عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔


کافی دن ہو چکے تھے چنانچہ کل سہ پہر ملاقات کی غرض سے میں پھر اپنے دوست راجہ رجب کے ہاں پہنچ گیا۔ ڈھلتی دھوپ میں چھوٹے سے صحن میں کرسی بچھائے ایک رسالہ پڑھ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے لیکن میں نے محسوس کیا کہ چہرے پہ بشاشت بس برائے نام تھی۔ میں نے چٹکی لی۔ نارمل نظر آنے کی اداکاری کے باوجود آپ کا موڈ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

اتنا کہنا تھا کہ پھٹ پڑے۔ بولے ہمارے ہاں پوٹھوہار میں جب کسی بندے کے حالات سدھر نہ پا رہے ہوں تو کہا جاتا ہے کہ اسے پیر فقیر کی بد دعا ہے۔ لگتا ہے کچھ ایسا ہی معاملہ اپنے دیس کا بھی ہے۔ ہمارے بگڑے ہوئے معاملات تو کیا سنوریں گے، ایسے معاملات جو سنور گئے تھے بلکہ بعض تو مثالی بن گئے تھے ہم نے ان کا بھی دھڑن تختہ کر دیا۔ ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، پی آئی اے، واپڈا، ٹی ڈی سی پی وغیرہ کی بنیادوں سے لے کر شمشاد قد بننے تک کا سہرا اگر کسی کے سر تھا تو وہ ہم پاکستانی ہی تھے۔ پھر ہم پہ۔

ع۔ وقت نے کیا، کیا حسیں ستم، تم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم۔ والا زمانہ آیا۔

ہماری تنزلی کی داستان مکمل طور پر انوکھی اور ناقابلِ یقین ہے اور ہمہ گیر بھی۔ مثلاً فلم کے حوالے سے اگر ہالی وڈ، کلکتہ اور ممبئی کو مثال بنائیں تو جتنے بھی بڑے فلم میکر گزرے ہیں انہوں نے جب ایک بار کوئی یادگار فلم بنائی تو پھر آنے والے سالوں میں بہتر سے بہتر معیار کے ساتھ سامنے آئے۔ ذرا اپنی مثال دیکھیں۔ آگ کا دریا، بدنام، شہید، لاکھوں میں ایک اور کرتار سنگھ کے تخلیق کار ان سے بہتر تو کیا اس معیار کی فلمیں بھی آنے والے سالوں میں نہ بنا پائے۔

انہوں نے بات جاری رکھی۔ ہمارے ماضی کے نشاناتِ فخر جو اب مزار بن چکے کے قصے میں پی ٹی وی کی مثال تو بہت ہی نرالی ہے۔ میرا دعوی ہے کہ دنیا میں ایسے مہان فنکار ایک چھت کے نیچے ایک وقت میں کہیں بھی جمع نہیں ہوئے چاہے وہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ جیسے ادارے ہی کیوں نہ ہوں حالانکہ ان کے تمام فنکار و ہنر مند وطنی نہیں ہوتے۔ جبکہ یہاں ڈرامہ، گیت، کلاسیکی موسیقی، طنز و مزاح، ہدایتکاری یہاں تک کی انتظامیہ اور اس کا سربراہ۔

کیسی کیسی صورتیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا یکبارگی۔
اب وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے عرض کی آپ نے جو پہلے پیر فقیر کی بد دعا والی بات کی تھی تو یہ بتائیں کہ ہمیں اس خواری کا سامنا کس پیر فقیر کی بد دعا کی وجہ سے ہوا۔ بولے ہمیں بد دعا کیا لگنی تھی ہمیں تو ان حال مستوں نے ایسا بد حال کیا جو کبھی خاکی میں ملبوس اور کبھی مفتی میں ہمارے حاکم بنے اور کیا وہ، کیا جی حضوری کے ماہر چیلے چانٹے اور کیا قوم، ہر کوئی بس اپنی دیہاڑی کی فکر میں رہا۔

میں نے ایک اور چٹکی لی۔ بولا۔ آپ کی بات کافی طویل ہو گئی جس پہ مجھے ایک شعر یاد آ گیا۔
ملے جو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی
عجیب چیز ہے یہ عرضِ مدعا کے لیے
ہاں اس موضوع کو منو بھائی نے بھی ایک پنجابی نظم میں خوب باندھا ہے، چلیے سنیئے۔
کیہ ہویا اے؟
کجھ نہیں ہویا
کیہ ہووے گا؟
کجھ نہیں ہونا
کیہ ہوسکدا اے؟
کجھ نہ کجھ ہوندا ای رہندا اے
جو تُوں چاہنا ایں، او نہیں ہونا!
ہو نہیں جاندا، کرنا پیندا اے
عشق سمندر ترنا پیندا اے
سُکھ لئی دُکھ وی جھلنا پیندا اے
حق دی خاطر لڑنا پیندا اے
جیون دے لئی مرنا پیندا اے۔

Facebook Comments HS