امریکی قرارداد اور ماضی
کچھ دن پہلے امریکی کانگریس نے پاکستانی الیکشن کے بارے میں ایک قرار داد پاس کی، قرار داد کے مطابق کہا گیا کہ 2018 اور 2024 میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں، اس کے علاوہ پاکستان میں اظہار رائے پر قدغنوں سمیت ہونے والی تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی تحقیقات کی جائیں، امریکی کانگریس کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد میں پاکستان میں الیکشن کے دن ہونے والے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بندش پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ پاکستان میں انسانی حقوق کا پرچار چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان میں حکومت اس کے عوام کی مرضی سے بنے جو جمہوریت کو مضبوط کرے لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
اگر ہم تاریخ کا مشاہدہ کریں تو ہم مارشل لا لگنے میں امریکی کردار کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں، آئیے اس کردار کو جاننے کی کوشش کریں۔ شجاع نواز کے مطابق 1950 کی دہائی میں امریکہ اور ایوب خان کی بات چیت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تاکہ پاکستان کو امریکہ کا اتحادی بنایا جا سکے اور بدلے میں ڈالرز اور عسکری امداد بٹوری جائے۔ ایوب خان نے امریکی قونصل جنرل سے کہا ”میں پاکستان کے سیاستدانوں سے بات کر رہا ہوں اور میں نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ انہوں نے مغرب دوست پالیسی کی طرف ہی جانا ہے اور پاکستان آرمی اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ کوئی سیاستدان یا عوام اس پالیسی کے مخالف جائے“
تین ماہ کے بعد ایوب خان کی امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ سے ملاقات ہوتی ہے اور ایوب خان کی طرف سے پھر سے اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ امریکہ دوست پالیسی کے خلاف کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ایوب خان کی پرو ویسٹرن پالیسی کے عزم سے متاثر ہوئے۔
بجائے اس کہ امریکہ پاکستان سے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرتا اور جمہوریت کو عزت دے کر پاکستان میں سیاستدانوں سے پالیسی پر بات کرتا لیکن اس نے غیر جمہوری طریقوں سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے بنانا شروع کیے ۔ ایک اور موقع پر ایوب خان امریکی سفارتکار سے ملا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی بھی چیز امریکی بیانیے کے مخالف جائے گی تو وہ ملک میں فوری مارشل لاء نافذ کر کے سارا سسٹم اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔ اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں لگنے والے پہلے مارشل لا کی پلاننگ سے امریکہ باضابطہ طور پر آگاہ تھا اور امریکہ کو پاکستان میں ڈیموکریسی کی پرواہ نہیں تھی صرف اپنے مفادات کے لئے پرو امریکہ پالیسی عزیز تھی۔ امریکہ پاکستان کو فوجی امداد فراہم کرتا رہا تاکہ پاکستان امریکہ کا اتحادی بن کر سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لے سکے اور اسی امریکی انوسٹمنٹ نے اسٹیبلشمنٹ کو ملکی سیاست میں دخل اندازی کو مضبوط کیا۔ اس طرح اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست میں اور زیادہ اثرانداز ہونے لگی۔
1957 میں ہائی رینکڈ ملٹری افسر نے امریکی قونصل جنرل سے کہا کہ ”وہ اتنے پست کردار اور نا اہل سیاستدانوں کو اپنے آفس کا کلرک بھی نہ رکھیں، اب ان کے دن گنے جا چکے۔“ 4 اکتوبر 1958 میں پاکستان میں امریکی سفارتکار امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کو بتاتا ہے کہ اسکندر مرزا نے اسے ایک ہفتے کے اندر مارشل لاء کے نفاذ کی خبر دی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کیسے مارشل لا کے نفاذ سے پہلے امریکہ کو ہر چیز سے با خبر رکھا گیا۔ اور پھر ایوب خان نے اقتدار میں آنے کے بعد کیسے اظہار رائے پر قدغن لگائی اور سیاستدانوں اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا اور میڈیا کو سنسر کیا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔
1980 میں امریکی صدر کارٹر نے ضیاء الحق کو افغان وار میں امریکہ کا اتحادی بننے کے نتیجے میں 400 ملین ڈالر امداد کی پیشکش کی جسے ضیاء الحق نے مونگ پھلی کہہ کر ٹھکرا دیا۔ جب رونالڈ ریگن نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا تو اس نے اگلے 5 سال میں 3.2 بلین ڈالر امداد فراہم کرنے کا پلان پیش کیا اور ساتھ ہی نئے اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کروائی۔ اب یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ نہیں تھی چنانچہ ضیا نے اس آفر کو قبول کر لیا اور پاکستان نے باقاعدہ طور پر افغان جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر اس کا ساتھ دیا۔ اس سے بے غرض ہو کر کہ پاکستان میں ضیا کے دور میں انسانی حقوق کی بے تحاشا خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں، پروگریسو اخبارات کو پابندیوں کا سامنا تھا لیکن امریکہ نے ضیا کی مدد جاری رکھی کیونکہ تب امریکہ کو افغان جنگ میں اپنے مفادات عزیز تھے پاکستان میں جمہوریت نہیں۔
2000 کی دہائی میں پرویز مشرف کی ڈکٹیٹرشپ والی حکومت دوبارہ ”وار آن ٹیرر“ کی جنگ میں امریکہ کی اتحادی بنتی ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کو 1.2 بلین ڈالر سالانہ فراہم کرتا رہا۔ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، آئین کی پامالی ہو رہی ہے، انسانی حقوق کو روندنے کے ساتھ عوام کی مرضی کو بھی جھٹلایا جا رہا ہے، لیکن تب امریکہ نے مشرف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ امریکہ جانتا تھا کہ ایک جمہوری پارلیمانی نظام میں اپنے مطالبات منوانے سے زیادہ آسان ڈکٹیٹرشپ میں ایک بندے پر پریشر ڈال کر اپنے سارے مطالبات منوانا ہے۔
تاریخ سب بتا رہی ہے کہ امریکہ کتنا سنجیدہ تھا پاکستان میں انسانی حقوق کی آواز کے لئے اور جمہوری نظام کے لئے۔ اسے بس اس خطے میں اپنے مفادات سے سروکار تھا جب کہ آج امریکی کانگریس قرارداد پاس کر کے یہ بتانا چاہتی ہے کہ اسے پاکستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی فکر ہے اور وہ جمہوریت کی مضبوطی چاہتا ہے۔


