اکیسویں صدی کے طالب علم


پطرس بخاری نے اپنے  ایک مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں اپنے زمانے کے طالب علموں کی اقسام بیان کی ہیں ۔ مضمون کو منظر عام پہ آئے تقریباً ایک صدی کا عرصہ ہونے کو ہے اور اس دوران علم اور اس کے طالب کئی ارتقائی و ڈھٹائی تبدیلیوں اور ان نیچرل سلیکشن سے گزرے ہیں ۔ اس لیے اس نوع کی ہم عصری درجہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ مضمون ہذا میں اس نوع کو ان کے مضمون اور مزاج کے لحاظ سے مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ طلباء کی پہلی درجہ بندی ان کے منتخب کردہ مضمون کے لحاظ سے ہے۔ اس لحاظ سے اس نوع کو پانچ درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ارینجڈ میرج طلباء

انسائیکلوپیڈیا برصغیریا میں ارینجڈ میرج کی تعریف کچھ یوں بیان کی گئی ہے۔

” ارینجڈ میرج ایک ایسی شادی ہے جس میں قاضی سے لے کر   محلے کے حاجی اور نمازی اور ساز بازی سے لے کر جرمن نازی تک سب راضی ہوں سوائے ان دو لوگوں کے جن کی شادی ہو رہی ہے۔ "

اگر ارینجڈ میرج کے پورے عمل کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں جو جو لوگ ملوث ہوتے ہیں وہ اپنے اپنے مفادات کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں اس چیز کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان دو لوگوں میں کوئی قدر مشترک بھی ہے یا نہیں اور کیا یہ اکٹھے ساری زندگی ساتھ جی پائیں گے۔ یوسفی صاحب فرما گئے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے کا موقع اس وقت ملتا ہے جب وہ اپنے بچوں کی شادیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ارینجڈ میرج طالب علموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ بیٹا آپ نے ڈاکٹر بننا ہے کیونکہ میری بڑی خواہش تھی ڈاکٹر بننے کی لیکن اس وقت کے معروضی حالات کچھ اس قسم کے تھے کہ میں نہیں بن سکا ( معروضی حالات ایک ایسی اصطلاح ہے جس میں آپ اپنی نالائقی و نکمے پن کو بڑی آسانی سے کیمو فلاج کر سکتے ہیں) ۔ یا یہ کہ بیٹا میں ایم اے  انگلش کرنا چاہتی تھی لیکن نہیں کر پائی اب میرا یہ خواب ہے کہ آپ کریں۔ کچھ طالب علم خود بھی اس ارینجڈ میرج میں پھنس جاتے ہیں  جب وہ اپنے کزنوں اور دوستوں کی دیکھا دیکھی ایک مضمون کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔ ان طالب علموں کو عدیم ہاشمی کے الفاظ میں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔

تیرے لیے چلے تھے ہم، تیرے لیے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے، تو نے کہا تو مر گئے۔

ارینجڈ میرج والے طالب علموں کی اپنے مضمون سے پہلی ملاقات کالج یا یونیورسٹی کے پہلے دن ہی ہوتی ہے ۔ کچھ عرصہ تو جون ایلیا کے بقول ” شرم، دہشت، جھجک ، پریشانی ” میں ہی کٹ جاتا ہے لیکن جتنی دیر میں دونوں کو باہمی  بے آہنگی کا پتا چلتا ہے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ پھر یہ شادی صرف خاندانی دباؤ  یا یہ کہ  اب اگر چھوڑا تو "لوگ کیا کہیں گے” کی وجہ سے چلتی رہتی ہے۔ ان طلباء کا اپنی فیلڈ سے یہ "ادائے جبرانہ ” صرف یونیورسٹی یا کالج تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ جب یہ لوگ بعد میں اپنی خوش قسمتی اور کسی ادارے کی بدقسمتی سے کوئی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہاں بھی ان کا رویہ ساری زندگی ارینجڈ میرج والا ہی رہتا ہے۔

میرج آف کنوینیس طلباء

ڈکشنری آف میکیاولیا میں میرج آف کنوینیس کی تعریف اس طرح سے بیان کی گئی ہے:

میرج آف کنوینیس ایک ایسی شادی ہے جس میں ایک یا دونوں فریقین کو دوسرے کی شکل و صورت ، ساخت،  باہمی ہم آہنگی ، معاشرتی مطابقت سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ ان کا مقصد دوسرے فریق کو استعمال کر کے معاشی یا معاشرتی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔”

