کائنات : 10 مائیکل فیراڈے اور مقناطیسی فیلڈ


کیا آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں؟ کیسے؟ میں ہزاروں میل دور ہو سکتا ہوں، اور پھر بھی، جب آپ مجھے دیکھنے کے لیے اور میری آواز سننے کے لیے آلہ چلاتے ہیں، تو میں وہاں آ جاتا ہوں۔

فوراً اسی وقت۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمارے آباؤ اجداد کو یہ جادو ٹونے کی طرح لگتا تھا۔ ان کے لیے مواصلات کی رفتار صرف اتنی ہی تیز تھی جتنے کہ تیز ترین گھوڑے یا بحری جہاز۔ ہمارے پیغامات روشنی کی رفتار سے پوشیدہ طور پر سفر کرتے ہیں۔ ہم نے ایسی دیومالائی طاقتیں کیسے حاصل کیں؟ یہ سب ایک شخص کے ذہن میں شروع ہوا تھا۔

غربت کا ایسا بچہ جس سے کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ درحقیقت، اگر یہ آدمی اس دنیا میں نہ ہوتا جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، شاید آج موجود نہ ہوتی۔ جلد یا بدیر، کسی کو اس کی کچھ دریافتوں کا پتہ چل جاتا لیکن اگر مائیکل فیراڈے نہ ہوتا تو شاید ہم اب بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح ستارہویں صدی میں جی رہے ہوتے۔ اور ہم ان نادیدہ ملازمین کی فوج سے بھی بے خبر ہوتے جو ہمارے احکامات کے منتظر تھی۔ یہ کہانی ہے کہ ہم نے کیسے الیکٹران کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا سیکھا۔ ایک لحاظ سے یہ کہانی ایک عظیم جینئس سے شروع ہوتی ہے جسے ہم آئزک نیوٹن کے نام سے جانتے ہیں۔ نیوٹن، وہ شخص جس نے سورج کے گرد سیاروں کی حرکات کا فارمولہ تلاش کیا۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ سورج سیاروں کو چھوئے بغیر اس طرح کیسے کام کرتا ہے؟ تمام سیبوں کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح گرنا ہے۔؟ ایک اور جینئس اسی اسرار کے ایک دوسرے پہلو پر حیران تھا۔

” دیکھو بیٹا؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ میں قطب نما ( کمپاس )کو کیسے موڑتا ہوں، سوئی ہمیشہ ایک ہی طرح اشارہ کرتی ہے۔”

"لیکن کیسے؟”

"میں نے ‘شکریہ،’ نہیں سنا البرٹ”

"مجھے اب بھی یہ یاد ہے۔ اس تجربے نے مجھ پر گہرا اور دیرپا اثر ڈالا۔ چیزوں کے پیچھے انتہائی گہرائی میں چھپی ہوئی کوئی چیز ہونی چاہیے۔” (البرٹ آئن سٹائن)

آئن سٹائن اور نیوٹن کی زندگیوں کے درمیانی وقفے میں ، ایک اور جینئس تھا جس کا علمی قد کاٹھ ان دونوں کے برابر کا تھا۔ نیوٹن کو سٹپٹا دینے والے اسرار کو حل کرنے والے شخص نے آئن سٹائن کی انقلابی بصیرت کی بنیاد بھی رکھی اور جس طرح سے ہم اب رہتے ہیں۔

1791 میں، لندن کے غلیظ مضافات کی ایک کچی بستی میں، مائیکل فیراڈے پیدا ہوئے۔ اس نے اسکول میں کچھ خاص نہیں کیا۔

” ہمیں ایک لفظ بتاؤ جو حرف آر سے شروع ہوتا ہو؟ ”
"ویبٹ۔”
لفظ ہے "ریبِٹ”
"ایک بار پھر، اور اس بار صحیح طریقے سے ۔”
"ویبِٹ۔”
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟ کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا کہ حرف ‘آر ‘کا تلفظ کیسے کرتے ہیں۔ کم از کم ہمیں اپنا نام بتا سکتے ہو؟”
” مائیکل فیواڈے، میڈم۔”

تاریخ میں یہ درج نہیں ہے کہ مائیکل فیراڈے دوبارہ کبھی اسکول گیا۔ فیراڈے نے اپنے خاندان کے بنیاد پرست عیسائی عقیدے کو دل سے مانا۔ یہ ہمیشہ اس کے لیے طاقت، سکون اور عاجزی کا ذریعہ بنا رہا۔ اسے تیرہ سال کی عمر میں کتابوں کی جلد سازی کے کام پر لگا دیا گیا۔ دن کو وہ کتابوں کی جلد سازی کرتا اور رات کو انہیں کتابوں کو پڑھا کرتا۔ یہ اس کی بجلی کے ساتھ زندگی بھر کی دلچسپی کا آغاز تھا۔ جلد سازی کا برسوں کام کرنے کے بعد، فیراڈے، اکیس سال کی عمر میں ایک بڑی دنیا میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ اس کا بڑا موقع اس وقت آیا جب ایک گاہک نے اسے عوام کے لیے ایک سنسنی خیز قسم کی تفریحی کا ٹکٹ دیا: عوام کے لیے سائنس۔ اور یہ لندن کے رائل انسٹی ٹیوشن سے شروع ہوا۔

ہمفرے ڈیوی نا صرف اپنے دور کے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک تھا بلکہ اس نے کیلشیم اور سوڈیم سمیت کئی کیمیائی عناصر دریافت کیے تھے۔ وہ ایک بہترین تماشا کار ( شو مین) بھی تھا۔ اور بجلی کے قدیم مظاہرے ہجوم کو خوش کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوئے تھے۔

کیا ہم روشنی کو کم کر سکتے ہیں، براہ کرم؟ میں اپنے پیروں کے نیچے تہہ خانے میں ذخیرہ شدہ دو ہزار بڑی کیمیکل بیٹریوں کی طاقت کو ظاہر کرنے والا ہوں۔ اور اب، ہمارے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے برقی سیال کی پراسرار قوت کی طاقت کو دیکھیں۔

فیراڈے تالیاں بجانے کے بجائے نوٹ لینے میں بہت مصروف تھا۔ فیراڈے نے ڈیوی کے لیکچر کی نقل (ٹرانسکرپٹ) بنائی۔ اپنے سیکھی ہوئی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے، اس نے نقل کو ایک کتاب میں باندھ دیا۔ شاید ایسا تحفہ اسے عظیم انسان کی توجہ دلا دے گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اشارہ اس کے بہت بڑی کائنات میں جانے کا ذریعہ ہو۔ فیراڈے نے وہ پارسل ہمفرے کے گھر پہنچا دیا۔ فیراڈے کو امید تھی کہ اس سے کچھ نا کچھ ہوگا۔

جب عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ہمفرے ڈیوی کی آنکھیں ایک کیمیائی تجربہ کے دوران بری طرح متاثر ہوئیں تو ہمفرے کو وہ لڑکا یاد آیا جس نے اس کے لیکچر کی نقل کو کاپی کرنے اور جلد سازی کرنے کی تکلیف اٹھائی تھی۔

"تمہارے پاس اول درجے کی یادداشت ہے، نوجوان۔ اور مجھے سیکرٹری کی عارضی ضرورت ہے۔ "

"جناب، سائنس کی خدمت میری زندگی کا خواب ہے۔ "

"میں تمہیں جلد سازی پر قائم رہنے کا مشورہ دوں گا۔ سائنس ایک سخت مالکن ہے۔ یقینی طور پر ، تمہارے معیار اور معمولی ذرائع کے ایک شخص کے پاس کوئی نا کوئی کام ہونا چاہیے۔”

"تجارت شیطانی اور خود غرض ہے۔ سائنس کے لوگ ملنسار اور اخلاقی طور پر برتر ہوتے ہیں۔ "

"میں سمجھتا ہوں کہ میں سائنس کا پہلا آدمی ہوں جس سے تم ملے ہو۔”

فیراڈے نے خود کو ڈیوی کے لیے ناگزیر بنا لیا۔ عارضی ملازمت مستقل بن گئی، اور رائل انسٹی ٹیوشن اس کا تاحیات گھر بن گیا۔ دن کے وقت، وہ لیب میں ڈیوی کی مدد کرتا اور دن کے اختتام پر ، وہ سیڑھیاں چڑھ کر اس چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں جاتا جہاں اس کی پیاری دلہن سارہ اس کا انتظار کر رہی ہوتی۔

انقلاب کیسے شروع ہوتا ہے؟ کبھی کبھی یہ زیادہ وقت نہیں لیتا۔ دھات کا ایک ٹکڑا، پارے کا ایک پیالہ، تھوڑا سا کارک۔ یہ پہلی موٹر تھی جو برقی رو کو مسلسل میکانی حرکت میں تبدیل کرتی تھی۔ یہ اس وقت بہت کمزور لگ رہی تھی۔ لیکن وہ گھومتا ہوا ڈنڈا ایک انقلاب کا آغاز تھا، جو ہماری تہذیب پر اس طرح اثر انداز ہوا کہ اس نے انسانوں کے بنائے ہوئے تمام بموں کی تباہیوں کے اثرات کو اپنے سامنے بونا کر دیا۔ ان تمام کاروباروں، صنعتوں، ٹیکنالوجی، ہمارے رہنے کے طریقے کی تبدیلیوں کا تصور کرنے کی کوشش کریں جن کی شروعات مائیکل فیراڈے کی لیبارٹری میں اس پرجوش لمحے سے ہوئی تھی۔ فیراڈے کی ایجاد کی خبر تیزی سے پھیل گئی اور اچانک ڈیوی کا معاون لندن کا افتخار بن گیا۔ ڈیوی نے اس بات کو اچھی طرح سے نہیں لیا۔ اس نے آخر کار ان تمام عناصر کو دریافت کیا تھا۔ اب لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کی سب سے بڑی دریافت مائیکل فیراڈے تھا۔ ڈیوی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ فیراڈے کسی بھی وقت مزید اخباروں کی سرخیاں نا بن پائے۔

"آپ نے مجھے بلایا ہے جناب؟”

"میرے پاس تمہارے لئے ایک نیا چیلنج ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم برطانوی بصری شیشہ( آپٹیکل گلاس ) کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہماری کوششوں کو سنبھال لو۔ وہ لعنتی باویرین ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔”

"شیشہ ؟ پورے احترام کے ساتھ، جناب، میں شیشہ سازی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ "

"پھر تم سیکھ جاؤ گے، فیراڈے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تم کتنی جلدی سیکھتے ہو۔ بس ان کے شیشے کی کیمیائی ساخت کا تجزیہ کرو اور یہ دیکھنے کے لیے پیچھے کی طرف سے کام شروع کرو کہ انھوں نے اسے کیسے بنایا۔ تمہیں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے۔”

فیراڈے نے بغیر کسی کامیابی کے چار سال تک جدوجہد کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس نے کتنی کوشش کی، فیراڈے یہ نہیں جان پایا کہ جوزف فرون ہوفر نے برسوں پہلے کیا دریافت کیا تھا۔ فیراڈے جس چیز کو سمجھنے میں ناکام رہا وہ یہ تھا کہ دوربینوں کے لیے کامل بصری شیشہ ڈھالنا ایک ہنر کے ساتھ ساتھ ایک سائنس بھی تھا، اور باویریا میں ماسٹرز نے اپنے رازوں کو تالوں میں بند رکھا ہوا تھا۔ فیراڈے نے کبھی ان کے راز نہیں سیکھے۔ اس نے اس ناکامی کی یادگار کے طور پر شیشے کی ایک چھوٹی سی اینٹ اپنے پاس رکھ لی۔ برسوں بعد وہی اینٹ فیراڈے اور ہماری زندگیوں کا رخ بدلنے والی تھی۔

ڈیوی کی موت نے آخر کار اس بے سروپا منصوبے کا خاتمہ کر دیا، اور کچی آبادیوں کے لڑکے فیراڈے نے لیبارٹری کے ڈائریکٹر کے طور پر اس کی جگہ لے لی۔ فیراڈے نے اپنے نئے اختیار کو کچھ بے مثال کرنے کے لیے استعمال کیا۔ 1825 میں شروع ہونے والے اور آج تک جاری رہنے والے نوجوانوں کے لیے سائنس پر سالانہ کرسمس لیکچرز کا ایک سلسلہ۔ کرسمس کے پہلے لیکچرز میں سے ایک میں، فیراڈے نے اپنے سامعین کو ان نئی طاقتوں کی نمائش سے مسحور کر دیا جو اس کے اختیار میں تھیں۔ فرض کریں کہ میں بارود کے ایک حصہ میں آگ لگانا چاہتا ہوں۔ میں اسے بجلی کی طاقت سے آسانی سے کر سکتا ہوں۔ فیراڈے نے بارود کے ڈھیر کو بجلی کی مدد سے بھڑکا دیا۔ ناظرین کی تالیاں۔ اگر میں اس تار کے ذریعے بجلی حاصل کرتا ہوں، تو میں اسے کسی بھی چیز کو دے سکتا ہوں جسے میں چھوتا ہوں۔ لیکن مجھے ان موصل شیشے کی ٹانگوں پر کھڑا ہونا چاہیے تاکہ بجلی کو فرش میں جانے سے روکا جا سکے۔ فیراڈے کے سر کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ناظرین ششدر۔ اب میں بجلی سے بھرا ہوا ہوں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں اس گیس کی نالی کو صرف اپنی انگلی سے چھو کر روشن کر سکتا ہوں؟ آپ یاد رکھیں، گھر پر اس کو کرنے کی کوشش نہ کریں۔ فیراڈے گیس کی نالی کو اپنی انگلی دکھاتا ہے اور شعلہ بھڑک اٹھتا ہے۔ ناظرین کی حیران کن تالیاں۔ اور اب، میرے بچو! آپ نے دیکھ لیا کہ بجلی کی اس پوشیدہ قوت کو نئے مقاصد کے لیے کیسے اپنایا جا سکتا ہے جو ہمارے پاس موجود طاقتوں کے لیے بالکل ناقابل حصول ہے۔

ایک موٹر کی ایجاد جو مسلسل کام کر سکتی ہے، لاتعداد انسانی گھنٹوں کی مشقت کو ختم کر سکتی ہے، آپ کا نام تاریخ کی کتابوں میں شامل کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہوگا۔ لیکن مائیکل فیراڈے نے اسے اس طرح نہیں دیکھا۔ اسے اپنے خیالات سے ذاتی طور پر فائدہ اٹھانے میں قطعی دلچسپی نہیں تھی۔ اور جہاں تک تاریخ کی کتابوں کا تعلق ہے، اس نے اندراج کا صرف پہلا جملہ لکھا تھا جو کئی صفحات پر مشتمل تھا۔

"مسٹر اینڈرسن، کیا میں آپ سے لائٹس مدھم کرنے کو کہہ سکتا ہوں، براہ کرم؟ حضرات، میں صرف مقناطیس کو حرکت دے کر بجلی کا کرنٹ لانے والا ہوں۔ براہ کرم مشاہدہ کریں کہ جب میں ایسا کرتا ہوں تو تاروں کے درمیان خلا میں کیا ہوتا ہے. کیا آپ دیکھتے ہیں کہ جب مقناطیس حرکت کر رہا ہو تب کرنٹ کیسے بہتا ہے؟ یہ حرکت کو بجلی میں تبدیل کرنا ہے۔”

یہ پہلا جنریٹر تھا۔ یہاں سے بجلی طلب کے مطابق دستیاب ہو جائے گی۔ فیراڈے دنیا اور لوگوں کے رہنے کے طریقے کو بدلنا جاری رکھے ہوئے تھا، اور پھر، اچانک، ایک بیماری نے اس کے لاجواب دماغ پر حملہ کر دیا۔

"میرے پیارے شوہر ، کیا معاملہ ہے ؟”

"میں نے شوبین کو ایک خط لکھنا شروع کیا اور مجھے یاد نہیں رہا کہ میں کیا لکھنا چاہ رہا تھا۔ "

"یہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ بہت محنت کرتے ہیں۔ آپ تھک چکے ہیں۔ "

نہیں۔ سارہ، یہ مختلف ہے۔ خوفناک حد تک مختلف۔ یہ تیسرا موقع ہے جب میری یادداشت نے مجھے اتنے دنوں میں دھوکہ دیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنا ذہن کھوتا جا رہا ہوں۔ اور اس کے بغیر میں کیا ہوں؟ "

جب فیراڈے انتالیس سال کا تھا تو اس نے یادداشت کے شدید نقصان اور افسردگی سے لڑنا شروع کیا۔ اس کا کام ٹھپ ہو گیا۔ اگرچہ وہ کبھی بھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوا، لیکن اس کی بڑی کامیابیاں اب بھی آگے آنے والی تھیں۔

فیراڈے نے اپنے آپ کو برقی اور مقناطیسی تجربات میں اتنی گہرائی میں غرق کر دیا تھا کہ وہ ایک مقناطیس کے ارد گرد کی جگہ کو طاقت کی پوشیدہ لکیروں سے بھرے ہوئے دیکھنے لگا۔ مقناطیس صرف لوہے کی سادہ مقناطیسی ٹکیہ (بار) نہیں تھی جسے آپ دیکھ سکتے تھے۔ یہ بار کے آس پاس کی جگہ میں بھی نظر نہ آنے والی کوئی چیز تھی۔ اور وہ چیز جسے اس نے میدان (فیلڈ) کہا۔ ایک مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ)۔

فیراڈے فطرت کے اتحاد پر یقین رکھتا تھا۔ بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان روابط کا مظاہرہ کرنے کے بعد، اس نے سوچا، کیا یہ دونوں قوتیں، تیسری قوت، یعنی روشنی سے بھی جڑی ہوئی ہیں؟ اگر وہ صرف ان تینوں پوشیدہ مظاہر کے درمیان تعلق ظاہر کر دیتا ہے تو فطرت کے سب سے گہرے رازوں میں سے ایک آخر کار آشکار ہو جائے گا۔ تو اس نے کیا کیا؟ اس نے ایک تجربہ ڈیزائن کیا۔

فیراڈے جانتا تھا کہ روشنی ایک لہر کے طور پر سفر کر سکتی ہے۔ روشنی کی لہریں تضاداتی طور پر تمام سمتوں میں لرزتی ہیں۔ لیکن روشنی کی ایک لہر کو الگ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اسے تقطیب ( پولرائزیشن) کہتے ہیں۔ جب روشنی آئینے کی طرح کی عکاس سطح سے اچھلتی ہے تو یہ پولرائزڈ (یک طرفہ) ہو جاتی ہے۔ فیراڈے یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا روشنی کی اس واحد کرن کو غیر مرئی مقناطیسی میدان سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ خوردبین میں ایک کرسٹل تھا جو روشنی کے لیے ایک قسم کی باڑ کا کام کرتا تھا۔ روشنی اس سے صرف اس صورت میں گزر سکتی ہے جب اسے کسی طرح مقناطیس سے منتقل کیا گیا ہو۔ اس نے آئینے کے سامنے ایک لالٹین رکھی، جسے وہ صرف خوردبین سے دیکھے گا اگر اس کا عکس باڑ سے گزر سکے۔ اسے سمجھنا ذرا مشکل ہے لیکن برا محسوس نہ کیجیے۔

سائنسدان مزید ایک سو سال تک اس رجحان کی وضاحت نہیں کر سکے۔ فیراڈے جانتا تھا کہ مقناطیسیت کا اس روشنی پر کوئی اثر نہیں ہوتا جو ہوا کے ذریعے حرکت کر رہی ہو۔ لیکن اس کے بارے میں کیا خیال ہے جب یہ کسی دوسرے مواد سے گزر رہی ہو؟ تو وہ مقناطیس کو روشنی کو حرکت دینے کے معاملے میں کس قسم کا مواد استعمال کر سکتا ہے؟ اس نے سینکڑوں مختلف شفاف کیمیکلز اور اشیاء کو آزمایا لیکن خوردبین کے ذریعے کچھ نہیں دیکھ پایا۔ روشنی مقناطیس سے مڑ نہیں رہی تھی۔ اس نے کیلسائٹ، سوڈیم کاربونیٹ، کیلشیم سلفیٹ کے کرسٹل آزمائے اور پھر بھی اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ اس نے تیزاب آزمائے۔ سلفیورک ، موریٹک ، کاربونک کے تیزاب۔ اس نے گیسوں میں آکسیجن، نائٹروجن، ہائیڈروجن کو آزمایا جس میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ ان مادوں میں پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان اس کے چراغ سے روشنی کو دوبارہ منظر میں نہیں موڑ سکتا تھا۔ مایوسی کے عالم میں، اس نے شیشے کی وہ اینٹ آزمانے کا فیصلہ کیا، جو ڈیوی کے ساتھ اس کی برسوں کی غلامی کی یادگار تھی۔ اور چال چل گئی۔ مقناطیس کی قوت نے روشنی کو موڑ دیا تاکہ یہ کرسٹل سے گزر سکے۔

تو، اس میں بڑی بات کیا ہے؟ فیراڈے نے اس جسمانی حقیقت کے وجود کا مظاہرہ کیا تھا جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے، لیکن جس کے بارے میں کبھی کوئی نہیں جان سکا۔ یہ اتنی ہی ڈرامائی پیش رفت تھی جتنی کہ پہلی بار دوربین کے ذریعے کائنات کو دیکھنا۔ یہ دکھا کر کہ ایک برقی مقناطیسی قوت روشنی میں ہیرا پھیری کر سکتی ہے، فیراڈے نے فطرت کی ایک گہری وحدت کی دریافت کر لی تھی۔ اس نے آئن سٹائن اور ان تمام طبیعیات دانوں کے لیے ایک دروازہ کھول دیا تھا جو کائنات میں چھپی ہوئی، بنیادی قوتوں کے باہمی تعامل کی جھلک دیکھنے کے لیے اس کے بعد آئے تھے۔

جب فیراڈے اپنے جینئس کی انتہا کے قریب پہنچا تو وہ افسردگی اور سادہ ترین خیالات کو بھی یاد اور برقرار رکھنے کی اپنی صلاحیت کے بارے میں شکوک و شبہات سے دوچار ہوگیا۔ اپنی نوجوانی میں فیراڈے غربت سے ابھرا تھا، دنیا کے سب سے زیادہ طبقاتی شعور بلکہ تعصب رکھنے والے معاشروں میں سے ایک میں، اپنے وقت کا سب سے مشہور سائنسدان بن گیا۔ چالیس سال کی عمر میں، اس نے الیکٹرک موٹر، ٹرانسفارمر، جنریٹر، ایجاد کر لیے تھے ۔ وہ مشینیں جو گھر، کھیت، فیکٹری کے بارے میں سب کچھ بدل دیتی تھیں۔ اب، ساٹھ سال کی عمر میں، یادداشت کی کمی اور اداسی سے دوچار عظیم ترین طبیعیات دانوں کے زرخیز ادوار کے کئی دہائیوں بعد، اس نے بے خوفی سے پراسرار پوشیدہ قوتوں کی گہرائی میں چھان بین شروع کردی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2