دُعا عظیمی کے افسانوں کا مجموعہ : فریم سے باہر


فطرت نے ہر بچے کے اندر ایک جوہرِ خاص رکھا ہوتا ہے۔اور وہ جوہرِخاص’ تخلیقی جوہر‘ ہوتا ہے۔جس کی آبیاری اگر ایک محبت انگیز اور حوصلہ افزائی کرنے والے ماحول میں ہو تو اس کی تخلیقی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے اور وہ ایک سائنسدان، مفکر ، فلاسفر ، سیاسی لیڈر ، انقلابی رہنما، موسیقار، فنکار ، لکھاری یا شاعر بن کر اپنے معاشرے میں بسنے والے افراد کی زندگی میں محبت ، راحت اور مسرت کے رنگ بھر دیتا ہے۔ مگر یہی بچہ جب قدامت پسند اور روایتی ماحول میں جنم لیتا ہے تو معاشرہ اس کے معصوم ذہن کو روایات کی بندش میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس سے اس کا جوہر خاص کملا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ اس کی شخصیت میں بگاڑ کی صورت نکلتا ہے۔ بہت کم افراد جوہرِ خاص کے بیج کو نکھار کر تندرست و توانا پودا بنا پاتے ہیں۔ صدیوں پرانی روایات وہ دیواریں ہیں جن میں قید اذہان کبھی ان سے باہر نہیں دیکھ پاتے کیونکہ ان کے معصوم دماغوں میں یہ بات راسخ کر دی جاتی ہے کہ آزادی سے سوچنا ، تنقیدی سوچ رکھنا اور سوال کرنا گناہ اور جُرم کے مترادف ہے۔ یوں ’آؤٹ آف باکس‘ یا ’فریم سے باہر ‘کی سوچ روایتی معاشروں میں معدوم ہوتی چلی جاتی ہے۔ بقول شاعر:

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا
(خالد سہیل)

دُعا عظیمی کی 27 افسانوں اور 10 نثرانوں پر مشتمل حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب : ’’فریم سے باہر‘‘ کچھ ایسی ہی صورتِ حال کی عکاس ہے۔عظیمی کے موضوعات بہت سنجیدہ ہیں مگر انداز بہت ہلکا پھلکا دھیما اور اثر انگیز ہے۔ ان کے موضوعات میں محبت، رُومان، ایثار، قربانی ، رواداری اور انسانیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی گھٹن ، معاشرتی جبر اور انسانی کمزوریوں کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ آج کے دور میں ہمارے معاشرے میں دن بدن بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی عکاسی ان کے ٹائٹل افسانے : ’’فریم سے باہر ‘‘ کا موضوع ہے۔ ٹائٹل افسانے کا کردار روایت سے ہٹ کر سوچتا ہے۔ وہ اپنی سوچ۔ اپنا آدرش اور اپنا سچ رکھتا ہے مگر اس کا روایتی، قدامت پسند اور شدت پسند معاشرہ سچ بیان کرنے کی پاداش میں اس کی جان لے لیتا ہے۔ افسانے کی چند سطور ملاحظہ ہوں:

’’ایک روز اوپر سے پیغام آیا: ’’ تمہارے اخبار کی سرخیاں کون لگاتا ہے؟ ’’اسے سمجھاؤ سنبھل کے لگائے ، ساری سرخیاں حاشیے سے باہر ہیں۔‘‘

اسے لگا جیسے خبریں چیونٹیوں کی طرح قطار بنا کر دیوار کی سمت بڑھ گئی ہوں۔
’’آپ آزادی سے مجھے میرا کام کرنے دیں‘‘
’’یہ ممکن نہیں۔ادارہ اور چیف دونوں خطرے میں ہیں۔‘‘ اسے ٹھنڈے لہجے میں بتایا گیا تھا۔

