کون سمجھے گا میرا درد یہاں


(گزشتہ دنوں لندن میں ایک مختصر اردو تمثیلچہ پیش کیا گیا جس میں مرکزی کردار ارم طور صاحبہ نے ادا کیا۔ اس کھیل کا سکرین پلے نیلم احمد بشیر نے لکھا۔)

(سٹیج پر اندھیرا ہے۔ دھیرے دھیرے روشنی پڑتی ہے تو ایک لڑکی بُت بنی دکھائی دیتی ہے، اسکے چہرے پر ایک گھونگھٹ ہے۔ وہ رقص کے لباس میں ہے، بیک گراؤنڈ میں ایک گانا بجتا ہے، دو لائنز ہی بجائیں۔)

گھونگھٹ کے پٹ کھول رے تجھے پیا ملیں گے

(یوٹیوب پر یہ گانا مل جائے گا، پرانی فلم جوگن کا ہے)

وہ دھیرے دھیرے گھونگھٹ سرکاتی ہے، اب بھی اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، بیک گراؤنڈ میں آواز ابھرتی ہے

آنکھوں کو تو نہ ڈھانپ، آنکھوں کو تو نہ ڈھانپ

Dreamy Voice
طبلے کی دھمک بیک گراؤنڈ میں ہے، لڑکی انگ بدلتی ہے اور آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر مخاطب ہوتی ہے

لڑکی: میرا نام۔۔۔ لیکن ٹھہرئیے میرا نام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ سُندری، مُندری، دل آرا، بہار بیگم، کہکشاں، نجمہ نام میں کیا رکھا ہے، اصل میں تو میری پہچان میرا کام ہے، میرا وجود ہے۔ اور میرا کام ہے رقص کرنا، دلربائی سے آنے جانے والوں کا دل موہ لینا، چند لمحوں کے لیے کسی کو ایک طلسمی، ریشمی دنیا کی سیر کرانا، یہ اچھی بات نہیں؟
( وہ ہنستی ہے، گھوم کر چکر لیتی ہے، گھنگھرو بجتے ہیں)

لڑکی: آپ اس وقت لاہور کے مشہور زمانہ بازار ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے کی مکین عورت کے روبرو ہیں، یہاں میں اور مجھ جیسی ان گنت لڑکیاں یعنی ہیرے رہتے تھے، جن کے خریدار رات کے اندھیرے میں منہ لپیٹ کر آتے اور صبح کے دھندلکوں سے پہلے لوٹ جاتے، ہم میں سے زیادہ تر ان کوٹھوں پر پیدا نہیں ہوئیں بلکہ لائی جاتی رہی ہیں۔ کبھی اغوا کر کے، کبھی بک کر اور کبھی ہمارے خاندانوں کی معاشرتی مجبوریوں کی وجوہات سے، مگر پھر دھیرے دھیرے ہم اس ماحول اور زندگی کی عادی ہوجاتی ہیں تو ہمیں کچھ بھی عجیب نہیں لگتا۔ مردوں کا دل لبھانا، انہیں خوش کرنا، ہیرا منڈی کے ہیروں کا ہُنر بن جاتا ہے۔ ہمارے تماش بین ہمارے رقص اور دیگر فنون سے محظوظ ہونے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، اور یہی ہمارا کام ہے کہ ان کو خوش کریں تاکہ ہمارا اپنا گھربار سہولت سے چلتا رہے۔

بیک گراؤنڈ آواز۔۔۔ کون سمجھے گا میرا درد یہاں۔۔۔
مونولاگ:
ہیرا منڈی میں اپنے جسموں کی پکار سُنتے ہوئے دیوانے چلے آتے ہیں اور کچھ دیر بعد پتنگوں کی طرح تتربتر ہو کر خاک ہو جاتے ہیں۔ محبت اور طلب کی مہک میں سرشار جسموں کو یہاں کی جلتی ہوئی چتاؤں کا دھواں دکھائی نہیں دیتا، رعنائی کے پیکر جیسی جل پریاں ڈھونڈنے والے یہ نہیں جانتے کہ جسم تو ایک ننھے سے دئیے کی لرزتی ہوئی لو ہے

(بیک گراؤنڈ میں ایک کھانستی ہوئی عورت کی آواز)

لڑکی: یہ میری بوڑھی بیمار میا ہے، ایک خاص عمر کے بعد جب ہیرے کی چمک ماند پڑ جاتی ہے تو اسے کونے میں ہی رہنا پڑتا ہے۔۔ مسائل، بیماریاں، خیر چھوڑئیے۔۔ آپ تو ایک میٹھی سُندر جھلمل کرتی کتھا سُننے آئے تھے ناں؟


پارٹ ٹو

(لڑکی پھر ڈانس کا ایک چکر کاٹتی ہے)

لڑکی:
ہیرا منڈی کی یہ نیم روشن، نیم تاریک گلیاں، یہ بام و در موتیا اور چنبیلی کے مہکتے گجرے، دلالوں کے بھاؤ تاؤ، پرانے عاشق، کچلی اور مسلی ہوئی جوانیاں، ادھ کھلی کلیاں، کھوکھلے قہقہے اور جھوٹی محبتوں کے فریب، یہی ہماری ہنستی، روتی، گاتی اور خاموش دنیا ہے، آپ کو شاید یہ علم نہیں کہ ہیرا منڈی محض ایک بازار نہیں۔۔۔ آج کی شو بزنس اور فن گلوکاری سے وابستہ بہت سے فنکار یہیں کے رہائشی تھے۔
یہیں سے انہوں نے اپنے فن کا آغاز کیا تھا، کچھ خوش جمال، جن کے گلے میں نُور تھا، خوش بخت ٹھہرے اور کچھ زخم خوردہ گھائل عورتیں یہیں پڑی سسکتی رہ گئیں، مانگی ہوئی محبتوں اور توجہ کے کاروبار میں ہمیشہ خسارہ ہی تو ہوتا ہے،
تو پھر ان عورتوں سے اتنی نفرت کیوں؟
بادشاہوں کے ادوار سے لے کر انگریز راج تک سبھی تو ہیرا منڈی کا طواف کیا کرتے تھے، یہیں سے اپنی پسند کی مغنیائیں، رقاصائیں اور محبوبائیں ڈھونڈتے تھے، اسی لیے شاہی محلوں، چکلوں میں اکثر مکانی قرب ہوا کرتا تھا، تاکہ وہ آسانی سے جلد ہی بلوا لی جائیں
ایک چکلہ تغلق نے طرب آباد کے نام سے بسایا تو شہنشاہ اکبر نے آگرہ میں شیطان پورہ بسا دیا، گویا آپ اپنی خوشیوں کے لیے شیطان کی ہی سر مستیوں کے ہی محتاج ہوتے ہیں

(لڑکی ہلکا سا قہقہہ لگا کر)

لڑکی: قصہ کچھ یوں ہے کہ یہاں کام کرنے والیوں کی چاہتوں کے بازار ہمہ وقت کُھلے رہتے ہیں اور مرد کی خواہشوں کے مینار اونچے سے اونچے ہوتے چلے جاتے ہیں
شرفا کی تسکین کا باعث بننے والی یہ عورتیں نہ ہوتیں تو خواہشوں کے قیدی مرد پھر کہاں جاتے؟
اب لاہور کا ہیرا منڈی کافی حد تک ویران اور غیر آباد ہے، اب یہاں جوتے بنتے اور بکتے ہیں، ضیاالحق کے دور اقتدار سے یہ فنکار عورتیں اپنے اپنے اڈے جنہیں وہ آفس کہتی تھیں چھوڑ گئیں، اور سارے شہر میں پھیل گئیں۔۔ چلیے چھوڑئیے یہ قصہ۔ ہم آپ کو رقص دکھاتے ہیں کیونکہ رقص میں ہے سارا جہاں، زندگی کی حرکت ہی اسے رواں دواں رکھتی ہے۔
سورج چاند ستارے اپنے اپنے مدار میں رقص کرتے آتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں، مور پنکھ پھیلاتے ہیں مہکتی ہوائیں جھوم جھوم جاتی ہیں، سمندر کی لہریں نرت کرتی اٹھتی بیٹھی ہیں۔
آپ آج کی ہیرا منڈی کی اُجڑی محفلیں اور خستہ جھروکے دیکھ کر آہ نہ بھریں، اپنے تصور کو رقص کرنے دیں۔ یہ گلشن آج ویران سہی، پاؤں میں گھنگرو ہو تو زندگی ناچ اٹھتی ہے۔

Facebook Comments HS