مریم نواز کی 100 روزہ ”بادشاہت“ – 2
مریم نواز آہنی اعصاب کی مالک ہیں۔ سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والی بیٹی کی سیاسی تربیت نواز شریف نے کچھ اس انداز میں کی ہے جب اسے جیل میں ڈالا گیا تو وہ باپ کی کمزوری بنی بلکہ بہادری اور جرات سے جیل کاٹی ماں کی وفات کی خبر جیل میں سنی۔ اس وقت کے فرعون حکمرانوں پر یہ واضح کر دیا کہ وہ زندان میں بھی اپنی والدہ کی وفات کی خبر سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ پنجاب کو مریم نواز جیسی مضبوط اعصاب کی مالک وزیر اعلیٰ کی ضرورت تھی جو پوری ہو گئی۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پولیس سمیت ہر شعبہ زندگی میں کرپشن کا راج ہے۔ انہیں ایک سیکریٹری سے لے کر چپڑاسی تک کی کرپشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس ملک کے وزیر اعظم یا کسی اعلیٰ عہدیدار سے کوئی ملاقات کر کے باہر آئے تو دربان ملاقاتی کی جیب خالی کرا لیتے ہوں اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔
مریم نواز نے ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ 7 کلب روڈ سے سے صرف حکم جاری کر دینا کافی نہیں انہیں بڑے ہسپتالوں سے لے کر دیہی مراکز صحت کے اسی طرح اچانک دورے کرنے چاہیں جس طرح انہوں نے اطلاع دیے بغیر حال ہی میں ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کا دورہ کیا ہے۔ ہسپتال میں ادویات کی عدم فراہمی پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی کی جائے ہسپتال سے غیر حاضر ڈاکٹر کو معطل کیا جائے حکومت پنجاب کے لئے خریدی گئی ادویات پر حکومت پنجاب لکھا جانا لازمی قرار دیا جائے۔ جس طرح فوجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت ہے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں بھی پرائیویٹ پریکٹس اجازت دی جائے تو نہ صرف اس سے متعلقہ ہسپتال اور لیبارٹریوں کی حالت بہتر ہو جائے گی بلکہ ہسپتالوں کے باہر ہونے والی لوٹ مار بھی ختم ہو جائے گی۔
دیہی علاقہ کے مراکز صحت کی ویرانی ختم کرنے کے لئے اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کو کم نمبر ہونے کے باوجود اسی علاقہ میں 5 سے 10 سال تک لوگوں کی خدمت کرنے کی تحریری یقین دہانی پر میڈیکل کالجوں میں داخلے دیے جائیں
مریم نواز صاحبہ!
آپ کو معلوم ہونا چاہیے پنجاب کے بیشتر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر سرکاری ادویات مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں۔ بعض افسران کی تعیناتی پر سٹور کیپر قیمتی گاڑیاں تحفے کے طور پیش کرتے ہیں جس ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کا طرز معاشرت اس کی تنخواہ سے مطابقت نہ رکھتی ہو اس کو ملازمت سے برخواست کر دیا جائے ماضی قریب میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لئے خریدی جانے والی ایک کروڑ روپے مالیت کی ادویات دوبارہ مارکیٹ میں فروخت کرنے پر ایک میڈیکل سپریٹنڈنٹ نہ صرف جیل کی ہوا کھا چکا ہے بلکہ نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو گلیاں اور سڑکیں تعمیر کرنے پر اپنی توجہ کرنے کی بجائے ’حقیقی معنوں میں پڑھا لکھا پنجاب بنانے کے لئے سرکاری تعلیمی اداروں میں جماعت اول تا پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم کر دینی چاہیے اس طرح تعلیم کے میدان میں نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار ختم ہو جائے گی۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ممکن نہیں تو اس کمی کو ایوننگ شفٹ شروع کر کے دور کی جائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت کا مقابلہ کرنے لئے شہر شہر قصبہ قصبہ آئی ٹی کے مراکز کھولے جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اے اور او لیول کی تعلیم کا انتظام کیا جائے معیار تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا پابند بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے دور دراز کے علاقوں میں گھر تک طبی سہولیات فراہم کرنے کا جو پروگرام شروع کیا ہے۔ وہ یقیناً قابل تحسین اقدام ہے۔ اس میں کوتاہی برداشت نہ کی جائے وزیر اعلیٰ پنجاب کچھ کر گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں لیکن ایک فعال اور قومی جذبہ سے سرشار ٹیم کے بغیر ان کے منصوبوں کی تکمیل ممکن نہیں مسلم لیگ (ن) کے لئے سروائیول کا آخری موقع ہے۔ اسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
مریم نواز نے کسان خوشحال پنجاب خوشحال پرو گرام کے تحت کسان کارڈ کی رجسٹریشن شروع کی ہے جس کے تحت کسانوں کو 300 ارب روپے کے پیداواری قرضے دیے جائیں گے۔
ساڑھے بارہ ایکٹر اراضی ملکیت کے کسان اس کارڈ سے استفادہ کر سکیں گے لیکن عملاً اس سے مختلف ہو گا۔ پنجاب میں پٹواری طاقت ور مافیا ہے۔ وہ ملکیت کا فرد جاری کرنے پر کسانوں سے آدھی رقم اینٹھ لے گا۔
مریم نواز شریف نے مریم کی دستک کے نام سے ایپ لانچ کی ہے۔ مریم کی دستک کی ایپلیکیشن سے 330 سروسز فراہم کرنے کا بڑا پرو گرام ہے۔ سر دست 10 سروسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد ہر ضلع میں یہ سروس شروع کی جائے گی۔
رمضان المبارک نگہبان پیکج کے تحت لوگوں کے گھروں تک خاموشی سے راشن پہنچایا گیا کینسر اور دیگر مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کو دو ماہ کے لئے ادویات ان کے گھروں میں پہنچ رہی ہیں۔ سیف سٹی میں قائم ورچوئل پولیس سٹیشن خواتین کو گھر بیٹھے تھانے کی تمام سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ حکومت پنجاب کے تمام دفاتر کو پیپر لیس کیا جا رہا ہے۔ بہر حال اس پراجیکٹ کی تکمیل پر کچھ وقت تو لگے گا۔
بظاہر مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آ گئی ہے لیکن مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں اس وقت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول ممکن نہیں۔ جب تک ڈپٹی کمشنرز کا صبح سویرے منڈیوں میں قیمتوں کا جائزہ لینے کا پابند نہ بنایا جائے گا۔ مریم کی دستک ایپ سے 10 سروسز ڈومیسائل، ای سٹیمپنگ، میرج سرٹیفیکیٹ، طلاق سرٹیفیکیٹ، موٹر وہیکل ٹرانسفر، پراپرٹی ٹیکس، ٹوکن ٹیکس، اور نئی گاڑی کی رجسٹریشن کی سروس شہری کو گھر کی دہلیز مہیا کی جائے گی۔ یہ انتہائی جدید سروس ہے۔ اس کی کامیابی سے جہاں عام لوگوں کو بے پناہ سہولیات حاصل ہوں گی۔ وہاں مسلم لیگ (ن) کی گڈ گورنس کا بڑا چرچا ہو گا۔
مریم نواز نے جیل میں جرات و استقامت کی ایک تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے جیل میں بہتر کلاس کے بجائے خواتین قیدیوں کے ساتھ سی کلاس میں رہنے کو ترجیح دی انہوں نے جیل میں قیدیوں کا لباس پہن کر یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کی آئرن لیڈی ہیں۔ انہوں نے جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی غذا استعمال کر کے یہ ثابت کر دکھایا انہیں جیل یاترا سے کوئی خوف نہیں۔ اڈیالہ جیل میں بنائی جانے والی جیل میں نواز شریف کا قیدی نمبر 3421 اور مریم نواز کا قیدی نمبر 3422 تھا۔
مریم نواز کا جیل یاترا کا پہلا تجربہ تھا۔ جرات و استقامت سے جیل کاٹنے پر ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھ گیا مر وہ مظلوم خاتون لیڈر کے طور پر سیاسی منظر پر ابھریں جب انہیں وزارت اعلیٰ کا منصب ملا تو تو انہوں ایک دن کوٹ لکھپت جیل میں خواتین کے ساتھ گزارا لیکن یہ کافی نہیں انہیں پنجاب کی جیلوں میں غیر انسانی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
تازہ ترین اطلاع ہے۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں گڈ گورنس کو یقینی بنانے کے لئے وزارتوں اور محکموں کی ری سٹرکچرنگ کے لئے 14 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جسے 60 ایام میں سفارشات تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے گو وہ بے نظیر بھٹو ثانی تو بن سکی ہیں اور نہ ہی انہیں اس کی خواہش کرنی چاہیے کیونکہ بے نظیر بھٹو کا سیاسی انجام کسی کو نہیں دیکھنا چاہیے نہ ہی ان کو بے نظیر بھٹو جیسے حالات کا سامنا ہے لیکن جس تیزی سے انہوں نے سیاست میں مقام پیدا کیا ہے۔ وہ جلد عملاً مسلم لیگ (ن) کی بے نظیر بھٹو بن جائیں گی۔ (ختم شد) ۔

