نذر عابدؔ : ایک درویش شاعر
مرے وجود کے روزن سے روشنی پھوٹے
میں وہ چراغ جلا کر مکان میں رکھوں (شہرِ صدا)
سہ ماہی مجلہ ”دھنک رنگ“ جنوری تا مارچ 2024ء ڈاک کے ذریعے موصول ہوا تو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ادارے نے اس شمارے میں اُردو ادب کے ایک منجھے ہوئے ادیب، شاعر، نقاد اور استاد ڈاکٹر نذر عابد کے حوالے سے ایک خصوصی گوشہ شامل کیا ہے جس میں ملک بھر سے ان کے چاہنے والوں نے اُن کی شخصیت اور فن کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات اور آراء کو مختلف مضامین کی شکل میں قلم بند کیا ہے۔ مدیر اعلیٰ حسین امجد اور مدیر سجاد حسین سرمد کا یہ اقدام لائق ِ تحسین و آفرین ہے۔
یہ مضامین تعریفی بھی ہیں اور تنقیدی بھی۔ جن کے مطالعے سے ڈاکٹر نذر عابد کی شخصیت اور فن کے اُن پوشیدہ گوشوں تک رسائی ملتی ہے جو عام طور پر نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی منفرد شخصیت اور ان کا ادبی مقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نذر عابد ؔ کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”میں نہیں جانتا کہ ان کی شخصیت کی کثیر الجہات سے متعلق باقی لوگ کیا رائے رکھتے ہیں کیونکہ بظاہر وہ کئی شعبوں میں اپنی پہچان رکھتے ہیں لیکن میرے لیے نذر عابد ایک ہی ہیں جن کو میں نے ہر شعبے میں ایک ہی رنگ و روپ میں دیکھا۔
سیدھا سادا، با مروت، پُر خلوص، تعلق میں دوغلے پن سے کوسوں دور، زندگی کے دوہرے معیار سے آزاد، گہرا مشاہدہ رکھنے والا تخلیقی ذہن، ہر قدم پر رہنمائی اور تعاون کرنے والا انسان“ ۔ ڈاکٹر نذر عابدؔ ایک ہمہ جہت شخصیت اور درویش صفت انسان ہیں۔ سید زبیر شاہ نے ان کی شخصیت کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے اور اس سے بہتر ان کی شخصیت کے بارے میں کلام کرنا مشکل ہے۔ اُن کا شمار اردو ادب کے اُن چند معدودے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف شاعری میں اپنے نام کا سکہ بٹھایا بلکہ دیگر اصنافِ سخن میں بھی اپنا لوہا منوایا۔
اس خصوصی شمارے میں ڈاکٹر نذر عابد ؔ کی شخصیت و فن پر مختلف زاویوں سے مضامین لکھنے والوں میں ڈاکٹر نثار ترابی، ندیم افضال، سید نصرت بخاری، ڈاکٹر عزیز عاصم، ڈاکٹر عامر سہیل، ڈاکٹر ناہید اختر، ڈاکٹر سید زبیر شاہ، ڈاکٹر خاور چودھری اور ڈاکٹر محمد اویس قرنی کے علاوہ دریائے ادب کے دیگر اہم شناور بھی شامل ہیں۔
نذر محمد عابدؔ ڈھوک دوست محمد، موضع باسیہ، تحصیل حضرو، ضلع اٹک میں حاجی ملک دوست محمد کے گھر اپریل 1963ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی میں موجود پرائمری سکول سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول، شادی خان، ضلع اٹک سے 1979ء میں امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اٹک ایک پسماندہ علاقہ تھا اور وہاں مزید تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے لہذا انھوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان فیڈرل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، اسلام آباد سے 1981ءمیں پاس کیا۔
بی اے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے 1984ء میں مکمل کیا اس کے بعد ایک قومی بینک میں ملازمت اختیار کر لی اور بارہ سال کی قلیل مدت ِملازمت پوری کرنے کے بعد گولڈن شیک ہینڈ کے تحت بینک سے سبکدوش ہو گئے۔ ملازمت کے دوران ہی انھیں اپنی ادھوری تعلیم کی تکمیل کا خیال آیا تو انھوں نے ایم اے (اُردو) کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار کے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے 1988ء میں پاس کیا۔
کہتے ہیں کہ ”شوق دا کوئی مل نہیں“ علم کی جستجو انسان کو غم روزگار بھی بھلا دیتی ہے کچھ ایسا ہی معاملہ ہمیں نذر عابد کے ساتھ بھی ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انھوں نے ملازمت سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد علم کے حصول اور درس و تدریس کوہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا پسند کیا جس کی بنیادی وجہ ان کا وہ ادبی مزاج تھا جس کے لیے انھوں نے بینک کی آرام دہ نوکری کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ دیا۔ اسی ذوق و شوق کو پورا کرنے کی غرض سے انھوں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز گیریژن کیڈٹ کالج، کوہاٹ سے کیا اور عرصہ تین سال تک اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہے پھر مختصر عرصے کے لیے شہر اقتدار میں واقع او پی ایف کالج میں بحیثیت لیکچرار (اُردو) اُن کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جہاں انھوں نے بڑی جانفشانی، محبت اور لگن سے ادب کے طلبا و طالبات میں علم کی شمع جگانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔
انھوں نے ایم اے تک تو تعلیم جیسے تیسے حاصل کر لی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضے بھی بدلنے لگے اب ایم اے کی تعلیم کو کافی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح تک تعلیم کے مواقع میسر آ گئے تھے جس کے حصول کے لیے معیاری تحقیقی مقالہ لکھنے کے بعد ہی طالب علم کو ڈگری سے نوازا جاتا تھا۔ لہذا وہ بھی اپنے من میں لگی علم کی پیاس کو بجھانے کے لیے پھولوں کے شہر پشاور ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور قرطبہ یونیورسٹی، پشاور میں ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ اس پروگرام کے تحت انھوں نے ہزارہ کے معروف اقبال شناس اور ماہر ِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان کی نگرانی میں ”میر انیس کے مرثیوں میں پیکر تراشی“ کے عنوان پر نہایت مدلل اور جامع مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
نذر عابد ؔ بنیادی طور پر غزل کے میدان میں شہسواری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن انھوں نے صرف غزل ہی نہیں کہی بلکہ نظم میں بھی طبع آزمائی کی۔ اُن کے اب تک منظر عام پر آئے ہوئے غزلیات کے مجموعوں میں ”شہرِ صدا“ 2000ء میں شائع ہوا، جبکہ دوسرا مجموعہ ”کنارِ خواب“ کے عنوان سے 2012ء میں منظرعام پر آیا۔ نذر عابدؔ کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر خاور رقم طراز ہیں کہ ’ڈاکٹر صاحب عمدہ محقق اور نقاد تو ہیں ہی، شاعر بھی باکمال ہیں۔
اُنھوں نے زبان کی صحت کا خاص خیال رکھا اور شعری لوازم کو روبہ راہ کر کرے اپنے لیے سمتوں کا تعین کیا۔ ان کے شعر میں جذبہ ہیجان نہیں بنتا بل کہ ایک ٹھنڈے چشمے کی صورت اختیار کر کے قاری کو طمانیت سے ہم کنار کرتا ہے۔ البتہ کہیں کہیں شعلہ جوالہ کا احساس بھی ہوتا ہے۔ ”ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ“ برگِ نعت ”کے عنوان سے 2022ء میں اشاعت کے مرحلے سے گزرا۔ وہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ محقق اور نقاد بھی ہیں۔ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی زیادہ تر شاعری ہی کے اردگرد گردش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے کلاسیکی اور جدید شعرا کی شاعری پر مختلف فکری اور فنی حوالوں سے تجزیاتی اور تنقیدی مضامین لکھے اور ان مضامین پر مشتمل مجموعہ“ ساتواں رنگ ”کے عنوان سے 2017ء میں شائع ہوا جبکہ ان کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ“ میرا انیس کی امیجری ”کے عنوان سے 2022ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا۔ حال ہی میں ان کا تازہ شعری مجموعہ“ درِخاک ”بھی منظر عام پر آ گیا ہے۔
محقق کی ایک نشانی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ ہر دم جستجو میں رہتا ہے اس کے سامنے جو بھی بات کی جائے وہ اس کی طے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ نذر عابد ؔ بھی انھی محققین میں سے ایک ہیں جو ہر لمحہ کچھ نہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں اور ادب کے فروغ کے لیے ہر دم مگن رہتے ہیں۔ اُن کی دیگر ادبی خدمات میں ”رسالہ اکیسویں صدی“ کا اجرا سرفہرست ہے۔ دوران تعلیم قرطبہ یونیورسٹی، پشاور میں ”قرطبہ رسالے کا “ سیرت نمبر ”شائع کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
جب شعبہ اُردو، ہزارہ یونیورسٹی میں ان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تو وہاں بھی انھوں نے اپنے دست ِہنر کو آزمایا اور شعبہ اردو کے تحقیقی مجلے“ ادراک ”کے بانی مدیر کے طور پر تحقیق و تنقید کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے نہ صرف خود تحقیق کی بلکہ اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے لیا۔ اُن کے زیر نگرانی خاصی تعداد میں طالب علموں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لیے مقالہ جات لکھے۔
اس کے علاوہ دیگر یونیورسٹیوں میں ان کی شخصیت اور فن پر آٹھ کے قریب تحقیقی مقالے تا حال لکھے جا چکے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے پیش نظر ان کو مختلف صوبائی و علاقائی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں“ قلم قافلہ کھاریاں غزل ایوارڈ 1994ء ”،“ منظور عارف ادبی ایوارڈ چھچھ چوراسی حضرو، 2022ء ”،“ کوکب و آزاد ایوارڈ برائے اعتراف ادبی خدمات، 2023ء ”، پنجابی ادبی تنظیم“ مہکاں ”ادبی ایوارڈ برائے برگِ نعت، 2023ء،“ ، ”ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ادبی ایوارڈ، چھچھ چوراسی حضرو، 2023ء“ ، وغیرہ شامل ہیں۔
نذر عابد ؔ کی منفرد شخصیت کا عکس اُن کی شاعری میں بھی دیکھا جاسکتا ہے انھوں نے اپنے احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے روایتی اصنافِ سخن غزل اور نظم ہی کو منتخب کیا۔ وہ ضرور روایت کی پیروی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر ہر وقت اسی کا دم نہیں بھرتے بلکہ اپنی فطری انفرادیت کی بدولت جدت طرازی کے علمبردار بھی بن کر ابھرتے ہیں۔ انھوں نے غزل میں روایتی مضامین بھی باندھے اور زمانے کے ساتھ بدلتے رجحانات کو بھی اپنے انداز میں بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
ان کی شاعری میں سماجی، معاشی، نفسیاتی اور سائنسی مضامین کی بھی بھرپور عکاسی نظر آتی ہے۔ سماجی نا انصافیوں کے بارے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا بھی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ ایک ادیب، محقق اور شاعر کی حیثیت سے انھوں نے اُردو ادب کی ترقی و تروج کے لیے نہ صرف گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں بلکہ آئندگان ِ ادب کے لیے بھی ایک عمدہ مثال قائم کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اگر کوئی صدق ِ دل، محنت اور لگن سے کام کرے تو کوئی بھی شے اس کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔


