9 ہمارا گھر، ہماری زمین۔ کائنات
1570 میں، ابراہم اور ٹیلیئس نے پہلی جدید عالمی نقشوں کی کتاب ( اٹلس) بنایا، جو پچھلے اسی سالوں کی دریافتوں کی عکاسی کرتا تھا۔ ریسرچ کا سنہری دور۔ ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ٹیلیئس اپنے شاہکار سے پیچھے ہٹ گیا اور بحر اوقیانوس کے دونوں اطرف کے لیے موزوں ہونے والے حیرت انگیز معمہ کے ٹکڑے کو دیکھنے والے بہت سے لوگوں میں سے پہلا بن گیا۔ اس نے بعد میں لکھا کہ امریکہ زلزلوں اور سیلابوں سے یورپ اور افریقہ سے دور ہو گیا تھا۔
لیکن اور ٹیلیئس کا مشاہدہ اگلی دو صدیوں تک ایک اندازے سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ایک جرمن ماہر فلکیات اور ماہر موسمیات نے اس کے لیے سائنسی کیس بنانے کے ثبوت اکٹھے کرنے شروع کیے۔ الفریڈ ویگنر کو پہلی جنگ عظیم کے دوران فوج میں بھرتی کیا گیا تھا، لیکن جلد ہی زخمی ہو گیا۔ جب وہ ایک فیلڈ ہسپتال میں صحت یاب ہو رہا تھا، اس نے زمین کے ماضی کا سراغ لگانے کے لیے سائنسی دستاویزات کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔
برسوں پہلے، ویگنر کو اپنی یونیورسٹی کی لائبریری کے ڈھیر میں ایک دلچسپ دستاویز سے سابقہ پڑا۔ اس نے ویگنر کو حیران کر دیا کہ بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر اب معدوم ہونے والے پتوں کی ایک ہی نوع کے فوسلز پائے جانے کی اطلاع ہے۔ دونوں براعظموں میں ایک ہی ڈائنوسار کے فوسلز کی دریافت اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں، ماہرین ارضیات نے بتایا تھا کہ کس طرح زندگی نے یہ تصور کر کے سمندروں کو عبور کیا کہ ان کے درمیان کبھی زمینی پل موجود تھے۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ زمینی پل آہستہ آہستہ بکھر گئے اور بہت پہلے لہروں کے نیچے غائب ہو گئے۔ لیکن شواہد کا ایک حصہ تھا جس نے ویگنر کو اس بات پر قائل کیا کہ مروجہ سائنسی نظریہ خود زمین کو غلط ثابت کر رہا ہے۔
پہاڑی سلسلہ کسی دوسرے براعظم پر جاری رہنے کے لیے سمندری تقسیم کو کیوں عبور کرے گا؟
اور آپ کو برازیل اور جنوبی افریقہ دونوں میں چٹانوں کی تہوں میں ایک ہی جیسا منفرد نمونہ کیوں ملے گا؟
ایک اور چیز کہ گرمی کے پودے آرکٹک کے انجماد میں کیسے پروان چڑھ سکتے ہیں؟
ویگنر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس پہیلی کا صرف ایک منطقی حل تھا کہ کبھی زمین پر ایک ہی براعظم ہوا کرتا تھا۔ اس نے اس کا نام ”پینجیا“ رکھا۔ تو ویگنر سائنسی دنیا میں قابلِ احترام بن جاتا ہے، ٹھیک ہے؟ بالکل نہیں۔ زیادہ تر ماہرین ارضیات نے براعظمی بہاؤ کے ویگنر کے مفروضے کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے ویگنر کے شواہد کو رد کرنے کے لیے اپنے خیالی قدرتی زمینی پلوں کو ترجیح دی۔ انہوں نے پوچھا کہ کوئی براعظم سمندر کے فرش کی ٹھوس چٹان پر کیسے ہل چلا سکتا ہے؟
ویگنر کے پاس کوئی قائل کرنے والا جواب نہیں تھا۔ لوگ اس پر ہنسنے لگے اور وہ سائنسی کانفرنسوں میں ایک اچھوت بن گیا۔ اس کے باوجود، ویگنر نے ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے جرات مندانہ تحقیقی مہمات سر کرتے ہوئے اپنے خیالات کے لیے لڑنا جاری رکھا۔ ان میں سے ایک پر، اسے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھی بغیر کھانے کے برف میں پھنس گئے ہیں۔ مشن سے واپسی پر وہ برفانی طوفان میں گم ہو گیا۔ اپنی پچاسویں سالگرہ کے ایک یا دو دن بعد ، وہ غائب ہو گیا، یہ جانے بغیر کہ وقت کے ساتھ، وہ صحیح ثابت ہو جائے گا اور تاریخ میں اسے ایک عظیم ماہر ارضیات کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
سائنسدان انسان ہیں۔ ہمارے اندر خرابیاں اور ہمارے تعصبات ہیں۔ سائنس ایک ایسا طریقہ کار ہے جو انہیں باہر نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سائنس کی بنیادی اقدار کے وفادار نہیں رہتے۔ بہت کم لوگ اسے میری تھارپ سے بہتر جانتے تھے۔ یہ 1952 کی بات ہے، اور میری صبر کے ساتھ شعبہ ارضیات کے اپنے ساتھی اراکین کی معمولی باتوں کو برداشت کر رہی ہے۔ ارضیات اور ریاضی میں اس کی ڈگریاں ان لوگوں کے لیے بہت کم حیثیت رکھتی تھیں۔ آئیووا سے تعلق رکھنے والا گریجویٹ طالب علم بروس ہیزن سونار کا استعمال کرتے ہوئے سمندر کے فرش کا نقشہ بنانے کے لیے ایک طویل مہم سے ابھی واپس آیا ہے۔
بروس: ”کیا تم ان کے ساتھ کچھ کرو گی؟“
میری: ”بروس، دیکھو۔ یہ۔ یہ سب ایک ساتھ مل گیا ہے۔ یہ دیوہیکل دراڑ وادی ہے جو بحر اوقیانوس کی تہہ سے گزرتی ہے۔“
بروس: ”او میری چلو۔ یہ صرف لڑکیوں والی بات ہے۔ کیا تم یہاں پہلے ہی سب کے ساتھ کافی پریشانی میں نہیں ہو؟ یہ بہت زیادہ براعظمی بہاؤ کی طرح لگتا ہے۔ کیا تم ویگنر کی طرح کا خاتمہ چاہتی ہو؟“
لیکن میری کو روکا نہیں جاسکتا۔ برسوں بعد ، جب میری اور بروس نے سمندری زلزلے کے مرکزوں کا نقشہ اپنے سمندری فرش کے نقشے پر روشنی کی میز پر رکھا، تو زلزلے دراڑ وادی کے بالکل اوپر نظر آئے۔ یہ ویگنر کے متحرک براعظموں کے لیے ناقابل تردید شہادت تھی۔ ہیزن اب جان گیا تھا کہ میری ٹھیک تھی۔ انہوں نے مل کر زمین کا پہلا حقیقی نقشہ بنایا جس میں سمندر کا فرش بھی شامل تھا۔ ہم آخر کار زمین کی سوانح عمری پڑھنے کے لیے تیار تھے۔
آئیے تخیل کے جہاز کو دنیا کے ایک ایسے حصے میں لے جائیں جو ہم میں سے چند کے علاوہ سب کے لیے حد سے باہر ہے۔ زمین کا دو تہائی حصہ ایک ہزار فٹ سے زیادہ پانی کے نیچے ہے۔ یہ ایک وسیع اور بڑی حد تک غیر دریافت شدہ سرحد ہے۔ ہر کوئی پہاڑوں کی چوٹیوں اور چٹانوں کو جانتا ہے، لیکن دنیا کے کچھ حیرت انگیز پہاڑی سلسلے نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ ایک ہزار میٹر سے نیچے، ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتے ہیں جہاں سورج کی روشنی نہیں ہوتی۔
اندھیرے میں پوشیدہ، عجائبات کی دنیا۔ یہ دنیا کا سب سے طویل آبدوزی پہاڑی سلسلہ ہے، اوقیانوس کی وسطی بحری ریڑھ (ایٹلانٹک مِڈ اوشن رِج) ۔ یہ بیس بال کی اوپری تہہ کی طرح ہماری دنیا کو لپیٹے ہوئے ہے۔ ماضی ایک اور سیارہ ہے، لیکن ہم میں سے اکثر، اس کو نہیں جانتے۔ ہم پانی کے لیے پہاڑوں کو نہیں دیکھتے۔ یہ وہ دنیا ہے جس کا تصور میری تھارپ نے سب سے پہلے کیا تھا۔ رج (ریڑھ) کی بلند ترین چوٹیاں سمندر کے فرش سے چار کلومیٹر اوپر اٹھتی ہیں۔
