سائے کی تلاش
برصغیر پاک و ہند میں شیر شاہ سوری واحد حکمران تھا جس نے اپنی سلطنت کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عدل کے بغیر حکمرانی حاصل تو کی جا سکتی ہے مگر قائم نہیں رکھی جا سکتی۔ وہ شاید ان چند حکمرانوں میں شامل تھا جنہیں بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور جس نے خزانے بھرنے کی بجائے عوام کے لیے سہولتیں فراہم کیں۔ اس سلسلے میں اس کی تاریخی اصلاحات اور عوام دوست خدمات آج بھی کسی مثال سے کم نہیں ہیں۔
برصغیر میں یوں تو ہر شعبہ زندگی میں بے شمار اصلاحات کا سہرا شیرشاہ سوری کے سر ہے مگر ان میں سے ایک شیر شاہ سوری روڈ ہے جسے آج بھی جی ٹی روڈ یا جرنیلی روڈ کہتے ہیں اور جس کی پشاور سے کلکتہ تک تعمیر کوئی معمولی بات نہ تھی۔ پھر اس سڑک کے کناروں پر قطار در قطار درختوں سے سایہ مہیا کرنا اس کی بڑی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ جہاندیدہ بادشاہ اس وقت بھی درختوں کی اہمیت و افادیت سے بہرہ مند تھا۔ وہ درختوں کو زمین کا زیور کہتا تھا۔
اس سڑک پر دوران سفر گرمی و سردی کی حدت میں کمی لانے کے لیے سڑک کے دونوں جانب درختوں کی قطاریں اور ان کا سایہ مجھے ساٹھ کی دہائی تک دیکھنے کو ملتا تھا۔ جب سڑکیں ہرے بھرے درختوں میں چھپی ہوتی تھیں۔ مال روڈ لاہور کو بھی درختوں کے سائے کی وجہ سے ہی ٹھنڈی سڑک کہا جاتا تھا۔ گو تب پڑھے لکھے لوگ تو بہت کم ہوتے تھے مگر ان کی سوچ بہت بڑی ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے سارے سال برصغیر کا موسم خوشگوار رہتا تھا۔ ہمارا ہر بزرگ درخت لگانے کو اپنے بزرگوں کے قرض کی ادائیگی تصور کرتا تھا۔
بڑی تعداد میں درخت لگائے جاتے تھے ان کے تنوں پر سفیدی کردی جاتی تھی تاکہ وہ موسمی شدت سے محفوظ رہیں اور دیمک جیسے کیڑوں سے بچے بھی رہیں۔ کہتے ہیں کہ شیر شاہ سوری کسی درخت کے بلاوجہ کاٹنے کو بھی انسانی قتل کی طرح کا جرم سمجھتا تھا۔ شیر شاہ سوری کے بعد پھر نہ جانے یہ سوچ کہاں گم ہو گئی؟ برصغیر سے انگریزوں کے جانے کے بعد لکڑی کے حصول اور سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لیے ان درختوں کا قتل عام ہوتا چلا گیا۔ ہمارے بڑوں بزرگوں نے بڑی محنت سے جو درخت لگائے تھے وہ ہماری وقتی ضروریات کی نذر ہو چکے ہیں۔
اب جبکہ تعلیم کا تناسب کئی گنا بڑھ چکا ہے لیکن سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہم شجر کاری کو اہمیت کیوں نہیں دیتے؟ گرمی کی شدت اور بارشوں کا نہ ہونے کا اندازہ ملک میں درختوں کی کمی اور شجر کاری کے نہ ہونے کے ساتھ ساتھ درختوں کی بے دریغ کٹائی سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارے سرسبز باغات سریے اور سیمنٹ میں ڈوبے رہائشی کالونیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اپنی زمین کی سرسبز خوبصورتی چھین لی ہے۔
آج جب درختوں سے خالی اور سائے سے محروم موٹر وے پر سخت گرمی اور دھوپ میں گاڑی پر سفر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب ہم چھوٹے چھوٹے سائے تلاش کرتے ہیں تو ان درختوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن ”اب پچھتاوے کیا ہووے جب چڑیاں چگ گیں کھیت“ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی خوفناک لپیٹ میں ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانی جانوں کے ضیاع تک آ پہنچا ہے۔ انسان، جانور اور چرند پرند سائے اور پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
اب احساس ہوتا ہے کہ درختوں کی اہمیت ہماری زندگی کے لیے کتنی اہم ہوتی ہے؟ آج ساری دنیا شجرکاری کو اس موسمیاتی تبدیلیوں کا علاج سمجھ رہی ہے۔ آج ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو تقریباً دو سو کروڑ درختوں کی اشد ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب میں درجہ حرارت تھوڑی دیر میں ہی پینتالیس سینٹی گریڈ سے انچاس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جو پچاس سے پچپن سینٹی گریڈ محسوس کیا جاتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو چند سال تک انسانوں کا زندہ رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
علاقہ کسی تندور کی مانند گرم ہو سکتا ہے۔ اس کا واحد حل بڑی شجر کاری ہے۔ ہمیں ابھی سے بے تحاشا درخت لگانا ہوں گے کیونکہ ایک درخت کو بڑھنے میں کم از کم پانچ سال تک تو ضرور لگتے ہیں۔ ایک جانب تو حکومت کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری جانب ہمیں خود درخت لگا کر اپنے اجداد کا قرض اتارنا ہے۔ یاد رہے درخت آپ کے ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے اور سانس لینے کے لیے آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔
یہی درخت آپ کو مالی طور پر خوشحال بننے میں بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں بڑھتی ہوئی بے تحاشا آبادی کے لیے ایندھن بھی یہی درخت ہی مہیا کر سکتے ہیں۔ اسے ہم گرمی کی شدت کہیں یا پھر وقت کی ضرورت کا احساس عام عوام میں شجر کاری سے متعلق شعور بیدار ہونا ہی ہم سب کی کامیابی ہے۔ اب تو ہم ایسے معذور لوگوں کو بھی شجرکاری کے میدان میں آتے دیکھ رہے ہیں جس کے بعد ہمارے پاس شجرکاری نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔
گزشتہ روز ایک ویڈیو میں ایک معذور شخص کو وہیل چیر پر درخت لگاتے دیکھا تو سوچا کہ میں اور آپ کیوں نہیں؟ اس موسمیاتی شدت کا مقابلہ درخت ہی کر سکتے ہیں اس لیے اس ساون میں شجرکاری کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کراچی میں موجودہ گرمی کی شدت سے سینکڑوں لوگوں کا اللہ کو پیارا ہوجانا اس بات کا متقاضی ہے کہ ذرا سوچیں! کہ درخت کا نہ ہونا ہماری زندگیوں کو موت کی جانب دھکیل رہا ہے۔ کراچی سے پشاور تک اس مون سون میں ہر فرد کم ازکم پانچ پودے لگائے تو اس بحران سے نکلا جاسکتا ہے۔
اس مرتبہ یوم آزادی کو درختوں کی شجرکاری سے منسوب کیا جائے۔ یعنی ”یوم آزادی کے رنگ درختوں کے سنگ“ ۔ ہم اس چیلنج سے اسی صورت نمٹ سکتے ہیں کہ درخت لگا کر اپنے اجداد کی دھرتی کو سجا دیں۔ دنیا بھر بے شمار لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی درخت لگانے اور ان کی آبیاری کرنے کی انفرادی اور اجتماعی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے بزرگوں، اساتذہ، مسجد و منبر، میڈیا، اور این جی اوز کو شجرکاری کے شعور کی بیداری میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔
اپنے مستقبل کی بقا کے لیے خصوصاً ”چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں شجرکاری کی افادیت کا تصور پیدا کرنا ہو گا۔ ہم نے صرف نئی شجرکاری ہی نہیں کرنی بلکہ پہلے سے موجود درختوں کی حفاظت کے ساتھ ان کی دیکھ بھال اور آبیاری کا فرض ادا کرنا ہے۔ شجرکاری کی کامیابی درختوں کو کٹائی سے بچا نے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اپنی نسلوں کی شادابی کے لیے سرسبز سائے کی یہ تلاش ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں چند درخت لگا کر کم سے کم اپنے حصے کی اوکسیجن گیس کا اہتمام ضرور کریں۔ یہ ہوش ربا ء گرمی صرف ائر کنڈیشنڈ اور ٹھنڈے شربتوں سے نہیں بلکہ بہت سے درختوں سے کم ہو گی درخت لگانا ایسا صدقہ جاریہ ہے جو آپ کی بخشش اور نجات کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک دوست کا مشورہ ہے کہ اگر پرندوں کے گیت سننا چاہتے ہو تو پنجرے مت خریدو درخت لگاؤ ٔ۔
ایک فلسطینی نوبل ایوارڈ یافتہ شاعر محمود درویش نے درختوں کی اہمیت اور افادیت کو اپنے اشعار میں ایسے خوبصورت لفظوں میں یوں سمویا ہے کہ بے ساختہ داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”کوئی بھی درخت کسی دوسرے درخت سے پھل نہیں چُراتا اور اگر کسی درخت کو پھل نہ لگیں تو دوسرے درخت اس کا مذاق نہیں اُڑاتے، کوئی بھی درخت کسی دوسرے درخت سے پھل نہیں چُراتا اور اگر کسی درخت کو پھل نہ لگیں تو دوسرے درخت اس کا مذاق نہیں اُڑاتے، ایک درخت دوسرے درخت پہ حملہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی لکڑہارے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جب وہ درخت کشتی بن جاتے ہیں تو تیرنا سیکھ لیتے ہیں، جب وہ دروازہ بن جاتے ہیں تو رازوں کو چُھپانے والے بن جاتے ہیں، جب وہ کرسی بن جاتے ہیں تو اس آسمان کو کبھی نہیں بھولتے جو کبھی ان کے اوپر تنا ہوتا تھا۔ جب وہ میز بن جاتے ہیں تو شاعر کو سکھاتے ہیں کہ کبھی لکڑ ہارا نہ بنو“ ۔
ہم تو محروم ہیں سایوں کی رفاقت سے مگر
آنے والوں کے لیے پیڑ لگا دیتے ہیں

