حوا کی ایک اور بیٹی درندگی کا شکار

پرندے کیوں نہیں آتے؟ کنکر کیوں نہیں برساتے؟ جس معاشرے میں ظلم کی انتہا ہو، ظالم کی پشت پناہی ہو، ظلم کو سراہا جائے، مظلوم کو للکارا جائے، تو مدد کو فرشتے کیوں کر آئیں گے؟ آسمان کیوں نہ روئے گا؟ زمین کیوں نہ کانپے گی؟ پتھر کیوں نہ لرزیں گے؟
جہاں ہمارے ہاں آئے روز تجنیس و تلازمہ کی خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے وہیں دنیا کو تھرتھرا دینے والے واقعات گمنامی کے گہرے سمندر میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا کی طاقت سے بسا اوقات بے گناہوں کو بھی سزا مل جاتی ہے وہیں پیشہ ور مجرم اپنی بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹ کر بچ نکلتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہمارے ہاں ( محرم سیال، جھنگ) ایک دل دہلا دینے والا واقعہ رو نما ہوا۔ جو میڈیا پر تو نہ آ سکا مگر مقامی سطح پر عوام نے اسے خوب اجاگر کیا۔ جو اعلی عہدے داران کے کانوں تک تو نہ پہنچ سکا مگر جن کانوں نے سنا وہ بہرے ہو کر رہ گئے۔ کلیجہ منہ کو آنے لگا۔
دن دیہاڑے حوا کی بیٹی ( سپیشل چائلڈ) کو ، ایک کم سن کلی کو ، چمن کی پھوٹتی کونپل کو ، ایک درندہ صفت آدم زاد نے مسل دیا۔ اس کے شباب کو ہی لوٹ لیا۔ اسے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ حوا کی محض چودہ برس کی یہ بیٹی، جسے اب تک شاید اپنی جسمانی تبدیلیوں کا بھی مکمل ادراک نہ تھا۔ ایک سیدھی سادی، با حیا، نو عمر، دنیا کی پیچیدگیوں سے بے فکر، اپنی گھر کی لاڈلی بیٹی، جس کا دماغ مکمل طور پر فعال نا تھا۔ جو الفاظ کی ادائیگی سے قاصر تھی۔ اس معصوم الفطرت کو ایک درندہ صفت آدم زاد نے سرداری کے زور پر روند دیا۔
معاشرے کی ایسی کالی بھیڑیں ہی پورے معاشرے کے لیے شرمندگی کا موجب بنتی ہیں۔ یہ معاشرتی ناگ جب پھنکارتے ہیں تو کئیوں کی عزت کو ڈس جاتے ہیں۔
دل برداشتہ والدین پر قیامت کا سماں تھا۔ اپنی ننھی جان کو اس حالت میں دیکھ کر وہ بحرِ بے کراں میں غوطہ زن تھے۔ گریہ وزاری کرتے رہے لیکن وہاں ان کی آہ و بُکا سننے والا کوئی نا تھا۔ اپنی بے بسی کا ماتم کرتے اور سر پیٹتے وہ گھر لوٹ آئے۔ نیز فیصلہ کیا گیا کہ قانونی کارروائی کی جائے۔ وڈیرے کے سامنے رعایا کا استقلال دکھانا آسان نہیں ہوتا۔
جب وڈیرے کو اپنے بیٹے کی اس نیچ حرکت سے آگاہ کرتے ہوئے باور کرایا گیا کہ وہ قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے کان پر جوں تک نا رینگی۔ بجائے اس کے کہ سر تسلیم خم کرتے، مظلومین کو قتل کے ساتھ ساتھ دیگر کئی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ میڈیکل رپورٹ کروانے کے جرم کی پاداش میں ؛ سردار کے دباؤ کی تاب نا لاتے ہوئے، وہ بے گھر، در در کی خاک چھان رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کی حمایت سے اتنا ضرور ہوا کہ پولیس نے درخواست وصول کر لی مگر تا حال پولیس مرکزی ملزم کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ نچلی سطح پر ہی سہی مگر جب بات پھیلنے لگی تو پولیس نے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر چھاپے مارنے شروع کر دیے۔ فرضی طور پر وڈیرے کے دو تین آدمیوں کو اپنے تھانے کا مہمان بنایا۔ جس کی تصدیق اس امر سے کی جا سکتی ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بغیر ہی ان مہمانوں کو عید منانے کی خاطر گھر بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب، ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ ۔ ان افواہوں کو عام کیا جا رہا ہے کہ وہ تو تھی ہی بد چلن۔ ہر ذی شعور انسان اتنا فیصلہ تو کر ہی سکتا ہے کہ ایک چودہ برس کی سپیشل چائلڈ اس گھناؤنے جرم کی کس قدر مرتکب ہو سکتی ہے! جبکہ دوسری جانب ادھیڑ عمر کا یہ درندہ صفت شخص، جس کے بے شمار قصے زبان زدہ عام ہوں، وہ بے گناہ ہو؟
محترمہ مریم نواز شریف (وزیراعلیٰ پنجاب ) جو ایک نوٹس لے کر ساہیوال کے بے قصور ڈاکٹر کو گرفتار کرا سکتی ہیں۔ کیا ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ لاچار اور بے یار و مددگار اس بیٹی کو انصاف دلا سکیں؟ ایک نوٹس لیں اور ان درندوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کریں۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے پر ان شقی القلب انسانوں کو سرعام سزا دی جائے اور ان کو نشان عبرت بنایا جائے۔
حقوق انسانیت بالخصوص حقوق نسواں کی تنظیموں سے درخواست ہے کہ قوم کی اس مظلوم بیٹی کو انصاف دلایا جائے۔