یہاں وسیع و عریض پہاڑی سلسلے اور گھاٹیاں (کینین) بھی ہیں۔ اب ہم ماریاناس ٹرینچ میں داخل ہو چکے ہیں، جو زمین کی سب سے گہری وادی ہے، جس کی گہرائی دس کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہ اس وقت بنی جب ٹیکٹونک قوتوں نے سمندری تہہ کو ملحقہ براعظمی پلیٹ کے نیچے دھکیل دیا۔ چاند پر اس سے کہیں زیادہ لوگ چل چکے ہیں جو یہاں کبھی نہیں آئے ہوں گے۔ یہاں کا توڑ دینے والا دباؤ آٹھ ٹن فی مربع انچ ہے۔ سمندر میں اتنا گہرا ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ کے اوپر پچاس جمبو جیٹ طیارے رکھ دیے جائیں۔
پھر بھی، یہاں بھی، زندگی نے گرفت پکڑ لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سورج کی روشنی گہرے سمندر میں داخل نہیں ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں روشنی نہیں ہے۔ پانی کے اندر بہت سی انواع اندھیرے میں چمکتی ہیں، ایک عمل کے ذریعے جسے حیاتی نورانیت ( بایولومینی سینس) کہتے ہیں۔ زمینی ممالیہ جانوروں کے طور پر ہماری طویل تاریخ، سورج کی روشنی والی دنیا کے باشندوں کے طور پر ہمیں ایسی زندگی کی حیرت انگیز قسم کے لیے تیار نہیں کیا گیا ہے جسے ارتقاء نے گہرے سمندروں میں تیار کیا ہے۔
چونکہ یہاں سورج کی روشنی نہیں ہے، اس لیے کوئی فوٹو سنتھیس نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کھانا کھلانے کے لیے کوئی پودے نہیں ہیں، اور پھر بھی، یہاں تک کہ، مستقل آدھی رات کی دنیا میں، ایک فروغ پذیر خوراک کی زنجیر (فوڈ چین) ہے۔ یہ ایک عمل سے شروع ہوتا ہے جسے تالیف کیمیائی ( کیموسِن تھیسس) کہتے ہیں۔ ان خوردبینی مخلوقات نے وہ کھانا سیکھ لیا ہے جو اس دراڑ سے نکلتا ہے، ایک زہریلا مرکب جسے ہائیڈروجن سلفائیڈ کہتے ہیں۔
وہ گاڑھا سیاہ دھواں کیمیائی توانائی فراہم کرتا ہے جو یہاں زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ چھوٹے خول دار جانور یا قشری (کرسٹیشین ) بیکٹیریا کھاتے ہیں، اور بڑے جانور کرسٹیشین کھاتے ہیں۔ ایک دن، مستقبل کی کسی زمین پر، یہ پہاڑ پانی کے اوپر بہت اچھی طرح ختم ہو سکتے ہیں۔ ٹیکٹونک قوتیں ہمارے سیارے کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل بھی ایک اور سیارہ ہے۔ یہ اس طرح کا آتش فشاں تھا جس نے لاکھوں سال پہلے ہوائی کے جزائر تخلیق کیے تھے۔
ہم ایک ابلتی ہوئی دیگچی کی پرت پر رہتے ہیں۔ ہمارے سیارے کے مرکز میں، ایک لوہے کا مرکز (کور) ہے۔ یہ ایک بڑے، مائع لوہے کے خول کے اندر رہتا ہے۔ اس پر لپٹا وہ حصہ ہے جسے مینٹل کہتے ہیں۔ یہ پتھریلا لیکن گرم اور چپچپا ہے۔ چولہے پر سوپ پکانے کے برتن کی طرح، مینٹل پریشان ہو رہا ہے۔ کیا چیز اسے حرکت میں رکھتی ہے؟ دو چیزیں جو زمین کی تشکیل کے وقت سے باقی رہ گئی ہیں، اور کور میں تابکار عناصر کا زوال۔ اور یہ بیرونی پرت۔
