کون صاحب؟


میں رات کے وقت ایک کزن کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ان دنوں بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی۔ گلی میں گھپ اندھیرا تھا۔ آس پاس کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ گلیاں ہماری دیکھی بھالی تھیں۔ سو ہم اندازے تخمینے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ میرے کزن کا ہیولا چل رہا تھا۔ دونوں طرف تاریکی میں ڈوبے مکانوں کے آثار تھے۔ ہمارے پیروں کو چھوتا گلی کا فرش ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے تا حد نظر سرمئی دھند کا غلاف تھا۔

ہم دیدے پھاڑ کر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ تاکہ خاکستری رنگ کے مختلف شیڈز کو پہچان سکیں۔ ہمیں سرمئی پردے پر ایک ہیولے کے آثار دکھائی دیے جو ہماری طرف آگے بڑھ رہا تھا۔ اب وہ ہیولا سست رفتاری سے ہمارے پاس سے گزرنے لگا۔ میرے کزن کے ہیولے نے اس ہیولے کو سلام کیا۔ اب وہ ہیولا ہمیں کراس کر کے پیچھے جا چکا تھا۔ میں اور میرے کزن کا ہیولا رک گئے اور مڑ کر پیچھے دیکھنے لگے۔ ہم سر تا پا گوش بر آواز تھے۔ میرے کزن کا ہیولا اضطراب میں تھا۔ گویا اس کے لیے اس سلام کا جواب زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔

سست روی سے چلتا وہ ہیولا اچانک رک گیا۔ اس سے آگے وہ ایک قدم بھی بڑھتا تو ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔ ہیولا سلو موشن سے ہماری طرف مڑا اور اس ماحول کے بر خلاف، جہاں ہر شے دھندلی، کند اور دھیمی تھی، وہ واشگاف آواز میں بولا: ”وعلیکم السلام!“ میرے کزن کے حلق میں پھنسی سانس اب بحال ہو گئی۔ اور ہم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

ہم ابھی کچھ قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ ایک گونج دار آواز ہمارے کانوں میں داخل ہوئی: ”کون صاحب؟“ میں اور میرے کزن کا ہیولا غیر اضطراری انداز میں پیچھے مڑے۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سرمئی پردہ خالی تھا۔ لیکن ہمیں یقین تھا کہ وہ آواز ہمارا وہم نہیں تھی۔ سو ایک اندھا پن دوسرے اندھے پن سے مخاطب ہوا: ”میں فلاں شخص کا بھانجا ہوں۔ اور یہ بھتیجا ہے۔“ پہلے اندھے پن کا لہجہ صفائی پیش کرنے والے شخص کی مانند تھا۔ ”اچھا، اچھا، کیا حال ہے بیٹا آپ کا ؟“ دوسرے اندھے پن نے جواب دیا۔

اس رات ہمیں ملنے والے شخص نفیس صاحب تھے۔ ان کا گھر اسی گلی میں تھا۔ روشنی میں میں بہت دفعہ ان کے گھر کے آگے سے گزر چکا تھا۔ اس کا دروازہ کھلا ہوتا تھا۔ وہ بیٹھک نما ایک کمرے میں بینچ پر آرام کر رہے ہوتے تھے۔ ایسا لگتا تھا وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کسی گہری سوچ میں مگن ہوں۔ ان کے نیم تاریک کمرے میں کتابیں اور کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ چال ڈھال سے وہ مجھے ایک شاعر معلوم ہوتے تھے۔

ایک روز مجھے اپنے گھر میں ایک منحنی سی کتاب نظر آئی، ”کالم سے کتاب،“ کتھئی اور زرد سرورق پر نفیس صاحب کا نام لکھا ہوا تھا۔ پچھلے صفحے پر ان کی تصویر اور مختصر سا تعارف مندرج تھا۔ مجھے اس روز معلوم ہوا کہ نفیس صاحب ایک ادیب اور صحافی تھے۔ مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ اس روز میں کچھ جلدی میں تھا۔ میں نے کتاب کو بعد میں پڑھنے کی نیت سے ایک شیلف میں رکھ دیا۔ شاید ہر کتاب کو پڑھنے کا ایک درست وقت ہوتا ہے۔ اور نہ پڑھنے کا بھی! مجھے پتہ چلا کہ نفیس صاحب چچا کے اچھے واقف کار تھے۔ چچا ہی نے بتایا کہ نفیس صاحب ایک ادبی و اشاعتی ادارے کے روح رواں تھے۔ مجھے تب سمجھ آئی کہ نفیس صاحب کی بیٹھک میں اتنی کتابیں اور کاغذ کیوں پڑے ہوتے تھے۔

کچھ روز بعد چچا سے ان کی علالت کا پتہ چلا۔ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں مزید کچھ کوائف معلوم ہوئے۔ ان کی اپنے گھر والوں سے دیرینہ رنجش چلی آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ ایک شخص، جس نے سارے شہر کی تخلیقات کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا، کا اپنے ہی گھر والوں سے لفظی لین دین بند تھا۔ اور پھر کچھ دن بعد ان کے انتقال کی خبر ملی۔ دل کئی دن تک اداس رہا۔ میرا ان سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا۔ پھر بھی ایسا لگا کہ کوئی اپنا دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔ میں ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات تو نہیں کر سکا۔ لیکن ان کی باتیں سننے کا میرے پاس ابھی بھی ایک ذریعہ موجود تھا۔

میں شیلف میں رکھی گئی نفیس صاحب کی ”کالم سے کتاب“ ڈھونڈنے لگا۔ لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ ہو سکتا تھا کہ کسی نے کتاب وہاں سے اٹھا کر کہیں اور رکھ دی ہو۔ میں نے گھر میں جہاں جہاں کتابیں رکھی تھیں سب دیکھ ڈالیں۔ گھر والوں کو بھی کتاب تلاش کرنے کا بولا۔ لیکن ہمیں وہ کتاب نہیں ملی۔ نفیس صاحب دنیا سے رخصت ہوئے اور وہ کتاب ہمارے گھر سے اٹھ گئی۔ دل بیٹھ گیا۔ چچا نے مجھے تسلی دی کہ ان کی شاپ پر ”کالم سے کتاب“ کی بہت سی کاپیاں موجود تھیں۔ وہ میرے لیے ایک لے آئیں گے۔

رات کو چچا گھر آئے تو میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انہیں بھی شاپ پر نفیس صاحب کی کتاب نہیں ملی۔ پھر وہ فوراً چچی سے مخاطب ہوئے کہ نفیس صاحب نے کچھ عرصہ قبل جو دو کتابیں تحفتاً بھیجیں تھیں وہ مجھے دے دیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جو بچے کو مطلوبہ کھلونے کی متبادل چیز دینے کی صورت میں ہوتے ہیں۔ میں نے کتابیں لے لیں۔

ایک روز میں نفیس صاحب کے گھر والی گلی سے گزر رہا تھا۔ ان کے گھر کے باہر ایک بورڈ پر ان کی وہی تصویر بنی ہوئی تھی جو میں نے ان کی کتاب پر دیکھی تھی۔ ساتھ حضرت علی کا یہ قول لکھا ہوا تھا: ”جس پر بھلائی کرو اس کے شر سے بچو۔“ بورڈ کے اوپر وسط میں ہرن کا ایک چھوٹا سا مجسمہ لگا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں اچانک نیشنل جیوگرافک پر دیکھی ایک شکار کی ویڈیو آ گئی۔ جس میں ایک خوں خوار شیر ایک سہمے ہوئے ہرن کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اور بالآخر اس نے اسے دبوچ لیا۔

میں سوچنے لگا کہ آخر انہوں نے گھر کی دیوار پر اسی قول کا انتخاب کیوں کیا؟ یقیناً انہوں نے بہت سے لوگوں سے بھلائی کی ہوگی۔ لیکن کیا نتیجہ ان کی توقع کے مطابق نہ نکلا؟ میں بیٹھک کے آگے سے گزرا تو کچھ لڑکوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔ آج دروازہ بھی بند تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لڈو یا تاش کھیل رہے تھے۔ ہر چال پر وہ خوب اودھم مچاتے۔ اور ان کی زبان بھی قدرے بازاری طرز کی تھی۔ میں نے سوچا کہ ہلڑ بازی کے درندے نے ادب و شائستگی کے آہو کو نگل لیا تھا۔

نفیس صاحب میری زندگی میں بنیادی طور پر ایک ادیب کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ ایک ایسا ادیب جس کی کتاب کا مطالعہ میں نے کچھ روز کے لیے موخر کیا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ بعد میں میں ان کی تحریروں کو بھی ترسوں گا۔ میں نے آخری آسرے کے طور پر انٹرنیٹ پر نفیس صاحب کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مجھے ایک بھلے صحافی کا کالم مل گیا جو اس نے نفیس صاحب کی وفات پر لکھا تھا۔ اس سے مجھے ان کے بارے میں سرسری سی معلومات حاصل ہوئیں۔ مگر تشنگی ہنوز برقرار رہی۔

چچا کی دی ہوئی کتابیں میں نے مطالعہ کے کمرے میں رکھ دیں۔ ایک روز میرا ان کتابوں کو پڑھنے کا جی چاہا۔ میں نے سوچا کہ کیا نفیس صاحب نے کبھی سوچا ہو گا کہ ان کی دی ہوئی کتابیں ایک ایسے شخص کے ہاتھ لگ جائیں گیں جو ان کے تحریروں کو پڑھنے کے لیے بیتاب ہو گا۔ ان دو لڑکوں میں سے ایک جنہیں چند سال قبل اندھیرے میں انہوں نے نہ پہچانتے ہوئے بولا تھا: ”کون صاحب؟“

پہلی کتاب تھی ”خود شناسی“ از سجاول خان رانجھا۔ میں نے پہلے اس کی ورق گردانی شروع کر دی۔ کتاب کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے : ”اپنی ذات سے آشنائی دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔“ پھر میں پڑھتا گیا اور مجھ پر ”سبق آموز اقوال و واقعات اور خیال افروز سوالات“ کی بارش ہوتی رہی: ”اچھے سامع بنیں۔“ ”انا سے بالا تر ہو کر سوچیں۔“ ”رکاوٹیں زندگی کا حصہ ہیں۔ ان کا سامنا کریں اور مضبوط ہو جائیں۔“ ”ہماری خوشی کا انحصار خود ہمارے اوپر ہے۔“ اختلاف رائے کا خیر مقدم کریں۔ ”“ منفی بات میں مثبت پہلو ڈھونڈیں۔ ”“ عقل مند ہونے کا فن یہ کہ کن چیزوں کو نظر انداز کیا جائے۔ ”“ اپنے آپ سے مثبت باتیں کریں۔ ”“ خوف کا سامنا کریں۔ ”“ اپنی زنگی کے مقصد یا مشن کا تعین کریں۔ ”

کتاب کے مطالعہ کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ نفیس صاحب نے ان کتابوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ چچا کے لیے نہیں بلکہ میرے لیے! مجھے وہ ایک شفیق استاد کی طرح معلوم ہوئے جو دوسرے جہاں سے اس کتاب کے ذریعے میری تدریس کر رہے تھے۔ میں ”نفیس شناسی“ کے لیے نکلا تھا۔ مگر اس کتاب کے مطالعے سے مجھے احساس ہوا کہ مجھے ”خود شناسی“ کی بھی برابر ضرورت تھی۔

دوسری کتاب ”ماہ نو“ میگزین کا ”فیض نمبر“ تھی۔ یہ کتاب نفیس صاحب نے کیوں دی ہوگی؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے میں نے کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ شعرا نے فیض کو منظوم خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ادبا نے فیض شناسی پر مضمون باندھے تھے۔ خصوصی شمارہ فیض کے کلام سے مزین و مصور و معطر تھا۔ میں کتاب رکھنے ہی والا تھا کہ میری نظر فیض کے اس مصرعے پر پڑی: ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔“ وہی زمانہ جس سے میں نے تیرگی ایام میں پوچھا: نفیس صاحب کون تھے؟ زمانہ بولا: کون صاحب؟

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid