9 ہمارا گھر، ہماری زمین۔ کائنات
زمین کبھی بھی زیادہ دیر تک حرکت کرنا بند نہیں کرتی۔ گہرے طاس کے مغربی سرے پر واقع قدرتی ڈیم (بند) نے راستہ دے دیا، غالباً زلزلوں کی وجہ سے۔ اور سیلاب شروع ہو گیا۔ طوفانی پانی نیاگرا آبشار سے چالیس ہزار گنا زیادہ کی شرح سے داخل ہونا شروع ہوا، جس نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایک وسیع صحرا کو بحیرہ روم میں تبدیل کر دیا۔ اس وقت تک کوئی انسان نہیں تھا جو اس زبردست سیلاب کا مشاہدہ کرتا یا اس کی تخلیق کردہ خوبصورتی کی تعریف کرتا۔
دریں اثنا، آدھی دنیا کے فاصلے پر، ایک وسیع چینل نے شمالی اور جنوبی امریکہ کو الگ کر دیا جس سے سمندری دھارے بحر اوقیانوس سے بحر الکاہل میں بہہ سکتے تھے۔ ٹیکٹونک قوتوں نے آہستہ آہستہ ان دونوں براعظموں کو اکٹھا کیا، چینل کو بند کر دیا اور پانامہ کا استھمس تشکیل دیا۔ یہ ایک تنگ زمینی راستہ ہے جو کریبین سمندر اور بحر الکاہل کے درمیان واقع ہے اور شمالی اور جنوبی امریکہ کو جوڑتا ہے۔ اس نے سمندری دھاروں کے عالمی نمونے کو دوبارہ منظم کیا، جس کے نتیجے میں، عالمی آب و ہوا متاثر ہوئی۔
افریقہ میں، سرسبز و شاداب جنگل کی چھتری نے زمین کی تزئین کو راستہ دیا۔ کچھ انواع جو درختوں میں زندگی کے لیے انتہائی مہارت رکھتی تھیں معدوم ہوتی چلی گئیں۔ لیکن وہ جو زندگی گزارنے کا راستہ تلاش کر سکتے تھے، چاہے زندگی نے ان کے ساتھ کچھ بھی کیا ہو، بچ گئے اور ارتقا پذیر ہوتے گئے۔ ہمارے آبا و اجداد کبھی زمین کی گہرائی میں چھپ جاتے تھے تاکہ ان شکاریوں سے بچ سکیں جو سطح پر ان پر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ لیکن جب ڈائنوسار ہلاک ہو گئے تو وہ دن کی روشنی میں ابھرے اور کئی زمانوں میں درختوں کی شاخوں میں نئی زندگیاں بنانے لگے۔
انہوں نے درختوں کی چوٹیوں کی چوڑی چھتریوں کے پار، جہاں ان کی تمام ضروریات پوری ہو جاتی تھیں، ایک شاخ سے دوسری شاخ پر جھولنے کے لیے انگوٹھوں اور انگلیوں کو تیار کر لیا۔ وہ سیدھے بھی چل سکتے تھے، لیکن صرف مختصر فاصلے کے لیے۔ آس پاس بہت سارے درختوں کے ہوتے ہوئے، انہیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن پھر سردی ہو گئی، اور درخت کم ہو گئے، گھاس کے وسیع میدان اُگ آئے، اور ہمارے آبا و اجداد خوراک کی تلاش میں ان سے گزرنے پر مجبور ہو گئے۔
آپ کو سوانا (وسیع میدانی جنگلات) میں زندہ رہنے کے لیے بالکل مختلف مہارت کی ضرورت تھی۔ پرانے دنوں میں، آپ اپنے درخت کی شاخ پر بیٹھ کر بڑی بلیوں کو محفوظ فاصلے سے دیکھ سکتے تھے۔ اب آپ اسی خطرناک میدان میں کھیل رہے تھے۔ زندہ بچ جانے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی پچھلی ٹانگوں پر بہت دور چلنے اور ضرورت پڑنے پر دوڑنے کی صلاحیت پیدا کرلی تھی۔ اس نے دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل دیا۔ ہاتھ اور بازوں اب صرف چلنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے تھے۔