پرت، جہاں آپ اور میں اور ہر ایک جسے ہم جانتے ہیں، رہ رہا ہے۔ صرف ایک سیب کے جلد کی طرح موٹی ہے۔ مینٹل اپنے ساتھ ٹھوس اوپری پرت کو گھسیٹتا ہے۔ پرت مزاحمت کرتی ہے کیونکہ یہ ٹھنڈی اور سخت ہے۔ و قتاً فوقتاً یہ آخری نقطہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو زمین ہل جاتی ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ کسی نے بدتمیزی کی اور اسے اس کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ بے ترتیب قوتوں کی وجہ سے ہے جو فطرت کے قوانین کے تحت چلتی ہیں۔ زمین کے استحکام کا ہمارا احساس ہماری زندگی کے چھوٹے اور کم ہونے کی وجہ سے ایک وہم ہے۔ اگر ہم اپنے سیارے کو اس کے اپنے وقت کے پیمانے پر دیکھ سکیں، جس میں بڑی تبدیلیوں کو انجام دینے میں لاکھوں سال لگتے ہیں، تو ہم اسے ایک متحرک جاندار کے طور پر دیکھیں گے، جو یہ واقعی ہے۔
یہ تقریباً دو سو ملین سال پہلے کے ٹرائی ایسک دور کے آخر کی دنیا ہے۔ یہ چھوٹی مخلوق؟ یہ ہمارے دور کے آبا و اجداد میں سے ایک تھا۔ وہ نیویارک، نیو جرسی میں رہتا تھا۔ جہاں کہیں بھی آپ زمین پر چلتے ہیں، کھوئی ہوئی دنیائیں آپ کے پیروں کے نیچے دبی ہوتی ہیں۔ پچاس یا ایک سو ملین سال پہلے، بظاہر عام مقامات بھی تاریخی تبدیلوں کے منظرنامے رہے ہیں۔ یہ پیلیسیڈز ( دریائے ہُڈسن، نیو جرسی، امریکہ، کے مغربی کنا رے ) کی عمودی چٹانیں براعظم پینجیا کے ٹوٹنے کی یادگار ہیں۔
آتش فشاں پھٹنے کا سلسلہ جس نے ان چٹانوں کو بنایا وہ بھی اگلی بڑے پیمانے پر معدومیت کا باعث بنا۔ جس نے ٹریاسک دنیا کو ختم کر دیا۔ لیکن ایک نوع کے لیے تباہ کن معدومیت کا واقعہ دوسری نسل کے لیے سنہری موقع ہے۔ ٹریاسک کی معدومیت نے ایک گروہ کو موقع دیا جو کچھ عرصے سے اس دنیا کا سٹیج کا مرکزی کردار بننے کی کوشش میں تھا۔ ڈائنوسار نے ایک سو ستر ملین سال تک اچھی، طویل زندگی گزاری۔ اس وقت ہندوستان ایک جزیرہ تھا۔
وہ سالانہ چند انچ کی ناقابل تسخیر سرکاہٹ کرتا ہوا بالآخر شمال میں ایشیا سے جا ملا۔ پھر، ایک بار، زمین کی سطح کے نیچے پگھلی ہوئی چٹان پھٹ گئی اور مغربی ہندوستان کے ایک بڑے علاقے میں سیلاب آ گیا۔ جس طرح ایک باکسر کو آخری ناک آؤٹ گھونسا لگتا ہے، اسی طرح یہ آفت بھی اچانک تھی۔ آسمانوں سے ایک سیارچہ (ایسٹرائیڈ) زمین پر نازل ہوا۔ سو پاؤنڈ سے بڑے چند ہی جانور کر یٹیشیس دور (ایک سو پینتالیس سے چھیاسٹھ ملین سال پہلے ) کے آخری وقت میں تباہی سے بچ پائے۔
دھول کے بادل کئی مہینوں کی رات اور سردی کو سطح پر لے آئے۔ ڈائنوسار جم گئے اور بھوک سے مر گئے۔ لیکن زمین کی سطح کے نیچے پناہ لے لینے والی چھوٹی مخلوق تھی۔ اور جب وہ ابھرے تو انہوں نے دیکھا کہ جو عفریت انہیں شکار اور دہشت زدہ کرتے تھے، وہ اب وہاں سے جا چکے ہیں۔ اب زمین ممالیہ جانوروں کا سیارہ بن رہی تھی۔ اور زمین نے اپنی نمو مسلسل کو جاری رکھا۔
یہ علاقہ کبھی صحرا تھا جہاں کبھی کچھ اگ نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک ملین مربع میل تک ریت اور نمک تھا، جو آج کی زمین کے کسی بھی ماحول سے کہیں زیادہ پرتشدد تھا۔ دن کے وقت کا درجہ حرارت اتنا تھا کہ اس میں روٹی پک سکتی تھی۔ اور یہ سطح سمندر سے ایک میل سے زیادہ نیچے تھا، اس لیے ماحول کا دباؤ آج کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد زیادہ تھا۔ اس سیارے پر اس سے زیادہ غیر متوقع ماحول کے بارے میں سوچنا مشکل ہو گا۔ یہ سمندر بننے سے پہلے ساڑھے پانچ ملین سال پہلے بحیرہ روم کا طاس (بیسن) تھا۔