اسے اتنا پتہ تھا کہ سچ کا بول بالا ہوتا ہے۔اب تک سچ کی پاداش میں یہاں تک پہنچا تھا۔ ایک سچ وہ ہوتا ہے جو عام ہو جو سب کو پسند ہو۔ ایک سچ وہ ہوتا ہے جو عام نہیں ہوتا اس سے طاقتور ٹولے کو نقصان ہوتا ہے۔’’کبھی وہ نہ بولنا۔‘‘ اس کے استادوں نے اسے سمجھایا تھا۔۔۔۔ مگر وہ بول بیٹھا تھا۔۔۔ لوگوں کے اس معاملے پر مذہبی جذبات مختلف تھے۔ ہجوم مشتعل تھا اس کے گھر کے شیشوں پر پتھراؤ ہونے لگا ۔ ایک پتھر سیدھا اس کے سر پر آن لگا۔۔۔’’ملعون تھا ، میں نے کیا ہے اس کا خون۔‘‘ ایک شخص نے نعرہ لگایا : ’’فریم سے باہر تھا حرامی۔‘‘(صفحہ 76)

عظیمی کے افسانے حقیقت پسندی کے آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ قاری کے لیے انہماک، استغراق اور محویت کا لطف رکھتے ہیں ۔ان کے خیال میں سادگی اور گہرائی ہے۔ ’’کتھئی گھوڑا‘‘ ایک جاندار افسانہ ہے ۔ کہانی نہایت فطری محسوس ہوتی ہے۔ جس میں شاعری کی سی موسیقیت اور روانی ہے اور الفاظ کو ایسے سلیقے سے برتا گیا ہے جیسے مالا میں موتی۔

’’پہلے پہل میرا کتھئی گھوڑا اور میں دونوں آسمانوں کی سیر کرتے تھے تاوقتیکہ وہ سفید گھوڑے میں بدل جاتا ۔کبھی کبھار اس کی شکل انسانی ہو جاتی۔ کیا کتھئی گھوڑا عقل کا اور سفید گھوڑا جذبات کا گھوڑا تھا؟ کتھئی گھوڑا بہت چاق و چوبند اور غصیلا تھا جب کہ سفید ، نرم اور چمکیلا۔۔۔‘‘

’’سنا ہے میری ماں کو محبت ہو گئی تھی۔مگر میرا باپ ؟۔مجھے اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔
نہ کوئی کچھ بتاتا تھا۔اماں مجھے چوم کے سلا دیتی تھی۔خالہ نے مجھے صاف بتا دیا تھا کہ یہ راز تیری ماں ہی تجھ پر کھولے گی۔‘‘ ( صفحہ 62)

عظیمی نے دانشمندی کی باتوں اور زندگی کی حقیقتوں کو تشبیہات اور استعاروں کے ذریعے بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔افسانہ "کالی ہوا” سے چند سطور ملاحظہ ہوں : "اس نے کپڑے نچوڑتے ہوئے دُکھ سے سوچا کہ کیا واقعی زندگی موت کے لیے بچے جنتی ہے ؟ اگر جنتی بھی ہے تو اس کی حفاظت کس کے ذمے ہے؟ کیا بے بس مائیں اس بلی سے بھی کم تر ہیں جو اپنے بچوں کو بچانے کے لیے منہ میں دبائے سات جگہیں بدلتی ہیں ؟ ہم انسان نہ جگہ بدلتے ہیں نہ پیشہ اور نہ سوچ آہ!۔”
’’کچھی شہر دوسرے صوبے میں تھا۔ وہاں کی کالی ہوا شانگلہ کی شفاف ہوا کو موت بھرے نوحے بھیجتی تھی مگر یہاں کی ہوا برف کی طرح سرد اور خدا کی طرح خاموش تھی۔‘‘( صفحہ 11)

عظیمی کا تخیل اور منظر کشی کا انداز بھی لاجواب ہے : ’’جاتی بہار کا ایک عام سا دن تھا ۔ چیت ختم ہونے والا تھا بیساکھی کی تپتی ہواؤں کو سہنے کے لیے تن کے تندور تیار تھے۔خلافِ توقع رات میں بارش کے چھینٹے پڑے جن کی ٹھنڈک سے جاتے چیت پر جاتے پھاگن کے اثرات کا شائبہ تھا۔ کتھئی پروں پر سفید دائرے لیے تتلیاں اڑتی پھر رہی تھیں۔ کبوتروں کی غٹرغوں خاموشی کا غرور توڑ رہی تھی ‘‘(حسن کی دیوی : صفحہ 24)

ایک شاعر اور ادیب عمیق مشاہدہ رکھتا ہے ۔عظیمی کا مشاہدہ قابلَ تحسین ہے ۔دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر مرد زور آور اور چھیل چھبیلی عورت کو زیر کر کے حظ اٹھاتے ہیں ۔ یہ ایک باریک جنسیاتی معاملہ ہے۔ افسانہ نگار نے اس کیفیت کو اپنے فکشن میں بخوبی بیان کیا ہے۔ افسانہ ” اتھری گھوڑی "اس موضوع پر ایک اہم افسانہ ہے۔ جس میں پنجابی اصطلاحات بھی بہت اچھی طرح موزوں کی گئی ہیں:

’’اے کاش میں اس کی کچ کی ونگوں سے بھری و ینی مروڑ سکتا، پر مجھے ڈر تھا کہ اس کی کچ کی چوڑیاں ٹوٹ جائیں گی۔یہ الہڑ مٹیار جو نہ اپنی تھی نہ میری پر مجھے یقین تھا کہ میری ہی ہے۔ورنہ مجھے دیکھ کر وہ ایسے کیوں شرماتی؟‘‘
’’میں چپ رہا ۔ انھیں کیا سمجھاتا کہ اصیل زنانی اور اتھری گھوڑی میں کیا فرق ہوتا ہے۔‘‘

عظیمی کے کردار امیر زادے ،نوابین اور صاحب حشمت لوگ نہیں بلکہ گلیوں میں گھومتے پھرتے عام لوگ ہیں ، کچے گھروں اور جھونپڑیوں میں رہنے والے خانہ بدوش ہیں ، کھیتوں میں کام کرتی عورتیں ہیں ، کانوں میں کام کرتے کانکن اور ندی کنارے کپڑے دھوتی دیہاتی عورتیں ہیں ۔عظیمی عام انسانوں کے خوابوں المیوں ، چھوٹی چھوٹی خوشیوں ، بھروسوں اور دھوکوں جیسی وارداتوں سے کہانیاں نکال لاتی ہیں۔

صیغہ واحد متکلم میں لکھا گیا مختصر افسانہ : ’’نتھلی والی ‘‘ ایسی ہی دل کو چھونے والی ایک کہانی ہے۔ جس میں دو ہی کردار ہیں ۔ پہلا کردار ایک خانہ بدوش لڑکی ہے۔جو شہر کے مضافات کی ایک خیمہ بستی میں اپنی بکریوں کے ساتھ رہتی ہے۔دوسرا کردار ایک نو آموز لکھاری ہے جو گاؤں سے شہر میں آ کر استحکام حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہے۔لکھاری نوجوان ایک کرائے کے مکان میں اوپر والی منزل پہ رہتا ہے۔ اس کے چوبارے کے نیچے نتھلی والی ، خانہ بدوش لڑکی اپنی بکریوں کے ساتھ ہر روز گزرتی ہے۔ یہ ایک خوش باش لڑکی ہے جو دنیا و مافیہا سے بے نیاز ،اپنی دنیا میں مگن کچھ گاتی ہوئی اور گنڈیریاں چوستی ہوئی نوآموز لکھاری کو بھلی لگتی ہے۔نوجوان تصویریں کھینچنے کا شوقین ہے اور اس طرح کے مناظر اس کی تخلیقی حس کو بیدار کر دیتے ہیں ۔ ایک دن وہ نتھلی والی کی تصویر اس کی بکریوں کے ساتھ کھینچنے کی فرمائش کر دیتا ہے۔ نتھلی والی اس شرط پر راضی ہو جاتی ہے کہ وہ اس کے بدلے میں اس کو جھونپڑے کے لیے ترپال خرید کر دے گا تاکہ بارش سے بچا جا سکے۔لکھاری وعدہ کر لیتا ہے۔ اور بہت سی تصاویر بھی لے لیتا ہے مگر کافی دن گزرنے کے باوجود اتنے پیسے جمع نہیں کر پاتا کہ وہ نتھلی والی کو ایک ترپال خرید کر دے سکے۔وہ اخباروں اور رسالوں وغیرہ میں مضامین لکھ کر اس قدر ہی رقم پس انداز کر پاتا ہے جس سے اپنے نک چڑھے مالک مکان کو کمرے کا کرایہ دس تاریخ سے قبل ادا کرنے کے بعد اپنے لیے خورد و نوش کا سامان مہیا کر سکے۔ کچھ دنوں کے بعد اس کو ایک اخبار میں باقاعدگی سے لکھنے کا پراجیکٹ مل جاتا ہے ۔جس کی آمدنی سے وہ کمرے کا کرایہ ادا کرنے کے بعد ایک ترپال بھی خرید سکتا ہے ۔ مگر اس اثناء میں مہینے کی دس تاریخ گزر جاتی ہے۔۔۔اس سے آگے کی کہانی عظیمی کی زبانی سنیئے:

’’ میں نے روپے گنے تو ایک انجانی سی خوشی میرے رگ و پے میں دوڑی۔ گھر واپسی پر میں بہت خوش تھا، مطلب اتنے پیسے تھے کہ کرایہ کی رقم نکال کر بھی رقم بچ رہی تھی۔نتھلی والی کو بارشوں سے بچانے کے لیے ترپال بھی آ جائے گا۔ میں نے اطمینان کا سانس بھرا۔میں نے ارادہ کیا کہ سب سے پہلے کرایہ ادا کرتا ہوں۔مجھے اندازہ تھا کہ مالک مکان کس قدر غصے میں ہوگا ۔ڈرتے ڈرتے مالک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ خلاف معمول اچھے موڈ میں تھا۔کہنے لگا: آپ خود نہیں آئے اور کرایہ اس خانہ بدوش لڑکی کے ہاتھ بھیج دیا۔۔۔۔آپ نے اس خانہ بدوش عورت کو ملازم رکھا ہے ۔ ایسی عورتوں کو ملازم نہ رکھیں ۔ کچھ بھی چرا کے بھاگ جائیں گی۔یہ بڑی بڑی نتھلی والی بہت خطرناک عورتیں ہوتی ہیں۔‘‘

میں ہکلا گیا۔۔میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ ایسا نہیں ہے مگر اس نے مجھے بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔کچھ کہے بنا ہی میں چلا آیا۔بات کچھ کچھ میری سمجھ میں آئی اور کچھ الجھ گئی۔مگر سامنے والے گھر کے چوکیدار نے سب قصہ سلجھا دیا:

’’صاحب ! آج صبح آپ کے مالک مکان نے کھڑکی سے آپ کا سامان باہر پھینکنا شروع کر دیا تھا۔تب بکریوں والی خانہ بدوشوں کی لڑکی نے اسے روکا اور رقم تھما دی کہ یہ کرایہ کی رقم صاحب نے اسے بھیجی ہے۔اس نے کل ہی ہماری بی بی کے پاس اپنی نتھلی بیچی تھی۔‘‘وہ کچھ مشکوک نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا جیسے میرا لڑکی کے ساتھ کوئی گہرا چکر ہو۔ خیر۔۔۔ میں رقم لوٹانے کے لیے اس کی بستی کی طرف بھاگا مگر وہاں دور دور تک خیموں کا نام و نشان نہیں تھا۔اس جگہ نیا پلازہ تعمیر کرنے کے لیے بھرتی ڈالی جا رہی تھی۔‘‘(صفحہ 71)

’’فریم سے باہر‘‘ عظیمی کی پہلی نثری تخلیق ہے اس کے باوجود شروع سے آخر تک یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ سب سے بہترین افسانہ کون سا ہے۔ان کے موضوعات روایت سے ہٹ کر اور فریم سے قدرے باہر ہیں۔اگرچہ فقروں کی ساخت ، گرائمر اور املا کی چند اغلاط متن میں ضرور موجود ہیں مگر امید کی جا سکتی ہے کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی درستگی کر دی جائے گی۔ ’فریم سے باہر‘ اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے ۔ میں دعا عظیمی کو اردو کے قارئین کو ایک خوبصورت تحفہ دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS