افغانستان کو برباد کرنے کا درست طریقہ


پاکستان میں سیاست اور اسٹیبلشمنٹ، اور تعلیم و پروپیگنڈا کو ایک دوسرے سے الگ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ تعلیم یافتہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں، جبکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی تعلیمی نمک میں پروپیگنڈا کی آئیوڈین کی مقدار اصل نمک سے زیادہ ہونے کی وجہ سے، وہ حقیقی اور تصوراتی دنیا کے عالمِ تذبذب میں زندگی گزارتے ہیں۔ پاکستان وجود میں آیا تو صرف انڈیا کے ساتھ نہیں بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کی سرحدات بین الاقوامی طور پر غیر متنازع نہیں تھیں۔ ہمارے سکول کالجز میں بتایا جاتا ہے کہ اسلامی برادر ملک ہونے کے باوجود افغانستان نے ہمیں روز اول پر تسلیم نہیں کیا۔ لیکن کیوں تسلیم نہیں کیا، اس کے بارے میں کتاب خاموش ہوتی ہے۔

اس دفعہ کی افغان حکومت پچھلی حکومتوں سے بالکل مختلف ہے۔ بڑی مدت کے بعد یا شاید روسی حملے کے بعد پہلی بار کابل میں ایک پختون حکومت وجود میں آئی ہے، جس کے اندرونی اور بیرونی مخالفین اتنے ناتواں ہیں، کہ اپنی شدید خواہش کے باوجود ان کی طاقت اور افادیت کو بین الاقوامی چوہدری قابلِ توجہ نہیں سمجھتے۔ یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ افغانستان کے پختونوں کے پیچھے امریکہ کھڑا ہے، ان کی مخالفت میں نہیں۔

بیس سالہ جنگ، دوستوں اور دشمنوں کے پل پل بدلتے ہوئے مفادات اور اس کی بناء پر بدلتے رنگ، اور بیانات نے آج طالبان کو رئیل پالیٹک سکھا دیا ہے۔ آج کی افغان حکومت کھیتوں کلیانوں سے اکٹھے کیے گئے ’مجاہدین‘ کی حکومت ہے، نہ حقانیہ اور کرنل امام کے شاگردوں کی، جن کے ہر عمل کا جزا آخرت میں ملنے پر منحصر تھا۔ یہ لوگ دائیں ہاتھ سے دینے اور بائیں ہاتھ سے وصول کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ بین بین الاقوامی تعلقات پیار و محبت اور مذہبی بھائی چارے کے خوبصورت تصورات کی بجائے قومی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔

یہ روس کو یورپ، امریکہ کو چین، پاکستان کو انڈیا اور ایران کو سعودی عرب کے خلاف ڈیل کرنے کا فن جان چکے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم بہت ضروری ہے، اس لیے اپنی بچیوں کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں داخل کیا ہوا ہے، لیکن اپنے فٹ سولجرز کو مطمئن کرنے اور ان کو اپنے مخالف گروہ کو جوائن کرنے سے روکنے کے لئے، لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگائے بیٹھے ہیں۔ جب پاکستان جیسے ملک اور پنجاب جیسے صوبہ میں، لڑکیوں کی تعلیم کو ’بے غیرت‘ والدین کے ساتھ نظموں میں نتھی کیا جاتا ہے، تو پھر آپ لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں اس افغان معاشرے کی دماغی حالت کے بارے میں تصور کریں، جس کی جڑیں قبائلی نظام اور ملائیت کی تنگنائی میں پیوست ہوں۔ (میں، ذاتی اور وقتی مفادات کی خاطر، افغان حکومت کی طرف سے، لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے کی اس تعلیم دشمن پالیسی کے ساتھ بالکل متفق نہیں ہوں۔)

نگران حکومت کے دوران واخان پر قبضے اور شہباز حکومت کے دوران افغانستان کے اندر تک حملہ آوروں کا پیچھا کرنے کے پاکستانی بیانات دونوں ممالک کے درمیان حالات کی سنگینی اظہار کرتا ہے۔

اس سلسلے میں اہم سوال جو مختلف فورم پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے، کہ ایسے حملے تو افغانستان کی طرف سے اشرف غنی کی حکومت کے دوران بھی پاکستان میں ہوتے رہے ہیں، اس وقت تو پاکستان کا ردِعمل، افغانستان کے اندر جاکر حملے کرنے کا نہیں تھا۔ لیکن اب جیسا کہ پاکستانی طیاروں نے ماضی قریب میں بھی افغانستان میں کچھ ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، تو پھر کیا وجہ ہے؟ کہ ایک قسم کے حملوں کے باوجود، پاکستان افغانستان کے اندر حملے کرنے کی دھمکی دینے لگا ہے؟

اس سلسلے میں میرا خیال یہ ہے کہ اشرف غنی کی حکومت ساری دنیا سے ایک تسلیم شدہ حکومت تھی۔ بین الاقوامی طاقتیں اس حکومت کے پیچھے کھڑی تھیں، اور خود دنیا بھر کی فوجیں اس وقت افغانستان میں موجود تھیں۔ افغانستان آج کی طرح ایک غیر تسلیم شدہ زمین کا ٹکڑا نہیں تھا، جس کا جھنڈا ترانہ اور قومی علامات دنیا بھر کے لئے نامانوس اور غیر موجود ہوں۔ طالبان کی دوبارہ آمد سے افغانستان ایک ریاست کی بجائے ایک ایسے خطے کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو سیاست کے مریخی مدار میں گردش کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ اشرف غنی کی حکومت کے دوران، امریکی فوج بمعہ جدید ٹیکنالوجی کے افغانستان میں موجود تھی۔ اس وقت پاکستان حملہ کرتا تو اس کا اثر امریکی موجودگی، اس کی جنگی صلاحیت اور اس کی بین الاقوامی پوزیشن پر بھی پڑتا۔ جس کی وجہ سے طالبان کو امریکہ کے خلاف مزید پروپیگنڈا مواد ہاتھ آ جاتا، اشرف غنی کی حکومت مزید کٹھ پتلی لگتی اور پاکستان کی انوالومنٹ وہاں مزید عریاں ہوجاتی، اس لیے اس وقت پاکستان نے کوئی واضح جارح ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ مزید برآں پاکستان اس وقت افغانستان میں جو کرنا چاہتا، وہ امریکیوں کے ذریعے کر سکتا تھا۔

اب اشرف غنی اور امریکی دونوں افغانستان میں نہیں رہے۔ افغانستان کے پاس ہوائی فوج ہے، نہ ریڈار اور نہ پاکستانی طیاروں کو ڈیٹیکٹ کرنے یا گرانے کی کوئی ٹیکنالوجی۔ ہر ٹیکنیکل ادارے کا سربراہ ایک مولوی ہے، جس کا کل ہنر مذہبی تعلیم تک محدود ہے۔

دوسری طرف پاکستان سمجھتا ہے کہ اس نے امریکہ سے اپنی دوستی کے باوجود اپنی مسلسل حمایت سے طالبان کو افغانستان کی حکومت دوبارہ دلائی ہے، اس لیے وہ افغانستان کے انتظامی اور سفارتی امور میں مداخلت کرنا اسی طرح اپنا حق سمجھتا ہے، جس طرح وہ ماضی میں کرتا آ رہا تھا، جبکہ طالبان اب وہ نہیں رہے، جو پاکستان کی ہر بات مانتے تھے۔

ماضی میں جس طرح پاکستان نے طالبان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا تھا اس دفعہ طالبان نے اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا۔ ان کو اپنی حکومت کی سقوط، گونتاناموبے میں گزارے ہوئے مہ و سال اور اپنے مفادات کے لئے پاکستان نے ان کو جیسے بھیڑ بکریوں کی طرح قربان کیا تھا، وہ سب یاد ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں موجود کوئی گروہ پاکستان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ امریکی مداخلت کے دوران جو طالبان کے ساتھ کیا گیا، وہ سلوک اس سے پہلے ناردرن الائنس، حکمت یار وغیرہ کے ساتھ بھی اپنے اپنے وقت پر ہوتا رہا ہے۔ پختون ولی میں بدل ایک اہم ڈش ہے، جو جتنا ٹھنڈا کر کے کھلایا جاتا ہے، اتنا اچھا سمجھا جاتا ہے۔

کبھی پاکستان کی مدد اور حمایت سے حملہ آور پاکستان سے جاکر افغانستان میں پاکستانی مفادات کے لئے حملے کرتے تھے، اب افغانستان کی حمایت سے اسی طرح پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ اس وقت جب افغان حکومت کی طرف سے، پاکستان سے حملہ آوروں کی آمد کی شکایت کی جاتی تھی، تو جواب یہی دیا جاتا تھا کہ یہ سب کچھ افغان شہری خود کرتے ہیں، ان پر پاکستان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اب جب افغانستان کی طرف سے ہونے والے حملوں کی شکایت اس سے کی جاتی ہے، تو وہ یہی جواب دیتا ہے، کہ حملہ آور پاکستانی ہیں اور یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

اس سارے صورت حال جو سب سے اہم پہلو نظر انداز کیا جاتا ہے وہ چین اور امریکہ کے مفادات اور انڈین فیکٹر ہے جس کو ہم بالکل بھول جاتے ہیں۔ جب اس سارے معاملے کو، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمجھنے کی بجائے، ہم بین الاقوامی کھلاڑیوں، ان کے مفادات اور انڈیا پاکستان کی حریفانہ تاریخ کی روشنی میں دیکھیں گے تو تصویر مکمل ہوجاتی ہے۔

پاکستان، افغانستان میں حملوں کی بات، پاکستان کا اندرونی خلفشار، غیر مقبول حکومت اور مالی مشکلات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے بھی کرنا چاہتا ہے اور ساتھ افغانوں کی نظر میں افغان حکومت کو نکھٹو ثابت کرنے کے لئے بھی۔ جب اس قسم کے پاکستانی حملوں کا جواب افغان حکومت نہیں دے گی تو افغان عوام میں یہ تصور راسخ ہو جائے گی کہ طالبان اور پاکستان حکومت ایک سکے کے دو رخ ہیں۔

اس کے علاوہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے سرزمین پر، یکے بعد دیگرے دو درجن اہم پاکستانیوں کے قتل پر پاکستان کی خاموشی بھی پاکستان کی پوزیشن خراب کر رہی ہے۔ جن کا آخری قتل پاکستان کے سپائی ایجنسی کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کا ہے، جس کو اپنی فیملی سمیت عید سے پہلے لاہور جیسے اہم شہر میں نشانہ بنایا گیا۔

لگتا ہے انڈیا اور پاکستان دوسرے سپر پاورز کی طرح، اپنی جنگیں پرائی زمینوں پر لڑنا چاہتی ہیں، اور جنگ کے سلسلے میں ڈائرکٹ کانٹیکٹ سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی ایک جنگ سری لنکا میں لڑی جا چکی ہے اور دوسری افغانستان میں جاری ہے، جس کی لہریں دریائے آمو سے اٹک تک آ کر ٹکرا رہی ہیں۔

میرے خیال میں، جب تک امریکہ اجازت نہ دے، پاکستان افغانستان کی زمین پر فوجی بوٹ اتار کر حملہ نہیں کرے گا، شاید یہ گارنٹی بھی طالبان کے حق میں جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت وجود میں آئی ہے، اور دوحہ معاہدے کا دوسری فریق امریکہ ہے، جس کی مالی معاونت سے افغان حکومت سانس لیتی اور حرکت کرتی ہے۔

مذکورہ یا مطلوبہ حملے سے افغان حکومت کو نئی اور لمبی زندگی مل جائے گی۔ اس وقت پاکستان کے خلاف افغان قومی عصبیت، پاکستان کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی چاند تک ٹھاٹھیں مار رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں جس انداز سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہوگی۔ اس وقت افغانستان کے لوگ، خواہ ان کا تعلق جس گروہ اور نسل سے ہوں، دو باتوں پر متفق ہیں، ایک پاکستان کی مخالفت اور دوسری اپنی کرکٹ ٹیم کی محبت میں۔

جنگ و جدل کے راستے میں رہنے کی وجہ سے افغانوں کی جو ایک قومی خوبی یا عادت بن گئی ہے، وہ یہ ہے کہ جب تک ان پر حملہ نہیں کیا جاتا، یہ آپس میں کسی بات پر متفق نہیں ہوتے۔ علاقے کا علاقے سے، شہر کا شہر سے، نسل کی نسل سے، گاؤں کا گاؤں سے اور مسجد کی مسجد سے گہرے عصبیتی، مسلکی، لسانی اور علاقائی اختلافات ہوتے ہیں، لیکن جونہی ان پر باہر سے حملہ کیا جاتا ہے، یہ آپس کی مخاصمتیں اسی مورچے میں دفن کر دیتے ہیں، جس میں بیٹھ کر یہ حملہ آور سے لڑنے کے لئے اترے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے حملہ ہوا تو افغان حکومت مزید مضبوط اور طویل ہو جائے گی، اور افغان مزید مصیبت میں اور پاکستان سے دور ہو جائیں گے۔ جن کے مہمان خانوں، بازاروں اور مشاعروں میں آج تک گورگین اور انگریز کا ذکر ہوتا ہے، سوچیں، وہ پاکستان کے حملے کو کتنے دنوں تک یاد رکھے گی؟

افغانستان کو حقیقی نقصان پہنچانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہاں دہائیوں تک مکمل امن قائم کردی جائے، جس کے دوران ان کی مشترکہ ملی عصبیتیں خودبخود تحلیل ہو جائیں گی، اور افغان فطری طور پر قبائلی گروہوں میں بٹ کر منتشر ہو جائیں گے، جنگیں تو ان کو متحد اور متفق بناتی ہیں۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani