سرگوشیوں کا شہر


میں میکلوڈ روڈ پر واقع ایک بینک کی پارکنگ میں کھڑا ہوا تھا۔ میرے سامنے سرخ اینٹوں سے بنی لاہور ہوٹل کی عمارت تھی۔ اس کی پہلی منزل پر سہ طرفہ موٹر سائیکلوں کی ایک بڑی مارکیٹ تھی۔ دوسری منزل پر کاروں کی پارکنگ تھی۔ یہ وہی لاہور ہوٹل ہے جس کا ذکر متعدد بار اے حمید نے اپنی کتاب ”دیکھو شہر لاہور“ میں کیا تھا۔ وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ امپورٹڈ چائے پینے آتے تھے۔

بائیں جانب میکلوڈ روڈ جی پی او کی بلڈنگ تک جا رہا تھی۔ دائیں جانب یہ ریلوے سٹیشن پر جا کر ختم ہوتی تھی۔ دونوں عمارات کولونیل دور میں اپنی تعمیر سے لے کر اب تک انسانوں، ان کے ساز و سامان اور مراسلات کی آمدورفت کا کلیدی ذریعہ رہی ہیں اور میکلوڈ روڈ ان مراکز کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے اور میں اس دن لاہور ہوٹل کے سامنے میکلوڈ روڈ پر عین اس مقام پر کھڑا تھا جہاں سے ایک شاخ نکلسن روڈ کے کے نام سے نکل کر حاجی کیمپ اور لنڈا بازار تک جا رہی تھی۔

میں نے کچھ روز قبل ہی اے حمید کی کتاب ”دیکھو شہر لاہور“ مکمل کی تھی۔ آج میں ان عمارتوں اور سڑکوں کو دیکھنے یہاں آیا تھا جن کا ذکر اے حمید نے اپنی کتاب میں متعدد دفعہ کیا تھا۔ اے حمید کی کتاب کے بعد میں نے انگریزی زبان میں ایک کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ مطالعہ بھی وقت کی مانند ہے۔ کبھی رکتا ہی نہیں۔ جیسے ہفتے کے بعد اتوار آتا ہے۔ اور فروری کے بعد مارچ۔ ویسے ہی میرے مطالعے کی ٹائم لائن پر ”دیکھو شہر لاہور“ کے بعد ”The Year of the Introvert“ آتی ہے۔ بس ایک فرق ہے کہ گھڑی اور مہینے کے برعکس اگلی کتاب کا انتخاب ہم اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ ہاں بس سانس کی طرح مطالعہ چلتا رہنا چاہیے۔ وگرنہ ہماری فکری موت واقع ہو سکتی ہے۔

ایسا نہیں کہ میں میکلوڈ روڈ پر پہلی دفعہ آیا تھا۔ کوئی دو دہائیاں قبل میں وہاں اپنے ماموں کے ساتھ آ چکا تھا۔ لاہور ہوٹل سے کچھ فاصلے پر واقع ہم ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ ہوٹل کے کمرے میں پلنگ پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی اور مختصر سا فرنیچر تھا۔ صبح کے وقت ایک بیرا سلور چینک میں کڑک چائے اور کپ رکھ گیا۔ تنگ زینوں سے اتر کر ہم چھوٹی سی لابی میں آئے تھے۔ پھر ساتھ گلی سے پراٹھوں اور چنوں کا ناشتہ کیا۔ ماموں نے ایک حمام سے شیو بنوائی۔ اس روز میرا ارادہ یہ تھا کہ میکلوڈ روڈ پر واقع اس ہوٹل کو بھی دیکھوں گا۔ اور ساتھ والی گلی میں اس ریسٹورنٹ کو بھی تلاش کروں گا۔

پہلے میں لاہور ہوٹل کے ساتھ ایک گلی میں داخل ہوا۔ میں نے اے حمید کی کتاب سے ایک کاغذ پر کچھ نوٹس بنائے ہوئے تھے۔ میں ان کی طرف دیکھتا آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کوئی مجھے دیکھتا تو وہ کیا سوچتا؟ یہ شخص ایک نقشے سے کوئی مقام ڈھونڈ رہا ہے۔ ”بھائی، آپ نے کہاں جانا ہے اور کس سے ملنا ہے؟“ وہ مجھ سے پوچھتا۔ میں اسے کیا جواب دیتا کہ میں پگلا حال نہیں ماضی کے نقوش ڈھونڈ رہا تھا۔ مجھے ان لوگوں سے ملنا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں تھے۔

میں فلیمنگ روڈ پر چلتا ہوا ایک چوک پر آ گیا۔ وہاں سے ایک گلی مین بازار روڈ سے ملتی تھی جو آگے گوالمنڈی کی طرف جا رہی تھی اور فلیمنگ روڈ خود آگے جا کر ریلوے روڈ کو کراس کرتی ہوئی سرکلر روڈ سے مل رہی تھی۔ وہاں تھوڑے سے فاصلے پر برانڈرتھ روڈ تھی جو ریلوے روڈ کو کراس کرتی ہوئی واپس میکلوڈ روڈ سے جا ملتی تھی۔ وہاں سڑکوں اور گلیوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا۔ ادھر اپنا ایک جہان آباد تھا۔ جو اس زندگی سے مختلف تھا جو میں وہاں ڈھونڈ رہا تھا۔ مجھے کوئی حق نہیں تھا کہ میں وہاں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتا۔ سو میں وہ ہنستا کھیلتا جہاں چھوڑ کر واپس چوک پر آ گیا۔

