آؤ جلتے شہر میں بانسُری بجائیں


یوں تو ساری زندگی ہی سنہری حسین یادوں سے بھری پڑی ہے مگر نوے کی دہائی میں جب ہم لاہور اور کراچی میں کاہنانہ / راہبانہ تربیت میں مشغول تھے کو ہم زندگی کا شاندار اور ناقابلِ فراموش دور قرار دیتے ہیں، اس لئے کہ تب دوست ہوتے تھے کتابیں تھیں اور ہم تھے اور بس۔

اُس زمانے میں کتاب پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ ہم دوستوں کے مابین تیزرفتاری سے کتاب پڑھنے اور بہترین انداز میں اُس کا خلاصہ پیش کرنے کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ بُک ریڈنگ ہمارے تربیتی عمل کا حصہ تھا۔ کتاب سے رغبت ایسی تھی کہ اُدھر لائبریری میں ہماری پسند کی کوئی نئی کتاب آتی، اُدھرہم لائبریری کی دہلیز پر ہوتے۔ اُس دور میں کتاب کبھی ہمارے ہاتھ میں ہوتی، کبھی تکیے کے نیچے، کبھی چہل قدمی میں ساتھ ساتھ اور کبھی سوتے میں سینےپر ایسے پڑی رہتی جیسے آج کے نوجوان کا موبائل فون۔ حد درجہ اِس شوق کی بنیادی وجہ بچپن میں حاتم طائی، عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیوں سے یاری تھی۔

روم کے شہنشاہ نیرو سے ہمارا پہلا تعارف اُس تربیتی دور میں کتاب پڑھنے سے ہی ہوا۔ اُس کتاب کا نام تھا ”جب روم جل رہا تھا“ ۔ مترجم یا مصنف کا نام اب حافظے میں زندہ نہیں رہا۔ وہ کتاب نیرو بادشاہ کے دورِ حکمرانی اور ”کارناموں“ کو بیان کرنے کے لئے تحریر کی گئی تھی۔ ہم دوستوں کے مابین بھی وہ کتاب ہاتھوں ہاتھ اور راتوں رات پڑھی گئی۔ نیرو سے متعلق کہانیوں میں کتنی صداقت ہے یہ ہمارا موضوعِ گفتگو نہیں۔ ہم نے پڑھا اور سُنا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بادشاہ پہاڑ پر جا کر بانسری بجا رہا تھا۔ گویا عوام کے حالات اور تکالیف سے بے پرواہ اور لاتعلق۔ شہر جل رہا تھا، عوام مر رہے تھے، املاک خاکستر ہو رہی تھیں مگر بادشاہ سلامت اپنی موج میں مست سُریلی دھن میں بانسُری بجا رہے تھے۔ اُس کے اِس عمل کو پنجابی زبان میں ”سانوں کی؟“ کہہ کے بیان کیا جا سکتا ہے۔

نیرو بادشاہ کے بانسُری بجانے کی کہانی کی اگر آج کے حالات سے کوئی مماثلت نظر آئے تو وہ محض اتفاقیہ ہوگی۔

نیرو سنِ 54 سے 68 بعد از مسیح روم کا شہنشاہ تھا۔ وہ سولہ برس کی عمر میں اپنی ماں کی کاوشوں سے ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنا۔ اُس کے دورِ حکومت میں جولائی 68 میں روم 5 دن تک آگ کی لپیٹ میں رہا اور متعدد علاقے جل کر خاکستر ہو گئے۔ ایک روایت کے مطابق جب آگ روم کے در و دیوار کو بھسم کر رہی تھی اُس وقت نیرو ایک پہاڑ پر بیٹھا بانسری بجا کر اُس نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

حالات آج بھی روم کے شب و روز سے چنداں مختلف نہیں۔ تب بھی شہر جل رہا تھا آج بھی شہر کے شہر جل رہے ہیں۔ تب بھی عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں تھا، آج بھی عوام کی کوئی قدر و قیمت نہیں، حکمران تب بھی عوام سے لاتعلق اور بے پرواہ تھا، عوام آج بھی انسانی وقار اور تکریم کو ترس رہے ہیں۔

