طلعت حسین۔ ایک بے مثل اداکار و صدا کار اور باکمال افسانہ نگار


*ریڈیو، ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم کے بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز اداکار اور صدا کار اور افسانہ نگار جناب طلعت حسین صاحب جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ جناب طلعت حسین صاحب متعدد یادگار ملاقاتیں آج بھی حافظے میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے تین ملاقاتیں جناب طلعت حسین صاحب کے خوبصورت افسانوں سے متعلق ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے جناب طلعت حسین صاحب کے بہت قریب بیٹھ کر، ان سے افسانے سنے ہیں۔ ایک تو نجی محفل میں کہ جس میں سید نورالہدا سید صاحب، میڈم شہناز نور، پروفیسر جاذب قریشی صاحب، جناب محسن اعظم محسن ملیح آبادی، ڈاکٹر شکیل فاروقی اور میڈم عطیہ خلیل عرب جیسی نامور ادبی شخصیات شامل تھیں۔

دوسری تقریب میں صدیقہ بیگم، جناب جمیل الدین عالی، جناب شبنم رومانی صاحب شامل تھے جبکہ تیسری محفل حلقۂ ارباب ذوق کے روح رواں، فکشن لور اور ممتاز افسانہ نگار جناب زیب اذکار حسین صاحب کی کرم نوازی تھی، حلقۂ ارباب ذوق کا آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی منعقدہ اجلاس تھا کہ جس میں جناب طلعت حسین صاحب نے پارٹیشن، تقسیم اور ہجرت کے تناظر میں انتہائی عمدہ اور کرب سے لبریز افسانہ پڑھا۔ اس شاہکار افسانے کو دراصل جناب طلعت حسین صاحب کی خودنوشت کا ایک باب بھی کہا جاسکتا۔

کئی برس پہلے کی بات ہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں ادبی کانفرنس میں ہی مختلف سیشنز میں سے ایک حضرت جوش ملیح آبادی اور یادوں کی بارات کے ریوائزڈ ایڈیشن کے حوالے سے ایک سیشن تھا۔ حضرت جوش کی پوتی محترمہ تبسم اخلاق صاحبہ بطور خاص اس میں شرکت کی غرض سے اسلام آباد سے تشریف لائی تھیں۔ جناب طلعت حسین صاحب نے حضرت جوش کا کلام تحت اللفظ میں پیش کرنا تھا لیکن اس روز ان کی طبیعت ناساز تھی۔ دمے کے اثرات شدید تھے لہذا طلعت حسین صاحب چند اشعار ہی پڑھ کر معذرت کر کے اسٹیج سے اتر آئے۔

ان کا سانس بری طرح سے اکھڑ رہا تھا تو میں ان کو پکڑ کر کھلی فضا میں لے آیا اور کہا کہ میں آپ کو چائے پلواتا ہوں اس سے آپ کا سانس بحال ہو گا اور جیسے ہی چائے آئی تو میں نے ان سے بغیر اجازت لیے اپنی جیب سے جوہر جوشاندے کے ساشے نکالے اور ایک ان کے کپ میں مکس کیا اور ایک اپنے کپ میں اور جب انہوں نے دو گھونٹ چائے کے حلق سے اتار لیے تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے سگریٹ کب سے نہیں پی تو انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے ہوچکے ہیں۔

ان کی یہ بات سن کر میں نے نہایت انکساری سے انہیں سگریٹ پیش کی، لائٹر جلایا اور ان کی سگریٹ سلگا کر کہا کہ اب آپ کا سانس مکمل طور پر بحال ہو جائے گا۔ ہم دونوں بمشکل ایک آدھ گھنٹہ ہی ون ٹو ون بات چیت کرپائے ہوں گے کہ سب سے پہلے تو ڈاکٹر شکیل فاروقی اور پھر ایک ایک کر کے ان کے احباب اور مداح انہیں گھیرتے ہی چلے گئے۔ لیکن انہوں نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ اٹھ کر کہیں نہ جائیے گا، میری طبیعت بہتر ضرور ہے لیکن مکمل طور پر سانس بحال نہیں ہو رہا۔

جناب طلعت حسین صاحب کے ساتھ ون ٹو ون ملاقاتوں کے حوالے سے بہت سی حسین یادیں حافظے میں محفوظ ہیں۔ ایک تو یہ کہ دو ہزار سولہ میں سینٹ پیٹرکس اے۔ لیول کالج میں بہت شاندار انداز میں سالانہ تقریبات منائی جا رہی تھیں۔ میں ان دنوں ہیڈ آف اردو ڈیپارٹمنٹ کے خدمات انجام دے رہا تھا۔ شعبۂ اردو کے ہونہار طلبہ و طالبات نے ایک اسٹیج ڈرامہ تعلیم بالغاں تیار کیا تھا۔ پیش کرنے کے لیے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک اس کی ریہرسل کی۔

شعبۂ اردو، کالج انتظامیہ اور ڈین اس بات پر متفق تھے کہ مہمان خصوصی جناب طلعت حسین صاحب کو ہونا چاہیے لیکن طلعت حسین صاحب عموماً تقاریب میں کم، کم ہی نظر آتے تھے لہذا ان کی آمد کو یقینی بنانے کے لیے میری اور جناب طلعت حسین صاحب کے فرزند (اولڈ بوائے آف سینٹ پیٹرکس اے لیول کالج) کی خدمات حاصل کیں۔ باوجود اس کے کہ جب میں نے ان سے فون پر یہ گزارش کی تو کہنے لگے کہ میرے بیٹے نے بھی آپ کی اور سینٹ پیٹرکس کی انتظامیہ کی اس خواہش کا ذکر کیا تھا اور میں نے مثبت جواب ہی دیا تھا لیکن میں آپ سے یہ عرض کروں کہ کمٹمنٹ کر کے نہ آ سکا تو آپ برا مان جائیں گے اور آج کل میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

میں نے نہایت عاجزانہ انداز میں عرض کیا کہ آپ کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ تو آپ کی آواز سن کر ہو رہا ہے۔ بے شک آپ کو مدعو کرنے میں ہماری خواہش اور خوشی بھی شامل ہے لیکن ہمیں آپ بہت عزیز ہیں۔ آپ کی کمٹمنٹ کر کے نہ آ سکا تو آپ برا مان جائیں گے اور آج کل میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے نہایت عاجزانہ انداز میں عرض کیا کہ آپ کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ تو آپ کی آواز سن کر ہو رہا ہے۔ بے شک آپ کو مدعو کرنے میں ہماری خواہش اور خوشی بھی شامل ہے لیکن ہمیں آپ بہت عزیز ہیں۔

آپ کی صحت مند زندگی سے بڑھ کر کسی بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ جناب طلعت حسین صاحب نے اسٹیج ڈرامہ تعلیم بالغاں دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے ڈرامہ بہت پسند کیا اور انہوں نے تمام تر ٹیم کی بہت حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کے ساتھ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھ کر بات چیت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ کسی تقریب میں جمیل الدین عالی صاحب نے مجھے کسی سے سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے پسماندگان میں شامل اولاد کی بابت دریافت کرتے سنا تو فوراً ہی خود سے جمیل الدین عالی صاحب نے مجھے بتایا کہ بلے صاحب کی تین بیٹیاں تو یہیں قریب ہی سی ویو میں سکونت پذیر ہیں، احمد ندیم قاسمی صاحب جب بھی کراچی تشریف لاتے ہیں تو دختران سید فخرالدین بلے کے ہاں ضرور قیام فرماتے ہیں جبکہ ان کا ایک بیٹا ظفر معین بلے میرے گھر کے بالمقابل دی اوایسز، او اینڈ اے لیول کالج میں ہیڈ آف اردو ڈیپارٹمنٹ ہے اور میرا اپنا نواسہ اسی اسکول/کالج میں پڑھتا ہے۔

جناب طلعت حسین صاحب کے بقول یہ معلومات حاصل کر کے میں مطمئن ہو گیا اور تب ہی تو میں آپ کے کلفٹن بلاک میں واقع کالج میں آ کر آپ کے والد گرامی جناب سید فخرالدین بلے صاحب کی تعزیت کر پایا تھا اور میں نے آپ سے تذکرہ بھی کیا تھا ان یادگار ملاقاتوں کا جو میری سید فخرالدین بلے صاحب، جاوید احمد قریشی صاحب، ڈاکٹر خالد سعید بٹ صاحب، ڈاکٹر انور سجاد اور مسعود اشعر صاحب کے ساتھ ہوتی رہی تھیں۔

طلعت حسین صاحب کی شاندار اور باکمال اداکاری ارجمند۔ آنسو۔ طارق بن زیاد۔ بندش۔ دیس پردیس۔ عید کا جوڑا۔ فنون لطیفہ۔ ہوائیں۔ اک نئے موڑ پہ۔ پرچھائیاں۔ دی کاسل۔ ایک امید۔ ٹائپسٹ۔ انسان اور آدمی۔ رابطہ نائٹ کانسٹیبل۔ درد کا شجر جیسے شاہکار ڈراموں سے میں دیکھنے کو ملی تو ان ڈراموں سے پاکستان ٹیلی وژن کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا بھی بین الاقوامی سطح پر وقار بلند ہوا۔ جناب وسعت اللہ خان صاحب کا شمار عہد حاضر کے باکمال صاحبان علم، ادب دوست، ہر دلعزیز کالم نگار اور اینکرز میں ہوتا ہے۔

لیجنڈ طلعت حسین صاحب کی وفات پر جناب وسعت اللہ خان صاحب کا جو کالم منظرعام پر آیا اس میں جہاں مختلف زاویوں سے طلعت حسین صاحب کے حوالے سے بہت خوبصورت باتیں کی گئی ہیں اور جس تشویش کا اظہار نمایاں ہے وہ طلعت حسین صاحب کا تخلیقی کام (ناول) اور اس کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جناب وسعت اللہ خان صاحب نے لکھا کہ طلعت صاحب پچھلے کئی برس سے بتاتے رہتے تھے کہ میں نے ایک ناول تقریباً لکھ لیا ہے۔ بس آج کل میں مکمل ہونے والا ہے۔

جانے اس ناول کا اب کیا ہو گا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے سربراہ جناب احمد شاہ کو طلعت حسین صاحب کی چالیس برس سے زائد عرصے پر محیط رفاقت کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ محترمہ ہما میر صاحبہ کی تصنیف یہ ہیں طلعت حسین، آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی نے ہی شائع کی تھی۔ ہمیں امید نہیں بلکہ یقین ہے احمد شاہ صاحب کے ہوتے ہوئے طلعت حسین صاحب کا کوئی افسانہ، ناول، خودنوشت یا کوئی بھی تحریر غیر محفوظ نہیں رہے گی۔

نوٹ:: ممتاز مصور اور اردو زبان و ادب کے استاد پروفیسر آکاش مغل صاحب نے ازراہ کرم ہمارے اس مضمون کے لیے اپنا تخلیق کردہ مصورانہ شاہکار بطور خاص ہم سب کی نذر فرمایا ہے۔

طلعت حسین۔ ایک بے مثل اداکار و صدا کار اور باکمال افسانہ نگار

Facebook Comments HS