کائنات : 10 مائیکل فیراڈے اور مقناطیسی فیلڈ
دنیا کا خیال تھا کہ مائیکل فیراڈے اب جا چکا۔ اپنے ڈپریشن کے باوجود، وہ ہمیشہ کی طرح جذباتی طور پر متجسس رہا۔ بجلی، مقناطیسیت اور روشنی کے اتحاد کو دریافت کرنے کے بعد، فیراڈے کو یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ قدرتی قوتوں کی یہ تثلیث مل کر کیسے کام کرتی ہے۔ اس میں کچھ نیا نہیں تھا، بچے صدیوں سے مقناطیس اور لوہے کے ذرات سے کھیل رہے تھے۔ ہر ایک نے ہمیشہ یہ فرض کیا تھا کہ یہ خوبصورت نمونہ صرف لوہا ہی بناتا ہے۔ فیراڈے جانتا تھا کہ برقی رو تار کو مقناطیس میں بدل دیتی ہے، اس لیے اسے توقع تھی کہ وہ بجلی لے جانے والے تار کے گرد لوہے کے ذرات میں متعلقہ نمونے تلاش کر لے گا۔ لیکن جہاں دوسروں نے محض خوبصورت شکلیں دیکھی، فیراڈے نے کچھ بہت ہی گہرا دیکھا۔ یہ نمونے صرف لوہے کے ذرات کا ایک اتفاق نہیں تھے بلکہ وہ مقناطیس یا برقی رو کے ارد گرد کی جگہ میں موجود تھے، یہاں تک کہ لوہے کے ذرات کی عدم موجودگی میں بھی۔ یہ نمونے وہ نشانات تھے جو قوت کے پوشیدہ شعبوں کے قدموں کے نشانات کی طرح کسی بھی مقناطیسی چیز کے اردگرد خلا تک پہنچتے تھے۔ قطب نما کی سوئی جس پر لوگ ایک ہزار سالوں سے سوچ رہے تھے وہ کسی دور کے مقناطیسی قطب شمالی پر رد عمل ظاہر نہیں کر رہی تھی۔ یہ ایک مسلسل قوت کے میدان کا پتہ لگا رہی تھی جو وہاں تک پھیلا ہوا تھا۔
زمین خود ایک بہت بڑا مقناطیس ہے۔ اور کسی بھی دوسرے مقناطیس کی طرح، اس کی قوت کی لکیریں اس کے آس پاس کی جگہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ ہر جگہ ہیں، ہمارے ارد گرد۔ وہ ہمیشہ سے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کسی نے انہیں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کسی انسان نے نہیں۔
پرندے ڈائنوسار کی آخری زندہ اولادیں ہیں۔ کبوتر اور دوسرے پرندے اپنا راستہ تلاش کرنے میں نمایاں طور پر شاندار ہیں۔ وہ کھوئے بغیر ہزاروں میل کی نقل مکانی کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ جزوی طور پر واقف نشانیوں کو پہچان کر جیسے، دریا، پہاڑ اور ستارے۔ یہاں تک کہ بعض بوئیں بھی ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے نشانی کا کام کر سکتی ہے۔ لیکن پرندوں کا اندرونی قطب نما بھی ہوتا ہے۔ وہ دراصل زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کے دماغ مقناطیسی اعداد و شمار ( ڈیٹا) پر اسی طرح کارروائی کرتے ہیں جس طرح ہمارا دماغ بصری ڈیٹا پر کارروائی کرتا ہے۔ فیلڈ (میدان ) کی سمت کو محسوس کر کے، پرندے جنوب اور شمال کے فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے شمالی امریکہ کے پرندے جانتے ہیں کہ جب وہ سردیوں کے لیے جنوب کی طرف جاتے ہیں تو کس راستے پر جانا ہے۔ فیلڈ (میدان) خط استوا کے مقابلے قطبوں کے قریب زیادہ مضبوط ہوتی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ پرندے اپنے عرض بلد کا پتہ لگانے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ فیلڈ میں چھوٹی چھوٹی بے ضابطگیاں بھی ہوتی ہیں، وہ مقامات جہاں فیلڈ تھوڑی کمزور یا مضبوط ہوتی ہے۔ بالکل کسی مخصوص پہاڑ یا دریا کی طرح، یہ مقناطیسی بے ضابطگیاں نشانیوں کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔ ہزاروں سالوں سے، انسانوں نے دور دراز مقامات پر پیغامات بھیجنے کے لیے کبوتروں کا استعمال کیا ہے۔ یہ حال ہی میں دوسری جنگ عظیم تک مواصلات کا ایک اہم طریقہ رہا ہے۔ جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہم ایک طویل عرصے سے بات چیت کرنے کے لیے مقناطیسی فیلڈ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم صرف یہ نہیں جانتے تھے۔
تو ہمارے سیارے میں مقناطیسی فیلڈ کیوں ہوتی ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب زمین کے اندر گہرائی میں ہے۔ مائع لوہا، زمین کے کور (مرکز)کے ٹھوس حصے کے گرد گردش کرتا ہے اور برقی رو لے جانے والے تار کی طرح کام کرتا ہے۔ اور جیسا کہ فیراڈے نے ہمیں دکھایا، برقی کرنٹ مقناطیسی فیلڈ پیدا کرتی ہیں اور یہ ایک اچھی بات ہے۔ ہماری زمین کی مقناطیسی فیلڈ ہمیں کائناتی شعاعوں کے حملے سے بچاتی ہے، جو ہمارے حیاتیاتی کرہ کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ کائناتی شعاعیں ڈی این اے کو چیر سکتی ہیں۔ ہماری مقناطیسی فیلڈ کے بغیر، جانداروں میں تبدیلی کی شرح بہت زیادہ ہو جائے گی۔ خوش قسمتی سے، اس کائناتی سنگ ریزی میں سے زیادہ تر وین ایلن تابکار بیلٹس میں پھنس جاتی ہے، چارج شدہ ذرات کے ڈونٹ کی شکل والے زون جو ہماری مقناطیسی ڈھال سے بندھے ہوتے ہیں۔
یہ جانتے ہوئے کہ زمین خود ایک دیوہیکل مقناطیس کی طرح ہے آسمان کے سب سے خوبصورت نظاروں میں سے ایک ” اورورہ "کی وضاحت کرتا ہے۔ سورج سے چارج شدہ ذرات، شمسی ہوا، مسلسل زمین پر بمباری کر رہے ہیں۔ آپ شمسی ہوا کو ایک قسم کا برقی رو سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے سیارے کی مقناطیسی فیلڈ شمالی اور جنوبی قطبوں کی طرف رو کو راستہ دکھاتی ہے۔ جب یہ ہمارے ماحول سے ٹکراتی ہے تو ہوا میں آکسیجن اور نائٹروجن کے مالیکیول دیوہیکل روشن قمقموں کی طرح چمکتے ہیں۔
جب فیراڈے نے اپنی آخری اور سب سے گہری دریافت کرنے والا تھا تو اس کے بچپن کی غربت نے اسے ایسے روک دیا جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اسے مدد کی ضرورت تھی اور اسے ایک ایسے شخص سے ملی جو دوسری دنیا سے آیا تھا۔ مائیکل فیراڈے نے اس معمہ کو حل کر دیا تھا جس نے آئزک نیوٹن کو حیران کر دیا تھا۔ کس طرح سورج نے سیاروں کو بتایا کہ انہیں چھوئے بغیر کیسے حرکت کرنی ہے۔ سورج اپنے کشش ثقل کی فیلڈ سے سیاروں کو چھوتا ہے، اور زمین کی کشش ثقل کی فیلڈ سیب کو بتاتی ہے کہ اسے کیسے گرنا ہے۔
یہ سب ایک خواب ہے۔ بدقسمتی سے، یہ اس کے ساتھی سائنسدانوں کا فیراڈے کے بارے میں مروجہ نظریہ تھا۔ فیراڈے خواب دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے اس کی اختراع اور تجربات کے لیے اس کی ذہانت کی تعریف کی، لیکن انھوں نے اس کی پوشیدہ "قوت کی لکیروں” اور روشنی اور کشش ثقل کے بارے میں اس کے خیالات پر نفی میں ہاتھ ہلا دیے کیونکہ اس کی پشت پناہی کرنے کے لیے کچھ بھی ٹھوس موجود نہیں تھا۔ کچھ نے تو کھل کر اس کے نظریات کا مذاق بھی اڑایا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس کے نظریات کو جدید طبیعیات کی زبان میں بیان کیا جائے، عین مساوات۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں فیراڈے کی بچپن کی غربت اور رسمی تعلیم کی کمی نے اسے حقیقت میں روک رکھا تھا۔ وہ ریاضی نہیں کر سکتا تھا۔ فیراڈے آخر کار ایک دیوار سے ٹکرا گیا جس کے پار وہ نہیں جا سکتا تھا۔
اور پھر، انیسویں صدی کا سب سے بڑا نظریاتی طبیعیات دان سامنے آیا۔ جیمز کلرک میکسویل دولت اور اختیار کی دنیا میں پیدا ہوا تھا اور درمیانی عمر کے محبت کرنے و الے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ بیس کی دہائی کے اوائل تک، اس نے ایک ریاضی دان کے طور پر اپنا نام بنا لیا تھا۔ جب کہ دوسرے سائنس دان فیراڈے کو پرانے زمانے کا سوچنے لگے تھے۔ ماضی کی ایک عظیم شخصیت لیکن طبیعیات کے مستقبل میں اس کا کوئی حصہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، جیمز کلرک میکسویل ان سے زیادہ بہتر جانتا تھا۔ اس نے فیراڈے کی بجلی پر لکھی ہوئی ہر چیز کو پڑھنے کے بعد شروع کیا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ فیراڈے کے قوت کی فیلڈ حقیقی ہے، اور وہ انہیں ایک درست ریاضیاتی تشکیل دینے کے لیے جدوجہد کرنے لگا۔ طبیعیات میں ایک مساوات کسی ایسی چیز کی صرف ایک مختصر وضاحت ہوتی ہے جس کی زماں و مکاں میں نمائندگی کی جا سکتی ہے۔
جب میکسویل نے برقی مقناطیسی فیلڈز پر فیراڈے کے تجرباتی مشاہدے کا مساوات میں ترجمہ کیا تو اس نے ایک غیر متوازنیت دریافت کی۔ وہ ایک عظیم ریاضی دان تھا، میکسویل نے اس میں توازن پیدا کرنے کے لیے ایک اصطلاح کا اضافہ کیا۔ مساوات کے اس بدلاؤ نے فیراڈے کی جامد فیلڈ کو لہروں میں بدل دیا جو روشنی کی رفتار سے باہر کی طرف پھیل جاتی ہیں۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ہمیں اپنے پیغامات کے لیے ان لہروں کو ڈاکیہ میں تبدیل کرنے کا طریقہ مل گیا۔
کیا آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں؟ یہ اسی طرح سے ہوا۔ اس ٹیکنالوجی نے انسانی تہذیب کو شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کے ایک بکھرے ہوئے منظر سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے جاندار میں تبدیل کر دیا جو ہمیں نوری رفتار سے ایک دوسرے سے اور کائنات سے جوڑتی ہے۔ کوئی بھی چیز سچ ہونے کے لیے بہت حیرت انگیز نہیں ہے، اگر یہ فطرت کے قوانین کے مطابق ہو۔
(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی دسویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )

