شرم و حیا کا فقدان اور بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کا شکوہ


ہمارے ایم این اے جناب بریگیڈیئر اسلم گھمن صاحب نے قومی اسمبلی میں ”شرم و حیا کا فقدان“ کے مرکزی خیال کے ساتھ گفتگو فرمائی جس سے مجھے کچھ لکھنے یعنی سوالات کرنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خاص کیفیت اور ردعمل میں دی گئی رائے اور وہ بھی مجھ جیسے غیر متعلقہ شخص کی طرف سے، ایسی رائے معروضیت کے کسی بھی معیار پر پوری نہیں اترتی، پھر بھی بریگیڈیئر صاحب سے سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا

پہلے تو ان کو بتایا کہ آپ کی حریف جماعت کے اکثریتی ایم پی اے، ایم این اے، ”چاپلوسی“ اور بالخصوص ”منوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے“ کے زریں اصول پر بہت سختی سے کاربند ہیں۔ ذاتی اور سیاسی مخالفت کرنے والے، وہ بھی انتہائی گھٹیا انداز میں جب چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے ان نمائندگان کو نوٹوں کی حرارت دیتے ہیں تو ان میں اچانک تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ایک ”صوفی“ جاگ جاتا ہے اور وہ صوفی وجد میں آ کر اپنی ہی تذلیل کرنے والوں کے لیے سول سیکرٹیریٹ کے دروازے کھلوا دیتا ہے۔

دوسری طرف وہ لوگ جو پارٹی کے لیے اپنا پیسہ اور سب سے بڑھ کر اپنی فیملی کا وقت دیتے ہیں ان کی کوئی چھوٹی سی کوتاہی کو جرم عظیم بنا دیا جاتا ہے اور ان کو دفاتر کے باہر ایسے انتظار کروایا جاتا ہے جیسے وہ بھیک لینے آئے ہو۔ اس لیے آپ اپنی مخالف سیاسی جماعت کے متعلق زیادہ پریشان ہونا چھوڑ دیں اس کے منتخب نمائندے ہی اس کے زوال کے لیے کافی ہیں

پھر میں نے تسلیم کیا آپ کی ( مالی امور کی حد تک) دیانت میرے علم یقین کے مطابق لمحہ حال تک شک و شبہ سے مبرا ہے بعد میں بریگیڈیئر صاحب سے اس یقین کا اظہار کیا کہ دنیا کی اعلی ترین ایجنسی میں ساڑھے سات سال کی خدمت کے دوران پیشہ ورانہ امور (جو میرے نزدیک مالی امور سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ) میں بھی ایسے ہی کمال کا مظاہرہ کیا ہو گا۔

ان سے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بطور ایک ذمہ دار انٹیلی جنس افسر آپ کا محترمہ کلثوم نواز کی گاڑی کو کرین سے اٹھا لینے جیسے گھناونے عمل میں کوئی کردار نہیں ہو گا اور آپ کے علم میں ہوتا تو آپ یقیناً اس بدترین فعل کو روکتے یا استعفیٰ دے دیتے۔ اور آپ کے ہی دور میں ( یاد رہے ماضی قریب کا ذکر نہیں ہو رہا) رانا ثناء اللہ کو دی گئی خصوصی سلامی پر بھی آپ بہت رنجیدہ ہوئے ہوں گے اور نیند کی گولی کے بغیر آپ سو نہیں پائے ہوں گے۔

بریگیڈیئر صاحب کے ساتھ ڈار فیملی اور دیگر لوگوں کے گھروں میں کیے گئے غیر انسانی سلوک پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور دہرایا کہ ایک غلط کام دوسرے غلط کام کی دلیل یا جواز نہیں ہو سکتا لیکن ان کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ 1999 کے مارشل لاء کے بعد مسلم لیگ نون کی توڑ پھوڑ اور اس کے کارکنان پر بدترین تشدد میں وہ شامل نہیں ہوں گے۔ اس وقت ظلم کا درجہ یہ تھا کہ میرے والد جیسے خوفناک حد تک معصوم، بھولے اور ایماندار ورکر کو بھی گھر سے دور رہنا پڑا اور یقین دہانی کے بعد گھر واپس لوٹ سکے۔

اس گمان کا بھی اظہار کیا کہ جب نون لیگ کو ایسی تنہائی کا شکار کر دیا گیا کہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے جاوید ہاشمی، سردار ذوالفقار کھوسہ اور خواجہ سعد رفیق کے علاوہ کوئی پارٹی ٹکٹ لینے والا بھی نہ بچا آپ اس وقت بطور انٹیلی جنس افسر غیر ملکی طاقت ور ایجنسیوں کے خلاف فکری جہاد کر کے ملک عظیم کی خدمت کر رہے ہوں گے۔

ان سے دوران گفتگو یہ بات بھی کھلی کہ فارم 47 کے ”تخلیق کار“ غیر جمہوری رویوں کے حامل ہیں بریگیڈیئر صاحب یہ بات کرنے کے اس لیے مجاز ہیں کیونکہ با اختیار ہوتے ہوئے بھی ق لیگ کی تخلیق جیسے غیر جمہوری عمل میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ان کے بھائی بھی اپنی آزاد مرضی سے نون لیگ چھوڑ کر ق لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ آپ کو یاد رہے ان سے ماضی قریب کے معاملات پر بات نہیں ہو رہی تھی جب بریگیڈیئر صاحب کی جماعت حکومت میں تھی بلکہ اس دور کی بات ہو رہی ہے جب وہ دنیا کی بہترین ایجنسی میں خدمات سر انجام دے رہے تھے ان کے مختلف بہترین کاموں پر بات ہو رہی ہے۔

سوالات میں ان کی انسان دوستی اور ایک غریب کسان کا بیٹا ہونا بھی موضوع گفتگو بنا جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ جنرل ضیاء الحق کی طرح وہ برادری ازم جیسے گھٹیا عمل کو پروان نہیں چڑھایا ہو گا اور ایک ایماندار ”کمّی“ کو اس ”گھمن“ پر جس کو سمبڑیال میں سب سے زیادہ گھمن دکھائی دیتے ہیں اور دھوکہ اور فراڈ سے کام لینے والے ذاتی ملازم پر ترجیح دیتے ہوں گے جو کسی سرکاری چھپڑ پر غیر قانونی قبضے میں مسلسل ملوث ہیں

اور آخری سوال سے پہلے یہ اقرار کیا کہ اردگرد پھیلے ہجوم کی نسبت آپ درد رکھنے والے انسان ہیں پھر پوچھا کہ ہم سب کو ”شرم و حیا کا فقدان“ اس وقت کیوں نظر آ تا ہے جب ہم سے اختیار چھین لیا جاتا ہے اور صوفی برکت علی لدھیانوی کے اس قول عظیم کی روح کو سمجھنے کیوں گریز کرتے ہیں کہ ”اللہ کی رحمت کردار پر نازل ہوتی ہے گفتار پر نہیں“

Facebook Comments HS