پاکستان کیسے معاشی ٹیک آف کر سکتا ہے؟


میرے خیال میں پاکستان کا مسئلہ کرپشن نہیں نااہلی ہے۔ ایک ملک کا مجموعی تاثر اچھا ہونا چاہیے کیونکہ یہی انڈسٹریل گروتھ کی بنیاد ہے۔ تبھی لوگ صنعت اور سرمایہ کاری میں آگے آئیں گے۔ پاکستان میں بہت سے صنعتی ادارے ہیں جن کو اگر سہولیات دی جائیں اور سپورٹ دی جائے تو وہ مقامی سطح پر وہ مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنھیں ہم درآمد کر رہے ہیں۔ اگر ہم اس پہلو پر سوچنا شروع کر دیں تو میں پر امید ہوں کہ پاکستان کی معیشت درست راستے پر گامزن ہو جائے گی۔

اس وقت ملک میں مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، کوئی طبقہ خوش نظر نہیں آ رہا۔ ایسے میں ہمیں لوگوں کو امید دینے کی ضرورت ہے۔ انڈسٹریل گروتھ اور معاشی بہتری کی بنیاد صرف اور صرف ملک کا مثبت امیج ہے۔ تبھی لوگ صنعت اور سرمایہ کاری میں آگے آئیں گے۔ ہمیں امپورٹ اور ایکسپورٹ میں توازن کے لئے ایکسپورٹ بڑھانے اور فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ حاصل کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ پاکستان جیسے ملک کو آبادی میں اضافے، مہنگائی، بے روزگاری سمیت جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے اس کی معیشت کی کم از کم دس فیصد گروتھ ہونی چاہیے تبھی ہم ان چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں۔

فلپائن اور ایتھوپیا پچھلے چند سال سے دس فیصد معاشی گروتھ حاصل کر رہے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سمیت معیشت کے حوالے سے کچھ مزید اچھی خبریں اور بڑے منصوبوں کا اعلان اور ان کی تکمیل کی طرف پیش رفت صورتحال میں بہتری لا سکتی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ پاکستان میں بہت سے صنعتی ادارے ہیں جن کو اگر سہولیات دی جائیں اور سپورٹ دی جائے تو وہ مقامی سطح پر وہ مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنھیں ہم درآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ ضائع کر رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور شفاف طریقہ کار کے تحت پرائیویٹائزیشن کے عمل سے ہم صنعتی ترقی کے اہداف پورا کرنے کی طرف درست سمت میں بڑھ سکتے ہیں۔

ہماری شپنگ انڈسٹری اور بندرگاہوں کا نظام بہت کمزور ہے جنھیں بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ جب معاشی ترقی ہو رہی ہو تو تجارتی خسارہ بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہ جاتا۔ امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک پچھلے پچاس سال سے تجارتی خسارے کا شکار ہیں۔ اگر امپورٹ سے آپ کی معاشی گروتھ بڑھتی ہے تو اسے بڑھنے دینا چاہیے۔ قرضے لینے میں بھی کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ ہم قرضوں کو درست طریقے سے خرچ کریں اور معاشی اور صنعتی ترقی کے لئے استعمال کریں۔

نیب اور دیگر اداروں کی طرف سے بزنس کمیونٹی کی ہراسمنٹ کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی تربیت بہت ضروری ہے تاکہ ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول کو پروان چڑھایا جا سکے۔ جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ یہ نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ دنیا کا بھی مسئلہ ہے۔ ہر ملک میں بڑے بڑے کرپشن سکینڈل موجود ہیں لیکن ان کو بنیاد بنا کر اور منفی قوانین کے ذریعے پورے ملک کی معیشت کا گلا گھونٹ دینا یا اس کو بنیاد بنا کر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا کوئی صحتمندانہ رجحان نہیں۔ کیپٹلزم اور کرپشن کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے اور وائٹ کالر کرپشن کے لئے اگرچہ کوئی جواز نہیں لیکن مجموعی طور پر یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا مسئلہ کرپشن سے کہیں زیادہ ادارہ جاتی سطح پر نا اہلی ہے۔

ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ فضول کی محاذ آرائیوں میں بھی نہیں الجھنا چاہیے۔ حکمت بہرحال جذبات سے زیادہ فائدہ مند چیز ہے۔ اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن پاکستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کھولنی چاہیے اور اس حوالے سے بات چیت میں پہل کرنی چاہیے۔ انڈیا کے حوالے سے ہمارا جو دیرینہ موقف ہے اور جس کو بنیاد بنا کر ہم نے اس کے ساتھ تعلقات منقطع کر رکھے ہیں کیا اس سے ہمیں کشمیر مل گیا ہے یا ہم انڈیا کو پاکستان کے پانیوں پر ڈیم بنانے سے روک سکے ہیں؟

اگر ہم انڈیا کے ساتھ مل کر کام کریں اور ہمارے کاروباری اداروں اور افراد کے آپسی تعلقات ہوں تو ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میں بہت مدد ملے گی اور آہستہ آہستہ باہمی مسائل کا حل نکلنے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں روس کے سربراہ سٹالن اور امریکی صدر روزویلٹ کے مابین سخت تناؤ تھا تو ایک نامور بزنس مین جو جوزف سٹالن کو جانتا تھا اس نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش کی اور صورتحال کو نارمل کیا۔

انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے وسائل سے بہت تجارتی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسے انڈیا میں لائم سٹون نہیں لیکن پاکستان کے پاس ہے تو انڈیا پاکستانی سیمنٹ کی ایک بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے۔ ہم انڈیا سے جدید ایگریکلچر کی تکنیک حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پانی ضائع کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے آبی وسائل کے لئے ایسی پالیسیاں لانے کی ضرورت ہے جس سے لوگ پانی کو ضائع کرنے سے اجتناب کریں۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بھارت میں سب اینٹی پاکستانی نہیں۔ وہاں پاکستان کی حمایت کرنے والے بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات بہتر کرنے کے لئے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ہماری مصنوعات کے لئے انڈیا ایک بڑی مارکیٹ ہے اور ہم مقابلہ جاتی فضا میں زیادہ تجارتی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایف بی آر کو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجودہ کاروباری طبقے پر مزید ٹیکس لگانے کی بجائے نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سخت اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سبسڈی بھی ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ صرف ٹارگٹڈ ہونی چاہیے۔ ہمیں سبسڈی دینے کے عمل کو روکنا ہو گا کیونکہ سبسڈی مڈل مین کی جیبوں میں جاتی ہے۔ ٹیکس در ٹیکس لگانے سے معیشت کا مزید نقصان ہو گا اور کاروبار تباہ ہوں گے۔

معاشرے کا تنخواہ دار طبقہ معیشت اور مارکیٹ کو پروان چڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ پے درپے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے تنخواہ دار طبقہ کے لئے اب اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا محال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کاروں پر سپر ٹیکس یا ایکسٹرا ٹیکس لگانے کی بجائے انھیں آزادی سے سی ایس آر ماڈل کے ذریعے فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ دوسری طرف ٹیکس ریفارمز کی بھی بہت ضرورت ہے۔

اس وقت سارک ممالک میں پاکستان کی ٹیکس کلیکشن سب سے کم ہیں۔ ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا نجکاری کے ذریعے صنعتی اداروں کی بحالی کے عمل کو تیز کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کی جانب سے دیرپا معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل یا میثاق معیشت طے ہونا چاہیے جسے تمام بننے والی حکومتوں کی حمایت حاصل ہو۔ جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ کو ملکی سطح پر ہموار کیا اسی طرح معیشت کے لئے بھی ایک روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے جس میں پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔ پاکستان میں پالیسیوں میں تضاد اور تبدیلی ہمیشہ ہی ایک مسئلہ رہی ہے اور سرمایہ کاروں اور بزنس کمیونٹی کے لئے مشکل ماحول پیدا کرتی ہے۔

ہمیں اقتصادی ترقیاتی ایجنڈے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں کو بزنس فرینڈلی ماحول پیدا کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور اس حوالے سے ان کی باقاعدہ ضروری تربیت ہونی چاہیے تاکہ وہ بزنس میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی بجائے اس کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ ہماری بیوروکریسی کا رول مشاورتی نہیں حاکمانہ ہے اس لئے روایتی افسر شاہی کو اکیسویں صدی کے مطابق ڈھالنے کی بہت ضرورت ہے۔

پاکستان میں اس وقت ٹیکسٹائل کی چار سو سے زائد انڈسٹریز کام کر رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے کو مسابقتی رکھنے اور اس شعبے کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پاکستان کی کل برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کو بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ٹیکسٹائل کی برآمدات کے لئے مارکیٹس کو تلاش کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو کپاس کی کاشت کے لئے بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زرعی معیشت کو اپ گریڈ کرنے اور کسانوں کو سہولیات دینے کی بھی ضرورت ہے۔

دنیا کے تمام بڑے ٹیکسٹائل برانڈز پاکستان میں تیار ہوتے ہیں لیکن کوئی بھی صنعتی پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک مقابلاتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی، جدید صنعتی انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نیٹ ورک، ہنر مند، تجربہ کار ورکرز، جدید بینکنگ، دوستانہ ٹیکس نظام نہ پایا جاتا ہو۔ ان سب اقدامات کے ساتھ ساتھ کیا ہی اچھا ہو اگر صنعتی و معاشی ترقی کے لئے ماضی میں قائم کیے گئے پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن جیسے اداروں کو دوبارہ سے فعال کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانے کی طرف بھی کوئی دھیان دیا جائے۔

Facebook Comments HS