ہوئی۔ پیسوں کی ادائیگی کے بعد وہ اصل موضوع کی طرف متوجہ ہوا ۔

’’ یہ بشالینی ہے‘‘ میرے استفسار پر وہ گویا ہوا۔’’ آپ اسے لیڈیز نرسنگ ہوم کہہ سکتی ہیں ہمارے مذہبی عقیدے کے مطابق ایام کے دنوں میں عورت ناپاک اور نجس ہوتی ہے وہ گھر میں عام لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ بشالینی اسی مقصد کے لیے ہے۔ کہ یہاں عورت تکلیف کے ان ایام کو آرام فراغت اور ساتھی خواتین سے گپ شپ لگا کر گزارے۔ نہ پکانے کا جھنجھٹ نہ بھیڑ بکریاں چرانے کی ذمہ داری نہ فصلوں کی گڈائی نلائی اور کٹائی۔ بس موج ہی موج۔ پکا پکایا کھانا گھر والے دروازے پر رکھ جاتے ہیں۔ ‘‘

عورت بھی میں عمر رسیدہ سی تھی اور موضوع گفتگو بھی نسوانی عالمگیریت کا حامل تھا۔ کوئی ایسا ڈھکا چھپا مسئلہ بھی نہ تھا پھر بھی پیشانی عرق آلود تھی شاید اس لیے کہ ماحول اور معاشرے نے ہمیشہ اسے ایک مخفی رکھنے والا نا پسندیدہ عمل سمجھا اور سمجھایا۔ ایام میں جب بھی تکلیف کے باعث بستر پر لیٹے ۔ ابا چچا میں سے کسی نے پوچھا اماں نے ترت جواب دیا۔ ’’ ارے سر میں درد تھا پیٹ میں اپھارہ کی شکایت ہے۔ ‘‘ بیٹی تھی تو یہی سُنا۔ ماں بنی تو یہی کچھ سُنایا۔

’’ اور جب لڑکی پہلی بار بالغ ہوتی ہے۔ سلسلہ کلام دوبارہ جُڑا۔ خاندان کی بزرگ عورتیں لڑکی کی سہیلیاں پھل اور پھولوں کی سنگت میں اُسے بصد عزت و احترام بشالینی لاتی ہیں۔‘‘کیسا فراخ دل معاشرہ ہے۔ کہیں کلک ہوا۔ ایک جھماکا سا ۔ منظر سامنے تھا۔ ساتویں میں پڑھنے والی گیارہ بارہ سال کی لڑکی دو منزلہ گھر کی چھت پر بنی لیٹرین سے دو دو چھلانگیں مارتی نیچے ڈیوڑھی میں اپنی ماں اور ماسیوں کے پاس آئی تھی۔ اُڑی رنگت خوف سے پھٹی آنکھیں کانپتے لرزتے ہاتھوں اور ہونٹوں کے ساتھ۔ ماں نے اپنے سینے پر دو ہتڑ مارا اور روتے ہوئے کہا قسمت کھوٹی ۔ سیاپا پے گیا۔ ماسیوں نے صورت حال کو سنبھالا۔ رات گئے تک ماں کا واویلا کرنا اُسے آج بھی یاد تھا۔ کہ حیض کی آمد نے اُسکی بیٹی کے ناٹے قد کی بڑھوتری پر ٹھپہ لگا دیا تھا۔

Facebook Comments HS