دُنیا داری سے دلداری تک: سفرنامہِ ٹورانٹو (2)


اتوار 9 جون 2024 ء کی شام کو تھارن کلف میں ہمارا استقبال طحہٰ مسعود لودھی نے کیا۔ تھارن کلف ٹورانٹو کے مضافات میں ایک ٹاؤن ہے جس کی آبادی کم و بیش 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔ اس آبادی کا پچاس فی صد پاکستانی، بنگالی اور افغانی باشندوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ دیگر نصف سفید فام، سیاہ فام فلپائن اور کورین تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ وہاں جا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جگہ پر پاکستانی، بنگالی اور افغانی آبادی نے اسلامی طرزِ زندگی کا حتیٰ الوسعٰ خیال رکھا ہوا ہے۔

اس کے شواہد یہ ہیں کہ یہاں پر ایک جامع مسجد موجود ہے۔ جس میں مسلمان بچوں کو پاکستانی مدارس کی طرز پر درسِ قرآن دیا جاتا ہے۔ خواتین و حضرات چہرے پر ایک SERIOUS FOR NOTHING قسم کی سنجیدگی سجائے پھرتے ہیں۔ یہاں پر چلتے پھرتے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنا اور مرد و خواتین کا ایک دوسرے کو ہیلو یا ہائے کہنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ رہائشی علاقے میں صبُح صبُح اور شام کے اوقات میں کئی مقامات پر سڑک کے کنارے وین نما گاڑی سبزی سے بھری ہوئی آتی ہے اور ڈرائیور ایک سائیڈ کے دروازے اور پچھلے دروازے کھول کر اس کو کیبن بنا لیتا ہے اب وہ اور اس کا ہیلپر مل کر تازہ سبزی اور فروٹ آتے جاتے پیدل چلنے والے صارفین کو بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔

’صفائی نصف ایمان ہے‘ کے اسلامی اصول پر عمل کرتے ہوئے ریستورانوں اور دکانوں اور گروسری اسٹورز کی اتنی ہی صفائی رکھی جاتی ہے جتنا نصف ایمان کا تقاضا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی بلا ناغہ مسجد میں کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ کو پاکستان کے کسی شہر جیسی اپنائیت ملتی ہے۔ عام ریستورانوں میں مے ناب نہیں ملتی نہ ہی قصبے میں کوئی مے خانہ نظر آتا ہے۔ لہٰذا یار لوگوں نے اگر اس بستی کا نام ”اسلامک ری پبلک آف تھارن کلف“ رکھ دیا ہے تو ان کے مشاہدے کی داد دینی چاہیے۔

طحہٰ مسعود لودھی، برادرم حامد مسعود لودھی کے صاحب زادے ہیں۔ حامد مسعود لودھی میرے بچپن کے دوست اور کورس میٹ نجف احمد لودھی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اتنا عرصہ تھارن کلف میں گزارنے کے باوجود یہاں پر بھی پرائے محسوس ہوتے ہیں۔ حامد بھائی کے ساتھ اگلے دو روز کا قیام ہمیشہ کی طرح اپنائیت سے بھرپور تھا۔ کیوں نہ ہو کہ اس کنبے کے ساتھ ہمارا چالیس سال سے پر محیط ایک قلبی رشتہ ہے۔ حامد بھائی اپنی شریکِ حیات اور بیٹے کے ساتھ دو دہائی سے یہاں مقیم ہیں اور اپنا بزنس کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں سالِ سوئم کے طالب علم طحہٰ مسعود لودھی ایک نہایت ذہین، مہذب اور خُوشگوار شخصیت کے حامل ہیں۔ اگلے روز حامد بھائی مجھے ’ڈان ویلی‘ کی سیر کے لیے لے گئے۔ تھارن کلف کی بستی دریائے ڈان کے کنارے آباد ہے۔ 38 کلومیٹر طویل اس وادی میں درجنوں کھیل کے میدان، پارک اور واکنگ ٹریل بنے ہوئے ہیں۔ وادی کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی ندیاں بہہ رہی ہیں جو نہ صرف اس کے حُسن کو دوبالا کرتی ہیں بلکہ جنگلی حیات کے لیے ضروری ہیں۔ یہاں پر تقریباً ہر قسم کے درخت پودے اور پھول پائے جاتے ہیں۔ اس وادی کی سیر کار میں کرتے ہوئے ہمیں دو گھنٹے لگ گئے۔ اگلے روز یہ سیر میں نے تنہا کرنے کی کوشش کی مگر آٹھ دس کلومیٹر سے زیادہ اندر نہ جا سکا۔

12 جون 2024 ء کی شام کو نارتھ یارک میں ڈاکٹر رفیع مصطفٰی کی طرف سے مسافر کے اعزاز میں عشائیے کی دعوت تھی۔ رفیع مصطفٰی نے 1969 ء میں برٹش کولمبیا یونیورسٹی سے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی۔ وہ پاکستان، سوڈان، برطانیہ اور کینیڈا کی متعدد یونیورسٹیوں میں تدریس اور تحقیق میں مصروف رہے۔ تعلیم و تدریس کے علاوہ وہ پچھلے پینتیس سال سے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فاؤنڈیشن سے بطورِ ممبر اور صدر وابستہ رہے ہیں۔ اُن کی ادبی تصانیف میں تین ناول اور متعدد مختصر کہانیاں شامل ہیں۔

ڈاکٹر مصطفٰی کی دعوت میں ڈاکٹر خالد سہیل، حسین حیدر، مرزا یٰسین بیگ سمیت آٹھ افراد مدعو تھے جن میں پرویز صلاح الدین، منیر پرویز سامی، فیصل عظیم، حامد مسعود لودھی شامل تھے۔ جن کی ناسازیِٔ طبیعت کی وجہ سے ان کی نمائندگی طحہٰ مسعود لودھی نے کی۔ یہ عشائیہ ایک ایرانی ریستوراں، ”تفتان کباب“ میں دیا گیا۔ ایرانی کھانا جس میں تفتان کے کباب، نان، میٹھا اور قہوہ بالخصوص شامل تھے یادگار حد تک مزے دار تھا۔ ڈاکٹر مصطفیٰ نے راقم کو اپنے ناول : TALES FROM BERHERA، ”اک راستہ ہے زندگی“ اور ”اے تحیّرِ عشق“ پیش کیے۔

کھانے کے دوران تخلیقی شخصیات، شاعروں اور ادیبوں کے طرزِ زندگی، خواب اور المیوں پر ایک پُر مغز مکالمہ سننے کو ملا۔ آخر میں فیصل عظیم اور منیر سامی نے اپنا تازہ کلام بھی سنایا۔ فیصل عظیم نے اپنی شاعری کی تازہ کتاب: ”میری آنکھوں سے دیکھو“ مجھے پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ فیصل عظیم ایک اہم شاعر اور پاکستان کے صفِ اول کے شاعر شبنم رُومانی کے فرزند ہیں۔ عظیم آج کل ’اربابِ قلم کینیڈا‘ کے منتظمِ اعلٰی ہیں جبکہ شاعر اور ادیب منیر پرویز سامی ”رائٹر فورم کینیڈا“ کے سیکرٹری اور ”انجمن ترقی پسند مصنفین کینیڈا“ کے ڈائریکٹر ہیں۔

اگلے روز یعنی 12 جون 2024 ء کو ہمارے صاحبزادے فوّاد اشرف کے عزیز دوست ارسلان خٹک ہمیں اپنے ساتھ برینٹ فورڈ کی سیر پر لے گئے۔ اونٹاریو کے جنوب مغرب میں سطح سمندر سے 248 میٹر کی بلندی پر واقع اور 98 مربع کلومیٹر پر پھیلے برینٹ فورڈ شہر کی آبادی ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ برینٹ فورڈ ایک سر سبز و شاداب زرعی علاقہ ہے جو ٹورانٹو سے ایک سو کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ تھارن کلف سے یہاں آتے آتے ہمیں دو گھنٹے لگ گئے۔

مگر سفر سہانا رہا کیونکہ ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور شاہراہوں پر رش نہیں تھا۔ ہم راستے میں جھیل اونٹاریو اور گرینڈ ریور (دریائے گرینڈ) کے نظاروں سے لُطف اندوز ہوئے۔ برینٹ فورڈ میں اولین اقوام ایف آئی آر ST NATIONS سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثریت میں ہیں۔ یہ لوگ زراعت کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے کئی قسم کے پھل، سبزیاں اور اناج کاشت کر رکھے ہیں۔ رات ہم نے ارسلان اور ان کی اہلیہ کے صاف ستھرے اور وسیع گھر میں بسر کی جہاں وہ اپنی شریکِ حیات ثنا قریشی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

شام کے وقت ہم نے تارکین وطن کے خوابوں اور المیوں پر ایک طویل مکالمہ بھی کیا۔ اگلے روز ارسلان ہمیں ٹوٹیلا ہائٹس روڈ پر واقع الیگزینڈر گراہم بیل کا وہ گھر دکھانے لے گئے جہاں پر انھوں نے 1874 ء میں پہلا ٹیلی فون ایجاد کیا تھا۔ اس نسبت سے اس شہر کو ’ٹیلی فون سٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ برینٹ فورڈ کی سیر کے بعد ارسلان خٹک ہمیں تھارن کلف کے علاقے میں ”لی سائڈ ڈرائیو“ میں ہمارے فیملی فرینڈ شاہد اسلم صاحب کے ہاں چھوڑ گئے۔ جہاں ان کی فیملی نے ہمیں اپنے گھر کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اسلم بھائی کے ہاں شب بسری کے بعد اگلے روز 14 جون کو ہم نے واپس کیلگری کا رختِ سفر باندھنا تھا۔

13 جون کی شام کو ڈاکٹر خالد سہیل کی جانب سے الوداعی عشائیہ تھا۔ یہ پر ُتکلف دعوت تھارن کلف میں واقع ایک پاکستانی ریستوراں (کڑاہی پوائنٹ) میں تھی۔ اس دفعہ ڈاکٹر خالد سہیل وقت سے پہلے پہنچ گئے اور ان کا دیدار کر کے ایک دفعہ پھر دل باغ و بہار ہوا۔ ابھی ہم کھانے کا مینو دیکھ رہے تھے کہ فیصل عظیم بھی حسبِ وعدہ اس مسافر کے لیے ادبی تحفے اٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ انھوں نے مجھے اپنے والد بزرگوار شبنم رومانی کی شاعری کی کتاب، اپنی شاعری کی کتاب : ”میری آنکھوں سے دیکھو“ اور محترمہ شہناز خانم عابدی کی جانب سے عبداللہ جاوید کی مولانا جلال الدین رومی پر تحقیقی مقالہ پر مبنی کتاب : ”رومی کون؟“ پیش کیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی جو کتب مجھے عنایت کیں ان میں ان کی شاعری کی کتاب: خواب در خواب، ’ہم سب‘ پر لکھے گئے کالموں کی کتاب پر مشتمل کتاب: آدرش اور اپنی 80 تصانیف کا نچوڑ: BECOMING FULLY HUMAN، پیش کیں۔ اس کے علاوہ دیگر دوستوں کے ادبی تحفے مجھے عنایت کیے جن میں روبینہ فیصل کا ناول : نا رسائی، ڈاکٹر بلند اقبال کی حال ہی میں شائع شدہ مغربی ادب کی تاریخ پر مبنی کتاب: ”افلاطون سے ما بعد جدیدیت تک مغربی ادب“ اور زہرہ زبیری کی کتاب : THE OTHER I شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کو اس سال مارچ میں پاکستان کے دورے کے دوران اہلِ قلم کی طرف سے متعدد کتب پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ کچھ کتابیں میرے سمیت فیملی آف دی ہارٹ کے ممبران کے لیے پاکستان میں موجود دوستوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ کینیڈا بھجوائیں۔ مگر کتب کی تعداد جہاز میں مقررہ وزن کی حد سے تجاوز کر گئی۔ اس صورتِ حال میں ڈاکٹر خالد سہیل کا ایثار ملاحظہ ہو کہ وہ ہمارے تحفے تو نہایت احتیاط سے اپنے ہمراہ کینیڈا لے آئے اور اپنی کتب پاکستان میں ہمشیرہ کے گھر چھوڑ کر یہ کہہ آئے کہ اگر کسی کا کینیڈا آنا ہو تو وہ بعد میں بھجوا دی جائیں۔

ہم اس خصوصی شفقت کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ میرے لیے لائی گئی کتابوں میں، دُعا عظیمی کے افسانوں کا مجموعہ : فریم سے باہر، اختر رضا سلیمی کا ناول: لوّاخ اور پاکستان کے صفِ اول کے ناول نگار محمد الیاس کی طرف سے میرے لیے بھجوائی گئی ”سب رنگ کی کہانیاں“ کے دو ایڈیشن شامل ہیں۔ پاکستان کے نامور کہانی کار شکیل عادل زادہ کا ”سب رنگ ڈائجسٹ“ پاکستان کے روشن خیال زمانے میں ہر خاص و عام کے لیے ایک مقبول ترین ڈائجسٹ تھا۔

بد قسمتی سے سب رنگ چند دہائیوں سے بند ہے۔ مگر ان کہانیوں کو کتابی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کا آغاز، بین الاقوامی شاہ کار افسانوں کے تراجم سے ہو رہا ہے۔ اس کے پہلے تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ جس کا سہرا حسن رضا گوندل کے سر بندھتا ہے۔ جو سب رنگ کے اس قدر مداح ہیں کہ انہوں نے ان کہانیوں کو دوبارہ کمپوز کر کے محفوظ کیا اور شائع کروانے کا بندوبست کیا۔ سب رنگ میں شائع ہونے والی کہانیاں، عالمی ادب اور اردو ادب کا ایک بیش بہا خزانہ ہیں۔ میں گوندل صاحب، الیاس صاحب اور ڈاکٹر خالد سہیل کا تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ماضی کی بھولی بسری کہانیاں پڑھنے کا دوبارہ موقع فراہم کیا۔ میں احباب کی طرف سے بھجوائی گئی کتب پڑھ کر تاثرات لکھوں گا۔

ٹورانٹو (اونٹاریو) میں گزرے آٹھ دن ایک حسین خواب کی طرح جلدی جلدی گزر گئے۔ گویا یہ آٹھ دن نہیں آٹھ منٹ کی بات ہو۔ گویا وہ خواب جو ٹورانٹو ائرپورٹ پر جمع 7 جون کو شروع ہوا تھا۔ جمعہ 14 جون کو ٹورانٹو ائرپورٹ پر کیلگری روانہ ہونے والے جہاز میں بیٹھتے ہی ٹوٹ گیا۔ یار زندہ صحبت باقی۔

Facebook Comments HS