تعلیمی اداروں میں آپ کی ملاقات ایسے بہت سے طلباء سے ہوگی جو اپنے منتخب کردہ مضمون کے ساتھ میرج آف کنوینیس والے رشتے میں بندھے ہیں۔ یعنی ان طلباء کو اپنے مضمون کی شکل و صورت ، ساخت، باہمی ہم آہنگی اور کسی بھی مطابقت سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ انہوں نے سن رکھا ہوتا ہے کہ اگر وہ اس مضمون میں ڈگری کر لیں گے تو انہیں کوئی اچھی جاب مل جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے مضمون سے نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ اس شادی میں دوسرے پارٹنر کو ہمیشہ یہی گلہ رہتا ہے کہ میرا پارٹنر مجھے وقت کیوں نہیں دیتا، مجھ سے پیار سے بات کیوں نہیں کرتا اور   اہمیت کیوں نہیں دیتا۔ آپ اکثر دیکھیں گے کہ ایسے طلباء کا منکوحہ مضمون تو کسی کلاس روم میں ان کا انتظار کر رہا ہو گا جبکہ یہ خود کینٹین پہ کسی اور حسینہ سے محو گفتگو ہوں گے۔ اپنے مضمون سے مطلوبہ فائدہ حاصل کرنے کے بعد یہ ساری زندگی اس سے بے نیاز سے  ہی رہتے ہیں۔ اساتذہ ان سے بارہا التجا کرتے ہیں کہ:

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

لیکن ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔

ان این اوپن ریلیشن شپ

انسائیکلوپیڈیا انسٹاپیڈیا کے مطابق اوپن ریلیشن شپ وہ ہے جس میں دونوں فریق یہ جانتے ہوئے بھی ساتھ رہیں کہ دونوں کے اور پارٹنرز بھی ہیں اور دونوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

اگر انیسویں صدی کے اردو شاعروں کو اس بات کی بھنک بھی پڑ جاتی کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ محب اور محبوب باہمی رضامندی سے رشتۂ بے وفائی میں نہ صرف منسلک رہیں گے بلکہ اس کا سوشل میڈیا پر برملا اعلان بھی کریں گے تو وہ محبوب کی بے نیازی و بے وفائی جیسے آؤٹ ڈیٹڈ موضوع پر دیوان کے دیوان لکھ کر دیوانہ ہونے کی بجائے کوئی ڈھنگ کا کام کرتے ، پیسے کماتے اور امیر ہو کر اپنی پسند کا رشتہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے۔ شاید فیض صاحب اس معاشرتی عمل کو پہلے سے بھانپ گئے تھے اور اپنی شہرہ آفاق نظم ” رقیب سے” میں انہوں نے کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں آپ کو اس طرح کے بھی کچھ طلباء ملیں گے جو اپنے مضمون کے ساتھ اوپن ریلیشن شپ میں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم نے بتایا کہ انہوں نے ویسے تو ہسٹری میں ماسٹرز کر رکھا ہے لیکن ابھی وہ یونیورسٹی میں اینتھروپالوجی پڑھ رہے ہیں لیکن ان کی شدید خواہش ہے کہ وہ انگلش میں ایم فل کر لیں۔ اس کیفیت کو داغ دہلوی نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

ہر گلی کوچے میں پامال اسے ہو جانا
دل ہے یا نقش قدم ہے کسی ہرجائی کا

اوپن ریلیشن شپ والوں کی نفسیات شاید یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی آپشنز اوپن رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ کوئی بھی انتخاب کر لیں انہیں بعد میں یہی لگتا ہے کہ وہ دوسری والی آپشن زیادہ بہتر تھی۔

اٹ از کمپلیکیٹڈ

ڈکشنری آف فیس بک میں اٹ از کمپلیکیٹڈ ریلیشن شپ کی تشریح کچھ یوں کی گئی ہے۔

” یہ ایک طرح کی ذہنی کیفیت ہے جس میں ایک پارٹنر کسی کے ساتھ شادی شدہ یا مستقل تعلق ہوتے ہوئے بھی کسی نئے ملنے والے کو یہ کہتا ہے کہ مائی ریلیشن شپ از کمپلیکیٹڈ یعنی میں ایک حد تک نئے ریلشن شپ کے بارے میں سوچ رہا ہوں یا سوچ رہی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں پچھلے ریلیشن شپ کو چھوڑنے پہ تیار ہوں۔”

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کہ کیسا عجیب قسم کا تعلق ہے ۔

 ٹھوکریں مار کے محفل سے اٹھاتے ہیں مجھے
اور ایک پاؤں سے دامن بھی دبا رکھا ہے

یعنی بندہ خود بھی غیر یقینی کیفیت میں ہے اور دوسروں کو بھی تذبذب کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ کچھ ایسا ہی ماجرا کچھ طلباء کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کالج یا یونیورسٹی میں وہ پڑھ ایک مضمون رہے ہوں گے لیکن استفسار پہ ہمیشہ یہی کہیں گے کہ یہ تو میں نے ویسے ہی منتخب کر لیا تھا درحقیقت میں پڑھنا کچھ اور ہی چاہتا ہوں یا چاہتی ہوں۔ لیکن آپ اپنی گناہگار آنکھوں سے یہ بھی دیکھیں گے کہ وہ اپنے مضمون کو نہ تو پوری طرح قبول کریں گے اور نہ ہی اسے چھوڑیں گے۔

یہ مشغلہ ہے کسی کا نہ جانے کیا چاہے
نہ فاصلوں کو مٹائے نہ فیصلہ چاہے

لو میرج

ہمارے ہاں ، عام طور پر ، لو میرج کی تعریف نہیں کی جاتی اس لیے ہم بھی اس کی تعریف بیان نہیں کریں گے۔ ہمارے معاشرے میں تمام نوجوان لڑکے لڑکیاں لو میرج کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی بھی بزرگ اس کے حق میں نہیں ہے ۔ جو بزرگ جوانی میں لو میرج کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں نہیں کرنے دی گئی وہ تو اس وجہ سے اس کے مخالف ہیں کہ ہم نے نہیں کی تو کوئی دوسرا کیوں کرے۔ لیکن جو لو میرج کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے وہ بھی اپنے بچوں کی باری آنے پر فوراً ہی ظالم سماج کی سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ بظاہر تضاد ہے لیکن  ہمارا خیال ہے کہ لو میرج نہ کر سکنے والے بزرگ تو حسد اور حسرت کے باعث لو سٹوری کے ولن بن جاتے ہیں لیکن دوسری طرف لو میرج والے بزرگوں کے پاس اس کی مخالفت کی فلسفیانہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ شادی چاہے لو ہو یا ارینج ، دونوں کا انجام ایک ہے۔

قید ازدواجیات ارینج ہو یا لو اصل میں دونوں ایک ہیں

تو ایسے بزرگ اپنے تجربے کی بنیاد پر اگلی نسل کو اس غلطی کے دوہرانے سے روکنا چاہتے ہیں کہ اگر شادی کرنی ہی ہے تو ارینج کرو تا کہ بعد میں جب تاسف اور پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑے تو بندہ کم ازکم کسی اور کو تو مورد الزام ٹھہرا سکے۔

کالج اور یونیورسٹی میں کہیں کہیں ایک آدھ طالب علم ایسا مل جاتا ہے جس نے کسی مضمون کو صرف اس وجہ سے منتخب کیا ہوتا ہے کیونکہ دونوں میں باہمی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کے اس طرح کے طالب علم خال خال ہی ہوتے لیکن ان سے مل کر تازگی کا احساس ہوتا ہے اور محبت کی لازوال داستانوں جیسے لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، رومیو جولیٹ وغیرہ پہ یقین کرنے کو دل کرتا ہے۔ لو میرج میں دونوں فریق ہنسی خوشی تو رہتے ہیں لیکن عام طور پر معاشی و سماجی حالات ان کے خلاف ہی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے کے مصداق وہ اپنی محبت سے بے رخی بھی برتنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی محبت قائم رہتی ہے۔

یہ تو تھیں اپنے مضمون کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر طلباء کی کچھ اقسام۔  اب ہم مزاج کے لحاظ سے طلباء کی اقسام کا جائزہ لیتے ہیں۔

جذباتی طلباء

نوے کی دہائی کے آخر میں  جب  حضرت مولا بخش کو سکولوں سے دیس نکالا ملا اور ساتھ ہی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ‘کھمبی کاشت’ یعنی مشروم گروتھ اپنے عروج پہ پہنچی تو طلباء کی ایک نئی قسم نے جنم لیا۔ نوے کی دہائی تک تو ہر استاد کا فلسفہ زیست ‘مار ، مار اور مار’  تھا۔ لیکن نوے کی دہائی کے آخر میں حکومت نے ‘مار نہیں، پیار’ کا نعرہ لگایا ۔ اسی عرصے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ‘کھمبی کاشت’ یعنی مشروم گروتھ بھی ہوئی جن کا منشور طلباء کو پیمپر کرنا تھا۔ اس سے پہلے تو کلاس میں چار یا پانچ بچے اپنے پڑھاکو ہونے کی وجہ سے خاص الخاص ہوتے تھے لیکن اب ہر بچہ ہی خاص ہو گیا۔ اس رحجان نے طلباء کی ایک نئی قسم متعارف کروائی جنہیں جذباتی طلباء کہا جا سکتا ہے۔ ان طلباء کے ذہن میں پہلے سے یہ سوچ راسخ ہو چکی ہوتی ہے کہ ہم چونکہ خاص ہیں اس لیے ہمیں پہلے سے سب کچھ پتا ہے اور اگر کچھ سیکھنا ہی ہے تو اساتذہ کو چاہیے کہ ہم سے سیکھ لیں۔ ایسے طلباء جب کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے کانوں میں تصوراتی ترانے بج رہے ہوتے ہیں جن کی شاعری نور جہاں کے انیس سو پینسٹھ میں گائے گئے نغموں سے، موسیقی ہم عصری انڈین فلمی گانوں سے اور دھن نرسری رائمز سے لی گئی ہوتی ہے۔ ان طلباء کی یہ توقع ہوتی ہے کہ ایک تو کالج اور یونیورسٹی میں  پڑھائی کا بوجھ ان کے نازک کندھوں پر بالکل نہ ڈالا جائے۔ استاد نے کچھ پڑھانا ہی ہے تو کلاس میں ان کی غیر موجودگی میں پڑھا دیا کرے۔  لیکن امتحان میں کم سے کم مواد شامل کیا جائے، وہ بھی اگر انہیں پہلے سے بتا دیا جائے تو کیا ہی کہنے۔ مزید یہ کہ وہ امتحان میں جو مرضی لکھیں اسے  صرف اس بنیاد پہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے پہلے اس فیلڈ کے کچھ لوگوں نے ،ہزاروں میل دور کسی ملک میں بیٹھ کر ، اپنی کتابوں میں کچھ اس سے متضاد باتیں لکھیں ہیں۔ دوسرا ان کو زبان دانی اور   گرائمر جیسی  فرسودہ معیار  پر بھی نہیں پرکھا جانا چاہئے۔ زبان دان آخر ہوتے کون ہیں ہمیں بتانے  والے کہ ہم اس طرح سے لکھیں اور اس طرح نہ لکھیں ؟ اگر گریڈ اے سے کم آیا ہے تو اس میں سراسر استاد کی نالائقی اور کم فہمی کا دخل ہے۔ اس طرح کے جذباتی طالب علم کبھی کھلے اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں استاد کو صاف کہہ دیتے ہیں کہ اسے مارکنگ کرنی نہیں آتی ۔ بلکہ اس کا اپنے مضمون کا علم بھی طلباء کے مقابلے میں کم ہے۔ اگر ان کو کوئی استاد اے گریڈ سے کم گریڈ دے تو یہ اسے اپنی ذاتی شان میں گستاخی شمار کرتے ہیں ۔ اس طرح کے طلباء سے بحث کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کیونکہ جب وہ پلے گروپ میں تھے تو ان کی ٹیچر نے انہیں یہ بات باور کرا دی تھی کہ وہ خاص ہیں اور خاص لوگ کبھی غلط نہیں ہو سکتے۔ ان سے بحث کے بعد اکثر استاد کے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دوبارہ داخلہ لے لے اور اپنے مضمون کو بہتر طور پر سمجھ لے۔ اور حل بھی یہی ہے۔

مواصلاتی طلباء

مواصلاتی طلباء کرونا وائرس سے بہت پہلے ارتقاء پذیر ہو چکے تھے لیکن ان کی ایک سپیشیز کے طور پر باقاعدہ درجہ بندی لاک ڈاؤن کے دور میں ہی ممکن ہوئی۔ لاک ڈاؤن سے پہلے تعلیمی اداروں کا طلباء کے موبائل فون استعمال کرنے پر وہی رد عمل ہوتا تھا جو ‘ غیر میکہ’ رشتے داروں کے گھر آنے پر بیوی کا ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز کی وجہ سے اداروں کو اس ضروری برائی کو بالکل اسی طرح قبول کرنا پڑا جس طرح خاندان میں شادی کی تقریب میں پھپھو کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے لاکھ نقصان سہی لیکن ان مہینوں میں انسانوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ

قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی

تو ہم بات کر رہے تھے کہ مواصلاتی طلباء لاک ڈاؤن کے دوران ایک سپیشیز کے طور پر سامنے آئے۔ مواصلاتی طلباء وہ طلباء وہ ہیں جو کلاس روم کی مٹی سے اپنے چرنوں کو بھرشٹ کرنے پہ بالکل یقین نہیں رکھتے اور استاد سے تعارف اور دو بدو ملاقات کو نجس گردانتے ہیں۔ ان طلباء سے استاد کی ملاقات صرف امتحان والے دن ہوتی ہے۔ استاد سارا سال ان کو یہ سندیسہ بجھواتے ہیں:

ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں
ترے لیے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے

لیکن خط کا جواب ہمیشہ یہی آتا ہے کہ:

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

یہ طلباء اپنے تمام تعلیمی و غیر تعلیمی معاملات آن لائن یعنی مواصلاتی طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔ یہ تو خیر کبھی کسی سے نہیں پوچھتے کہ آج کلاس میں کیا پڑھایا گیا کیونکہ ان کی گوناگوں مصروفیات میں اس طرح کی فضول باتوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ بس برقی پیغام کے ذریعے اپنے ہم جماعتوں سے یہ پوچھ لیتے ہیں کہ اسائنمنٹ یا پریزینٹیشن کا موضوع کیا ہے۔ کبھی کبھی جس صبح ان کا پیپر ہوتا ہے اس رات جب اماوس کا چاند بھی ڈوب چکا ہوتا ہے اور چاروں طرف ہو کا عالم طاری ہوتا ہے اور بھٹکی ہوئی روحیں بھی اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر سونے کی تیاری کر رہی ہوتیں، عین اس گھڑی یہ اپنا موبائل ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اور استاد کو میسج کرتے ہیں۔ "سر/میڈم آپ کیسے ہیں؟ پیپر کے لیے کون کون سے ٹاپک تیار کرنے ہیں؟” اور استاد اگر اس وقت بھی ان کے غم میں جاگ رہا ہے تو اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا سوائے اس کے:

آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج
سیمسٹر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے

مواصلاتی طلباء کالج/ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر چلے جاتے ہیں اور بعد میں جب کسی محفل میں زندگی کے اس دور کا ذکر چل نکلے تو یہ آپ کو ہر قسم کے "راندیوو” کا پتا بتا سکتے ہیں،  کڑک چائے کس کینٹین سے ملتی تھی، پراٹھے کہاں کے اچھے ہوتے تھے۔  سموسہ کہاں سے مکمل تکون شکل میں ملتا تھا، لیکن نعوذ باللہ اگر کوئی گستاخ ان سے یہ پوچھنے کی غلطی کر بیٹھے کہ کن اساتذہ سے پڑھا ہے تو ان کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی کہ:

ادھر یہ بدگمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
نہ پوچھا جائے ہے اس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے۔

خیراتی طلباء

پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے جہاں مانگنا نہ صرف ایک باعث عزت و توقیر عمل ہے بلکہ بعید نہیں کہ کچھ عرصے کے بعد اس کو قومی پیشہ قرار دے دیا جائے۔ اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ یونیورسٹیوں میں اس کو بطور مضمون پڑھایا جانا شروع کر دیا جائے۔ پاکستان میں ایک تو ویسے ہی ایک بڑی آبادی مانگتی ہے لیکن بہت سے ایسے لوگ جو بظاہر کوئی کام کر رہے ہیں وہ بھی مختلف طریقوں سے مانگ ہی رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو غریبوں کے لیے آپ سے چندہ مانگتا ہے اور پھر اس بنیاد پہ کہ اس نے غریبوں کی فلاح کے لیے کام کیا ہے ، پھر عوام سے ووٹ مانگتا ہے۔ یعنی پہلے عوام سے پیسہ اکٹھا کرو اور پھر اس کی بنیاد پر عوام پہ حکومت کرو۔ اس فلسفے کے اکسیر ہونے کا ادراک اب طلباء تک کو ہو چکا ہے۔ ہر کلاس میں طلباء کی ایک ایسی قسم پائی جاتی ہے جو اللہ کے نام پر نمبر مانگتی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پیشہ ور مانگنے والے بہت سے بہانے تراشتے ہیں ۔ جیسا کہ غربت، بیماری، معذوری وغیرہ۔ بالکل اسی طرح خیراتی طلباء کے پاس بھی بہانوں کی ایک طویل فہرست موجود ہوتی ہے۔ میرے فلاں رشتے دار کا انتقال ہو گیا تھا اس لیے پڑھ نہیں سکا/سکی، اس لیے نمبر دے دیں۔ میری والدہ بیمار ہو گئی تھیں ، ہم بہت غریب ہیں ،فیل ہو گیا تو اگلے سیمسٹر کی فیس دینی پڑے گی۔ طالبات میں اکثر شادی والا بہانہ بھی استعمال کرتی ہیں کہ اگر وہ فیل ہو گئیں تو ان کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ حالانکہ یہ تو بلیسنگ ان ڈسگائیز ہے لیکن اب انہیں کون سمجھائے۔ آپ نے اکثر یہ دیکھا ہو گا کہ اگر آپ کسی مانگنے والے کو کچھ پیسے دے دیں تو وہ اس پہ اکتفا کرنے کی بجائے فوراً ہی آپ سے کچھ اور مانگ لے گا۔ بالکل یہی حال خیراتی طلباء کے ساتھ بھی ہے۔ اگر استاد ان کو پاس کر دے تو یہ فوراً زیادہ نمبر کا مطالبہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہے مانگنے کی چیز ، اسے بار بار مانگ

کچھ تو اب اتنے نڈر ہوتے جا رہے ہیں کہ باقاعدہ دھمکی کے انداز میں مانگتے ہیں۔یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک قاری کے لیے ایک مصنف کو ذاتی طور پر جاننا ضروری نہیں بلکہ دونوں کے بیچ کتاب بھر کا فاصلہ ہونا چاہئے۔ یہی اصول پیپر چیک کرنے والے استاد اور طلب علم پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ جیسا کہ پہلے پیپر چیک ہونے کے لیے کسی اور جگہ بھیجے جاتے تھے۔ ورنہ تو

یہ دست گدا دراز ہے

حادثاتی طلباء

طلباء کی ایک اور قسم وہ ہے جنہیں بالکل بھی پڑھنے کی غرض سے دنیا میں نہیں بھیجا گیا ہوتا ، نہ ہی ان کے ڈی این اے میں  پڑھائی جیسی کسی چیز کا ڈیٹا ملتا ہے اور یہ خود بھی پڑھنے وغیرہ کو اپنے قیمتی وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں, آخر نہ جانے کیوں؟ یہ کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ اپنے قیام کے دوران نہ تو یہ خود، نہ اساتذہ اور نہ ہی انتظامیہ یہ گتھی سلجھا پاتی ہے کہ آخر یہ یہاں کیوں ہیں۔ اول تو یہ کلاس میں  قدم رنجہ فرمانے کی زحمت نہیں کرتے لیکن اگر کبھی بھولے بھٹکے ادھر کو آ نکلیں تو کلاس میں اس انداز سے بیٹھیں گے کہ کہ بے اختیار دل یہ کہہ اٹھتا ہے:

بتا کہ یہ بھی کوئی شان بے نیازی ہے
سنی نہ ہائے کوئی تو نے گفتنی اپنی

بعض اوقات حادثاتی طلباء کو اساتذہ کال کر کے بتاتے ہیں کہ ان کی اسائنمنٹ یا پریزینٹیشن رہتی ہے براہ مہربانی عنایت کر دیں۔ انتظامیہ کو عین فائنل امتحانات والے دن پتا چلتا ہے کہ موصوف نے تو سیمسٹر کی فیس ہی جمع نہیں کروائی ہوئی۔ پھر طے یہ پاتا ہے کہ چلو امتحان میں بیٹھنے دیتے ہیں لیکن رزلٹ نہیں دیں گے۔ اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 اس درجہ بندی کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ تمام طلباء کی بس یہی اقسام ہیں۔ ابھی بھی ہمارے اداروں میں اہل اور ذمہ دار طلباء موجود ہیں۔ لیکن یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ان کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ کوالٹی اور کوانٹٹی کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی ساری توجہ صرف اور صرف ڈگری یافتہ لوگوں کی تعداد بڑھانے پر ہے اور کسی کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ادارے اس قسم کے طلباء کو نہ صرف داخلہ دے رہے ہیں بلکہ وہ ڈگریاں لے کر فارغ التحصیل بھی  ہو رہے ہیں۔ غیر سنجیدہ، غیر ہنر مند اور محنت سے نا آشنا نسل پیدا کر کے ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں, اس پہ ہم سب کو غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS