”روس کا داغستان اور یہ ہے میرا ”داغستان


گزشتہ منگل مورخہ 25 جون 2024 رات کا کھانا کھانے کے بعد میں حسبِ معمول گھر کی چھت پر چہل قدمی کرنے چلا گیا۔ علاقے میں کسی فنی خرابی کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا تو ایسے میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ائر پورٹ لاہور پر اُترنے والے جہاز کا منظر بڑا ہی دلکش اور خوشنما لگ رہا تھا یوں لگا گویا جہاز ساکت ہو اور رنگین بتیاں ہوا میں محوِ رقص ہوں کہ یکایک میرے عقب سے ”گوڈ بلیس یو“ کی آواز آئی، یہ میرے بیٹے سِرل کی آواز تھی جو جہاز کو دیکھ کر اُس کے مسافروں کے لئے خدا سے اُن کی حفاظت کی دعا مانگ رہا تھا کیونکہ ہم نے اُسے سکھایا ہے کہ جب بھی اُڑتے ہوئے جہاز یا روڈ پر دوڑتی ہوئی ایمبولینس کو دیکھو تو خُدا سے مسافروں کی حفاظت، نگہبانی اور سلامتی کی دُعا مانگو۔ وہ میرا فون لے کر آیا تھا کہ میرے کسی دوست کی کال آئی تھی۔

خیر، چھت پر رات کے گہرے اندھیرے میں اندیکھی ہوا کے سرسرانے کی آواز اور سارے دن کی شدید گرمی کے بعد ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں سے دل و دماغ سرور و خُمار کی بے بیاں کیفیت میں مبتلا تھے۔

فراغت کے بعد ”ہم سب“ پر اُستادِ محترم وجاہت مسعود کے مضمون ”میرا داغستان اور عزمِ استحکام“ پر نظر پڑی تو من ہی من میں مُسکراتے ہوئے مجھے اپنے مُلکی اور معاشرتی سیاق و سباق کی مناسبت سے یہ لفظ ”داغستان“ انتہائی موزوں اور حالاتِ حاضرہ سے میل کھاتا معلوم ہوا۔ سوچا وجاہت صاحب نے ”داغستان“ کا استعمال ضرور ہماری ”درخشاں“ تاریخ اور مجموعی معاشرتی رویوں کو بیان کرنے کے لئے یا دوسرے لفظوں میں نرگسیت پسند قوم کو آئینہ دکھانے کے لئے استعمال کیا ہو گا۔ البتہ انہوں نے آغاز میں ہی بیان کر دیا کہ داغستان روس کی جنوبی سرحد پر واقع ایک علاقہ ہے۔

بہرحال دوسرے حصہ میں انہوں نے ہماری ”داغی“ تاریخ کے چند حوالہ جات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ہمارے حکمرانوں کے پیوستہ مفادات نے افغان جنگ کا حصہ بن کر گزشتہ 45 برس میں ہمارے ایک لاکھ ہم وطنوں کی قربانی لی ہے۔ شمال میں سابق قبائلی ایجنسیوں سمیت ملک کے چپے چپے پر لہو کے چھینٹے گرے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے شہداد کوٹ، کراچی سے بہاولپور اور تربت سے لاہور تک ہم نے جیتے جاگتے انسانوں کے چیتھڑے اٹھائے ہیں۔ ہمارے ہم وطنوں نے بے گھری کا عذاب دیکھا ہے۔ ہماری معیشت تباہ ہوئی ہے۔ ہماری منظم افواج کو بے چہرہ پرچھائیوں سے غیر متناسب جنگ میں نقصان پہنچا ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ہماری امن، رواداری اور محبت کی روایت تفرقے، نفرت اور تشدد کی ثقافت میں بدل گئی ہے“۔

روس میں واقع علاقہ داغستان کے علاوہ اس کُرہ ارض پر ایک سرزمینِ داغستان اور بھی ہے۔ اس انوکھی سرزمین پر 75 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر اور گزشتہ چند دہائیوں نے خصوصی طور پر داغستان کی داغ بیل ڈالی ہے۔ سیاسی حرکتوں، سماجی رویوں، معاشی عدم استحکام، مذہب کے بے تحاشا اور بے جا استعمال، ہجومی فیصلوں، عدم رواداری، عدم مساوات، جنونیت پسندی، تعصبات، تفرقہ بازی، نعرے بازی، نفرتوں اور توہینِ انسانیت کی ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ ہم صبح شام خُدا کی پناہ کا ورد کرتے رہتے ہیں۔

ہمارے حکمران یا عوام بھلے اس تاثر سے انکاری ہوں مگر یہ سچ ہے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر گراوٹ کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بندوں کو جلانا، گھروں کو جلانا، تعلیمی اداروں کو جلانا، صحت کے مراکز اور عبادت گاہوں کو جلانا تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کمال ہے۔ ایسی حرکات کو ہم نہ تو اپنے ملک کی توہین سمجھتے ہیں نہ قوم کی بلکہ اِن کو تو ہم کسی کھاتے میں ڈالتے ہی نہیں۔ حالانکہ چند دہائیوں میں رونما ہونے والے ایسے واقعات نے ہمیں داغدار اور ہماری عزت کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے۔

ہم کس کس سے انکار کریں گے اور کس کس سے آنکھیں چُرائیں گے؟ آپ ذرا سوچیئے کہ کیا سوات کے واقعہ نے ہمیں داغدار نہیں کیا؟ آپ ایک لمحہ کے لئے سوچیئے کہ سرگودھا، جڑانوالہ، گوجرہ، کوریاں، سانگلہ ہل، شانتی نگر، مردان، نوشہرہ، گھوٹکی، رحیم یار خان، سکھر، لاہور اور تذلیلِ انسانیت کے دیگر واقعات نے ہمیں اکیسویں صدی میں کون سے تاج پہنائے ہیں؟

چند سال پہلے سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے دو بھائیوں کو ڈنڈوں اور اینٹوں سے جبکہ ایک غیر مُلکی کو زندہ جلا کر اُس کی نعش پر بھنگڑے ڈال کر ملک، قوم، مذہب اور انسانیت کی کون سی خدمت سرانجام دی تھی؟

کوٹ رادھا کشن میں جوان سال میاں بیوی کو اُن کے بچوں کی سامنے اینٹوں کے بھٹہ میں ڈال کر روسٹ کر ڈالا جسے سوچ کر آج بھی روح تک کانپ جاتی ہے۔ اِس داغ کو ہم اپنی پیشانی سے کیسے مٹائیں گے؟

کیا آپ کو ذہنی طور پر معذور رِمشا کا بے قصور اور امام صاحب پر الزام ثابت ہونا کوئی داغ معلوم نہیں ہوتا؟ یار ہم نے لاہور میں دو اڑھائی سو گھروں کو نذرِآتش کر ڈالا، کیا ہماری نظر میں وہ بھی داغ واغ کی کوئی بات نہیں؟

ہم غصہ پسند اور انتقام پسند قوم بن چکے ہیں۔ دُنیا کے بڑے بڑے ادارے ہمیں ناکام ریاست اور انسانی حقوق، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے غیر محفوظ اور خطرناک ترین ملک قرار دے چکے ہیں۔ آئے روز گلیوں اور سڑکوں پر ہم خود ہی منصف و جلاد بنے پھرتے ہیں۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر چند شہری واپڈا کے کسی اہلکار پر بہیمانہ تشدد اور تذلیل کرتے نظر آئے۔ انہوں نے ملک و قوم کے لئے کون سا تمغہ اپنے سینے پر سجا لیا ہے؟

ہمارا نصابِ تعلیم ہے تو وہ نفرتوں، تعصبات اور من چاہی تاریخ سے بھرا پڑا ہے۔ خود کے لئے ہم سب کچھ اچھا کی خواہش لئے پھرتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کا جینا اور اُن کا وجود بھی ہماری ذات پر گراں گزرتا ہے۔ ہر سال درجنوں بچیوں کے اغوا، جنسی زیادتیوں اور راتوں رات اُن کے تبدیلی مذہب کے واقعات ہمیں دنیا میں سُرخرو کر رہے ہیں یا داغدار؟ حیرت کی بات ہے ناں کہ دوسروں کا ایمان کیا ہو گا، انہیں کون سا عقیدہ اپنانا چاہیے، انہیں اسکولوں کے نصاب میں کیا پڑھنا چاہیے اِس کا فیصلہ بھی وہ نہیں بلکہ ہم کرنا چاہتے ہیں۔

ہم جمہوریت اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے دعویدار بنے پھرتے ہیں مگر آبادی کا ایک بڑا طبقہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں منتخب نمائندوں کے انتخاب سے محروم ہے۔ اخلاقیات ہم میں نہیں، تہذیب ہمیں چھو کر نہیں گزری۔ انسانی حقوق کو ہم نہیں مانتے، مذہبی آزادی کے ہم قائل نہیں، خواتین کے حقوق اور بچیوں کی تعلیم ہمیں منظور نہیں، فرسودہ رسومات کو ہم نے دامن سے لگا رکھا ہے۔ میں تو سوچتا ہوں کہ ہمارا بنے گا کیا؟ داغدار در داغدار تاریخ کے مالک ہیں ہم۔ کل کو کسی سر پھرے نے ہمیں ”داغستان“ کے باسی قرار دے دیا تو ہم کہاں جا کے منہ چھپائیں گے؟ اُس کی رائے کو رد کرنے کے لئے ہمارے پاس کون سے دلائل ہوں گے؟

بندہ ناچیز وجاہت مسعود صاحب کے مضمون کی آخری سطور سے متفق ہے جہاں وہ لکھتے ہیں کہ ”ہمارے ملک کی سلامتی اور معیشت کا تقاضا ہے کہ اسے ہر اس گروہ سے پاک کیا جائے جو جمہوری مکالمے کی بجائے تشدد اور ہتھیار کی زبان اختیار کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ہمیں اپنے وطن کی خوبصورتیوں کو بیان کرنے کے لیے (داغستان کے ) رسول حمزہ توف کا قلم نصیب نہ ہو لیکن ہمیں پاکستان کے سب خطوں اور تمام شہریوں سے اتنی ہی محبت ہے جتنی رسول حمزہ توف کو داغستان سے تھی۔“

ہم اب بھی اُمید جگائے بیٹھے ہیں انسانی حقوق کی تمام تحریکوں سے، فروغِ امن کی تمام جدوجہد سے اور تکریمِ انساں کا بیانہ لے کر چلنے والے کارکنوں و رہنماؤں سے کہ ایک دن ہم بھی ”زندہ اور تابندہ قوم“ بن کر اُبھریں گے۔ بالکل ”پیوستہ رہ شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ“ کے مصداق۔

Facebook Comments HS