پھر میں میکلوڈ روڈ پر اس ہوٹل کی طرف بڑھنے لگا جہاں دو دہائیاں قبل میں اپنے ماموں کے ساتھ آیا تھا۔ میں ہوٹل کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کیا اب بھی بیرے لابی سے تنگ سیڑھیوں سے اوپر کمروں میں چائے رکھنے جاتے ہوں گے؟ جہاں بستروں پر سفید چادریں بچھی ہوں گی اور مختصر سا فرنیچر ہو گا۔ مجھے گلی میں وہ ریسٹورنٹ بھی مل گیا جہاں میں نے ماموں کے ساتھ ناشتہ کیا تھا۔ میں نے چائے کا آرڈر دیا اور موبائل میں ”The Year of the Introvert“ پڑھنے لگا۔ کتاب نے میرے کان میں یہ جملے سرگوشی کیے :

”Carried away by an aching to go back to that place, or person. An unexpected call from the past is an invitation for exploration. Recovering what has been lost, buried, and forgotten. What aspect of yourself has been lost or forgotten on the road to adulthood? Your soul ’s goal is to come home to itself. To that person you were years ago.“

میں میکلوڈ روڈ کے فٹ پاتھ پر موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ سے گزر رہا تھا۔ دو دہائیاں قبل میں ماموں کے ساتھ وہاں سے گزرا تھا۔ آج رہ رہ کر ماموں یاد آرہے تھے۔ مجھے لگا کہ ان کی یاد ہی اس دن مجھے میکلوڈ روڈ پر کھینچ لائی تھی۔ ماضی کے اس لمحے کو فراموشی سے بازیاب کرانے۔ جس میں میرا اپنا آپ بھی کچھ کچھ کھو گیا تھا۔ اس دن میں اپنے آپ سے مل رہا تھا۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے مجھے اپنے قدم بھاری محسوس ہوئے۔ جیسے میرے جسم میں ایک کی بجائے دو وجود آ گئے تھے۔ میری ٹانگوں کے سہارے کوئی اور بھی چل رہا تھا۔ میری آنکھوں سے کوئی اور بھی بیتابی سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔

میں واپس لاہور ہوٹل کے سامنے آ گیا۔ عین اس زاویہ پر کھڑا ہو گیا کہ میری آنکھوں کے لینز لاہور ہوٹل کو مکمل طور پر چشم میں اتار سکیں۔ اے حمید! تم بھی اچھی طرح دیکھ لو۔ تم یہاں چائے پینے آتے تھے نا۔ اور یہ ساتھ سنیما دیکھو جہاں تم نے فلاں فلم دیکھی تھی۔ تم نے ہمیں اپنی کتاب ”دیکھو شہر لاہور“ میں ماضی کا لاہور دکھایا تھا۔ میں آج تمہیں حال کے لاہور کا نظارہ کراتا ہوں۔ معاف کرنا کہ ان عمارتوں، ان جگہوں کی رونقیں اجڑ گئی ہیں۔ ادب و ثقافت یہاں سے اٹھ گیا ہے۔ اس کی جگہ شور شرابا، بھیڑ بھاڑ اور دھول دھوئیں نے لے لی ہے۔ تمہیں دکھانے کے لیے میرے پاس یہی لاہور ہے!

میں کئی کلو میٹر پیدل چل کے تھک چکا تھا اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔ قلعہ گجر سنگھ کے چوک کے پاس مجھے حلیم کی ایک دکان نظر آ گئی۔ اس سے بہتر کیا ہو سکتا تھا، میں نے سوچا۔ کچھ دیر میں میرے سامنے گرم گرم حلیم اور روغنی نان کا آرڈر آ گیا۔ ایک ٹرے میں کٹے ہوئے لیموں، ہری مرچیں، تلے ہوئے پیاز، ادرک اور چاٹ مصالحہ تھا۔ مجھے ابو یاد آ گئے۔ انہیں حلیم بہت پسند تھی۔ میں نے نان کے ایک ٹکڑے کو حلیم سے لگا کر کے زبان پر رکھا اور پیپسی کی چسکی لی۔ میں نوالے کو آہستہ آہستہ چبا رہا تھا، میری آنکھیں بند تھیں اور میری پوری توجہ کھانے پر مرکوز تھی۔ بالکل جیسے ابو کھانا کھاتے تھے۔ مجھے اچانک یوں لگا کہ کھانا میں کھا رہا تھا مگر اس کی لذت ابو کو پہنچ رہی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنی عبادتوں کا ثواب دنیا سے گئے پیاروں کو پہنچاتے ہیں۔

میں واپس لاہور ہوٹل کے سامنے آ گیا۔ میرے کانوں میں سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔ ”یہ پیچھے منٹگمری روڈ پنجاب اسمبلی تک جا رہی ہے۔“ ”ساتھ عبدالکریم روڈ آگے ایبٹ روڈ سے جا ملتی ہے۔ جہاں آج کل دنیا نیوز کا دفتر ہے۔“ اس کے بعد پی ٹی وی کی بلڈنگ ہے۔ اور مزید آگے ریڈیو پاکستان کی عمارت ہے جو قیام پاکستان کے بعد فنکاروں کی آماجگاہ تھی۔میکلوڈ روڈ سے بائیں جانب کچھ فاصلے پر لکشمی چوک ہے۔ اب سرگوشیوں کی آواز بڑھ کر کانوں میں گونجنے لگی۔ یہ سرگوشیاں کون کر رہا تھا؟ ”لکشمی سے آگے۔“ بس! میں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ میں جلدی سے بینک کی پارکنگ میں کھڑی اپنی کار میں آ بیٹھا۔ اور عجلت میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ میں نے آخری بار لاہور ہوٹل کی طرف دیکھا۔ مجھے لگا کہ اے حمید، ماموں اور ابو دور کھڑے میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ گویا آج میں نے، کم از کم، ان تینوں کو اچھا خاصہ لاہور دکھا دیا تھا!

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid