انجم سلیمی کے شعری مجموعہ” میں” کا تنقیدی جائزہ


پاکستان کے اہم شاعر، عالمی شہرت یافتہ، اپنے سنجیدہ لہجے کے حوالے سے معروف، انجم سلیمی صاحب 1963 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ 80 کی دہائی میں لائل پور شہر کی علمی ادبی سرگرمیوں سے منسلک ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے فیصل آباد شہر کے ثقافتی ورثے کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”سُکے اتھرو“ 1982 میں منظر عام پر آئی اور پنجابی شاعری میں اہم جگہ بنا گئی۔ 1996 میں دوسری کتاب ”سنتاپ“ شائع ہوئی جس پر پنجابی کا اہم ادبی انعام ”مسعود کھدر پوش“ ایوارڈ دیا گیا۔ انجم سلیمی کی اصل پہچان اردو غزل ہے انہوں نے غزلوں کے ساتھ ساتھ نثری نظم بھی لکھی۔ حال ہی میں ان کا نثری نظموں کا مجموعہ ”ایک قدیم خیال کی نگرانی میں“ شائع ہوا۔ یہ انجم سلیمی کی نظمیہ کرافٹ کا ایک نادر اظہار ہے۔

انجم سلیمی کے شعری مجموعہ ”میں“ کی اشاعتِ اوّل اکتوبر 2013 میں ہوئی۔ جبکہ اشاعت دوم اگست 2019 اور اشاعتِ سوم جولائی 2021 میں ہوئی۔ یہ شعری مجموعہ بک کارنر جہلم پاکستان سے شائع ہوا۔

اس شعری مجموعے میں انجم سلیمی نے کافکائی طرز پر اپنی غزلوں میں مَیں کو معروض کے موجود میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی میں کون ہوں؟ میں کیا ہوں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہی سوال ہے جو مجھے رات بھر جگاتا ہے کریدتا ہے اور میرے وجود کو تلاش کرتا رہتا ہے۔ لیکن میں غور و فکر کرتا ہوں کہ یہ کائنات یہ جنت یہ جہنم سب کچھ مجھ میں ہی تو ہے۔ بس ایک پردہ ہے جو مجھ میں پڑا ہوا ہے۔ میں تھوڑا تھوڑا اس پردے کو سرکاتا رہتا ہوں خود کو مسمار کرتا ہوں اور تعمیر کرتا ہوں اور خود پر ظاہر ہوتا رہتا ہوں۔ اور یوں میں خود پر واضح ہوتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی مَیں میری محبت ہے اور یہی مَیں میری شاعری ہے اسی سبب انجم سلیمی کی شاعری میں ”میں“ کا عنصر بہت زیادہ ملتا ہے

”اچھا بھلا پڑا تھا مَیں اپنے وجود میں
دنیا کے راستے پہ مجھے رکھ دیا گیا ” ( 1 )
”دھندلا دھندلا سا کبھی یاد تو پڑتا ہے کہ ہوں
زور دینے پہ مجھے یاد دلایا ہوا مَیں ”( 2 )

انجم سلیمی کو ہم ہر وقت خدا کی تلاش میں محو پاتے ہیں۔ ان کے ہاں بھی دیگر شعرا کی طرح خدا کی تلاش اور کہیں کہیں خدا کی نفی کا پہلو ملتا ہے مثلاً ان کے کچھ اشعار دیکھیے

”خدا کی راہ میں نکلا ہوں میں تنِ تنہا
یہ پہلی بار ہوا ہے خدا نہیں مرے ساتھ ”( 3 )
”کیا بتاؤں میں خدا اور اداسی کا پتہ
یوں بھی دونوں کا کوئی خاص سبب ہے ہی نہیں ”( 4 )

ان کے ہاں روایتی عشق و محبت کا بیان بھی ملتا ہے۔ ہجر و وصل، درد و غم اور محبوب کی بے رخی کو وہ اپنی غزلوں میں یوں بیان کرتے ہیں کہ قاری کے دل میں ایک خاص قسم کی لطافت پیدا ہوتی ہے۔

”دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پِھرتا ہے
اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں ”( 5 )
”انجم میں بددعا بھی نہیں دے سکا اُسے
جی چاہتا تو تھا وہاں کہرام کر کے آؤں ”( 6 )

جب ہم حُسنِ محبوب کے سلسلے میں انجم سلیمی کے شعروں کو دیکھتے ہیں تو انجم اپنے محبوب کے جمال کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں کہ ہمیں مکمل سراپا ان کی شاعری میں محبوب کا دکھائی دیتا ہے۔

”آج جی بھر کے تجھے دیکھا تو محسوس ہوا
آنکھ نے سورہٓ یوسف کی تلاوت کی ہے ”( 7 )

انجم سلیمی کا یہ خاص وصف ہے کہ ان کا شعر گفتگو کا پیرایہ لیے ہوئے ہے۔ انجم سلیمی کے اشعار کو پڑھتے ہوئے یہ واضح محسوس ہوتا ہے جیسے ایک کردار دوسرے کردار سے مخاطب ہے۔ شعروں میں کلماتِ تخاطب ان کی شاعری میں کثرت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

”یہ کاروبار نہیں دوست! یہ محبت ہے
مجھے تو اس میں خسارہ نظر نہیں آتا ”( 8 )
”حال پوچھا ہے میرا روئے ہو آنسو مرے؟
شکریہ! تم نے مرے درد میں شرکت کی ہے ”( 9 )

انجم سلیمی کا تصورِ انسان بہت مختلف ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان خدا بن کر بیٹھا ہے۔ اور اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہے۔ مادیت پرستی کے اس دور نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ کوئی بھی انسان اب کسی کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتا۔ یا ایک طرح سے ان لوگوں پر چوٹ کرتے ہیں جو خدا بنے بیٹھے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہیں وہی اعلی و کامل ہیں۔ اور ان کو یہ احساس تک نہیں کہ کے ارد گرد کا انسان کن حالات اور کن دشواریوں میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ اس کو وہ اپنی شاعری میں یوں بیان کرتے ہیں

”کہہ رہا ہے خدا خداؤں سے
میں حقوق العباد چاہتا ہوں ”( 10 )

انجم سلیمی کی غزلوں میں ہمیں اُمید اور رجائیت کا پہلو بھی ملتا ہے۔ وہ مایوسیوں کے اندھیروں میں امید کی شمع جلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

”دل کے ملبے سے کچھ نہیں نکلا
ایک امید تھی بچا لی ہے ” ( 11 )
”ہر گھڑی سوچتے رہنے سے بھی کیا ہو گا بھلا
اس طرح کیا کبھی تقدیر بدل جاتی ہے ” ( 12 )

انجم سلیمی کے ہاں شعری صنعتوں کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ مثلاً ذیل میں کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :

صنعتِ و نشر
”مجھ کو مشکل میں ڈال دیتی ہے
اکثر اوقات خیر خواہی مری ”( 11 )
صنعتِ سوال و جواب
”کیا یہی ہجر ہے؟ سب جس سے ڈراتے ہیں مجھے
نیند بھی لیتا ہوں میں خواب بھی آتے ہیں مجھے ” ( 12 )
صنعتِ تلمیح
”قدیم دشت سے مجھ کو بلاوا آ گیا تھا
قمیصِ قیس مرے تن سے چاک ہو رہی تھی ”( 13 )
صنعتِ تکرار
”خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ
میں کیا کہوں میرا کچھ بھی گلا نہیں مرے ساتھ ” ( 14 )
صنعت تضاد
”صبح تک رات کی تحریر بدل جاتی ہے
دن بدلتا نہیں زنجیر بدل جاتی ہے ” ( 15 )
صنعتِ تظمین
”میں نے جانا تیری اداسی میں
”زندگی کتنی خوبصورت ہے“ ”( 16 )

اگر ہم انجم سلیمی کی شاعری کو دیکھیں تو انجم نے ایک بڑا شعری تجربہ یہ بھی کیا کہ انہوں نے غزل کے سادہ اظہار کو تمثالی اسلوب میں بدلا یعنی بات کہنے کی بجائے ایک تصویر لفظوں میں تراشی جائے

”پھول کو جھیل میں بہایا ہے
چاند کو شاخ پر اتارتا ہوں ”( 17 )
حوالہ جات
1۔ انجم سلیمی، میں، جہلم پاکستان، بُک کارنر، 2021، ص: 1
2۔ ایضاً، ص: 61
3۔ ایضاً، ص : 53
4۔ ایضاً، ص : 53
5۔ ایضاً، ص : 68
6۔ ایضاً، ص : 122
7۔ ایضاً، ص: 156
8۔ ایضاً، ص : 143
9۔ ایضاً، ص : 170
10۔ ایضاً، ص : 110
11۔ ایضاً، ص : 67
12۔ ایضاً، ص : 89
13۔ ایضاً، ص : 79
14۔ ایضاً، ص: 91
15۔ ایضاً، ص : 83
16۔ ایضاً، ص : 41
17۔ ایضاً، ص : 172

Facebook Comments HS