ذہنی تناؤ، لو برڈ، پیپل اور کرکٹر


تین سال پہلے پرندے پالنے کا شوق شروع کیا۔ لو برڈ اور دوسری اقسام کے پرندے رکھنا شروع کیے۔ ایک دن کسی بیماری میں ایک لو برڈ مر گیا ابھی اس کو اٹھانے ہی لگے تھے کہ اس کا دوسرا ساتھی بھی ہلاک ہو گیا۔

پتہ چلا کہ پرندے بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ اور ایک برڈ دوسرے کی محبت میں مر جاتا ہے یہ ایک نئی حقیقت سامنے آئی۔ اب ہم بہت محتاط ہو گئے۔ جیسے ہی برڈ خرید کر گھر لاتے تو ان کو ذہنی تناؤ کی دوائی دیتے جس سے وہ اس گھر بدلنے کے دکھ سے نکل آتا۔ ہمارا خیال تھا یہ دکھ شاید صرف انسانوں کو ہی محسوس ہوتا ہے۔ اور کسی کو نہیں۔ اب ہم میاں بیوی بہت محتاط ہوچکے ہیں اگر ہم کسی ایک جوڑے کا پنجرہ بھی تبدیل کرتے ہیں تو اس کے پانی میں ذہنی تناؤ کم کرنے کی دوائی شامل کر دیتے ہیں۔

آج ایک سردار جی کی رپورٹ دیکھ رہا تھا کہ جس میں وہ پیپل کے درخت کو دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب بھی ہم درخت کی جگہ تبدیل کرتے ہیں تو درخت ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کے بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ یہ خشک ہو جائے گا۔ اس کے لیے ہم اس کی کٹی ہوئی ٹہنیوں اور شاخوں پر ہلدی لگاتے ہیں اور اس پر ململ کا کپڑا گیلا کر کے باندھتے ہیں۔ تاکہ اس کو فنگس نہ لگ جائے۔ فنگس لگنے کی وجہ درخت کا ذہنی تناؤ ہوتا جس سے درخت کو بچانا ضروری ہے۔

ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنے پرندوں اور درختوں کو ذہنی تناؤ سے بچائیں۔

لیکن جن احباب سے ہم زندگی میں وابستہ ہیں وہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ ہمارے ذہنی تناؤ کا بندو بست کرتے ہیں۔

ناجائز مراعات، ناجائز ترقیاں کام کے ماحول کو خراب کرتیں ہیں۔ اور جو دوست ان مواقع کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تمام آرگنائزیشنز کے اندر ترقی کے برابر مواقع مہیا ہونے چاہیں۔ بلاوجہ ملازمین کو ذہنی تناؤ کا شکار رکھنا اچھی مینجمنٹ کی نشانی نہیں ہوتی۔

تقسیم کرنا اور حکومت کرنا بھی ایک کامیاب فارمولا سمجھا جاتا ہے۔ میری دانست میں اگر آپ کام کو متوازن تقسیم کر دیں تو ٹارگٹ تک آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک پاکستان میں ہر شعبے میں اس کو ٹیم کو تقسیم کر کے اس پر حکومت کرنے کو فتح سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر شعبے میں آپس میں لڑانے کو ہی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے تو ہمیں اس ذہنی تناؤ کے ماحول سے نکلنا ہو گا۔

بات بات پر گالی، بلند آواز، گولی سب اس ماحول کا اثر ہے۔ ہر شخص کا ہاتھ دوسرے شخص کے کندھے پر ہونے کی بجائے گریبان پر ہے۔ بے شک اب ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو ذہنی تناؤ کی ادویات خریدنے اور استعمال کرنے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

مجھے کسی کی لڑائی اور بڑائی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اس بیمار معاشرے کا حصہ ہونے پر دکھ ضرور ہے۔

ابھی ایک اینکر اور ایک کرکٹ کے کھلاڑی کی بحث چل رہی ہے و جہ بھی مجھے معلوم نہیں کہ تنازعہ کیا ہے۔ پر سب اس پر متوجہ ہیں۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن مجھے بہت دکھ ہوا جب ایک سوشل میڈیا ریل میں جم میں ایک نامعلوم لڑکی کو ورزش کرتے دکھایا گیا اور ساتھ لکھا تھا کرکٹ کے فلاں کھلاڑی کی بیٹی جم میں ورزش کر رہی ہے۔ حالانکہ وہ ویڈیو کسی دوسرے ملک کی لڑکی کی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی آپ اس لیول تک گر کر حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب بیمار ذہنوں کے نتائج ہیں جو ہم نے بہت محنت سے تیار کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کی عزت محفوظ رکھیں آمین۔

بجٹ کا موسم ہے۔ ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ کم نہیں ہو گا۔ بغیر پیسے لگائے اگر ہم معاشرے کا ذہنی تناؤ کم کر لیں تو امید ہے ملکی حالات بہتر ہو جائیں گے۔ آج 28 جون کو تنخواہ اکاؤنٹ میں آ گئی تھی الحمدللہ 29 جون کو ختم ہو گئی ہے۔ بجلی، گیس، ٹیلی فون کے بل بیس جولائی تک آئیں گے اور چوبیس جولائی جمع کروانے کی آخری تاریخ ہوگی۔ جو انشاء اللہ میری تنخواہ سے بھی زیادہ ہوں گے ۔ اب ایک طریقہ تو یہ ہے کہ میں آج سے ہی لڑائی جھگڑا شروع کردوں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گھر میں، دفتر میں اور معاشرے میں مسکراتے لوگ ملیں تو ذہنی تناؤ کم ہو گا اور امید ہے بل تو ہر ماہ کی طرح ادھار لے کر ادا ہو ہی جائے گا۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کون کس ادارے کا سربراہ ہے پر مجھے اچھا لگے گا اگر کوئی معاشرے کا ذہنی تناؤ کم کرنے میں ہماری مدد کرے تو وہی ہمارا اپنا ہو گا۔ جمہوریت ہو یا ڈکٹیٹر شپ مجھے تو مزدوری ہی کرنی ہے سکون سے کرنے دیں۔ جب میں ذہنی طور پر پُرسکون ہوں گا تو سوچوں گا ان میں سے بہتر کون ہے۔ ورنہ میں معذرت چاہتا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا۔ میں اس قبیلے سے لاتعلقی اختیار کرتا ہوں۔ اگر آپ بدتمیز ہونے کو باشعور ہونا سمجھتے ہیں تو پھر آپ لاعلاج ہوچکے ہیں۔ لاعلاج کا علاج کیا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں پر مانتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت کے ساتھ ایمان والی، سکون والی زندگی عطا فرمائے آمین

 

Facebook Comments HS