مزدور رہنما کرامت علی کی ناقابلِ فراموش جدو جہد

آزادی کی فضاؤں میں سانس لینے والے نوزائیدہ ملک میں جس کی عمر ابھی محض چند برس تھی اس کے وسائل بھی محدود تھے اور ملک کی غالب اکثریت غریب لوگوں پر مشتمل تھی کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ ایک دن امن کا مسیحا اس دھرتی کے مظلوموں کی آواز بن جائے گا۔ ملتان کے ایک متوسط گھرانے کے سرکاری ملازم کا وہ بیٹا جو پانچ بہنوں کے بعد بڑی منتوں سے اس دنیا میں آیا تھا اور جس کی گہری سبز آنکھیں اور ان میں چھپا اسرار دیکھ کر کبھی کسی نے نہیں سوچا ہو گا کہ وہ ایک دن دلوں پر حکمران ہو گا۔
اس کا نام کرامت رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ والدین کے لیے اس کا وجود کسی معجزے کے برابر تھا ماں باپ نے اس کے لیے گھر میں ایک فضا بنا رکھی تھی ذہانت سے بھری اس کی آنکھوں میں ہر دم کوئی انوکھا کام کرنے کا منصوبہ ہوتا۔ بچپن ہی سے وہ دیگر لوگوں میں ممتاز تھا اسکول، کالج اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ہر جگہ وہ ممتاز اور منفرد دکھائی دیتا تھا باپ کی پری میچور ریٹائرمنٹ کے بعد ماں نے عالی ہمتی سے کام لیا اور حالات کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور گھر کی واحد کفیل بن گئی بڑی بہنیں بھی گھر میں کروشئیے کے دوپٹے اور سلائی کڑھائی کا کام کر کے گزر اوقات میں مدد کرتیں۔
کرامت علی بتاتے تھے کہ وہ اپنی بڑی بہن کی شادی کے بعد اپنے بہنوئی کے گھر میں قیام پذیر ہو گئے اور تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میٹرک کے بعد کراچی کے نامی گرامی کالج میں داخلہ لیا اور دنیا ہی بدل گئی اس کالج میں آ کر انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن جوائن کی جو ترقی پسند طلباء کی تحریک تھی۔ اس تحریک کی وجہ سے انہوں نے ترقی پسند ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور ٹریڈ یونینسٹوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا۔
اس اثناء میں وہ طالب علموں کے مقبول ترین رہنما بن گئے کرامت علی صاحب نے گریجویشن کرنے کے بعد ایک سرکاری ادارے میں ملازمت اختیار کرلی وہ جہاں بھی گئے اپنے کاز کے ساتھ انصاف کیا اور ہر ادارے میں ٹریڈ یونین بنانے اور مزدوروں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر سلوک کیے جانے کی تحریک چلاتے رہے۔ 1982 میں انہوں مزدور تحریک متحدہ لیبر فیڈریشن قائم کی جو بعد ازاں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کی شکل میں مزدوروں کی حقیقی نمائندہ تنظیم بن گئی۔
ان کی شبانہ روز کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پائلر کے قیام کا مقصد پسماندہ اور لوئر مڈل کلاس کے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کے ذریعے با اختیار بنانا تھا۔ اس کی رو سے بے شمار افراد آج اپنے ذاتی اور منفعت بخش کاروبار کے مالک ہیں یہی نہیں انہوں نے جہاں کہیں کسی مظلوم اور بے کس انسان کے ساتھ ناروا سلوک ہوتے دیکھا وہ اس کی آواز بن گئے۔ انہوں نے امن، انصاف اور خوشحال دنیا کے لیے بے شمار غیر ملکی دورے کیے ۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ رابطے کا پل تھے۔ انہوں نے سارک ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی بے لوث جد و جہد کا ہی ثمر ہے کہ 2013 میں انہیں دادی نرملا دیش پانڈے ایوارڈ سے نوازا گیا وہ پہلے ایشیائی ہیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تجارتی روابط مسلسل تعطل کا شکار رہے ہیں اور شدت پسند سیاسی حکومتوں کے باعث دونوں جانب کے عوام مسلسل شدید کرب اور کوفت میں مبتلا ہیں۔
پاک انڈیا پیس فورم اور دیگر علاقائی اور عالمی تنظیموں کے ساتھ ان کے اٹوٹ روابط نے نجی شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ کرامت صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ تو جد و جہد میں گزرا مگر وہ انتہائی بذلہ سنج اور حاضر جواب انسان تھے انہوں نے صادقین کی نظموں کا پنجابی ترجمہ بھی کیا۔ وہ فیض احمد فیض اور احمد فراز کے قریبی رفقاء میں سے تھے ان کی بے مثل جد و جہد نہ صرف مزدور تحریکوں کے لیے نشان راہ ہے بلکہ وہ اس سماج میں برداشت، رواداری اور امن کی ایک زندہ مثال تھے۔
جب بھی کوئی حکومت قائم ہوتی تو انہیں بڑے بڑے عہدوں کی پیشکش کی جاتی جب پاکستان تحریکِ انصاف قائم ہوئی تو عمران خان نے بھی انہیں شمولیت کی دعوت دی مگر ان کی جد و جہد کا مقصد اقتدار کا حصول نہ تھا بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے ملازمین ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑ چھاڑ بھی کرتے وہ دوستوں کے دوست تھے اور ان کی اونچی آواز شاید ہی کسی نے سنی ہو لیکن جب ان کے ادارے پر مخالفین کی جانب سے مہم چلائی گئی تو سب نے دیکھا کہ انہوں نے کیسے اپنے موقف کی وضاحت کی اور ذرا نہ گھبرائے نہ کسی سے مدد کی درخواست کی بلکہ استقامت سے اپنے اصولی موقف پہ قائم رہے کرامت صاحب کے پاس بے شمار کتابیں تھیں ان کی بڑی صاحبزادی ڈاکٹر شازیہ کرامت علی نے ایک ملاقات کے دوران ان کی خدا داد ذہانت کے بارے میں انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے ایک قانون دان دوست کو ریسرچ پیپر لکھ کر دیا حالانکہ وہ قانون کے طالب علم نہ تھے۔
ان کی اخلاقی قدریں معاشرے کو ایک تحفے کی شکل میں ملیں وہ انتہائی منکسر المزاج انسان تھے اپنے اعزاء و اقربا کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے خدا نے انہیں بطور خاص ایک مقصد کے لیے خلق کیا تھا ان کا ادارہ پائلر غریبوں اور بے سہارا افراد کے لیے عظیم پناہ گاہ ہے ملک بھر کے مظلوم مدد کے لیے ان کی طرف دیکھتے اور وہ انہیں کبھی مایوس نہ لوٹاتے۔ انہوں نے بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین کی جس انداز میں مدد کی اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی شاذ ہی ملے گی انہوں نے راشن سے لے کر قانونی مدد فراہم کرنے کے تمام مراحل تک ان کا ساتھ نہ چھوڑا وہ غریبوں کے سچے ہمدرد تھے انہوں نے خواتین اور بچوں کے حقوق اور بھٹہ مزدوروں کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی انہوں نے بے شمار پیپرز لکھے۔
کرامت صاحب کی ان کوششوں کا ایک اور عظیم سنگ میل جبری مزدوری، بھٹہ مزدور، اور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور گھریلو تشدد جیسے سنگین واقعات کی روک تھام ہیں ان کی جانب سے پہلی بار محکوم طبقات کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں اور ہاریوں کے لیے پارلیمنٹ میں الگ سیٹیں مختص کی جائیں۔ ان کے وژن سے ڈاکٹرز، انجینیئرز، وکلاء، صحافی، دانشور معیشت دان یہاں تک کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم تک مستفید ہوتے رہے وہ امن کوششوں کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی ناگہانی وفات سے چند برس قبل کراچی یونین آف جرنلسٹ کے انتخابات پہلی بار پر امن ماحول میں ہوئے۔ اس سلسلے میں معروف صحافیوں کا کہنا ہے کہ کرامت صاحب کا کردار ہمیشہ معاون رہا وہ امن کے قیام کے لیے ہر کسی کی بات سنتے اور مذاکرات کے لیے تیار ہو جاتے۔ ان کی تین اولادیں، ڈاکٹر شازیہ کرامت علی، سوہنیا کرامت اور سورب علی ان کی بہترین تربیت کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ خدا انہیں اس جہان کی بہترین نعمتوں سے تاقیامت نوازتا رہے۔ ”