دنیا بھر کے نامی گرامی ادارے اپنی رپورٹس میں پاکستان کو ناکام، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے ضمن میں خطرناک ترین ملک قرار دے چُکے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ 2023 کی رپورٹ میں بیان کر چکا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، شہریوں کے ساتھ غیرانسانی ظالمانہ سلوک، جیل کے اندر سخت اور قیدیوں کے جان لیوا حالات، سیاسی قیدیوں کی جانب بڑھتا ہوا رجحان، شہریوں کی غیر قانونی اموات، آزادیِ اظہار اور میڈیا کی آزادی پر سنگین پابندیاں، بشمول صحافیوں کے خلاف تشدد، صحافیوں کی بلا جواز گرفتاریاں، ہتک عزت کے قوانین، اہانتِ دین کے قوانین، مذہبی اقلیتوں کی ایذا رسانیاں اور زندگی تنگ کرنے کے واقعات، جلاؤ گھیراؤ، انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں، غیر سرکاری تنظیموں کے کام پر حد سے زیادہ پابندی والے قوانین سمیت پرامن اجتماع کی آزادی میں مداخلت، مذہبی آزادی پر پابندیاں، سنگین حکومتی بدعنوانی، صنف کی بنیاد پر تشدد، بشمول گھریلو اور بچوں پر تشدد اور کم عمری کی جبری شادی اور جبراً تبدیلی مذہب سمیت درجنوں ایسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ یہ رپورٹ مطالبہ کرتی ہے کہ عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے اقدامات پر زور دیا جائے۔

رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیموں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کی طرف سے تشدد، بدسلوکی، اور سماجی اور مذہبی عدم برداشت نے لاقانونیت کو فروغ دیا ہے نیز انسانی حقوق کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ شہریوں، فوجیوں اور پولیس کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں، جو ہرگز ہر گز انسانی تکریم و وقار میں گنی نہیں جا سکتیں۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اس سب کے باوجود بانسُری بجانے سے فرصت نہیں مل رہی۔

ایسی ہی ملی جُلی صورتحال کا تذکرہ اپنی سالانہ رپورٹس میں دیگر بین الاقوامی اداروں اور مقامی تنظیموں نے بھی کر رکھا ہے جن کا مقصد حکمرانوں کی توجہ عوامی مسائل کی جانب مبذول کروانا اور عوام کے لئے جینے کے بہتر انتظامات کرنا ہے۔ انہی چند نمایاں اداروں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، یورپی یونین، امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی، جبکہ مقامی سطح پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی انسانی حقوق پر مجموعی رپورٹ، اقلیتوں کی صورتحال پر قومی کمیشن برائے امن و انصاف، خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے عورت فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کی پکار اعلیٰ حُکام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ زندگی کے دیگر پہلووں پر بھی تجزیہ کار اپنی رائے کا اظہار اور ذرائع ابلاغ آواز اُٹھاتے رہتے ہیں، البتہ حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے حقیقت سے آنکھیں چُرا رکھی ہیں اور مسلسل بانسُری بجانے میں مگن ہیں۔

ہماری سیاسی جماعتیں اپنی روایتی انا اور تنقیدی سیاست سے باہر نہیں نکل پا رہیں۔ اقتدار کی ہوس نے اُنہیں اندھا کر رکھا ہے اور عوامی فلاح، تحفظ اور حقوق اُن کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔

مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور ایذا رسانیوں سے کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر اِس کے باوجود اُن کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ مئی میں سرگودھا اور جون میں سوات کے دل سوز واقعات اپنے اندر دہائیوں کی تاریخ اور پس منظر رکھتے ہیں کہ جس کا تدارک اور روک تھام اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

خُدا خُدا کر کے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایسے واقعات کی مذمت، مذہبی جنونیت کی حوصلہ شکنی اور اقلیتوں کو تحفظ دینے اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے قرارداد پیش کی گئی تو کچھ سیاسی اداکاروں نے اس کی ضرورت اور اہمیت سے ہی انکار کر دیا اور قرارداد کی مخالفت کر ڈالی۔ حالانکہ اِن حالات میں سیاسی اسکورنگ کرنے کی بجائے مجموعی قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ پسماندہ طبقات کو ساتھ ملانے اور ایک قومی نظریہ جس میں تمام شہریوں کے حقوق، عقائد اور زندگیوں کو تحفظ کی ضمانت ہو کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ ہم اب بھی خوابِ خرگوش میں مبتلا ہیں اور بانسُری بجانے پر مُصر ہیں۔

ہمارے حکمران، قانون ساز اور پالیسی ساز اتنا کچھ جل جانے کے باوجود ”آؤ بانسُری بجائیں“ کی نفسیات سے باہر نہیں نکل رہے۔ انہیں پہاڑ سے نیچے اُترنا اور عوامی فلاح کو اولین توجہ دینا ہو گی۔ انہیں بانسری بجانے کی بجائے ایسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے کہ عوام اُن کے گُن گائیں۔ بصورتِ دیگر ربِ کائنات سے عوام کی حفاظت، نگہبانی اور سلامتی کی دعا ہی مانگی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS