حویلی کے راز: منیر مانک کا سندھی افسانہ


سندھی سے ترجمہ :احمد علی کورار

دوپہر کا وقت تھا، میں حکیم خیر محمد کے ”حیدری شفا خانہ“ کی طرف گام فرسا تھا، میں نے دور سے دیکھا، حکیم صاحب ٹانگیں پھیلائے لکڑی کے بوسیدہ دیوان پر بیٹھے ہوئے ہاون دستے میں دوائی کے لیے اجزا کو ملا رہے تھے۔

حسب معمول، حکیم صاحب نے اپنے اوپری ہونٹ کو دانتوں کے زیر کیا ہوا تھا جبکہ اس کا پھولا ہوا نچلا ہونٹ لٹک رہا تھا، مجھے آتا ہوا دیکھ کر، ہاون دستے کو ایک طرف رکھا اور اپنے تہہ بند سے ہاتھ پونچھنے لگا۔

جیسے ہی میں حیدری شفا خانہ کے دروازے سے اندر داخل ہوا، حکیم صاحب کھڑے ہوئے، آگے بڑھے اور بڑی مودت سے گلے ملے، پھر اچانک اس نے میرے دائیں کان میں کھسر پھسر کی۔

کیا آپ کو کچھ پتہ چلا ہے؟ وہ بڑبڑایا۔
نہیں۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے جواب دیا۔

تب اس نے لکڑی کا بوسیدہ اسٹول جو غالباً ہندوؤں کے زمانے کا تھا میری جانب دھکیلا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

حکیم صاحب نے مخفی انداز سے ادھر ادھر دیکھا اور قریب آتے ہوئے ایک بار پھر لب بستگی سے پوچھا ”آپ نے کسی چیز کے بارے میں نہیں سنا؟

نہیں۔ مگر کس چیز کے متعلق؟ میں نے استفسار کیا۔
حکیم صاحب خاموش ہو گئے۔

پھر اس نے چور کی طرح کھڑکی سے باہر جھانکا اور اپنے ابھرے ہوئے دیدوں سے ایک مرتبہ پھر مجھے دیکھا اور کہا ”آہا میاں مجھے تمہارے حال پہ رحم آتا ہے۔

اگر تم نے اس خبر کو نہیں سنا تو تمھارا پیدا ہونا بے کار ہے۔
ٹھہرو، میں تمھیں بتاتا ہوں۔
لیکن پہلے میں دیکھوں تو سہی، طبیب خانے کے باہر کوئی کھڑا تو نہیں ہوا۔

یہ کہہ کر، حکیم صاحب باہر گئے اور گلی میں اچٹتی نگاہ ڈالی، میں تذبذب میں بیٹھا حکیم صاحب کے عجیب و غریب مزاج کو نہیں سمجھ سکا اور نا ہی حقیقت کو جان پایا کہ حکیم صاحب راز فاش کرنے کے لیے کیوں اتنے بے تاب ہیں۔

کافی سوچ و بچار کے بعد ، میں کسی متوقع یا ممکنہ ماحصل تک نہیں پہنچ سکا۔
بالآخر، حکیم صاحب متزلزل چال کے ساتھ گلی کا طائرانہ جائزہ لینے کے بعد واپس ہوئے۔
جیسے ہی شفا خانہ میں داخل ہوئے وہ میرے قریب آئے اور میرے کان میں دھیمی آواز میں کہا ”سنو“
جی، میں نے محتاط ہو کر جواب دیا۔
تب، وہ ایک مرتبہ پھر محو گفتگو ہوا۔
سائیں دانیال کی چھوٹی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہے۔
کیا! میں نے تعجب خیز انداز سے پوچھا۔
شش، جناب اپنی آواز دھیمی رکھو، حویلی قریب ہی ہے، دیواروں کو بھی کان ہوتے ہیں۔
سائیں دانیال کی چھوٹی بیٹی۔ میں نے اس کا نام یاد کرنے کی کوشش کی۔
وہ ابھی ابھی جوان ہوئی ہے۔ ایک ہفتہ پہلے اس کی قرآن سے شادی کی گئی ہے۔
تب میں نے دلچسپی سے اس سے استفسار کیا ”کس کے ساتھ وہ بھاگ گئی؟“
جمعو شیدی کے ساتھ ”اس نے کہا“
”جمعو شیدی! کون سا جمعو شیدی؟“
جمعو شیدی۔ جو حویلی میں پانی لاتا تھا۔ وہ جسے ہمیں دادو (حبشی) کہتے تھے ”
حکیم صاحب نے میرے استفسار کرنے پر طنزیہ جواب دیا۔

حکیم صاحب اپنی ابھری ہوئی سرخ آنکھوں سے ابھی تک مخفی انداز سے محو گفتگو تھے اور اس پوری گفتگو کے دوران میں بڑی حیرانی سے حکیم صاحب کے چہرے کو تکتا رہا۔

آپ کا چہرہ زرد ہو چکا ہے۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں، میاں؟
دنیا ترقی کر چکی ہے :انسان چاند پر جا چکا ہے۔

حکیم صاحب کا سینہ لگاتار باتیں کرنے کی وجہ سے پھول چکا تھا، مگر تھوڑے ٹھہراؤ کے بعد ، وہ پھر سے باتیں کرنے لگا۔

کب تک سفاکیت کے قلعے قائم رہیں گے؟
وہ تھوڑی دیر کے لیے رکا، پھر سے بڑی بڑی باتیں کرنے لگا۔
یقیناً وہ ایک دن نیست و نابود ہوجائیں گے۔
ان کی بربریت دیکھیں، قرآن سے انسان کی شادی اور وہ بھی عورت۔
حکیم جالینوس نے کہیں کہا تھا کہ عام طور پر ایک عورت ایک مرد سے چالیس گنا زیادہ جنسی رغبت رکھتی ہے
اس نے ٹھیک ہی کیا ورنہ اس کی پوری زندگی حویلی میں دوسری عورتوں کی طرح برباد ہوجاتی ”میں نے کہا“

عورتوں کی قرآن سے شادی کی جا رہی ہے۔ خدا ایسے لوگوں کو غارت کرے، کیسی ذہنیت ہے۔ وہ حقارت آمیز مسکراہٹ سے بڑبڑاتا رہا۔

حکیم صاحب کی گفتگو کے بعد ، جیسے میرے دماغ کو آسمانی بجلی کا کرنٹ لگا، سائیں دانیال کی چھوٹی بیٹی۔ جس کا نام شہر بانو تھا اور پیار سے اسے بڑی بی بی شاہو کہتی تھی۔

”شاہو دادو شیدی کے ساتھ بھاگ گئی ہے“ دادو شیدی جو بن مانس کی طرح دکھتا تھا۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS