ایک کلرک کی موت: (اینٹون چیخوف کا افسانہ)


ترجمہ: مسعود صابر

وہ ایک بڑی شاندار رات تھی جب شاندار کلرک آئیوان دمتریچ چرویا کوف، انفرادی نشستوں کی دوسری قطار میں بیٹھا ’لا کلوچز دی کورن ول‘ کا اوپرا گلاسز کی مدد سے لطف اٹھا رہا تھا۔ وہ سٹیج کو دیکھ رہا تھا اور خود کو فانی انسانوں میں مسرور ترین تصور کر رہا تھا جب اچانک۔ ’اچانک‘ ایک گھسی پٹی ترکیب ہے مگر مصنفین اسے کیسے استعمال نہ کریں جبکہ زندگی حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ اچانک اس کا چہرہ تن گیا، آنکھیں آسمان کی طرف لڑھک گئیں، سانس رک گئی، اپنا منہ اوپرا گلاسز سے موڑتے ہوئے وہ اپنی نشست میں دوہرا ہو گیا۔

اور۔ آآ شوو۔ مطلب اس نے چھینک ماری۔ اب ہر کسی کو چھینک مارنے کا حق ہے جب بھی وہ چاہے۔ کسان، پولیس انسپکٹر، حتی کہ پرائیوی کاونسلرز بھی چھینکتے ہیں۔ ہر ایک چھینکتا ہے۔ چرویا کوف نے کوئی شرمندگی محسوس نہ کی۔ اس نے جلدی سے اپنے ناک کو اپنے جیبی رومال کے ساتھ صاف کیا اور پھر ایک عالی نسب انسان کی طرح اپنے اطراف میں دیکھا کہ اس کی چھینک نے کسی کو پریشان تو نہ کیا تھا۔ اور پھر اس نے سچ مچ شرمندگی محسوس کی کیونکہ اس نے پہلی قطار میں، بالکل سامنے بیٹھے ہوئے ایک چھوٹے سے بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنی گنجی کھوپڑی اور گردن کو احتیاط سے اپنے دستانے کے ساتھ صاف کر رہا تھا اور اس دوران کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا۔ چرویا کوف نے اس بوڑھے آدمی میں وزارت مواصلات کے سول جنرل برژالوف کو پہچان لیا تھا۔

” میں نے اس پر چھینک دیا“ چرویا کوف نے سوچا۔
” یہ (دفتر میں ) میرا صاحب نہیں ہے، سچ ہے، لیکن پھر بھی بہت بری بات ہے۔ مجھے ضرور معذرت کرنی چاہیے“

چرویا کوف آگے کو جھکا، ہلکا سا کھانسا اور جنرل کے کان میں سرگوشی کی : ”عالی مرتبت معاف کیجیئے گا، میں نے حادثاتا آپ پر چھینک دیا۔“

” کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں“
” براہ کرم مجھے معاف کر دیجیئے۔ میں۔ میرا یہ مقصد ہرگز نہ تھا۔“
” ارے، بیٹھ جاؤ۔ مجھے سننے دو“

چرویا کوف شرمندہ تھا۔ وہ احمقانہ طور پر مسکرایا اور بے ارادہ سٹیج کو دیکھنے لگا۔ وہ دیکھ رہا تھا مگر اب کوئی مسرت محسوس نہ کر رہا تھا۔ ایک اضطراب نے اسے پریشان کر دیا تھا۔ وقفے کے دوران میں وہ برژالوف کے پاس گیا، اس کے ساتھ تھوڑا سا چلا، اور اپنی شرمندگی پر قابو پاتے ہوئے، یوں منمنایا ”

” میں نے آپ پر چھینک دیا عالی جناب۔ مجھے معاف کر دیجیئے۔ دیکھیے۔ میں نے یہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ۔ ۔ ۔“

” بس۔ بہت ہو گیا بھئی۔ میں تو بھول بھی گیا تھا، اور تم اسی پر لگے ہوئے ہو“ جنرل نے اپنا نچلا ہونٹ بے قراری سے ہلاتے ہوئے کہا۔

” یہ بھول گیا ہے لیکن اس کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک ہے“ چرویا کوف نے جنرل کو شک کی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچا۔ ”اور یہ بات بھی نہیں کرنا چاہ رہا۔ مجھے اس کو وضاحت کرنی چاہیے کہ میرا ایسا مقصد نہیں تھا۔ کہ یہ قانون فطرت ہے۔ ورنہ یہ سمجھے گا کہ میرا مقصد واقعی اس پر تھوکنا تھا۔ یہ اب ایسا نہیں سمجھ رہا مگر بعد میں ضرور سمجھے گا“

گھر پہنچ کر چرویا کوف نے اپنے اس سوئے ادب کے بارے میں اپنی بیوی کو بتایا۔ اسے اس بات سے جھٹکا لگا کہ اس کی بیوی نے بھی اس واقعے کو بہت معمولی خیال کیا۔ پہلے وہ ذرا سا ڈری تھی لیکن جب اسے پتہ چلا کہ برژالوف دوسرے شعبے میں تھا، تو وہ مطمئن ہو گئی تھی۔

” پھر بھی میرا خیال ہے کہ تمہیں جا کر معذرت کرنی چاہیے، ورنہ وہ سمجھے گا کہ تمہیں مجلس کے آداب نہیں آتے۔“

” ہاں یہی تو۔ میں نے معذرت کی تھی۔ لیکن اس نے کچھ عجیب سا جواب دیا۔ اس نے ایک بھی معقول لفظ نہ کہا۔ اور مناسب طریقے سے بات کرنے کا وقت نہ تھا۔“

اگلے روز چرویا کوف نے اپنی نئی وردی پہنی، بال ٹھیک سے کٹوائے، اور برژالوف کے گھر چلا گیا وضاحت کرنے کے لیے ۔ جنرل کے استقبالیہ کمرے میں جاتے ہوئے اس نے وہاں بہت سے سائلین کو دیکھا، جن کے بیچ جنرل خود بھی تھا، اور ان کی شنوائی شروع کر رہا تھا۔ بہت سے سائلین سے سوالات کرنے کے بعد اس نے آنکھ اٹھائی اور چرویا کوف کو دیکھا۔

” کل آرکیڈیا میں، اگر آپ کو یاد ہو عالی جناب“ موخر الذکر نے کہنا شروع کیا ”میں چھینکا اور غلطی سے آپ پر تھوک چھڑک دی۔ معذر۔ ۔ ۔“

” کیا بکواس ہے۔ یہ تو حد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں“ جنرل نے اگلے سائل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

” یہ بات نہیں کرے گا“ چرویا کوف نے زرد پڑتے ہوئے سوچا ”اس کا مطلب ہے کہ یہ خفا ہے۔ نہیں نہیں اس معاملے کو یوں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ میں وضاحت کرتا ہوں۔“

جب جنرل نے آخری سائل کے ساتھ گفتگو تمام کر لی اور درون خانہ کی جانب مڑا تو چرویا کوف اس کے پیچھے گیا اور یوں منمنایا: ”معاف کیجیئے گا جناب عالی، یہ محض میرے دل کا حقیقی پچھتاوا ہے جو مجھے آپ کو یوں پریشان کرنے پر اکسا رہا ہے۔ عالی قدر۔“

جنرل نے اسے یوں دیکھا کہ جیسے وہ رونے والا تھا اور ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کیا۔
” حضرت آپ مجھ پر ہنس رہے ہیں“ جنرل نے کہا اور اس کے منہ پر دروازہ بند کر دیا۔

”میں ہنس رہا ہوں؟“ چرویا کوف نے سوچا ”مجھے تو اس میں کوئی مزاحیہ بات نظر نہیں آتی۔ کیا یہ سمجھتا نہیں ہے؟ یہ جنرل ہے؟ بہت اچھا پھر۔ میں اس نفیس انسان کو اپنی معافیوں کے ساتھ مزید پریشان نہیں کروں گا۔ جہنم میں جائے۔ میں اسے خط لکھوں گا۔ میں اس کے پاس مزید نہیں جاؤں گا۔ نہیں جاؤں گا۔ بس ہو گیا فیصلہ۔“

یہ تھیں وہ سوچیں جو چرویا کوف کے دماغ میں تھیں جب وہ گھر واپس آ رہا تھا۔ مگر اس نے خط نہ لکھا۔ وہ سوچتا رہا۔ سوچتا رہا لیکن سوچ کو لفظوں میں نہ ڈھال سکا۔ چنانچہ اگلے روز معاملات کو سیدھا کرنے کے لیے اسے جنرل کی طرف جانا پڑا۔

” عالی مرتبت۔ کل میں نے آپ کو پریشان کرنے کی جسارت کی تھی“ اس نے کہنا شروع کیا جب جنرل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ”آپ پر ہنسنے کے لیے نہیں، جیسا کہ جناب نے ارشاد فرمایا تھا، بلکہ معذرت کرنے کے لیے حاضر ہوا تھا کہ میں نے چھینک مار کر آپ کو پریشان کیا تھا۔ اور جہاں تک آپ پر ہنسنے کا تعلق ہے، میں ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں ایسی جرات کس طرح کر سکتا ہوں؟ اگر ہم نے لوگوں پر ہنسنے کا خیال اپنے دماغوں میں ڈال لیا تو کوئی عزت باقی نہ رہے گی، بڑوں کی کوئی عزت نہ رہے گی“ ‎

” نکل جاؤ یہاں سے“ جنرل آواز کی پوری طاقت سے چلایا۔ وہ شدید غصے میں تھا اور طیش سے کانپ رہا تھا۔
” میں معذرت خواہ ہوں۔ لیکن۔“ چرویا کوف منمنایا۔ وہ خوف سے بے جان ہو رہا تھا۔
” نکل جاؤ“ جنرل نے پاؤں پٹختے ہوئے دہرایا۔

چرویا کوف کو لگا کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ جب وہ دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا تو اس نے کچھ دیکھا نہ سنا۔ وہ گلی میں آ گیا اور سوچتا چلا گیا۔ وہ گھر تک ایک میکانکی انداز میں پہنچا، صوفے پر لیٹ گیا۔ اسی طرح اپنی وردی میں۔ اور مر گیا۔

Facebook Comments HS