اب ہاتھ کھانا اکٹھا کرنے اور لاٹھیاں اور ہڈیاں اٹھانے کے لیے آزاد ہو گئے تھے۔ انہیں اب ہتھیاروں اور آلات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بارے میں سوچیں کہ آدھی دنیا سے دور زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی ٹوپوگرافی (جغرافیہ) میں تبدیلی سمندری دھاروں کو تبدیل کر دیتی ہے۔ افریقہ سرد اور خشک ہو رہا تھا۔ زیادہ تر درخت نئی آب و ہوا کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ ان میں رہنے والے پرائمیٹ (بندروں کی نسلوں ) کو دوسرے گھر تلاش کرنے پڑے، اور اس سے پہلے کہ آپ اسے جانیں، وہ سیارے کو دوبارہ بنانے کے لیے اوزاروں کا استعمال کر رہے تھے۔
زمین نے انسانی تقدیر کے راستوں کو تشکیل دیا ہے، اور اسی طرح دور دراز کی دنیاؤں کے پوشیدہ کھینچاؤں نے بھی یہی عمل کیا ہے۔ سیاروں نے ہماری زندگیوں کو متاثر کیا ہے، لیکن اس طرح نہیں جس طرح آپ سوچتے ہیں۔ زہرہ کی کشش ثقل۔ چھوٹی لیکن قریب۔ اور مشتری۔ دور لیکن بڑے پیمانے پر۔ نے زمین کے محور کو جھکا دیا اور اس نے اور اس کے مدار کی شکل کو بھی تھوڑا سا سکیڑ دیا۔ اس نے وقتاً فوقتاً شمالی برف کے پہاڑوں کے کنارے پر گرنے والی سورج کی روشنی کی مقدار کو تبدیل کر دیا۔
بعض اوقات اس نے وہاں گرمیوں کو سرد کر دیا، اور گلیشیئرز ایک سال سے دوسرے سال تک جنوب کی طرف بڑھے، اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو پیستے، کھرچتے اور کچلتے چلے گئے۔ اس کو ہم برفانی دور کہتے ہیں۔ دوسرے اوقات میں، زمین کے محور اور مدار میں ہونے والی تبدیلیوں نے آرکٹک کی گرمیوں کو گرم بنا دیا۔ اور پگھلتے ہوئے گلیشیئر پیچھے ہٹنے لگے۔ تصور کریں کہ آب و ہوا میں ان بنیادی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ہمارے آبا و اجداد کو کتنا وسائل سے بھرپور ہونا چاہیے تھا۔
ہر برفانی دور کے ساتھ، برف کی چادریں سمندروں کی وجہ سے پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ دنیا کی سطح سمندر چار سو فٹ سے زیادہ گر جاتی ہے، جو براعظموں کے کناروں کے ساتھ زمین کے وسیع علاقوں کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ پندرہ سے پچیس ہزار سال پہلے ایک ایک ایسا دور آیا جب برف کم ہو گئی تھی، جس سے ایک عارضی زمینی پل سامنے آ گیا تھا۔ سیارے کے دوسرے نصف حصے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ بنجاروں کے گروہ زمینی پل کو عبور کر کے شمالی امریکہ اور کچھ جنوب میں چلے گئے۔
تقریباً دس ہزار سال پہلے، آب و ہوا اور سطح سمندر کا جنونی اتار چڑھاؤ رک گیا۔ ایک نیا اور نرم آب و ہوا کا دور شروع ہوا۔ یہ وہی ہے جس میں ہم اب رہ رہے ہیں۔ جب برف کی عظیم چادریں پگھلیں تو سمندر اپنی موجودہ اونچائی پر پہنچ گیا اور دریاؤں نے پہاڑی علاقوں سے تلچھٹ لے کر عظیم ڈیلٹا میدانی علاقے بنائے جہاں وہ سمندر سے ملے۔ ان زرخیز میدانوں پر، ہم نے زندگی کا ایک نئے طریقے سیکھے کہ چیزوں کو کیسے اگایا جائے، اپنا پیٹ کیسے بھرا جائے اور بہت کچھ۔ ہم میں سے اکثر کے لیے، اس کا مطلب ایک ملین سال کے آوارہ گردی کا خاتمہ تھا۔
