جمہوریت کے دشمن
پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ اتنی شاندار نہیں کہ اس پر فخر کیا جا سکے بلکہ ہماری جمہوری تاریخ تو اتنی بھیانک ہے کہ اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ماتم اس لئے کہ ملک میں جب بھی جمہوریت قتل ہوئی، سیاستدان اس کا حصہ تھے، جب بھی کوئی ڈکٹیٹر آیا، سیاستدان اس کے ساتھی تھے۔ جس طرح کی ہماری جمہوری تاریخ ہے، اسی طرح کی ہماری عدالتی تاریخ ہے۔ آمرانہ قوتوں کو جب کبھی بھی ”انصاف“ کی ضرورت پڑی، ہماری عدالتوں نے رات کو دروازے کھول کر بھی انصاف دیا۔
سو جمہوریت کے راستے میں کوئی ایک پتھر تو نہیں، بہت سے کالے پتھر ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا جمہوری سفر آغاز ہی سے نحوست کا شکار ہے۔ قائد اعظم کی حکم عدولیاں کی گئیں اور غلام محمد جیسے لوگ آسیب کا سایہ ثابت ہوئے۔ ابتدا میں سیاستدان، سول بیوروکریسی کے آلہ کار بن کر جمہوریت سے کھلواڑ کرتے رہے پھر ایوب خان عسکری طاقت کے ساتھ آ گئے، کچھ سیاستدانوں کو ایبڈو کر دیا گیا، بہت سے ڈکٹیٹر کے ساتھی بن گئے۔ 60 ء کی دہائی میں جب صدارتی الیکشن ہوا تو جمہوریت کے سارے پروانے غدار قرار دیے گئے اور آمریت کو آمین کہنے والے اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاستدان، پیر اور مولوی سب ڈکٹیٹر کے ساتھی بن گئے۔
آج خود کو بڑی جمہوری پارٹیاں کہنے والوں کے بانی ایوب خان کی روحانی اولادوں میں شامل ہیں۔ پاکستان میں پہلا مارشل لاء سیاستدانوں کے لچھنوں کے باعث آیا۔ 70 ء کے الیکشن کے بعد ایک جماعت نے آمرانہ قوتوں کی مدد سے جمہوریت کا قتل کیا، اقتدار کی اس ہوس میں ملک ٹوٹ گیا، بچے کچھے ملک کی معیشت کا گلہ دبانے کے لئے نیشنلائزیشن کی پالیسی اپنائی گئی۔ 77 ء کے الیکشن میں جمہوریت کے نام پر ایک اور مذاق ہوا، کسی کی خواہش تھی مجھ سمیت میری پارٹی کے لوگ بلا مقابلہ جیت جائیں، اس ’بلا مقابلہ ”کی خواہش نے الیکشن میں دھاندلی کے ریکارڈ توڑ دیے، مخالفین نے تحریک چلائی، نتیجے میں جمہوریت کا قتل ہو گیا پھر بہت سے سیاستدان ڈکٹیٹر کی جھولی میں بیٹھ گئے بلکہ مستی خیل والے خواجہ صاحب کے والد ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین بن گئے۔ کچھ اور لیڈروں کی پرورش بھی اسی فیکٹری میں ہوئی۔
پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کبھی ایم آر ڈی اور کبھی اے آر ڈی کی تحریکیں چلانا پڑیں۔ جب کسی سیاستدان نے آئین پر شب خون مارنے کا سوچ کر خلیفہ بننے کی خواہش کی تو مخالفین کو جی ڈی اے بنانا پڑا۔ سارے سفر میں نئی نئی اصطلاحیں سننے کو ملیں، کبھی خلائی مخلوق کی باتیں ہوئیں تو کبھی محکمہ زراعت کے قصے سامنے آئے مگر ہمارے ہاں ”ووٹ کو عزت دو“ کے سارے کردار ووٹ کو روند کر وہیں جھک گئے جہاں کی پیداوار تھے۔
یہ بات درست ہے کہ ہر الیکشن میں پردہ نشینوں کا کردار رہا بلکہ آخری الیکشن کے بعد تو کمشنر راولپنڈی نے اپنے سمیت دو اور شخصیات کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ دھاندلی کو سیاستدانوں نے روکنا تھا مگر وہ ناکام رہے، اس ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاستدان اقتدار کی ہوس میں پردہ نشینوں کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ اس سفر میں کیا کچھ کھو گیا کہ اب آئین کے تحفظ کے لئے تحریک چلانا پڑ رہی ہے تاکہ جمہوریت بچ جائے مگر جمہوری راستے میں سیاستدان ہی تو کالے پتھر بچھاتے ہیں، اس کی تازہ مثال پنجاب اسمبلی ہے، جہاں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کے چیمبر کو تالا لگا دیا گیا، ان سے گاڑی اور سٹاف واپس لے لیا گیا۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ کام پہلی بار ہوا ہے، اس غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری کام کے پیچھے سپیکر پنجاب اسمبلی ہے، نام تو ان کا بھی ملک احمد خان ہے مگر وہ ”ڈگی“ کے حوالے سے مشہور ہیں۔ آمرانہ قوتوں کی محبت میں اتنا بھی آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ اپوزیشن لیڈر کے کمرے کو تالا لگوا دیا جائے۔
پرانی بات ہے چوہدری شجاعت حسین کہنے لگے ”اقتدار پر قبضے کے لئے جیپ اور ایک فوجی ٹرک کافی ہوتا ہے“ ۔ چوہدری شجاعت کی بات درست ہے مگر سیاستدانوں نے کبھی سوچا کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ کیا یہاں آئینی اداروں کے تحفظ کے لئے امریکا، برطانیہ اور بھارت کی طرز پر سیکرٹ سروس نہیں بن سکتی؟ یہ ایک الگ سے فورس ہوتی ہے جو ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس سمیت دیگر آئینی اداروں کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کی ایک سیکرٹ سروس بنانی چاہیے جو جمہوری پارلیمانی اداروں کے ساتھ ساتھ عدالتوں کا بھی تحفظ کر سکے تاکہ کوئی فورس عدالتوں کے شیشے توڑ کر کسی کو اغوا نہ کر سکے۔


