9 ہمارا گھر، ہماری زمین۔ کائنات
جی ہاں، یہ ہمارا گھر ہے۔ یہ ہماری زمین ہے۔ ایک مانوس براعظم تلاش کرنے میں دشواری ہو رہی ہے؟ ماضی میں یہ ایک اور سیارہ تھی۔ دراصل، بہت سے سیارے۔
میں بگ بینگ کے بعد سے گزرے ہوئے وقت کے عظیم پھیلاؤ پر کھڑا ہوں۔ اس کے بارے میں سوچنے کے لیے، ہم نے اس سب کو ایک سال میں سکیڑ دیا ہے۔ یہ ہمارے اس کائناتی کیلنڈر پر 23 دسمبر کی صبح ہے، یا تقریباً تین سو پچاس ملین سال پہلے، جب ہماری دنیا محض چار ارب سال پرانی تھی۔ زمین بہت مختلف نظر آتی تھی۔ شاید آپ کو اس جگہ کا علم بھی نہ ہو۔ اس معاملے میں ستارے آپ کی مدد نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ ستاروں کے برج بھی اس وقت مختلف ہوا کرتے تھے۔
ابھی ڈائنا سور کے آنے میں بھی ایک سو ملین سال باقی تھے۔ پرندے نہیں تھے، پھول نہیں تھے۔ ہوا بھی مختلف تھی۔ فضا میں زمین کی تاریخ میں سب سے زیادہ آکسیجن اگر کسی وقت میں تھی، تو وہ یہ وقت تھا۔ نا اس سے پہلے، نا ہی بعد میں۔ اس آکسیجن کی وجہ سے کیڑے آج کے مقابلے میں بہت بڑے ہوتے تھے۔ کیسے؟ کیڑوں کے پھیپھڑے نہیں ہوتے۔ حیات بخش آکسیجن ان کے جسم کے باہر کے سوراخوں کے ذریعے لی جاتی تھی اور نالیوں کے جال کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی۔
اگر کوئی کیڑا بہت بڑا ہوتا تو ان نالیوں کے بیرونی حصے اپنے اندرونی اعضاء تک پہنچنے سے پہلے ہی تمام آکسیجن جذب کر لیتے تھے۔ کاربونیفیرس دور کے دوران، ماحول میں آج کے مقابلے میں تقریباً دگنی آکسیجن موجود تھی۔ کیڑے بہت زیادہ بڑے ہو سکتے تھے اور پھر بھی اپنے جسم کے لیے کافی آکسیجن حاصل کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بھنبھری (ڈریگن فلائی) عقابوں کی طرح بڑی ہیں اور ہزار پا (ملی پیڈز) مگر مچھ کے سائز کے ہیں۔ تو پھر، اس وقت اتنی آکسیجن کیوں تھی؟ یہ ایک نئی قسم کی زندگی سے تیار کی گئی تھی۔
زمین کے ماحول کو اتنی ڈرامائی طور پر کس قسم کی زندگی بدل سکتی تھی؟ وہ پودے جو آسمان تک پہنچ سکتے تھے۔ درخت۔ سورج کی روشنی کو حاصل کرنے کے اس مقابلے میں، درختوں میں کشش ثقل کا رد کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ ارتقا پذیر ہوا۔ درختوں سے پہلے، سب سے اونچی نباتات صرف ہماری کمر تک اونچی تھیں۔ اور پھر کچھ حیرت انگیز ہوا۔ پودوں میں ایک مالیکیول تیار ہوا جو مضبوط اور لچکدار دونوں تھا، ایک ایسا مواد جو بہت زیادہ وزن سہار سکتا تھا، پھر بھی بغیر ٹوٹے ہوا میں جھک سکتا ہے۔ لِگنِن (ایک نامیاتی مادہ) نے درختوں کو ممکن بنایا۔ اب زندگی اوپر کی طرف تعمیر ہو سکتی تھی۔ اور اس نے ایک بالکل نئی دنیا دکھائی، زمین سے بہت اوپر رہنے والے گروہوں کے لیے ایک سہ جہتی میٹرکس۔ زمین درختوں کا سیارہ بن گئی۔
لگنن کا منفی پہلو بھی تھا: اسے نگلنا مشکل تھا۔ جب فطرت کے انہدام کے عملے، فنگس اور بیکٹیریا نے لگنن کے ساتھ کچھ بھی کھانے کی کوشش کی، تو انہیں بہت بری بدہضمی سے سابقہ پڑا۔ اور دیمک کم از کم مزید ایک سو ملین سال تک ارتقا پذیر نہیں ہوگی۔ ان تمام مردہ درختوں کا کیا جائے؟ فنگس اور بیکٹیریا لگنن کو ہضم کرنے کے لیے بائیو کیمیکل ذرائع تیار کرنے میں لاکھوں سال لگ گئے۔ دریں اثنا، درخت اُگتے رہے، مرتے رہے، گرتے رہے اور زمانوں پر محیط کیچڑ میں دب گئے۔ بالآخر، سیکڑوں اربوں درخت زمین میں دفن ہو گئے۔ پوری زمین میں دفن شدہ جنگلات۔ اس سے ممکنہ طور پر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
نووا سکوشیا (کینیڈا کا ایک صوبہ) میں یہ ٹیلے (کِلف) ایک اور قسم کا کیلنڈر ہیں۔ یہ اس دوسری دنیا کی کہانی سناتے ہیں جو کبھی یہیں پروان چڑھی تھی۔ اور یہ ایک تین سو ملین سال پرانے درخت کی موت کا نقاب ہے۔ اس نقاب کو معدنیات کی مدد سے ڈھالا گیا ہے جس نے اصل لکڑی کے ایک ایک سیل کی جگہ لے لی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک حجریہ (فوسل) ۔ درخت نے اپنے نامیاتی مالیکیولز کو بہت پہلے ماحول کے حوالے کر دیا تھا، اس کا کاربن اور پانی۔ صرف اس کی شکل باقی رہ گئی۔ جب یہ درخت زندہ تھا تو اس نے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی لیا اور سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہوئے انہیں توانائی سے بھرپور نامیاتی مادے میں تبدیل کیا۔ درخت نے فضلہ کے طور پر آکسیجن چھوڑ دی۔ درخت اور دوسرے پودے اب بھی یہی کرتے ہیں۔ جب پودے مر جاتے ہیں، تو وہ سڑ جاتے ہیں، اور یہ لین دین کو پلٹ دیتا ہے۔ ان کا نامیاتی مادہ آکسیجن کے ساتھ مل جاتا ہے اور گل جاتا ہے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دوبارہ ہوا میں بھیج دیتا ہے۔
یہ زمین کے ماحول کی کیمسٹری کی کتابوں کو متوازن رکھتا ہے۔ لیکن اگر درخت سڑنے سے پہلے دفن ہو جائیں تو دو چیزیں ہوتی ہیں : وہ کاربن لے کر شمسی توانائی کو اپنے ساتھ ذخیرہ کرتے ہیں اور آکسیجن کو فضا میں جمع ہونے کے لیے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ تقریباً تین سو ملین سال پہلے ایسا ہی ہوا تھا۔ آکسیجن ضرورت سے بہت زیادہ تھی۔ اس طرح کیڑے اتنے بڑے ہو گئے۔ اور اس ساری دفن شدہ کاربن کا کیا بنا؟ وہ زمانوں تک وہیں رہی اور بعد ازاں زمین پر تباہ کن تباہیوں کے بعد زندگی سے نمٹنے کی کوشش کرتی رہی۔
اس سیارے پر ایسی جگہیں ہیں جہاں آپ وقت کے ساتھ چل سکتے ہیں اور چٹانوں میں لکھی تاریخ کو پڑھ سکتے ہیں۔ نووا سکوشیا کا یہ ساحل ان میں سے ایک ہے۔ ہر پرت ایک صفحہ ہے۔ ہر ایک لاکھوں سالوں میں یکے بعد دیگرے سیلابوں کی کہانی سناتا ہے۔ سیلاب کی باقیات کا پرت آہستہ آہستہ دب جاتا ہے اور گرمی اور دباؤ سے چٹان میں بدل جاتا ہے۔ وہی قوتیں جنہوں نے پہاڑ بنائے تھے تھوڑی ٹیڑھی ہوتی ہیں اور ان مدفون جنگلات کے فوسل کے ساتھ ساتھ ان پرتوں کو بھی ابھار دیتی ہیں۔ نئی پرتیں ہمیشہ پرانی تہوں کے اوپر جمع ہوتی تھیں۔ تمام صفحات صحیح ترتیب میں ہیں، جو لاکھوں سالوں میں یہاں پیش آنے والے واقعات کی گواہی دیتے ہیں۔
اس طرف پیچھے بہت زیادہ دور کا ماضی ہے۔ اور میں جو بھی قدم اٹھاتا ہوں، تقریباً ایک ہزار سال حال کے قریب اور تین سو ملین سال پہلے کی دنیا سے دور چلا جاتا ہوں۔ پچاس ملین سال بعد اس طرف ہیں۔ یہ پر مین (تقریباً تیس کروڑ سال پہلے سے پچیس کروڑ سال پہلے تک) دنیا کے خاتمے کا آغاز تھا، تاریخ میں کوئی قتل عام کا واقعہ اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ پر مین کی یہ شجرِ حیات کی ٹوٹی ہوئی شاخوں کی یادگار۔ معدومیت کی یادگار کی سب سے تاریک راہداری ہے۔
اس کے بعد کے ایک چوتھائی ارب سالوں میں موت نے کبھی بھی اس دنیا پر اس طرح کی عظیم حکمرانی نہیں کی۔ وہ آتش فشانی، جو اب سائبیریا ہے، لاکھوں سال تک جاری رہی۔ لاوے کے سیلاب نے دس لاکھ مربع میل سے زیادہ کا علاقہ زمین مین دفن کر دیا۔ پورے تاریخی وقت میں کوئی بھی آتش فشانی اس تباہی کے سامنے بونی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار آتش فشانو ں کے دراڑوں سے باہر نکل آئی تھی۔ اس گرین ہاؤس گیس نے آب و ہوا کو گرم کر دیا۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پہلے کاربونیفیرس دور کے طویل مدت سے مدفون جنگلات کہانی میں دوبارہ داخل ہوتے ہیں۔ درمیانی پچاس ملین سالوں کے دوران وہ درخت کوئلے کے بے پناہ ذخائر میں تبدیل ہو گئے تھے، اور جب یہ ہوا، دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر میں سے ایک سائبیریا میں دفن ہو گئے۔ لاوے کی گرمی نے کوئلہ کو پکایا، میتھین اور سلفر سے بھرپور گیسوں کو زمین پر باہر نکال دیا۔ وہ زہریلے اور تابکار راکھ کے ذرات۔ کوئلے کے دھوئیں سے لدے ہوئے تھے۔
اس چڑیلوں کے مشروب نے ماحول کو آلودہ کر دیا اور زمین کی آب و ہوا کو شدید غیر مستحکم کر دیا۔ سلفیورک تیزاب کے کہرے نے آنے والی سورج کی روشنی کو روک دیا اور سیارے کو سیاہ کر دیا۔ عالمی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔ آتش فشانی میں خاموشی کے وقفے کے دوران، تیزابی کہرا واپس سطح پر گر نے لگتا۔ لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ برقرار رہی اور فضا میں بڑھتی گئی، جو گلوبل وارمنگ کا سبب بنی۔ برسوں کی یخ بستہ سردی نے ہزاروں سال کی سخت گرمی کے ساتھ باریاں بدلتے ہوئے پودوں اور جانوروں کی گھٹتی ہوئی آبادیوں کو متاثر کیا۔
ان جانوروں کے پاس اپنے آپ کو آب و ہوا کی شدید تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ جیسے جیسے گلوبل وارمنگ جاری رہی، سمندروں کی سطح اور نیچے کا پانی آہستہ آہستہ گھل مل گیا، جس سے سمندر کے فرش کی ایک زمانے کی سخت سرد گہرائیوں کا درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ میتھین سے بھرپور برف جو تلچھٹ میں جمی ہوئی تھی پگھلنے لگی۔ نئی آزاد شدہ میتھین گیس نے سطح اور فضا میں اپنا راستہ بنالیا۔ میتھین کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ موثر طریقے سے گرمی کو پھنسالیتی ہے، اس لیے آب و ہوا اور بھی زیادہ گرم ہو گئی۔
اور میتھین نے کُرّہ قائمہ (اسٹراٹا سفیئر) میں اوزون کی تہہ کو بھی تباہ کر دیا، وہ قدرتی سن اسکرین جو حیات کو مہلک الٹرا و ایلیٹ شعاعوں سے بچاتی ہے، میتھین اسے کھا گئی۔ عالمی سمندروں کی لہروں کا گردشی نظام بند ہو گیا۔ یہ ٹھہرے ہوئے پانی آکسیجن سے محروم ہو گئے، جس سے سمندر میں موجود تقریباً تمام مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔ لیکن اس سفاک ماحول میں بیکٹیریا کی ایک قسم کی زندگی پروان چڑھی جس نے مہلک ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کو فضلہ کی مصنوعات کے طور پر پیدا کیا۔
یہ آخری سہارا تھا۔ زہریلی گیس نے زمین پر موجود تقریباً تمام باقی ماندہ پودوں اور جانوروں کو ہلاک کر دیا۔ یہ ”عظیم موت“ کہلاتی ہے۔ زمین پر اب تک کی قریب ترین ساری زندگی فنا ہو چکی تھی۔ تمام انواع (سپیشیز) میں دس میں سے نو فنا ہو گئیں۔ زندگی کو اپنی ڈگر پر واپس آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ ان چند ملین سالوں سے زمین کو ”مردوں کا سیارہ“ کہا جا سکتا تھا۔ ہم ان چند انواع سے تعلق رکھتے ہیں جو زندہ رہنے میں کامیاب ہوئیں۔ آپ اس لمحے میں انسان ہیں اور زندہ ہیں کیونکہ آپ زندگی کی تاریخ کے سب سے خوفناک اور بے رحم ادوار میں برداشت کرنے کے قابل تھے اور اپنے ڈی این اے کو آگے بھیجنے میں کامیاب رہے۔
یہ پہاڑ مکمل طور پر زندگی سے بنا تھا۔ وہ زندگی جو پرمین کے شاندار دنوں میں پروان چڑھی، اس سے پہلے کہ تمام جہنم کے دروازے کھل جائیں۔ یہ چار سو میل لمبی گواڈالوپے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے جو ٹیکساس اور نیو میکسیکو سے گزرتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑا فوسل ریف (پتھریلا ساحل) ہے۔ یہ سب کبھی چاروں اطراف خشکی کے اندر ا یک عظیم سمندر تھا۔ یہ رِیف لاکھوں سالوں میں پھولی اور بڑھی، اور بہت سے سفنجوں، سبز کائی اور جانوروں کا گھر تھا جو دیکھنے میں بہت ہی چھوٹے تھے۔
جب یہ مخلوق مر گئی تو وہ تہہ میں ڈوب گئی اور گار میں دب گئی۔ لاکھوں سالوں میں ان کی باقیات کو تیل اور گیس میں تبدیل کر دیا گیا۔ آخر کار، طاس (بیسن) گار ہو گیا اور ریف مر گیا۔ پھر اس سمندری بھوتوں کے شہر کو سطح کے نیچے ایک میل کے فاصلے پر دفن کر دیا گیا۔ بعد میں، ٹیکٹونک قوتوں نے اس برباد ریف کو سطح سمندر سے بہت اونچا کر دیا، جہاں اسے ہوا اور بارش نے کئی زمانوں میں کٹاؤ کر کے تراش دیا۔ ذرا تصور کریں کہ یہ جگہ پونے تین سو ملین سال پہلے کیسی نظر آتی ہو گی، جب یہ ایک متحرک، گرم خشکی میں گھِرا ہوا سمندر تھا جس میں زندگی سے بھرپور جزیرے تھے۔
تقریباً دو سو بیس ملین سال پہلے تک نیو انگلینڈ اور شمالی افریقہ بہت قریبی پڑوسی تھے۔ بحر اوقیانوس جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ بس چھوٹی چھوٹی جھیلیں تھیں۔ یہ پہلی ظاہری نشانیاں تھیں کہ براعظم تقسیم ہو رہا ہے اور زمین پر زندگی ایک لیے ایک اور بڑی ہلچل مچنے والی ہے۔ ایک ملین سال بعد ، یہ جھیلیں ایک لمبی خلیج بن گئیں، جو بحر اوقیانوس کی صورت میں سامنے آئی۔ سطح پر یہ گہری تبدیلیاں محض ایک ڈرامے کی علامات تھیں جو زمین کی گہرائیوں میں بہت نیچے کھیلا جا رہا تھا۔ جب تک ہم یہاں پہنچے، عالمی ہلچل کی چغل خوری کرتے آثار گہرے نیلے سمندر کی تہہ میں دب چکے تھے۔ ہم زمین کے پرتشدد ماضی کی عظیم کہانی سے مکمل طور پر منقطع ہو گئے تھے۔ غائب دماغوں کی ایک نوع یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ ہم کون تھے اور ہمارے بیدار ہونے سے پہلے کیا ہوا تھا۔