جس طرح سے سیارے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں، جس طرح سے زمین کی اوپری سطح حرکت کرتی ہے، جس طرح سے یہ حرکات آب و ہوا اور زندگی اور ذہانت کے ارتقاء کو متاثر کرتی ہیں۔ ان سب نے مل کر ہمیں ان دریائی ڈیلٹا کے کیچڑ کو پہلی تہذیبوں میں تبدیل کرنے کے ذرائع فراہم کیے۔ اس طرح کے برفانی ادوار کے درمیانی وقفے کی طرح کچھ بھی نہیں ہے، یہ دور بھی، جس میں ہم زندہ ہیں، دو برفانی ادوار کا درمیانی نرم وقفہ ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ یہ ایک اگلے پچاس ہزار سال تک رہنے والا ہے۔ یہ ہماری نوع کے لیے ایک عظیم موقع ہے۔
صرف ایک مسئلہ ہے۔
ہم کاربونیفیرس دور کے کوئلے کی شکل میں ان تمام دبے ہوئے درختوں کو جلانے اور قدیم پیراکو (پلینکٹن) کی باقیات، تیل اور گیس کو ضائع کرنے سے رک نہیں سکے۔ اگر ہم ایسا کر سکتے، تو ہمارے گھر آب و ہوا کے لحاظ سے سے پاک ہو سکتے تھے۔ اس کے بجائے، ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اس شرح سے فضا میں پھینک رہے ہیں جو ماضی کی عظیم آب و ہوا کی تباہیوں کے بعد سے زمین نے نہیں دیکھی ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر معدومیت ہوئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اس قسم کے ایندھن کے اپنے نشے کو توڑ نہیں سکے جو اس آب و ہوا کو واپس لے آئے گا جو آخری بار ڈائنوسار نے دیکھی تھی۔ ایک ایسی آب و ہوا جو ہمارے ساحلی شہروں کو غرق کر دے گی اور ماحول پر عذاب کی صورت نازل ہوگی اور اپنا پیٹ پالنے کی ہماری صلاحیت کو تباہ کر کے رکھ دے گی۔
ہر وقت، شاندار سورج ہم پر بے عیب، آزاد توانائی ڈالتا ہے۔ ہماری ضرورت سے بہت زیادہ۔ ہم اپنے سے پہلے آنے والی نسلوں کی طرح ذہانت اور ہمت کیوں نہیں دکھا سکتے؟ ڈائنوسار نے کبھی اس سیارچہ (ایسٹرائیڈ) کو آتے نہیں دیکھا۔ ہمارا کیا عذر ہے؟ معدومیت کی یادگار میں ایک راہداری ہے جو اس وقت خالی اور بے نشان بھی ہے۔ زمین کی سوانح عمری ابھی لکھی جا رہی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے ہماری کہانی کا اختتام اسی راہداری میں ہو۔
مبارک ہو۔
آپ زندہ ہیں۔
ایک غیر شکستہ ڈوری ہے جو تین ارب سال سے زیادہ پر محیط ہے اور جو ہمیں اس پہلی زندگی سے جوڑتا ہے جس نے اس دنیا میں پہل کی۔ اس بارے میں سوچیں کہ ہمارے تمام لاتعداد آبا و اجداد زندگی کا پیغام اگلی اور اگلی اور اگلی نسل تک پہنچانے کے لیے کتنے تنومند، وسائل سے بھرپور اور خوش قسمت رہے ہوں گے۔ ہمارے پاس آنے سے پہلے کروڑوں بار۔ پار کرنے کے لیے بہت سے دریا تھے، راستوں میں بہت سے خطرات تھے۔ شکاری، بھوک، بیماری، غلط اندازے، طویل سردیاں، خشک سالی، سیلاب اور تشدد۔
ہمارے سیارے کے اندر سے پھوٹنے والی، کبھی کبھار ہونے والی ہلچل اور آسمانوں سے برسنے والی تباہیوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کہاں سے تعلق رکھتے ہیں یا ہمارے والدین کون تھے، ہم ناقابل تصور تباہیوں سے زندہ بچ جانے والوں کی پر جوش نسلوں میں سے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک اب تک کی سب سے طویل اور خطرناک ریلے ریس میں بھاگنے والے کی طرح ہے، اور اس وقت، ہم ڈنڈا اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ہیں۔
ماضی ایک اور سیارہ ہے۔
مستقبل بھی ایسا ہی ہے۔
بہت سے ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ اب سے تقریباً ڈھائی سو ملین سال بعد ، زمین کے مختلف براعظم ایک بار پھر متحد ہو جائیں گے۔ یہ ساری خوبصورتی ختم ہو جائے گی اور ہمارے وقت کی زمین کھوئی ہوئی دنیاؤں میں اپنی جگہ بنا لے گی۔ ٹیکٹونک پلیٹوں کا عظیم اندرونی انجن زندگی سے لاتعلق ہے، جیسا کہ زمین کے مدار اور جھکاؤ میں چھوٹی تبدیلیاں اور بدمعاش مداروں پر چھوٹی چھوٹی دنیاؤں کے ساتھ کبھی کبھار تصادم۔ ان سارے عوامل کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ہمارے سیارے کی سطح پر اربوں سالوں سے کیا ہو رہا ہے۔
انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ہم میں سے ہر ایک، مقامی ستارے کے گرد چند درجن گردشوں کے لیے چھوٹے سیاروں میں سے ایک کی بیرونی جلد پر سوار ایک چھوٹا سا وجود ہے۔ وہ چیزیں جو زمین پر سب سے زیادہ دیر تک زندہ رہی ہیں وہ ہمارے سیارے کی عمر کے صرف ایک ملینویں حصے تک برقرار رہی ہیں۔ لہذا، یقینا، انفرادی حیاتیات بدلتے ہوئے براعظموں کے آب و ہوا کے ارتقاء کے مجموعی انتظام کے بارے میں کچھ نہیں دیکھ سکتیں۔ ہم اپنے ظہور اور نمو کو جو تھوڑا سا سمجھتے ہیں وہ انسانی بصیرت اور ہمت کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ہم کون ہیں اور ہم یہاں کیوں ہیں کا اندازہ صرف ایک مکمل تصویر کے چھوٹے حصوں کو جوڑنے سے سمجھ سکتے ہیں۔ وہ تصویر جو قَرْنہا قَرْن پر محیط ہو اور اور جس میں لاکھوں انواع اور دنیاؤں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوں۔
اس تناظر میں، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم اپنے لیے بھی ایک معمہ ہیں اور یہ کہ، ہمارے واضح دکھاوے کے باوجود، ہم اپنے چھوٹے سے گھر کے مالک بننے سے بہت دور ہیں۔ اس نئی راہداری کے داخلی دروازے کے اوپر کوئی نام نہیں ہے کہ وہ اپنے عہد کو متعین کرے، اور ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ اس کی دیواروں کے اندر کون سی ناکام انواع کو یادگار بنایا جائے گا۔ معدومیت کی یادگار۔ یہاں جو کچھ ہوتا ہے، ان گنت طریقوں سے، بڑا اور چھوٹا دونوں، ہم ہی لکھ رہے ہیں۔
ابھی اس وقت۔
(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی نویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )

