(3)ٹرین ٹو کوئٹہ: ایک مسافر کی داستان


آئیے، اب ہم ایک کے بعد دوسرے اسٹیشن پر چلتے ہیں اور ان کی تاریخ کنگھالتے ہیں۔

ڈیرہ اللہ یار؛ جیکب آباد اسٹیشن پہ جیسے ہی ریل کی سیٹی بجی میرا جوش و خروش بڑھ گیا۔ اگلا اسٹیشن ڈیرہ اللہ یار تھا جہاں میں محمود بھائی کو لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد مل رہا تھا۔ اللہ اللہ کر کے ڈیرہ اللہ یار آیا اور ہمیں یار کا دیدار نصیب ہوا۔

جیکب آباد کے پاس واقع بلوچستان کا چھوٹا سا ضلع جعفر آباد، جعفر آباد سمیت ڈیرہ اللہ یار (جھٹ پٹ) کی تحصیل پر مشتمل ہے۔ ضلع کا نام تحریک آزادی کے سپاہی اور قائداعظم کے ساتھی ”سردار جعفر خان جمالی“ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ صدر مقام ڈیرہ اللہ یار کو پہلے جھٹ پٹ کہا جاتا تھا لیکن مقامی سردار ”میر اللہ یار کھوسہ“ کی وفات کے بعد اِسے ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

میرا دوست محمود کھوسہ اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہے۔ یوں تو اس شخص سے دوستی سوشل میڈیا پہ ہوئی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ یاری میں بدل گئی۔ بلوچستان میں سیلاب آیا تو میں نے محمود بھائی اور ان کے دوستوں کے ساتھ مل کر اس علاقے کا دورہ کیا اور جھل مگسی میں ایک میڈیکل کیمپ لگایا۔ ساتھ ہی دریائے مُولا کے کنارے حسین نظاروں کا لطف بھی اٹھایا۔

بس تب سے محمود کھوسہ سے ایک اپنائیت والا تعلق بن گیا اور آج موصوف اسٹیشن پہ ہمارے لیے ناشتہ لیے منتظر تھے۔ ٹرین رکی اور ہم بغل گیر ہوئے۔ چونکہ یہ بلوچستان کا پہلا اسٹیشن تھا سو یہاں ٹرین کی چیکنگ کی گئی اور ایف سی کے جوان اپنے آلات سمیت ٹرین میں سوار ہوئے جنہوں نے ٹرین کو بحفاظت کوئٹہ پہنچانا تھا۔ ایک حساس علاقے میں ٹرین کی حفاظت کے لیے یہ بہترین قدم تھا۔

ڈٰیرہ اللہ یار سے ٹرین چلی تو ہم دوسرے ڈبے میں جا بیٹھے جو قدرے خالی تھا۔ انڈا، پراٹھا اور لسی کا ناشتہ کرتے ہوئے محمود بھائی کو دعائیں دیں۔ ناشتے کے بعد ہم دونوں اپنے ڈبے میں پہنچے اور ساتھیوں سے گفتگو شروع کی۔

چمن کے چمونے ؛ ہم دونوں کے علاوہ کمپارٹمنٹ میں چمن سے تعلق رکھنے والے چار پٹھان لڑکے تھے جن کی عمریں لگ بھگ چودہ سے سولہ سال تک تھیں۔ چاروں آپس میں بھائی تھے اور بہاولپور کے صادق پبلک سکول میں پڑھتے تھے۔ یہ چھٹیوں میں گھر واپس اپنے والد کے پاس جا رہے تھے۔

مجھے ان سے بات کر کے اور ان کے خیالات جان کے شدید خوشی ہوئی۔

سب سے پہلے تو یہ بات اپنے آپ میں ایک انوکھی اور زبردست تھی کہ چمن میں ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرنے والا ایک پٹھان، تعلیم سے اتنی محبت رکھتا ہے کہ اپنے چاروں بیٹے دوسرے صوبے میں پڑھنے بھیج دیے، وہ بھی صادق پبلک جیسے ایک تاریخی اور بہترین تعلیمی ادارے میں۔ بلوچستان میں تعلیم و شعور کی یہ آگہی میں نے آگے بھی جگہ جگہ محسوس کی۔

ایک نوجوان اگرچہ تعلیمی نظام سے کچھ نالاں تھا لیکن پھر بھی باپ کا خواب پورا کرنا چاہتا تھا۔ چھوٹے والا عزت اُللہ، جو گول مٹول اور معصوم سا تھا، اسے انگریزی بولنے اور سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس کی فرمائش پر میں نے قریباً پون گھنٹہ اُس سے انگریزی میں دلچسپ گفتگو کی جس میں پاکستان کی سیاحت، تعلیمی نظام، امریکی جنگیں، افغانستان کی صورتحال، میرے بلوچستان کے سفر اور کوئٹہ سے میری محبت جیسے موضوعات شامل تھے۔ وہ انگریزی میں سوال کر کے بڑا محظوظ ہو رہا تھا اور میرا وقت بھی اچھا گزر رہا تھا۔ ٹرین کچھی کے زرخیز میدانوں سے گزر رہی تھی اور میری نظریں باہر گزرتے مناظر پر تھیں۔

ڈیرہ مراد جمالی؛ ڈیرہ اللہ یار کے بعد ٹرین ضلع نصیر آباد کے شہر ڈیرہ مراد جمالی جا رکتی ہے۔ نصیر آباد کا پرانا نام ”ٹمپل ڈیرہ“ تھا جو 1891 میں سبی کے پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن ایچ ایم ٹمپل کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ناموں کے حوالے سے بلوچستان کے کچھ اضلاع میں بہت کنفیوژن ہے جیسے ضلع جعفر آباد کا صدر مقام ڈیرہ اللہ یار ہے تو ضلع جھل مگسی کا گندھاوا، ضلع چاغی کا دالبندین اور ضلع کچھی کا ڈھاڈر۔ یہاں باقی صوبوں کی طرح تمام اضلاع کے نام صدر مقام پہ نہیں رکھے گئے۔

ڈویژنل صدر مقام ہونے کے باوجود ڈیرہ مراد جمالی شہر کی حالت قابل افسوس ہے۔ یہ شہر کیا یہ پورا ڈویژن ہی انتہائی پسماندہ ہے۔ تعلیم و صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر بھی تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ حالانکہ نصیر آباد ڈویژن کے علاقے بلوچستان کے سب سے زرخیز علاقے شمار کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے منتخب نمائندے بالکل بھی عوام دوست نہیں لگتے۔ یہاں سے ٹرین کچھ چھوٹے اور متروک شدہ اسٹیشنوں کو کراس کرتی ہے جو کسی بیوہ کی مانگ کی طرح اُجڑے نظر آتے ہیں۔ ان میں نٹال، بختیار آباد ڈومکی، ڈمبولی، مٹھڑی، ڈنگرہ اور وزیرانی ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔ اس ویرانے سے گزر کے ایک بجے ٹرین نے سبی جنکشن پہ بریک لگائی۔

سِبی؛ سبی، بلوچستان کا ایک اہم ڈویژنل و ضلعی صدر مقام اور شہر ہے جو ذین، بھمبور اور دنگن کے پہاڑی سلسلوں سے گھرا ہوا ہے۔ 1878 ء میں دوسری برطانوی افغان جنگ کے بعد انگریزوں نے سبی کو بذریعہ ریلوے لائن 1890 ء میں جیکب آباد سے ملایا۔ 1903 ء میں سبی کو ضلع بنایا گیا اور یوں سبی بلوچستان کا قدیم ترین ضلع بھی ہے۔ نصیرآباد، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور زیارت کے بعد جب ہرنائی کو بھی سبی سے علیحدہ کر کے ضلع بنا دیا گیا تو یہ رقبے میں کافی سُکڑ گیا۔ موجودہ ضلع، سِبی اور لہڑی، دو تحصیلوں پر مشتمل ہے۔

یہاں کا موسم بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت بہت مختلف ہے۔ اسے پاکستان کا گرم ترین شہر کہا جاتا ہے جہاں گرمیوں میں عمومی درجہ حرارت 52 یا 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا ہے۔ یہ سوچ کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سبی کے لوگوں کو ان کی ہمت پر سلام پیش کروں۔

اس دن بھی یہاں شدید گرمی تھی، درجہ حرارت لگ بھگ انچاس تھا۔ اسٹیشن پہ لوگ ٹھنڈا پانی اور شربت خرید رہے تھے۔ مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو نہلا رہی تھیں۔ بوڑھے اور نوجوان وضو کر رہے تھے۔ قریب ایک مسجد سے جمعے کے خطبے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میں نے بھی وضو کیا اور اسٹیشن کے ایک درخت کی چھاؤں میں نماز ادا کی۔ بھئی اس نماز کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔

سبی جنکشن، کوئٹہ ریلوے ڈویژن کا آغاز ہے جہاں سے دو ریلوے لائنیں نکلتی ہیں۔ ایک لائن براستہ مشکاف، آبِ گم، مچھ، کولپور سپیزنڈ، کوئٹہ اور بوستان جنکشن سے چمن بارڈر تک جاتی ہے جبکہ دوسری ریلوے لائن سبی سے دریائے ناڑی کے ساتھ ساتھ بابر کیچ، سپن تنگی، ہرنائی، ناکُس، شاہ رگ، خوست اور زردالو تک جاتی ہے۔ 2006 میں یہ ریلوے لائن تخریب کاروں کے ہاتھوں پلوں کے تباہ ہو جانے کی وجہ سے بند ہو گئی تھی۔ لیکن گزشتہ سال اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ایک مقامی کے مطابق ایک دن چھوڑ کے ایک دن، ٹرین سبی ہرنائی تک جاتی ہے۔

ٹرین سبی سے چلی تو یہاں لوکو شیڈ کے قریب ”سبی ریلیف ٹرین“ کھڑی نظر آئی جو کسی حادثے کی صورت میں جائے حادثہ پر امدادی سامان لے کر جاتی ہے اور مدد فراہم کرتی ہے۔ سبی کا لوکو شیڈ کوئٹہ ڈویژن کا دوسرا فعال ترین لوکو شیڈ ہے۔ یہاں سے روزانہ صبح پائلٹ انجن کے ذریعے ایف سی بلوچستان کے روزمرہ استعمال کا سامان بھی بھیجا جاتا ہے۔

سبی سے کوئٹہ کے بیچ آٹھ ریلوے سٹیشن ایسے ہیں جو اب بند کر دیے گئے ہیں۔ یہاں اکثر مسافر ٹرین کو کسی دوسری ٹرین کے ساتھ کراسنگ کے لئے روکا جاتا تھا۔ ریلوے ٹریفک کا بوجھ کم ہونے کی وجہ سے ان اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا ہے جنہیں ریلوے کی اصطلاح میں بلاک ہٹ کہا جاتا ہے۔ ان میں ناڑی بینک، وسیپور، گڈالر، کوہسار، لالا جی، چدر زئی، سر بولان اور کوریڈور اسٹیشن شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر پنیر اور پیشی اسٹیشن کے درمیان واقع ہیں۔

سبی سے ٹرین نکلی تو دل بلیوں اچھلنے لگا کیونکہ اس کے بعد ہی میرا پسندیدہ ٹریک شروع ہونے والا تھا اور کئی سرنگیں اس مسافر کی منتظر تھیں۔ ناری بینک؛ سبی کے بعد موسم واضح طور پہ بدلتا محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ناری دریا پار کرتے ہی ناری بینک نامی ایک گم نام سا اسٹیشن آیا۔ ناری بینک، کوئٹہ کی طرف ضلع کچھی (سابقہ نام بولان) کا پہلا اسٹیشن ہے۔ اس کے مغرب میں ڈھاڈر شہر ہے جس کے جنوب میں ایک عظیم ترین تہذیب کے آثار موجود ہیں جو ”مہر گڑھ“ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مہر گڑھ کے مقام پر جو آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ جنوبی ایشیا میں پتھر کے زمانے کے سب سے قدیم آثار مانے جاتے ہیں۔ 1974 میں فرانسیسی ماہرین نے پاکستانی ماہرین کے تعاون سے یہاں کھدائی شروع کی جو دس سال تک جاری رہی جس سے مہر گڑھ کی تہذیب کو سمجھنے اور جاننے میں کافی مدد ملی۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلوچستان کا علاقہ پہلے خشک اور بنجر نہ تھا بلکہ یہاں کثرت سے بارشیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ ٹیلے اس دور میں آباد تھے اور ان بستیوں کے گرد کھیت کھلیان تھے۔

سب سے اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ مہر گڑھ ہی خطے کا وہ علاقہ تھا جہاں سب سے پہلے گندم اور جو کاشت کی گئی۔ افسوس کہ اس جگہ کو وہ شہرت نا مل سکی جو ہڑپہ اور موئنجوداڑو کے حصے میں آئی۔

واپس ناری بینک پہ چلتے ہیں جہاں ریل ہماری منتظر ہے اور مشکاف جانے کو تیار ہے۔

مشکاف؛ مشکاف، ناری بینک کے بعد والا اسٹیشن ہے جسے کراس کرنے کے بعد ٹرین بلوچستان کے ہیبت ناک و چٹیل پہاڑی علاقے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اصل میں یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ہمارا خوشگوار سفر شروع ہوتا ہے۔ مشکاف کے بعد درہ بولان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے جس میں مختلف جگہوں پر پہاڑی سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ ٹرین مختلف ندی نالوں کو پار کر کے جب ان پہاڑی سرنگوں سے گزرتی ہے تو سفر کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ تبھی اس ٹریک پر ریل کا سفر میرا پسندیدہ ترین ہے۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS