پردیسی کمائی
علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور پر بھائی عثمان کو الوداع کے لیے گلے ملتے ہوئے لبوں پر دعائیں تھی تو آنکھوں میں چند ایام اکٹھے گزرنے کی حسین یادیں، والدہ محترمہ کے ہمراہ حج کی بابرکت سعادتیں سمیٹنے کے خوبصورت لمحات گھوم رہے تھے۔ بھائی عثمان کا تین سال بعد وطن واپسی کا سفر صرف چالیس دن پر محیط تھا۔ جس میں پندرہ ایام سعودی عرب میں حج کی سعادت حاصل کرنے میں گزرے۔ تین سال کے بعد پچیس ایام بھائیوں کے ساتھ گزارنے کے بعد رزق حلال کے لیے پھر پردیس کے سفر پر روانہ ہو گئے۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ماں اور بہنیں مسکراہٹوں کے ساتھ الوداع کر تو رہی ہیں مگر آنکھوں میں آنسووں کے سمندر کو روکے ہوئے تھیں۔ دل میں آنسووں کو پیتے ہوئے ماں اور بہنوں کی دعائیں لیتا ہوا علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ کی طرف چل پڑا۔ رزق حلال کے لیے محنت اور سفر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پردیسی کمائی سے والدین اور بہن بھائی اپنی ضروریات کے علاوہ خواہشات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تو اس کے مقاصد میں عبادت الہی، حقوق العباد اور ہمدردی انسانیت قابل ذکر ہیں۔
جہاں عبادت الٰہی ضروری ہے وہاں پر انسان کے لیے رزق حلال کو بھی فرض قرار دیا۔ انسان نے اپنے پاپی پیٹ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔ کھیتی باڑی کرنے سے لے کر جدید ترین سافٹ ویئر بنانے تک یہ سب پیٹ کی آگ کے بجھانے کے مختلف ذرائع ہیں۔ اب روزی کے لیے کوئی خون پسینہ بہاتا ہے تو کوئی آفس میں دستخط کرنے سے رزق حلال کے علاوہ موٹی دیہاڑی لگاتا ہے۔ کوئی گھر میں رہ کر روزی کما رہا ہے تو کسی کو سفر کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہے۔
ان سب کے علاوہ سب سے کٹھن مرحلہ پردیس میں رزق حلال کے لیے سفر ہے۔ چہرے پر قہقہوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہونے والا دل ہی دل میں خون کے آنسو روتا ہے۔ اپنوں سے جدائی کے غم میں نڈھال ہونے کے خوف سے جھوٹی مسکراہٹیں پاس کرتا ہے۔ اس کے گھر والے ہر تہوار پر جس غم کی تکلیف سے گزرتے ہیں اس کا تصور ہی ہولناک ہے۔ ہر آنے والے تہوار میں پردیسی کی جدائی دل کو غمگین کر دیتی ہے۔ اس جدید دور میں واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے اس کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تہواروں میں گلے ملنے کی کمی کو یہ ویڈیو کال دور نہیں کر سکتی ہے۔ جو ٹھنڈک سینے سے سینہ ملا کر محسوس کی جاتی ہے۔ اس کو واٹس ایپ پر اسٹیکر اور ایموجی بھیجنے سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کھانے میں ممتا کی محبت کا ذائقہ ریستوران کے باورچی کیا جانے۔ بہن بھائیوں سے چھین کر چیزیں کھانے کا مزہ پردیسی کھانوں میں کہاں ملتا ہے۔ کام سے واپسی پر کھانے پکانے کی ٹینشن کو پیسوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ الغرض پردیسی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہے مگر رزق حلال کی تلاش بھی عبادت ہے۔
اپنوں کی خواہشات کو پورا کرنے کا عزم انسان کو پردیس کا سفر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جدائی کا کڑوا گھونٹ اپنوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے پینا پڑتا ہے۔ تین سال بعد بھتیجے ابراہیم عثمان نے اپنے کزن بھائیوں کے نام اور چہرے بھی یاد نہیں کیے تھے۔ والدین کے ساتھ پردیس میں سفر پر روانہ ہوتے ہوئے خوشی اور مسرت چہرے پر عیاں تھی تو چند ایام کی بھائیوں سے ہونے والی فطری محبت کی جدائی کا غم بھی تھا۔ ائر پورٹ پر کئی بار ہاتھ ہلا ہلا کر بائے بائے کرنا اس کی محبت کا واضح ثبوت تھا۔
پانچ سال کی عمر میں خونی رشتوں کی شناسائی کے چند ایام اس کے ذہن میں نقش ہو گئے تھے جو اس کی کیفیت سے ظاہر ہو رہا تھا۔ اچھی کمائی اور اپنوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پردیسی کمائی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پردیسی کمائی کے لیے تہواروں میں جدائی کا غم برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پردیسی کمائی کے لیے باورچی، دھوبی اور خاکروب بھی خود بننا پڑتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات پردیس کے سفر پر مجبور کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نوجوان طبقہ پردیس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ تاجر بھی موجودہ حالات سے پریشان ہو کر پردیس جانے کے لیے سوچ رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی کمائی سے ضروریات بھی پوری نہیں ہوتی ہیں۔ خواہشات کی تکمیل ناممکن ہے۔ بہرحال پردیس میں پردیسی کمائی کرنے والے پردیسی بھائیوں کی عظمت کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔


