منیر نیازی سے ایک یاد گار ملاقات
حامد یزدانی کے ادبی محبت نامے کا جواب
محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب!
آپ نے اپنے ادبی محبت نامے میں اپنے والد یزدانی جالندھری صاحب کے بارے میں مختصر مگر جامع تعارف رقم کیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس سے ’ہم سب‘ کے قارئین کو ان کی تخلیقات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کی تحریک و ترغیب ہوگی۔
یہ بات آپ کی مجھ سے بے پناہ محبت کی عکاس ہے کہ آپ کو مجھ میں اور اپنے والد صاحب میں کوئی خصوصیت مشترک دکھائی دی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آپ میں آپ کے والد کی شخصیت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ آپ میں بھی ان کی طرح
تحمل ہے
بردباری ہے
قناعت ہے
اور
سب سے بڑھ کر انسان دوستی ہے۔
ایسے اوصاف اس دور میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ایسی وراثت بہت ہی قیمتی وراثت ہے۔
میرے لیے یہ بات خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ آپ کے والد صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی خاندانی ذمہ داریوں کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا۔ میں ایسے بہت سے شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں کی سوانح عمریاں پڑھ چکا ہوں جو فنکار تو اچھے تھے لیکن بطور باپ نہایت غیر ذمہ دار تھے۔ ان کی غفلت کی قیمت ان کے بچوں نے ادا کی۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ یزدانی جالندھری ایک اعلیٰ شاعر اور دانشور ہی نہیں ایک محبت کرنے والے باپ بھی تھے۔
آپ نے مجھ سے منیر نیازی کی شخصیت اور شاعری کے بارے میں پوچھا ہے۔
منیر نیازی سے میری ایک ہی ملاقات ہوئی لیکن وہ ایک ملاقات دیگر شاعروں کی بیسیوں ملاقاتوں پہ بھاری تھی۔ میرے لیے منیر نیازی کی بے نیازی دلچسپی کا عنصر لیے ہوئے تھی۔ میں سمجھتا ہوں اردو شاعری میں منیر نیازی کا ایک اعلیٰ مقام ہے۔
عام طور پر اردو شاعری اور خاص طور پر اردو غزل کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن منیر نیازی اپنی شاعری میں ایسے امیجز استعمال کرتے ہیں کہ وہ امیجز ترجمہ کرنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
منیر نیازی کی شخصیت میں ایک انفرادیت تھی۔ میں اپنے موقف کی حمایت میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔
منیر نیازی نے ایک دفعہ ریڈیو پاکستان کے مشاعرے میں شرکت کی۔ چونکہ وہ کسی اور شاعر کو داد نہ دیتے تھے اس لیے باقی شاعروں نے سازش کی کہ آج ہم بھی منیر نیازی کو داد نہیں دیں گے۔
منیر نیازی کی باری آئی
ان کے سامنے مائکروفون رکھا گیا
منیر نیازی نے ایک مصرعہ پڑھا
خاموشی
منیر نیازی نے دوسرا مصرعہ پڑھا
مزید خاموشی
منیر نیازی سمجھ گئے کہ کوئی سازش ہو رہی ہے
پھر انہوں نے اپنی آواز بدل کر خود ہی کہا
واہ واہ کیا خوبصورت شعر ہے دوبارہ پڑھیے
اور انہوں نے دوبارہ اپنا شعر پڑھا
ان کی اس ادا پر سب شاعر ہنس پڑے اور ان کو داد دینے لگے ْ
منیر نیازی کی شخصیت میں ایک ڈراما ہی نہیں ایک میلو ڈراما بھی تھا جس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں انانیت کی ساتھ ساتھ ایک جاذبیت بھی تھی۔ ایک کشش بھی تھی۔ ایک مقناطیسیت بھی تھی۔ میں نے منیر نیازی کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل کہیں لکھی تھی۔ وہ حاضر خدمت ہے۔
’آج سے کئی سال پیشتر کینیڈا سے پاکستان کے ایک سفر کے دوران میں زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل پبلشرز‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاؤں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ’خالد سہیل! تم اتنی دور ٹورانٹو سے لاہور آئے ہو۔ تم ہمارے مہمان ہو۔ ہم تمہاری کون سے خواہش پوری کر سکتے ہیں؟
’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازیؔ سے ملوں۔ کینیڈا میں ایک دفعہ کسی نے مشہور کیا تھا کہ منیر نیازی فوت ہو چکے ہیں۔ سب ادیب فاتحہ پڑھنے بھی جمع ہو گئے تھے۔ پھر کسی نے تعزیت کے لیے لاہور فون کیا تو منیر نیازی نے فون اٹھایا اور پتہ چلا کہ وہ افواہ منیر نیازی کے کسی دشمن نے پھیلائی تھی۔
’ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ابھی فون کرتے ہیں۔ منیر نیازی کا نمبر کس کے پاس ہے؟
زاہد ڈار نے فون نمبر دیا تو اصغر نے منیر نیازی کو وہیں سے فون کیا۔ ہم سب ایک طرف کی گفتگو سن سکتے تھے۔
’سلامالیکم! سر جی! اصغر ندیم بول رہا ہوں۔ پورے شہر میں آپ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ میرے ڈرامے کا نام‘ اک اور دریا کا سامنا تھا ’بہت پسند کیا گیا
( مجھے یاد تھا کہ منیر نیازی کا مشہور شعر ہے
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا )
آپ کا کیا حال ہے؟ یہاں کینیڈا سے آپ کے ایک مداح ڈاکٹر خالد سہیل آئے ہوئے ہیں۔ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
اور اصغر نے فون مجھے پکڑا دیا۔
’منیر نیازی صاحب۔ میں خالد سہیل ہوں۔ آپ سے ملنے کی خواہش ہے۔
’آ جاؤ پھر‘
’ میرے ساتھ زاہد ڈار اور سعید احمد بھی ہیں‘
’ انہیں بھی لے آؤ‘
’ہم تھوڑی دیر میں حاضر ہوں گے‘
’تھوڑی دیر میں کیوں۔ ابھی آ جاؤ‘
چنانچہ ہم نے اصغر ندیم سے منیر نیازی کا پتہ لیا اور سعید احمد کی گاڑی میں بیٹھ کر ٹاؤن شپ کی طرف چل دیے۔ اصغر نے ایسا پتہ بتایا تھا کہ ہم کھو گئے اور میں نے زاہد ڈار کو کسی کا یہ شعر سنایا
ہم کچھ اس طرح ترے گھر کا پتہ دیتے ہیں
خضر بھی آئے تو گمراہ بنا دیتے ہیں
آخر ہم نے ایک مقامی شخص کو پتہ بتایا اور اپنا رہبر بنایا۔ کہنے لگا ’میں سکوٹر پر ہوں۔ آپ، میرے پیچھے چلیں‘ یہ کہتے ہی وہ ون وے لین پر غلط رخ پر چل پڑا اور ہم بھی مجبوراٌ اس کے پیچھے چل پڑے۔ حسنِ اتفاق سے وہ ہمیں غلط راستے سے صحیح منزل پر پہنچا آیا۔
سڑک کے کنارے ایک بے ترتیب سا سفید رنگ کا گھر تھا۔ نہ نام کی تختی نہ دروازے پر گھنٹی۔ ہم ہچکچاتے ہوئے داخل ہوئے۔ سیڑھیاں چڑھے۔ ایک گھنٹی نظر آئی۔ بجائی کوئی جواب نہ آیا۔ پھر بجائی۔ ایک محترمہ گھر کی بغل سے نکلیں اور پوچھنے لگیں۔ ’آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟‘
’منیر نیازی سے‘
’آپ کے نام؟‘
’ زاہد ڈار‘ خالد سہیل اور سعید احمد ’
اتنے میں دوسری طرف سے ایک شخص نے کھڑکی نما دروازے سے سر نکالا اور کہا ’آ جاؤ۔ اندر آ جاؤ۔‘ اور ہم تینوں سیڑھیاں اتر کر ’دروازے سے گزر کر‘ زیرِ زمین بیسمنٹ نما کمرے میں داخل ہوئے۔
’آؤ زاہد ڈار‘ منیر نیازی نے زاہد کو گلے لگایا۔
’میں سعید احمد ہوں‘ سعید نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
’اور میں خالد سہیل کینیڈا سے آیا ہوں‘ منیر نیازی نے بڑی محبت سے مجھے بھی گلے سے لگایا اور میں نے زندگی میں پہلی بار اردو اور پنجابی کے لونگ لیجنڈ LIVING LEGEND کو اتنے قریب سے دیکھا۔ ان کی آنکھیں سوجی ہوئی ’بال بکھرے ہوئے‘ کپڑے میلے اور ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ باطن کے زلزلوں کے اثرات ظاہر تک آ گئے تھے۔ ان کا کمرہ بیک وقت ان کا لونگ روم ’بیڈ روم‘ اور فیملی روم لگ رہا تھا۔ سارا کمرہ بے ترتیب تھا۔
بستر ’لحاف اور چادر بے ترتیب‘
میز پر کیسٹ بے ترتیب ’
فرش پر خالی بوتلیں اور گلاس بے ترتیب
اور چاروں طرف پھیلی بادام اور پستے کی پلیٹیں بے ترتیب۔
لیکن اس بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب اور اپنائیت کا سماں تھا۔ مجھے اپنا شعر یاد آ گیا
ہمارے گھر کی ہر چیز بے گھروں کی طرح
شریر بچوں کی بے ربط خواہشوں کی طرح
’ ویسے تو میرے گھر میں ایک سجا سجایا کمرہ بھی ہے‘ منیر نیازی نے کہا ’جہاں میں بیورو کریٹس کو لے جاتا ہوں لیکن دوستوں کے لیے یہی کمرہ مناسب ہے‘ ۔
منیر نیازی نے اپنی الماری سے دو سکاچ کی بوتلیں نکالیں ’چلو ایک پیگ لگاؤ‘ ہم نے منیر نیازی کا ساتھ دیا لیکن زاہد ڈار نے پستے بادام پر اکتفا کیا۔
’ام لخبائث نہیں چھوؤ گے زاہد ڈار۔ چلو تمہاری مرضی۔ تمہاری بھابی تمہیں چائے پلا دے گی‘
اس کے بعد ایک گھنٹہ منیر نیازی بے ربط لیکن دلچسپ باتیں کرتے رہے۔ وہ گفتگو ڈائیلاگ سے زیادہ مونو لوگ بلکہ فری ایسوسی ایشن تھی۔ وہ بولتے رہے اور ہم سنتے رہے۔ گھر آ کر جو یاد رہا لکھ لیا۔ منیر نیازی کہہ رہے تھے ’
’میں اس شہر کا سب سے بڑا شاعر ہوں۔ اس کے بعد زاہد ڈار ہے۔ ویسے اس شہر میں بہت سے بے ہودہ شاعر بھی بستے ہیں۔ خالد سہیل تم نے اچھا کیا ملنے آ گئے۔ تم اچھے شاعروں کی شناخت رکھتے ہو۔ میں بھی کینیڈا گیا تھا۔ مجھے پسند آیا۔ یہ دیکھو میں نے‘ جہاں نما ’رسالے میں اپنے سفر کا ذکر کیا تھا۔ اشفاق سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اچھا آدمی ہے۔ میں لندن بھی گیا تھا۔ وہاں بھی کچھ دوست بنے تھے۔ ان میں سے ایک دوست مر بھی گیا ہے۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں۔ جو ہمارے حق میں ہوتا ہے۔ نجانے کیوں مر جاتا ہے۔ میری پہلی بیوی بھی مر گئی۔ دوسری بیوی رامپور کی پٹھان ہے۔ چلو اچھا ہوا چائے آ گئی۔ زاہد ڈار تم ام الخبائث نہیں پیتے، تم چائے پی لو۔ زاہد ڈار تم ایک اچھے شاعر ہو۔ جی چاہتا ہے تمہارے لئے ایک کنال زمین کا انتظام کروں۔ اس میں تمہارے لئے چار مرلے کا مکان بنواؤں۔ باقی گلاب ہی گلاب ہوں۔ میرا کیا ہے شاعر ہوں۔ ہواؤں میں بیج بوتا رہتا ہوں۔ نجانے کہاں پھول اگ آئیں۔ آؤ تمہیں اپنے گھر کے پھول دکھاؤں۔ میرا ایک باغ بھی ہے۔ اس میں لیموں کے پودے بھی ہیں۔ سبزیاں بھی ہیں۔ میں اپنے باغ میں بیٹھ کر شعر لکھتا رہتا ہوں۔ میں نے ایک نظم بھی لکھی ہے۔ اس کا عنوان ہے‘ وہ دعا جو میں بھول گیا ’۔ خالد سہیل یہ دیکھو میری کالی ڈائری۔ اس میں اکیس نظموں کے عنوان ہیں۔ ایسی نظموں کے عنوان جو میں نے ابھی نہیں لکھیں۔ پچھلے دنوں ایک صاحب آئے تھے۔ کہنے لگے آپ کی پنجابی نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ خالد سہیل تم کینیڈا سے آئے ہو۔ تم انگریزی نظمیں بہتر سمجھتے ہو۔ کتاب کا نام ہے
THE COLOURS OF SILENCE۔
’جہاں نما‘ میں کالم لکھنے شروع کیے ہیں۔ ایک کالم کے ہزار روپے دے دیتے ہیں۔ لاکھ روپے کے مکان کی قسط نکل جاتی ہے۔ چیک آتا ہے تو چار دن کے لئے شانتی ہو جاتی ہے۔ خالد سہیل یہ دیکھو ’ماہِ نو‘ کا تازہ شمارہ۔ کشور ناہید نے میری غزل شائع کی ہے۔ شعر ہے
مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں ان سے تھا
میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا
یہ کشور ناہید بڑے دھڑلے والی عورت ہے۔ کئی مردوں سے زیادہ دلیر۔ اور زور دار۔ میں اپنی بیوی کو اس سے پردہ کرواتا ہوں۔
(فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ منیر نیازی فون اٹھاتے ہیں )
’اچھا میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔ آنا ہے آ جاؤ۔ تمہیں کینیڈا سے آئے ہوئے شاعر سے ملوائیں۔ خالد سہیل تم بیٹھو۔ ابھی سٹوڈنٹس آئیں گے۔ ان سے تم بھی بات کرنا۔ زاہد ڈار تم چائے پیو اور سعید احمد کچھ اور پیو یار۔ ام لخبائث پیو۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ختم ہو جاتی ہے۔ میں زیادہ تر اسی کمرے میں آرام کرتا ہوں۔ شعر بھی یہیں لکھتا ہوں۔ میں نے نوکرانی کو منع کر رکھا ہے۔ بارہ بجے سے پہلے نہ آئے۔ کبھی سر میں درد ہو تو مالش کروا لیتا ہوں۔ میری بیوی اعتراض کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں وہ نمازی پرہیز گار عورت ہے۔ زاہد ڈار تمہارے لئے چار مرلے کا مکان باقی گلاب ہی گلاب۔ خالد سہیل میرا پبلشر میری کلیات کا تازہ ایڈیشن چھاپ رہا ہے۔ مجھے بیس ہزار روپے دے گیا تھا۔ چلو گھر کا خرچ نکل آتا ہے۔ چار دن کی شانتی ہو جاتی ہے۔ (لڑکے دروازے پر نظر آتے ہیں) آؤ اندر آ جاؤ۔ تم میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔ اچھی بات ہے۔ میرے ساتھ اور شاعروں کو مت بلانا۔ بس میں ہی کافی ہوں۔ موڈ ہوا تو آ جاؤں گا۔ تم مجھے لینے آ جانا۔ اور یہ تمہارا دوست ہے۔ یوں لگتا ہے اسے پنگھوڑے میں بیٹھے بیٹھے ہی مونچھیں اگ آئی ہیں۔ اچھا بیٹا اب تم جاؤ۔ اس شام مجھے لینے آ جانا۔ جس جس کو بلانا اسے بتا دینا، میرا موڈ ہوا تو آ جاؤں گا۔ خالد سہیل تمہیں ایک فلسطینی شاعر کی نظم کا ترجمہ سناتا ہوں۔ شاعر کا نام بھول گیا ہے۔ کہتا ہے
میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا
اپنے ہتھیاروں کے ساتھ
میرے دشمن میرے ہتھیار مجھ سے چھین لیں گے
میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا
اپنے ہاتھوں کے ساتھ
وہ میرے ہاتھ کاٹ دیں گے
میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا
اپنے بازوؤں کے ساتھ
وہ میرے بازو کاٹ دیں گے
میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا
اپنے جسم کے ساتھ
وہ مجھے قتل کر دیں گے
میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا
اپنی روح کے ساتھ
زاہد ڈار میں رونے لگ گیا ہوں۔ میں آگے نہیں پڑھ سکتا۔ ویسے رونا بھی اچھا ہوتا ہے۔ خالد سہیل اچھا کیا۔ تم اپنی کتاب ’تلاش‘ اور کیسٹ ’تازہ ہوا کا جھونکا‘ لائے ہو۔ میں کل اسے پڑھوں گا اور سنوں گا۔ موڈ بن گیا تو مضمون لکھ دوں گا۔ اخبار والے ہزار روپے بھیج دیں گے۔ گھر کی ایک اور قسط ادا ہو جائے گی۔ چار دن کے لئے شانتی ہو جائے گی۔ تم لوگوں نے اچھا کیا آ گئے۔ (ہم نے اجازت چاہی)۔ زاہد ڈار تمہاری ایک تصویر اور اتار لوں۔ یہ آخری تصویر ہے۔ سعید احمد تم یہ فلم دھلوا دینا۔ اچھا تو تم لوگ جا رہے ہو۔ یہ لو میرے گھر کے گلاب۔ انہیں ساتھ لے جاؤ۔ ان میں بہت خوشبو ہے۔ اچھا خدا حافظ۔ وقت ملے تو پھر آنا۔ کچھ اور باتیں کریں گے۔
۔ ۔ ۔
قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب!
آپ سے جہاں ادبی مکالمہ ہو رہا ہے وہیں ہمارا نفسیات و سماجیات کے طالب علموں کی حیثیت سے بھی تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔
میں نے آپ کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں ایک خط لکھا تھا اور پوچھا تھا کہ آپ کو ایک سوشل ورکر بننے میں کن شخصیات اور کن واقعات نے انسپائر کیا اور وہ تجربہ کیسا تھا؟
اگر آپ اپنے فارغ وقت میں اس خط کا جواب لکھ دیں تو ہم ’ہم سب‘ کے قارئین کو ایک اور ادبی تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟
آپ کا مداح
خالد سہیل


