میرا داغستان: یوسف ابراہیم، شاہجہان اور میں


عید کے تیسرے روز بدھ کے دن صبح سویرے میں نے قسمت آزمائی کے لیے یوسف ابراہیم صاحب، شاہجہان اور دیگر صاحبان کے لیے پیغام چھوڑا کہ یارو! ملاقات کی کوئی صورت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کے ہم سب پھر کھیتوں کھلیانوں کو سینچنے اور سنوارنے کے لیے لوٹ جائیں اور پھر کسی اور تہوار کا انتظار کریں۔ یوسف صاحب کا جواب آیا کہ کچھ پرانے دوستوں کے نرغے میں ہوں اور وہ مجھے گھیر کر گورونانک پورہ ناشتے کے لیے لے جا رہے ہیں، نہیں معلوم کب رہائی ملے۔ میں نے کہا میں وہیں آ جاتا ہوں اور ناشتہ بھی نہیں کروں گا۔ کہنے لگے کتنی دیر میں آسکتے ہو، میں نے کہا جتنا ڈسکہ سے گوجرانوالہ آنے میں وقت لگتا ہے۔ کہنے لگے میرے اگلے پیغام کا انتظار کرو۔ میں نے دوسرے دوستوں کی طرف دیکھا تو جانا، وہاں مجرمانہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بہت انتظار کے بعد یوسف صاحب کو یہ پیغام بھیجا

ہے خوشی انتظار کی ہر دم
میں یہ کیوں پوچھوں کب ملیں گے آپ
نظام رامپوری

تو ان کا جواب آیا کہ شاہجہان کو لے کر میرے چھوٹے بھائی کی طرف چلے آؤ، وہیں کچھ دیر بیٹھیں گے۔ میں ڈسکہ سے نکلا شاہجہان کو نرسری چوک سٹیلائٹ ٹاؤن سے اٹھایا اور ہم ایک اور دوست کی سنگت میں یوسف صاحب کے پاس جا پہنچے۔ وہ باہر ہی ہمارے منتظر تھے، اندر جا بیٹھے ٹھنڈے و گرم مشروب کا دور چلا، باتیں ہونے لگیں۔ میں نے پوچھا آج کل کیا پڑھ رہے ہیں، کہنے لگے میرا داغستان پڑھ رہا ہوں جسے رسول حمزہ توف نے لکھا ہے۔ پوچھا کیا ہے اس میں، کہنے لگے اپنے وطن اور اپنی چیزوں سے پیار کیسے کرتے ہیں، یہ سکھایا گیا ہے اس میں۔

مجھے کہنے لگے برسوں پہلے تم میرے پاس آئے تھے تو تم سے ایک کتاب کا وعدہ کیا تھا وہ اب تم کو بھیجنی ہے۔ میں نے کہا وہ کتاب، علم و دانش کے معمار از احمد عقیل روبی، تو میں کب کی خرید چکا، اور پڑھ بھی چکا۔ وہ چپ ہو گئے اور ملاقات تمام ہوئی اور ہم گھروں کو لوٹ آئے۔ ایک روز بعد ان کا پیغام ملا کہ اپنا پتہ بھیجو تمھیں ایک کتاب بھیجنی ہے۔ پتہ بھیج دیا گیا، اور اگلے ہی دن کتاب گھر پہنچ گئی، پیکٹ کھولا تو اس میں سے میرا داغستان از رسول حمزہ توف نکلی۔ ان کا شکریہ َادا کیا اور اتوار کو کتاب کھول لی اور آج کتاب کا سفر تمام ہوا۔

کتاب کیا ہے ایک جہانِ زندگانی ہے۔

داغستان روس کی ایک ریاست ہے جو کیسپین سمندر کے ساتھ واقع ہے۔ رسول حمزہ توف کا تعلق داغستان کے ایک پہاڑی گاؤں سدا سے ہے۔ مخاچ قلعہ داغستان کا مرکزی شہر ہے۔ رسول اور اسے کے والد داغستان کے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں، اور دونوں کا تعلق آوار قوم سے ہے۔ کتاب پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ داغستان مسلم اکثریت کی ریاست ہے، لیکن وہ غالب کی طرح آدھے مسلمان لگتے ہیں، کیونکہ شراب پیتے ہیں مگر سور کی بجائے بھیڑ کھاتے ہیں۔ رسول کے والد بھی بڑے شاعر تھے مگر رسول کا کام دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اس نے رسول کو بین الاقوامی شہرت دی۔

رسول کو ایک معروف اشاعت گھر نے اس کے گاؤں کے متعلق ایک کتاب لکھنے کی درخواست کی، جسے رسول نے اپنی شرائط پر منظور کر لیا۔ کتاب میں رسول یہ بتا رہے ہیں کہ ان کی اس کتاب کا موضوع کیا ہو گا، کتاب کے مضامین کیا ہوں گے اور ان کی یہ کتاب دیگر کتابوں سے کیسے مختلف ہوگی۔ وہ یہ بتاتے جاتے ہیں اور اپنی زندگی کی کہانی سناتے جاتے ہیں۔ کتاب ان کے گاؤں اور اس کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ کتاب میں کہانیاں ہیں، حکائتیں ہیں، حقیقتیں ہیں۔

آپ ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے ہمارے آزاد کشمیر کے شہر باغ کا کوئی آدمی غیر معمولی شاعر اور مصنف ہو جو کشمیری زبان میں لکھتا ہو اور وہ نا صرف مظفر آباد اور اسلام آباد میں معروف ہو بلکہ ایک دنیا اس کی معترف ہو۔ وہ شخص اگر کبھی باغ، اس کے لوگوں، تاریخ اور تہذیب کے بارے میں لکھے تو وہ کتاب ایسی ہوگی جیسے میرا داغستان، بشرطیکہ کتاب کا انداز اور مواد لافانی ہو۔

اچھا اگر میں کبھی اپنے ڈسکہ کے بارے میں لکھوں، حد ہو گئی، جب تک کوئی رسول حمزہ توف نہ ہو وہ ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔ سوچتا ہوں یہ کتاب میری پڑھی ہوئی کس کتاب جیسی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ غبار خاطر از مولانا آزاد اس پائے کی کتاب ہے مگر شاید اس کو وہ پذیرائی نہ مل سکی۔ مختار مسعود کی چاروں کتابیں، آواز دوست، سفر نصیب، لوح ایام اور حرف شوق، ملا لی جائیں تو وہ میرے داغستان کے قریب آجاتی ہیں۔ ممتاز مفتی کی تلاش کا اسلوب بیان بھی میرے داغستان جیسا ہے۔

اچھا مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی مادری زبان میں اعلیٰ ادب جو دنیا کو متاثر کرے پیدا نہیں کیا جا سکتا، انھیں میرا داغستان پڑھنے کو دینی چاہیے۔ جیسے مستنصر حسین تارڑ جیسے بڑے لکھاری نے کہا ہے کہ یہ کتاب سے بہت کچھ زیادہ ہے، مجھے اس سے اتفاق ہے۔ یہ کتاب بھی ہے، کتاب لکھنے کا طریقہ بھی ہے، زندگی بھی ہے اور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی ہے، یہ پوری دنیا کو اپنا وطن بنانا بھی سکھاتی ہے اور اپنے وطن کو پوری دنیا بنانا بھی۔ یہ نثر کی کتاب ہے جو شاعری سے بھرپور ہے۔ اس کے سارے کردار ہی دلچسپ ہیں وہ حمزہ سداسا ہوں، ابو طالب ہوں، محمود ہوں یا رسول خود۔

کتاب میں بہت سی حکائتیں اور واقعات ہیں، میں یہاں دو ایک بیان کرتا ہوں۔ رسول لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سچ اور جھوٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ شہر چلتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون لوگوں کے ہاں زیادہ مقبول ہے۔ پہلے جھوٹ شہر میں داخل ہوا تو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا وہ ہر جگہ اور موقع پر پسند کیا گیا۔ وہ تو ایسے تھا کہ جس کے بغیر دنیا رک جاتی، سب اس کے ساتھ خوش تھے۔ پھر سچ شہر میں داخل ہوا اور اس کے داخل ہوتے ہی ایک کہرام مچ گیا، سب ظاہر کیا ہوا لوگ ساتھ جینے کے قابل نہ رہے، اور سب پکار اٹھے، اسے نکالو اسے نکالو۔ جھوٹ نے سچ سے کہا دیکھا تم نے میری پذیرائی اور اپنی رسوائی کو ۔ سچ نے پھر جھوٹ سے کہا چلو اب پہاڑوں کی طرف چلتے ہیں، بلندی کی طرف چلتے ہیں۔ جھوٹ کہنے لگا بلندی پر میرا کیا کام، میرا ٹھکانا تو پستی ہے۔

رسول لکھتے ہیں ایک مرتبہ مشہور شاعر ابو طالب کے ہاں چوری ہوئی اور چور اس کی بیوی اور بیٹی کا زیور لے گئے۔ اس پر ابو طالب مطمئن رہے تو ان کی بیوی نے پوچھا تمہیں اس نقصان پر دکھ نہیں ہوا، وہ کہنے لگے کہ خوشی تو یہ ہے کہ میری تمام نظمیں بچ گئیں ہیں، چور انھیں لے جاتے تو ہم لٹ جاتے۔ اب میں کتاب سے ایک آدھا اقتباس اور کچھ اشعار لکھ کر بات ختم کرتا ہوں۔

”انسان کو صرف دو صورتوں میں جھکنا چاہیے :
کسی بہتے ہوئے چشمے سے پیاس بجھانے کے لیے یا پھر کسی شاخ پر کھلا ہوا کوئی پھول توڑنے کے لیے ”۔

”کچھ لوگ منہ کھولتے ہیں، مگر اس لیے نہیں کہ ان کے ذہن کے افق پر منڈلانے والے خیالات کے بادل نے انھیں زبان کھولنے پر مجبور کر دیا ہے، بلکہ محض اس لیے کہ ان کی زبان کھجلا رہی ہے“ ۔

مصنف کا ایڈیٹر کے نام نوٹ

”گز کپڑا ناپنے، کمرے کی اونچائی ناپنے یا قبر کے گرد بنی جالیوں کا اندازہ لگانے کے کام میں لایا جاسکتا ہے، مگر حسن کو گز کے ذریعے نہیں ناپا جا سکتا“ ۔

”پیڑ! پیڑ! مجھے بتاؤ کہ تمھیں کیوں کاٹا گیا؟“
”کیونکہ میں ان سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔“
”مینا! مینا! تیرا گھونسلا کیوں اجاڑا گیا؟“
”اس لیے کہ میں شور بہت مچاتی تھی۔“
(رسول حمزہ)
ہاں خیالوں کی پرستش نہیں بس میں میرے
مجھ کو اس فرض سے فرصت کی اجازت دے دو
میرا مسجود نہیں کوئی محبت کے سوا
بس مجھے اس کی عبادت کی اجازت دے دو ۔
(محمود)

Facebook Comments HS