افریقیات۔ 1


EMI گراموفون کمپنی آف پاکستان، کراچی اسٹوڈیوز

میرے لئے 1978۔ 79 کا زمانہ خاصا ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ پہلے ای ایم آئی یعنی گراموفون کمپنی آف پاکستان، کراچی اسٹوڈیوز سے باقاعدہ صدا بندی وغیرہ سیکھنے کا موقع مِلا، جہاں پر جانا خود ایک عجیب ماجرا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جامعہ کراچی میں ماسٹرز کے امتحان ( 1978 ) ختم ہوتے ہی میں ای ایم آئی المعروف گراموفون کمپنی آف پاکستان واقع سائٹ ایریا کراچی چلا گیا۔ استقبالیہ پر علم ہوا کہ یہاں اسسٹنٹ ساؤنڈ انجینیئر کے انٹرویو چل رہے ہیں۔ مجھ سے پولی ٹیکنیک کا سرٹیفیکیٹ طلب کیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو نہیں، اس پر کہا گیا کہ انٹرویو دے دو، منتخب ہو گئے تو بعد میں جمع کروا دینا۔ استقبالیہ میں مجھے بھی کسی پولی ٹیکنیک کا طالبِ علم سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ میں نے تو تاریخِ عمومی میں ماسٹرز کیا تھا۔ میرا بھی نام پکارا گیا۔ فیکٹری منیجر مسلم عباسی صاحب نے انٹرویو کرنا تھا۔ میں نے پہلے ہی بتا دیا کہ میں انٹرویو دینے نہیں بلکہ ساؤنڈ کا کام سیکھنے آیا ہوں۔ کہنے لگے کہ یہ کوئی انسٹی ٹیوٹ تو نہیں جہاں کام سکھایا جاتا ہو۔ میرے شوق کو دیکھتے ہوئے ساتھ بیٹھے چیف ساؤنڈ انجینیئر عزیز صاحب کو کہا کہ اوروں کے ساتھ اِس کا بھی عملی امتحان لے لیں۔ مجھے ایڈیٹنگ روم میں لے جایا گیا جہاں غلام فرید صابری، مقبول صابری قوال کے تین ٹیک سنوائے۔ کہا کہ ان میں سے ایک ٹھیک اور دو غلط ہیں۔ تم بتاؤ کہ کون سا ٹھیک اور کیوں ٹھیک ہے اور کون سے دو غلط اور کیوں غلط ہیں۔ موسیقی سے واقفیت کی بنیاد پر ان سوالات کے جوابات بہت سادا تھے۔ ایک میں صابری برادر ’سَم‘ نہیں پکڑ سکے، دوسرے میں تالیاں ’تال‘ سے بالکل ہی آؤٹ ہو گئیں۔ البتہ ایک ٹیک بالکل صحیح تھا۔ میرے مفصل جواب سے عزیز صاحب بہت خوش ہوئے اور کہا کہ صرف ایک یہی اس امتحان میں پاس ہوا ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ اس کے پاس مطلوبہ سرٹیفیکیٹ نہیں۔ اس پر مسلم عباسی صاحب بولے کہ کوئی بات نہیں یہ تو کام سیکھنے آیا ہے ملازمت حاصل کرنے نہیں! لیکن اسے آڈیو کا تمام کام سکھاؤ۔ مجھے شاباشی دی اور کہا کہ خوب محنت سے کام سیکھو اور جب جانا چاہو تو میں تم کو اچھا سا تجربے کا سرٹیفیکیٹ دوں گا۔ میں نے یہاں لائیو ساؤنڈ ریکارڈنگ، بیلنسنگ، کیسٹ ماسٹرنگ، ڈِسک کٹنگ وغیرہ کا کام سیکھا۔ یہ آگے چل کر میرے کام آیا۔ ویسے اکتوبر 1980 میں جب میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام سے منسلک ہوا تو اس سلسلے میں دوستوں کے لئے ایک محفل میں ان کو بلوایا اور وہ بخوشی آئے! میرا نیشنل جیوگرافک فلم سوسائٹی میں چھوٹے کی حیثیت سے جانا اور پھر پی ٹی وی میں معاون پروڈیوسر کی حیثیت سے منسلک ہونے میں ای ایم آئی کی اس سند کا اہم کردار ہے۔ شکریہ مسلم عباسی صاحب!

نیشنل جیوگرافک فِلم سوسائٹی میں جانا

کام سیکھنے کے دوران ہی میرا گڈانی میں تفریحاً جانا ہوا۔ وہاں نیشنل جیوگرافک فلم سوسائٹی کا ایک فلم یونٹ مقامی لڑکوں کے ساتھ افریقی ردھم پر رقص فلم اور صدا بند کر رہا تھا۔ اور لوگوں کی طرح میں بھی دیکھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اس دوران یونٹ میں سے کسی نے ناگرا 4 ٹیپ ریکارڈر پر ایک آڈیو اسپول بدلنے کی کوشش کی۔ کسی بھی ٹیکنیشین کے لئے ٹیپ ریکارڈر پر آڈیو اسپول بدلنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی ایک آسان چیز بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔ آڈیو آپریٹر کے پسینے چھوٹ گئے۔ ایسے میں میں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کرنا چاہی۔ وہ نیشنل جیوگرافیک فِلم سوسائٹی کا بیلجیم Belgium کا یونٹ تھا۔ میں اسی ٹیپ ریکارڈر پر کام کرتا تھا لہٰذا سیکنڈوں میں اسپول لگایا اور آواز آنے لگی۔ یونٹ کے سربراہ نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ میں یہیں رہوں اور فلم بندی کے بعد اس سے ملوں۔ کام ختم ہونے کے بعد اُس نے بتایا کہ یہ یونٹ پاکِستان سے وسطی اور مشرقی افریقہ جا رہا ہے۔ اِنہوں نے مجھے اپرنٹس کی حیثیت سے اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی اور طے ہوا کہ میں اِس یونِٹ کو رُوانڈا Rwanda کے دارالحکومت کیگالی میں ایک ہفتہ کے اندر رِپورٹ کروں۔ خُدا کی قدرت کہ اُن ہی دِنوں مجھے رُوانڈا میں رہنے والے جامعہ کراچی کے ایک دوست نے اپنے پاس آنے کی دعوت دی ہوئی تھی۔ جو اُدھر فارمسسٹ کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ وہ فارمیسی، ایک نامور تجارتی ادارے رام جی گروپ کی ملکیت تھی جو سِگریٹ ایجنسی، فارمیسی، ٹرانسپورٹ اور تقسیم کاری کا کام کرتا تھا۔ اِن لوگوں کے دادا، 1947 سے کہیں پہلے ’بھڑائچ‘ ، ہندوستان سے وسطی افریقہ آئے تھے۔ میں نے دونوں جگہوں پہ کام کیا۔ یعنی رام جی گروپ اور نیشنل جیوگرافک فِلم سوسائٹی۔ اُس فلم یونٹ میں اپنے قیام کے دوران اور کچھ اُن علاقوں میں اپنے سفر میں پیش آنے والے واقعات اور مُشاہدات لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ممکن ہے آپ کو پسند آئیں۔

برّاعظم افریقہ کے بارے میں سبھی کو علم ہے کہ یہ شمالی، جنوبی، مشرقی، مغربی اور وسطی حصّوں پر مُشتمِل ہے۔ کرکٹ کے شائقین جنوبی افریقہ کے مشہور شہروں اور مُقامات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ برّاعظم افریقہ بہت بڑا ہے جِس کا چپہ چپہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ میں البتہ مشرقی اور وسطی افریقہ کا کچھ حصہ ہی دیکھ سکا۔ جنت مکانی میرے والد صاحب کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اِن ہی کتابوں کو پڑھ کر یہاں کی مہم جوئی، پُراسرار واقعات اور شکاریات سے متعلق میں پہلے ہی سے آگاہ تھا اب اُس کتابی علم کے ساتھ ساتھ مشاہدے کی نعمت مِلنے والی تھی جِس کے لئے میں اللہ تعالیٰ کا مشکور تھا۔ چونکہ یہ میرا اولین کام تھا اور تھا بھی اپنے مطلب کا، پھر کام میں مختصر وقفوں میں گھومنے پھرنے سیکھنے سکھانے کے لئے وقت بھی میسر تھا لہٰذا وہ سارے واقعات اور مشاہدات اب بھی فلم کی مانند تمام وقت نظروں کے سامنے رہتے ہیں گویا یہ کل کا کوئی واقعہ ہو۔

ممباسا اور نیروبی

1979 کے موسمِ سرما میں کراچی سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے لئے قومی ائر لائن کی پرواز ہی راقِم کا اوّلین ہوائی سفر تھا۔

میرا دِل چاہتا تھا کہ یہ سفر لمبا ہوتا جائے۔ اور یہ دعا قبول بھی ہو گئی جب جہاز نیروبی کے بجائے ممباسا جا اُترا جو کینیا کا دوسرا بڑا شہر تھا۔ بتلایا گیا کہ جہاز کے انجن میں خرابی ہے۔ بہرکیف یہ 3 دِن وہیں رُکا۔ مُسافروں کو ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ یوں پی آئی اے کی بدولت ممباسا کی خوب سیاحت کی؛ اور پہلی دفعہ سواحلی زبان سے واقفیت ہوئی۔ ممباسا کے ساحل کی ریت بالکل سفید تھی اور وہاں کے کوے بھی سفید جو میرے لئے سخت حیرت کا باعث تھے۔

ممباسا کو الوداع کہتے ہوئے نیروبی پہنچا۔ مجھ کو یہ شہر اُس وقت کے کراچی کے مُقابلہ میں بہت بہتر لگا۔ ایک ریستوراں میں جانے کا اِتفاق ہوا جو 24 ویں منزل پر واقع تھا اور آہستہ رفتار سے گھُوم بھی رہا تھا۔ بڑی اور کُشادہ سڑکیں اور شاندار دُکانیں۔

اپنے ہی ہائی کمیشن / سِفارتخانہ میں ذلیل ہونا

یہاں پاکستان ہائی کمیشن یعنی سِفارت خانہ بھی بہت خوبصورت تھا۔ حسبِ روایت جو کام ایک گھنٹے میں ہونا تھا وہ یقین جانیے 5 دِن میں بھی نہیں ہوا۔ روزانہ صبح 9 بجے وہاں جاتا۔ لنچ تک بیٹھتا پھر باہر سے کچھ کھا پی کر آتا۔ اِس طرح شام کے 5 بج جاتے اور دفتر کا وقت ختم۔ وہاں میری پھپھو یا خالہ کا گھر تو تھا نہیں جہاں کوئی ٹھکانہ کرتا۔ روزانہ کے حساب سے کینین شیلنگ خرچ ہو رہے تھے۔

چلیں میری تو کوئی بات نہیں لیکن ایک نئی نویلی پاکِستانی دُلہن بے چاری بھی ہر روز پریشان حال آتی جو اپنے شوہر کے پاس آگے کہیں جا رہی تھی۔ ہم دونوں کا مسئلہ ایک تھا۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں اگر آپ کو کسی ایسے مُلک میں جانا ہو جِس کا نام پاسپورٹ میں پہلے سے درج نہیں ہے تو آپ اُس ملک کے قریب ترین پاکِستانی سِفارتخانہ جا کر اپنے پاسپورٹ پر اُس ملک کے نام کا اندراج کروائیں جہاں آپ کو جانا ہے۔ میں نے روانڈا، برونڈی، زائر وغیرہ کے نام کا اندراج کروانا تھا۔ اُس دُلہن کا بھی کسی افریقی ملک کے اندراج ہی کا مسئلہ تھا۔ یہ حُکم ٹھیک تھا یا نہیں بات تو اِس پر عمل کی تھی جو بد قسمتی سے ہمارے سفارتکار قطعاً نہیں کر رہے تھے۔ وہ لڑکی تو خیر ایک دلہن تھی لیکن مجھے بھی شاید اُس وقت اپنا موقف ٹھیک سے پیش کرنا نہیں آتا ہو گا۔ پانچویں روز ہائی کمیشن کے ایک کینین Kenyan کارکن نے ہم دونوں سے پاسپورٹ اور اندراج والے فارم لئے اور انتظار کرنے کو کہا۔ ہم دونوں نے اللہ کا شُکر ادا کیا کہ کسی کو تو ہم پر ترس آ یا۔ کچھ دیر بعد وہ شخص ہمارے پا سپورٹ واپس لے کر آ یا۔ پہلے اُس نئی نویلی دُلہن نے خوشی کے ساتھ اپنا پاسپورٹ کھولا اور دیکھتے ہی چکرا کر گِرتے گِرتے بچی۔ ایک صفحہ کی نشان دہی کرتے ہوئے اُس نے اپنا پاسپورٹ میری طرف بڑھایا۔ جب اُس صفحہ پر میری نِگاہ پڑی تو شرمندگی کے مارے فوراً نظریں زمین پر گاڑ لیں۔ پھر اپنا پاسپورٹ کھول کر دیکھا۔ یہ سطور لکھتے ہوئے سخت کوفت ہو رہی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے ایک صفحہ پر قلم سے روانڈا، برونڈی اور زائر لکھ کر بھارتی ہائی کمیشن نیروبی کی مہر لگی ہوئی تھی۔

” صاحب! آپ لوگ کئی دِن سے اِدھر پریشان بیٹھا ہے“ اُس کینین کارکن ( کے آبا و اجداد کا تعلق بھی غیر منقسم ہندوستان سے تھا ) کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ ”کیا پاکستان کیا ہندوستان۔ ارے! جہاں آپ لوگوں نے جانا ہے اُن کو اِس کا کیا پتا؟ سب چلتا ہے“ ۔

اور جناب واقعی سب چل گیا۔ آج جب میں یہ بات اپنے نواسوں نواسیوں کو بتاتا ہوں تو اُس وقت کی وہ نئی نویلی دُلہن بھی اب اپنے پوتے پوتیوں، نواسوں نواسیوں کو یہ ناقابلِ یقین واقعہ سُناتی ہو گی۔

نائی اُنگی Nyungwe کے جنگل میں

نیروبی کو خیرباد کہتے ہوئے راقم اُس وقت کے نہایت آرام دہ جہاز میں بیلجئم کی قومی ہوائی کمپنی سبینا ائر لائن Sabena Airline کی پرواز کے ذریعے کیگالی ائرپورٹ، رُوانڈا Rwanda پہنچا۔ دِلچسپ بات لکھتا چلوں کہ یہ ہوائی کمپنی 2001 میں دیوالیہ ہو گئی۔ اب 2002 سے برسلز ائر لائنز Brussels Airlines چل رہی ہے۔

رُوانڈا کی کوئی بندرگاہ نہیں۔ اِس کے پڑوسی مما لک جمہوریہ کانگو، یوگینڈا، تنزانیہ اور برونڈی ہیں۔ سال کے بارہ مہینے تقریباً ایک سا موسم ہوتا اور روزانہ ہی ہلکی سی پھوار پڑتی تھی۔ زمین نہایت زرخیز۔ اِن ممالک میں دنیا کی بہترین کافی پیدا ہوتی ہے۔ کیلے بہت ہوتے ہیں۔ پھل کے علاوہ مقامی لوگ اِس کو بطور سالن بھی استعمال کرتے ہیں۔ میں نے بھی کھائے۔ اچھے اور اپنا ایک جداگانہ ذائقہ رکھتے ہیں۔

جیسے انگلستان کے عوام Fish & Chips شوق سے کھاتے ہیں بالکل ویسے یہاں آلو کی طرح کی ایک چیز بہت زیادہ کھائی جاتی ہے۔ میں نے بھی جب پہلی مرتبہ کھائی تو اُس کا بھی اپنا ہی ذائقہ تھا۔ نہ وہ کچالو نہ ہی آلو کے ذائقہ کے جیسی لگی۔ اب اُس کا نام میرے ذہن سے نکل گیا۔

دارالحکومت کیگالی Kigali ملک کے تقریباً بیچ میں ہے۔ یہ ایک باقاعدہ اور منظم شہر تھا جبکہ میرے ذہن میں افریقہ کا ایک بالکل ہی الگ تصور تھا۔ اگلے روز ہی میں نے اُس فِلم یونِٹ سے رابطہ کر لیا۔ شہر کی خاص چیزیں دیکھتے ہوئے ہماری منزل نائی اُنگیNyungwe کا جنگل تھا۔

گھنے جنگلات کے کیمپ میں رہنا کیسا ہوتا تھا؟ جنگل میں اور اِس کے قریب رہنے والوں کی زندگی کے شب و روز کیا ہوتے تھے؟ خونخوار درندوں، حشرات وغیرہ اور وباؤں سے کیسے بچا جاتا تھا؟ اِن بستیوں کے مکین ایک دوسرے کے ساتھ کیسے گزارا کرتے تھے؟ کیا اِن لوگوں کی کوئی ثقافت تھی؟ خود گھنے ترین جنگل میں پہلے طلوعِ آفتاب کو دیکھ کر راقِم کی کیا حالت ہوئی؟ میرے زیادہ تر واقعات اِنہی کا احاطہ کریں گے۔

جنگل میں پہلا طلوع آفتاب

عام طور پر کام کا آغاز صبح سویرے ہوا کرتا ہے میں بھی اپنے واقعات کا آغاز جنگل میں اپنی اوّلین صبح سے کرتا ہوں۔ آپ نے کیلنڈروں، دیگر پوسٹروں اور ویڈیو میں یہ طلوع اور غروبِ آفتاب دیکھے ہوں گے لیکن اِن مناظر کو محفوظ کرنے والوں کے دِل پر کیا گزرتی ہے؟ آپ کو یہ واقعہ پڑھنے سے اندازہ ہو گا۔

صبح ہونے میں کچھ وقت تھا۔ جنگل کے نسبتاً کم گھنے علاقے میں واقع ہمارے کیمپ یونٹ کو صبح کے مناظر کی عکس اور صدا بندی کا کہا گیا۔ چاروں طرف عمومی خاموشی تھی پھر رفتہ رفتہ دور و نزدیک کے پرندوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ یہ آوازیں کانوں کو بہت بھلی محسوس ہو رہی تھیں۔ لیکن پھر یہ بڑھتی گئیں اور سر پھٹنے کی سی کیفیت ہونے لگی۔ لیکن پھر بتدریج اِس کی شدّت کم ہو گئی۔

ابھی دماغ کا چکرانا صحیح معنوں میں کم بھی نہیں ہوا ہو گا کہ ایک دوسرا سلسلہ شروع ہو گیا۔ چاروں جانب سے بھینی بھینی خوشبوئیں آنے لگیں۔ ان میں بیشتر ایسی تھیں جو میں نے کبھی سونگھی یا محسوس نہیں کیں۔ پھر آوازوں کی طرح سے اِن خوشبویات کی خُوشبو اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ سر اور دِماغ گھومنے لگے۔ یقین کیجئے! ایسا لگتا تھا کہ سائنسی فِلموں کی طرح میرا بھی سر بھک سے اُڑ جائے گا۔

پَو پھَٹ چکی تھی مگر اُونچے درختوں کی وجہ سے سورج دِکھائی دینے میں کچھ وقت لگا۔ ماحول میں خاموشی طاری تھی۔ فِلم کیمرہ مشرق کی جانب سورج کے نظر آنے کے مقام پر عکس بندی کے لئے تیار تھا۔ پرندوں کی آوازیں تو پہلے ہی صدا بند ہو چکی تھیں پھر بھی مائکرو فون اونچے مقامات پر محفوظ طریقے سے رکھ دیے گئے۔ مجھے رات کیمپ میں بتا دیا گیا تھا کہ اکثر لوگ جنگل کے طلوعِ آفتاب کی تاب نہیں لا سکتے۔ اِس بات کو میں نے قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اب جو درختوں کی اوٹ سے اُبھرتے سورج پر نگاہ پڑی تو دم بخود رہ گیا۔ لگتا تھا کہ سورج اور میرے درمیان کچھ بھی نہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد یوں محسوس ہُوا گویا کسی ریل گاڑی کے انجن کا وزن میرے سینے پر آ گیا ہو۔ اُس قدرتی نظارے کی میں بالکل بھی تاب نہ لا سکا۔ پہلے ہی روز میں یہ جان گیا کہ جنگل انتہاؤں کا نام ہے۔

بابون کی ناراضگی

جنگل میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہمارا یہ سفر لنگور Baboon کے علاقے کی طرف کا تھا۔ ہمارا آمنا سامنا چھوٹے بڑے کئی طرح کے جانوروں سے ہوتا رہا لیکن چونکہ ہماری اِس ٹیم کو ایک خاص وقت تک بابونوں کے علاقے میں پہنچنا تھا لہٰذا نہ کوئی کیمرہ نکلا نہ ہی مائیکروفون اور ٹیپ ریکارڈر۔ واضح رہے کہ یہ خاصہ گھنا جنگل تھا جہاں اکثر مقامات پر دِن کے سورج کی روشنی بھی برائے نام ہی آتی تھی۔

محققوں کی تحقیق کے حساب سے اب ہم بابونوں کے علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔ اچانک دھب کی آواز آئی اور دو بابون گاڑی کی چھت پر دھم سے کودے۔ ہمارے پیچھے اور آگے جانے والی جیپوں کی چھتوں پر بھی اُن کی اُچھل کُود جاری ہو گئی۔ گاڑیوں کی رفتار ہلکی کر دی گئی فِلم کیمرے اور مائیکروفون اپنا کام کرنے لگے۔ مائیک او ر ناگرا Nagra ٹیپ ریکارڈر میری ذمہ داری تھی۔ واضح رہے کہ صرف

ناگرا اِسپول ٹیپ ریکارڈر ہی اُن دِنوں فِلم کیمرہ کی رفتار، یعنی 24 فریم فی سیکنڈ پر پورا اُترتا تھا۔

میں اپنے فرائض انجام دینے کے لئے گاڑی کی کھڑکی کھول کے بیٹھا تھا کہ یک دم ایک بڑا بابون چھت پر بیٹھے بیٹھے اُلٹا لٹک کر مائیک کی طرف دِلچسپی سے دیکھنے لگا۔ غیر ارادی طور پر میں نے مائیک اُس کی دسترس سے دور کر لیا۔ شاید یہ حرکت اُس کو پسند نہ آئی اور سیکنڈوں میں اپنے ہاتھوں سے گاڑی کی چھت کو آرام سے پکڑ کر اِس طرح سے لٹکا جیسے وہ گاڑی سے کودنے والا ہو مگر کودتے کودتے

ایک ایسی حرکت کر گیا جو مائیک اور کیمرے دونوں نے محفوظ کر لی۔ وہ بابون جاتے جاتے میرے منہ پر پیشاب کر گیا۔

چونکہ اِس فلم کا مرکزی خیال بابون تھا چنانچہ مُختلف حالتوں میں اِس کا عمل اور ردِ عمل جاننے کے لئے میرے ساتھ جو سُلوک ہوا، وہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ سمندری ڈولفن اور کئی جانوروں کی طرح یہ بابون بھی بہت موڈی ہوتے ہیں۔ اگر کبھی کھیل کھیل یا پیار سے وہ آپ کی گاڑی پر چڑھ آئیں تو گھبرائیے نہیں بلکہ کوئی بھی ایک فالتو چیز، جیسے رومال، اخبار، پھٹا پرانا جوتا کچھ بھی کسی ایک بابون کو دے دیں تو باقی سب خوشی خوشی وہاں سے چلے جائیں گے ورنہ وہ کم سے کم جو کریں گے وہ ذکر ہو چکا۔

’ جادوگر ڈاکٹر‘ سے کامیاب علاج

اب میں ایک ایسی شخصیت کا ذِکر کروں گا جو اُس تہذیب اور ثقافت کا بہت ہی اہم عنصر تھا۔ وہ بستی کا ’دوا دارو‘ والا تھا۔ اِس کو فِلموں اور کہانیوں میں ’جادوگر ڈاکٹر‘ کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے اِس کے پاس شفاء حاصل کرنے آتے اور بستی میں اِس کی بہت عزت ہوتی تھی۔ دراصل اُن کا دین مذہب تو کوئی تھا نہیں، توہم پرستی عام تھی۔ پھر صحت کے جُملہ مسائل حل کرنے کے لئے اِن دور افتادہ بستیوں میں بھلا ایک مُستند میڈیکل ڈاکٹر مستقل کیوں کر آنے لگا؟ یہاں اِس مسئلہ سے نبٹنے کے لئے اِن جادوگر ڈاکٹروں کی اہمیت محسوس ہوتی ہے۔ جڑی بوٹیوں سے موثر علاج نسل در نسل اِن کے خاندان میں چلا آ رہا ہے۔ نام سے تو یہ ایک ہیبت ناک صورت والا وحشی شخص محسوس ہوتا ہے، جِس کے منہ سے خون ٹپک رہا ہو۔ جو جادو منتر سے لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہو گا۔ مگر در حقیقت مجھے تو یہ اِس سب سے اُلٹ نظر آیا۔

کرنا خُدا کا یہ ہوا کہ مجھے کسی کیڑے نے کاٹ لیا اور جلد ہی پورے جِسم میں عجب مزاحیہ لیکن قابلِ برداشت درد شروع ہو گیا۔

وہ اِس طرح کہ اگر جِسم کو سر سے پیر تک آ دھا آدھا تقسیم کر لیا جائے تو دائیں طرف کا سر، دائیں آنکھ، دائیاں کان، دائیں جانب کے دانت، دائیاں بازو بمع ہاتھ، دائیاں کاندھا، دائیں ٹانگ بمع پیر، میں تکلیف ہونے لگی۔ جب کہ دوسری جانب کا حصہ بالکل ٹھیک۔ میں فوراً ہی کیمپ کے میڈیکل ڈاکٹر کے پاس گیا۔ یہ تنزانیہ کے رہنے وا لے تھے جِن کے باپ دادا کبھی بھارتی گجرات سے افریقہ آئے ہوں گے۔ میری کیفیت دیکھ کر اُنہوں نے کہا :

” کوئی بات نہیں معمولی کہانی ہے۔ ہمارا ( ایلو پیتھی ) طریقۂ علاج زیادہ وقت لے گا۔ تُم ایسا کرو کہ نزدیکی بستی کے ’میڈیسن مین‘ Medicine man کے پاس چلے جاؤ امکان ہے کہ ایک ہی نشست میں یہ درد جاتا رہے گا“ ۔

” جادوگر ڈاکٹر کے پاس؟“ ۔ میں نے حیرت سے سوال کیا۔
” ہاں بالکل! یہاں اِس کو ’اوم لینو‘ کہا جاتا ہے“ ۔ ڈاکٹر نے کہا۔
شاید میرے چہرے کے تاثرات سے ڈاکٹر نے میری سوچ کا اندازہ لگا لیا۔

” گھبرانے والی کوئی بات نہیں۔ وہ عین سائنسی اُصولوں اور طریقوں پر تمہارا علاج کرے گا۔ خالص جڑی بوٹیوں کو یہ مختلف شکلوں میں استعمال کراتے ہیں۔ بس وہ جیسا کہے ویسا کرنا“ ۔

مرتا کیا نہ کرتا! میں جنگل سے قریب ترین بستی میں یونٹ کے ایک ساتھی کے ساتھ چلا گیا۔ لفظِ اوم لینو ہی کافی رہا اور ہم دونوں کو ایک نسبتاً اونچے مقام پر بنائی گئی کُشادہ جھونپڑی نُما گھر میں پہنچا دیا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی تیز بو نے استقبال کیا۔ کونوں میں کچھ شمعیں روشن تھیں۔ کچے فرش پر پکائی ہوئی مٹی کے بڑے بڑے مرتبان رکھے نظر آئے جِن کے نیچے لکڑیوں کی آگ روشن تھی۔ یوں تو اِس جگہ ایک سے زیادہ افراد موجود تھے لیکن اِن میں ایک شخص اپنے حلیے اور شکل میں ممتاز نظر آیا۔ یہ شخص نسبتاً کم روشنی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اِس کے قدموں میں ایک گیدڑ، بالکل کُتے کی طرح سے بیٹھا ہوا ہم آنے والوں کو بغور دیکھنے لگا۔ فرش پر دو تین قِسم کے سانپ اور ایک مگرمچھ کا بچہ آزادانہ گھُوم رہے تھے۔

اُس نے کسی نا آشنا زُبان میں ہم سے کچھ کہا۔ جب ہماری جانب سے کوئی جواب نہ آیا تو سواحلی Kiswahili زبان میں کہا:

’‘ کری بو Karibo ”۔ اِس کا مطلب ہے خوش آمدید۔

میں نے جواب میں ٹوٹی پھوٹی سواحلی میں جواب دیا اور یہاں آنے کا مقصد بتایا۔ اِن صاحب نے اشارے سے اپنے قریب بلایا۔ میری آنکھوں کو غور سے دیکھا۔ اور کچھ پوچھا جو میں سمجھ نہ سکا۔ تب میں نے اپنے تاثرات اور اشاروں سے اُس کو بتا یا کہ میں اُس کی بات نہیں سمجھ سکا۔

پھر وہ خود اُٹھا اور مقامی ’کورونڈی‘ اور پھر سواحلی زبان میں مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔ اُس کے اِشارے پر دو عدد معاونین آگے بڑھے اور مجھ کو ساتھ لے کر ایک بڑے مرتبان کے قریب آئے جِس میں تیز بُو والا محلول اُبل رہا تھا۔ یہاں پھر ’اُوم لینو‘ نے مجھے کچھ سمجھانے والے انداز میں اُسی نا آشنا زُبان میں بات کی۔ کہیں کہیں ایک آدھ سواحلی کا لفظ، تسلی کے معنوں میں بھی استعمال کیا۔ پھر یکا یک معاونین نے مجھ کو سر کے بَل اُلٹا کر کے اُس اُبلتے ہوئے مرتبان کے عین اوپر، لیکن کچھ فاصلہ پر معلق کر دیا۔ یقین کیجئے ایک سیکنڈ کو بھی خوف محسوس نہیں ہوا کیوں کہ میڈیکل ڈاکٹر نے بتا دیا تھا کہ یہ جو کہے وہ کرنا اور یہ اِس درد کا صحیح اور یقینی علاج ہے۔ آخری چیز جو مجھے یاد ہے وہ یہ کہ میں جامنی رنگ کے اُس اُبلتے ہوئے محلول کی سطح کے قریب پہنچ چکا تھا۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں کچے فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ مجھے بیدار دیکھتے ہی ایک مٹی کے پیالے میں زرد رنگ کا ایک محلول پینے کو دیا گیا جِس کا ایک گھونٹ پینا بھی محال تھا۔ اُوم لینو نے پورا پینے پر اصرار کیا۔ چند گھونٹ ہی دِل پر جبر کر کے حلق سے نیچے اُتارے ہوں گے کہ متلی محسوس ہونے لگی۔ وہاں سے اِس پیالے کو ختم کرنے کا پھر کہا گیا۔ اوّل تو نہ میں سُقراط تھا کہ یہ زہر کا پیالہ زہر مار کرنا لازم ٹھہرے اور دوسرے مجھے پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ یہ جادوگر ڈاکٹر جو کہے وہ کرنا کیوں کہ وہ عین علاج ہے۔ لہٰذا بچوں کی طرح ناک پکڑ کر ایک ہی سانس میں پینے کی کوشش کی۔ سارا تو نہ پی سکا البتہ اُبکائی لے کر جو کچھ بھی پیا تھا وہ سب پہلے سے کھائے پیئے کے ساتھ باہر آ گیا۔ اِس کے ساتھ ہی حیرتناک طور پر میرا آدھے جِسم کا درد رُخصت ہو گیا۔ وہ دِن اور آج کا دِن، مجھے پھر کبھی یہ شکایت نہیں ہوئی۔

خاکسار کا علاج یقیناً خالص جڑی بوٹیوں سے کیا گیا تھا اور اللہ کے کرم سے میں بالکل ٹھیک بھی ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اِس اُوم لینو کو حکیم یا ڈاکٹر کے بجائے جادوگر ڈاکٹر کہنے کی کیا تُک ہے؟ یہ جادو ہر گِز نہیں کرتے بلکہ ردّ جادو یا جادو کے بد اثرات ختم کرتے تھے۔ انسان اور مویشیوں کی صحت و بیماری کے علاوہ اِن کی اہمیت کئی اور معاملات میں بھی مُسلّمہ تھی۔ شگون کا لینا ہو تو اِسی کے پاس جاتے، چوری چکاری کا جُرم ہو جائے تو اِس کے پاس جاتے، دیوتا ناراض ہیں تو اِس کے پاس جائیے۔ کیوں کہ اکثر بستیوں میں اُن کے اعتقادات کے حِساب سے دیوتاؤں کے مجسمے اِسی کے ہاں ہوتے تھے۔ یہ اوم لینو ایک مثبت کردار ہے جو قطعاً بُرا نہیں۔ یہی طبیب، یہی ڈاکٹر یہی مذہبی پیشوا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کہانیوں میں اور فِلموں میں اِن میڈیسن مینوں کو بہت غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے ؛ جبکہ یہ اُوم لینو یا جادو کے توڑ کرنے والے طبیب، اِن کی ثقافت کا بہت اہم حصّہ ہیں۔

مگر مچھ کے پیٹ سے آ دمی کا زندہ نکلنا

اِس بظاہر چھوٹے سے مُلک رُوانڈا میں کئی ایک جھیلیں ہیں جِن میں سب سے مشہور اور بڑی جھیل ’کیوو‘ Lake Kivu تھی۔ یہ اُس وقت بھی دُنیا کی چند گہری ترین جھیلوں کی فہرست میں شامِل تھی۔ اِس فِلم کا مرکزی خیال مگرمچھوں کے انڈوں سے بچے نکلنا اور پھر وہاں سے آگے کے تمام مراحِل تھے۔ قُدرتی طور پر جھیل کے بعض کناروں کی بناوٹ کچھ اِس طرح تھی کہ وہ عام

انسانوں اور جانوروں کی گزر گاہ نہیں تھی۔ ایسی جگہیں مادہ مگرمچھ کے انڈے دینے، اور پھر اُن کی حفاظت کی خاطر مسلسل نظر رکھنے کے لئے بہترین ہوتی ہیں۔ ایسے ہی ایک کنارے پر جہاں مگر مچھ کے انڈے کثیر تعداد میں موجود تھے، ہم نے مناسب جگہ پر کیمپ لگا دیا۔ اِس مقام سے ایک دو میل اوپر کی جانب ایک چھوٹی سی آبادی تھی جہاں دِن میں ایک آدھ مرتبہ ہم میں سے کِسی نہ کِسی کا چکر لگتا ہی رہتا تھا۔ ایک روز دِن چڑھے بستی کی طرف سے شور و غُل کی آوازیں آنے لگیں اور کبھی کبھی پیغام رسانی کے ڈھول بھی سُنائی دینے لگے۔ اُدھر یقیناً کوئی غیر معمولی بات ہوئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے یونٹ کے کیمرہ مین کا نعرہ بلند ہوا CUT AWAYS ’

کٹ اویز ’۔

روزانہ کے معمولات میں جب بھی یہ آواز آتی، تمام یونٹ کے لئے تفریح کا اِشارہ سمجھا جاتا۔ ذہنوں پر کام کا دباؤ بھی کم ہو جاتا تھا۔ تقریباً تمام یونٹ ہی تیزی سے اُس جانب کو بڑھا جِس جانب وہ بستی تھی۔ وہاں ایک عجیب ہی نظّارہ تھا۔ کچھ مقامی لوگ جھیل میں کمر کمر پانی میں کھڑے بُلند آوازوں میں شور مچا رہے تھے۔ اِن سے کچھ فاصلے پر ڈھول بجانے والے گاہے بگاہے زور دار ضربیں لگا رہے تھے۔ بغیر کچھ معلوم کیے کہ ماجرا کیا ہے، کیمرہ مین اور راقِم نے اُس عوامی جوش و خروش اور ماحول کی آوازیں، جیسے جھیل کے پانی کی ہلکی آواز، اور دور نزدیک سے مقامی زبان میں اُس کیفیت اور شور پر تبصر و ں کو عکس اور صدا بند کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی اِس افراتفری کے پس منظر کا علم ہو گیا۔ خاصا بڑا مگرمچھ، جھیل میں نہاتے ہوئے ایک فرد کو کھینچ لے گیا تھا۔

” اُس کو تو مگر مچھ لے گیا، اب یہ ہنگامہ کیسا؟“ ۔ میں نے ’سواحلی‘ زبان سے کام چلاتے ہوئے سوال کیا۔
اِس کا جو جواب آیا وہ نہایت حیرت انگیز تھا۔

” اِس واقعہ کو اب تقریباً 40 مِنٹ ہونے والے ہیں اور کِسی بھی وقت ہمارا آدمی اُس مگر مچھ کے پیٹ کو کاٹ کر باہر آنے والا ہے“ ۔

” ارے وہ کیسے؟“ ۔ میں نے حیرت سے سوال پوچھا۔

” ہم نے تو اب تک یہی دیکھا ہے کہ جب کوئی مگر مچھ کِسی شخص کو نِگل لے، تو 40 یا 45 منٹ کے بعد مگر مچھ پانی کی تہہ سے اُٹھ کر پانی کی سطح پر آ جاتا ہے۔ اگر اُس آدمی کے پاس ’درانتی‘ موجود ہو تو آسانی سے مگر مچھ کے نرم پیٹ کو کاٹ کر نِکلا جا سکتا ہے۔ ابھی آپ کے سامنے یہی ہونے والا ہے“ ۔ بستی والے نے کہا۔

” یہ شور و غُل کیسا ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” جانور کا پیٹ کاٹا جائے تو اُسے شدید تکلیف ہوتی ہے، مگر مچھ کا زبردست ہتھیار تو خود اُس کی دُم ہوتی ہے۔ اُس تکلیف کے عالم میں وہ زور دار طریقے سے اپنی دُم پانی میں مارتا ہے۔ اگر اِس کی زد میں پیٹ کاٹ کر نکلنے والا آ جائے تو اُس کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ مگر مچھ کی توجہ بٹانے کے لئے یہ شور و غُل اور ڈھول بجائے جا رہے ہیں“ ۔ اُس شخص نے خاصا مدلل جواب دیا۔

اچانک جھیل کے پانیوں میں زبردست ہلچل مچ گئی۔ کیمرہ مین پہلے ہی سے تیار تھا۔ میں نے اپنا ’ناگرا 4‘ اسپول ٹیپ ریکارڈر او ر مائک صدا بندی کی حالت میں رکھا ہوا تھا۔

ہم دونوں ہی اُس ہلچل والی جگہ پہنچ گئے۔ میری تمام تر توجہ آواز کی صدا بندی کے لیول پر مرکوز تھی۔ کانوں پر لگے ہیڈ فون پر پانی میں شڑاپ شڑاپ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ گاہے بگاہے پانی میں جاری، نظر نہ آنے والی کشمکش پر بھی ایک نظر ڈال لیتا تھا۔ اچانک جھیل میں ہلچل تیز ہوئی ؛ اُس مقام پر گویا زلزلہ آ گیا اور وہاں کے پانی کا رنگ بھی لال ہو گیا۔ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ایک شخص مگر مچھ کی تیزی سے کوڑے برساتی دُم سے بچتے بچاتے اُلٹا تیرتا ہوا سطح آب پر اُبھرا۔ اب سطح پر مگر مچھ اور اُس کی پانی کو مارتی ہوئی دُم واضح نظر آنے لگی۔ اُدھر عوام کی چیخ و پُکار اور ڈھولوں کی آوازیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اِسی دوران کئی ایک افراد ایک موٹا رسّہ لے آئے اور تین اطراف سے تڑپتے ہوئے مگر مچھ کی جانب بے خوفی سے بڑھے۔ اُس شخص کی ہمّت کی داد دینا چاہیے کہ وہ کچھ دور تیرتا ہوا آیا، پھر کئی ایک لوگ اُس کو سہارا دے کر کِنارے پر لے آئے۔ اِدھر اِس آدمی کو زمین پر لٹایا اُدھر کچھ لوگوں نے کمال پُھرتی سے مگر مچھ کے منہ کو رسّہ سے باندھ دیا۔ مجھے اچھی طرح آج بھی یاد ہے کہ کئی افراد رسّے کو کھینچتے جاتے تھے اور یہ نعرہ لگاتے جاتے تھے ’ہارآم بے‘ ۔ ہار آم بے سواحلی زُبان میں گوریلے کو کہا جاتا ہے۔ گویا گوریلا اُن کے نزدیک طاقت کی علامت ہے۔

اُس وقت کیمرہ مین اور میرا کام بہت بڑھ گیا۔ ایک طرف مگر مچھ کی پانی میں اُچھل کود اور دوسری طرف اُس کے پیٹ سے نکلنے والے شخص کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی کیفیت۔ دونوں کے ساتھ انصاف کرنا تھا۔ کچھ دیر یہ زور آزمائی جاری رہی پھر وہ لوگ مگر مچھ کو گھسیٹ کر کِنارے پر لے آئے۔ وہ ایک بہت بڑا مگرمچھ تھا اور اتنی شِدّت سے دُم مار رہا تھا کہ اللہ کی پناہ! دوسری طرف وہ شخص اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے جِسم پر معمولی خراشیں تھیں، ہاتھ پاؤں بالکل سلامت نظر آئے۔ مقامی زبان میں وہاں موجود افراد اُس سے سوال جواب کرنے لگے۔ کچھ سواحلی اور کچھ اِشاروں سے جو کہانی بنی وہ یہ تھی:

” میں جھیل میں نہانے دھونے کے لئے اُترا ہی تھا کہ نزدیک ہی کہیں سے ایک مگرمچھ، اپنا بڑا سا منہ کھولے مجھے نگلنے کے لئے قریب آ یا۔ میں نے کوشش کی کہ اُس مقام سے واپس آ جاؤں مگر پانی میں مگرمچھ کی پھرتی کے آگے میرا کوئی بس نہیں چلا۔ وہ میرے سر کی جانب آیا اور اپنا پورا منہ کھول کر مجھے نگلنے لگا۔ اُس وقت اُس موذی سے لڑنا اپنی موت کو دعوت دینا تھا لہٰذا میں نے بھی وہی کیا جو یہاں کا دستور ہے اور جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔“ ۔

” وہ کیا؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” ہمارے ہاں مگرمچھ مویشیوں اور کبھی کبھار اِنسانوں کو بھی لے جاتا ہے۔ مویشی اکثر لڑ بھڑ کر صحیح سلامت آ جاتے ہیں اور انسانوں کے پاس اگر یہ ہتھیار ہو تو اُس کے زندہ بچ آنے کے روشن اِمکانات ہوتے ہیں ’‘ ۔ یہاں بات کو روک کر اُس شخص نے ایک درانتی دکھلاتے ہوئے بات کو جاری رکھا۔

” جب مگر مچھ آپ کے سر پر منہ کھولے آ جائے تو آپ نے جدوجہد نہیں کرنی۔ اگر وہ آپ کو نگلنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو آپ بھی ’رضامندی‘ دکھائیں۔ اُس وقت اگر آپ پُر سکون ر ہے تو وہ اپنے دانتوں کا استعمال نہیں کرے گا اور سالم ہی نگلنے کی کوشش کرے گا۔ وہ نگلتے ہی نیچے غوطہ لگا کر چلا جاتا ہے۔ اگر اُس وقت اُس کا پیٹ کاٹ بھی لیا جائے تو نیچے گہرائی میں آپ کا بس نہیں چل سکتا۔ تقریباً 40 منٹ بعد وہ دوبارہ پانی کی سطح پر آتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اُس کا نظامِ ہاضمہ کام شروع کرتا ہے۔ جب جِسم پر تیزاب کی پچکاریاں چلتی محسوس ہوں تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ پانی کی سطح پر ہے اور اب ہم نے اپنا کام کرنا ہے۔ کم و پیش 40 منٹ تک اِنسان اُس جانور کے پیٹ میں بغیر دِقّت کے آرام سے سانس لیتا ہے۔ اب جیسے ہی تیزابی چھینٹے محسوس ہوں، ہمیں پتا لگ جاتا ہے کہ اب نِکلنے کا وقت آ گیا۔ اِس درانتی سے ہم تیزی کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں اُس کا پیٹ کاٹتے ہیں اور باہر نِکل آتے ہیں“ ۔

جب میں نے اُس شخص سے پوچھا کہ کیا یہ زخم مگر مچھ کے دانتوں کے ہیں؟ تو اُس نے حیرت انگیز جواب دیا کہ یہ مگر مچھ کے پیٹ کے تیزاب سے آئے ہیں، جِس سے اُس کی کھال مُتاثر ہوئی۔

مجھ سمیت تمام یونٹ والوں نے اِس واقعے کے اختتام پر اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا ہی تھا کہ ایک اور حیرت ناک منظر نے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کر دی۔

کچھ لوگ بُغدے ( جیسے ہمارے ہاں قصاب استعمال کرتے ہیں ) لے کر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے مگر مچھ کی دُم کاٹ کر الگ کی، جو چھِپکلی کی دُم کی طرح سے کچھ دیر ہلتی رہی۔ پھر اُس کے ہاتھ پاؤں الگ کیے اور مچھلی کی طرح سے پورے ہی جانور کے ٹکڑے کر دیے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ یہ لوگ ایک زندہ مگر مچھ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُسے پکانے لگے تھے اور کبھی یہی مگرمچھ اِن کی بَستی کے کِسی اِنسان کو کھانے کے لئے لے جاتا تھا۔ شاید اِسی کو برابر کی چوٹ کہتے ہیں۔

دوسری طرف جب مادہ مگرمچھ کے انڈوں میں سے بچے نِکلنے کا وقت آیا تو وہ بھی ایک عجیب ہی نظارہ تھا۔ ننھے منے بچے اپنی جِبِلّت پر انڈوں سے نکلے اور پانی کی طرف تیزی سے چلے گئے اور وہیں بقائے اصلاح survival of the fittest کا عملی مشاہدہ بھی کیا۔ پانی تک کامیابی سے پہنچنے والی تعداد خاصی کم تھی۔ اکثریت کو پرندے اُچک لے گئے۔ اب جو باقی بچ کر پانی تک پہنچے اُن میں سے بھی کچھ مچھلیوں کی خوراک بنے۔ اگر تمام کے تمام بچے ہی مگر مچھ بن جاتے تو؟

20 فٹ لمبے خوبصورت اژدھے سے مُلاقات

بابونوں کا پروجیکٹ کئی روز کا تھا جو بغیر کسی دشواری کے پورا ہو گیا۔ وہیں سے ہمارا اگلا پڑاؤ آکاگیرا Akagera کا جنگل تھا۔ وہ کِس وجہ سے مشہور ہے اور وہاں کیا واقعہ پیش آیا بعد میں ذکر ہو گا پہلے ایک ایسا منظر دِکھاتا چلوں جِس کو دیکھ کر میں بھی بہت زیادہ حیران ہوا تھا۔ ہمارا تین گاڑیوں کا مختصر سا قافلہ نائی اُنگی سے باہر قریبی بستی سے ابھی کچھ دور تھا کہ آگے سڑک پر آمنے سامنے دونوں اطراف کی ٹریفک رُکی ہوئی نظر آئی۔ اِس سے قبل ایسا تجربہ نہیں ہُوا تھا۔ آفرین ہے ہمارے بیلجیئم کے کیمرہ مین کو کہ لگتا تھا کہ سارا وقت وہ ڈیوٹی پر ہی رہتا ہے۔ ہاتھ یا کاندھے پر فِلم کیمرہ نہیں ہے تو کیا ہُوا، آنکھیں ہی کافی ہیں! پھر جہاں کوئی دِلچسپی کی چیز دیکھی، فٹا فٹ کیمرہ تیار اور مجھے بھی تیاری کے احکامات۔

نہ جانے وہ کب گاڑی کی چھت پر چڑھا اور پھر اگلے لمحہ اُس کی آواز سُنائی دی کٹ اویز CUT AWAYS کی تیاری کر لو۔ کٹ اویز ایک اِصطلاح ہے جِس کے معنی ہیں تھوڑی دیر کو اصل کی جانب سے توجہ ہٹانا۔ مثلاً ہم بابونوں کی فلم بندی کر رہے تھے اب اگر کوئی اور چیز، جِس کا بابونوں سے کوئی تعلق نہ ہو مگر ہو دلچسپ، تو تھوڑی دیر کو اسکرین پر آنے سے دیکھنے والوں کو وہ بھلی لگے گی۔

ہم دونوں دوڑتے ہوئے ٹریفک کی رُکاوٹ کے مقام پر پہنچے تو وہاں سڑک کے بیچوں بیچ ایک لمبا چوڑا اژدھا آرام کر رہا تھا۔ اِس کا منہ اور دُم سڑک کی دونوں طرف کی جھاڑیوں میں کہیں تھی۔ واضح ہو کہ سڑک اتنی کُشادہ تھی کہ دو گاڑیاں آمنے سامنے سے گُذر سکیں۔ وہ اژدھا بے حد خوبصورت بلکہ خوبصورتی کا مُرکب تھا۔ ماحول کی مطابقت سے اُس پر جا بجا کئی رنگوں کے چھوٹے بڑے دھبے بہت پیارے لگ رہے تھے۔ یقین مانیے کہ ایک سیکنڈ کو بھی دہشت کا احساس نہیں ہوا بلکہ اِس پر پیار ہی آیا۔ فلمبندی کے دوران میں نے اُس کی جِلد کو ہاتھ لگایا تو وہ بہت سخت بلکہ کھردری محسوس ہوئی۔ منہ اور دم کو چھوڑ کر جب پیمائش کی گئی تو وہ اندازہً 20 فٹ تھی۔ اُس پر کوئی 15 افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ فلم اور عکس بندی کے دوران ہماری ٹیم بھی اُس پر بیٹھی۔ یہ اژدھا اپنی چوڑائی اور اونچائی کے لحاظ سے ایک بہت تناور کٹے ہوئے درخت کی طرح سے تھا۔

CUT AWAYS کا ذکر ہوا تو مزید بتاتا چلوں کہ اسی اثناء میں دیکھا کہ ایک ٹرک ڈرائیور نے اپنے ٹرک کے ریڈی ایٹر Radiator کے نیچے والے نَٹ کو کھولا اور اُبلتا ہوا پانی ایک مگ میں ڈالا۔ نَٹ واپس لگایا او ر پانی میں کافی ڈال کر چسکیاں لے کر پینے لگا۔ اُس کے اِس عمل کو میرے علاوہ کسی نے بھی غور سے نہیں دیکھا شاید یہ اُن کے لئے ایک عام سی بات تھی۔

میں نے اپنے یونٹ کے ایک مقامی ڈرائیور سے پوچھا کہ کھڑے ہوئے ٹرک ڈرائیور اِس اژدھے کے اوپر سے اپنا ٹرک کیوں نہیں گزار لیتے؟ جواب میں اُس نے کہا کہ اگر کوئی ارادتاً ا یسی حرکت کرے تو اُس کے ہاں جو بچہ پیدا ہو گا اُس کی کھال ادھوری، سانپ کے جیسی ہو گی۔ تیز روشنی میں وہ نہیں رہ سکے گا۔ پڑھنے والوں کی دِلچسپی کے لئے لکھتا چلوں کہ میں نے بھی ایسے دو بچے دیکھے تھے۔

کچھ دیر بعد ہمارے دائیں جانب سے ایک سیٹی سُنائی دی۔ مقامی لوگ فوراً اُس اژدھے سے اُترنے لگے۔ میں بھی اُترا۔ مجھے بتلایا گیا کہ اِس حجم کے اژدھے، حرکت کرنے سے پہلے باقاعدہ آواز نکال کر خبردار کرتے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل واقعہ کی جانب۔ بہت ہی سست رفتاری سے اژدھے نے حرکت شروع کی۔ آہستہ آہستہ بالآخر وہ سڑک سے اُتر کر دائیں جانب ہلکا سا نیم دائرہ بناتا ہوا چلا گیا۔ سڑک سے نیچے پکی زمین اُس کے وزن سے ڈھائی انچ دب گئی اور اژدھے کے جانے کی جگہ پر ڈھائی انچ گہری ایک باقاعدہ گزرگاہ بن گئی۔ اور اِس کے راستے میں آنے والی جھاڑیاں، اُس کے وزن سے دائیں بائیں جھکی پائی گئیں۔ ایک جگہ کسی بڑے لنگور کی پسلیاں اُس نے اُگلی ہوئی تھیں۔

ایک جاپانی سیاح کی دِلچسپ روداد

میں ایک مرتبہ بڑی ’فیری‘ کے ذریعے جھیل ٹانگانیکا میں برونڈی کے شہر ’بوجمبورا‘ سے تنزانیہ کے شہر ’کیگوما‘ کی جانب سفر کر رہا تھا۔ عرشے پر ایک جاپانی سیّاح ’ناکا گاوا‘ سے مُلاقات ہوئی۔ یہ شستہ انگریزی میں بات چیت کر سکتا تھا۔ اِس 18 سال کے نوجوان کو دنیا دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ میرا اور اُس کا ساتھ تقریباً 17 گھنٹے رہا۔ تا ہم دو سال بعد جب وہ کراچی آیا تب بھی اُس نے مجھ سے رابطہ کیا۔ بہرحال اُس زمانے میں غیر ممالک میں سفر کرنے کے لئے سب سے زیادہ محفوظ ’امریکن ایکسپریس ٹریولر چیک‘ مانے جاتے تھے۔ ناکا گاوا کی جیب میں ہر وقت وافر تعداد میں یہ موجود ہوتے تھے۔ کوئی اِنہیں لے بھی جائے تو لے جانے والے کے کام نہیں آ سکتے تھے۔ دوسری چیز جو غالباً اُس کے جسم کا ایک حصّہ بن چکی تھی وہ۔ ’نیکون‘ کا سنگل لینس رِفلکس کیمرہ تھا۔ اُس نے نَپی تُلی تصویریں اُتاریں۔ جب فَلم رول بھر گیا تو مجھ سے کہنے لگا کہ کِسی ڈاکخانے میں جا کر نیگیٹیو اپنے والد کے پتے پر جاپان بھیج دوں گا۔

” تُم ڈبل روٹی کے سلائس کے ساتھ پھل کھا رہے ہو جب کہ تمہارے پاس پیسوں کی کمی نہیں۔ اِس مُشقّت میں کیوں پڑے ہو۔ گھنٹے کا سفر سترہ گھنٹوں میں کر رہے ہو۔ کھانا پینا بھی عجیب ہے۔ پھر جو تصویریں کھینچتے ہو وہ دھلواتے بھی نہیں؟“ ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔

اُس نے جو جواب دیا وہ واقعی سننے کے لائق تھا۔

” ہوائی جہاز کے سفر کو میں سفر نہیں مانتا نہ ہی پُر تعیش ہوٹلوں میں رہنے اور ٹیکسی میں گھومنے پھرنے کو سیّاحت“ ۔

” اچھا؟“ ۔ میں نے حیرت سے کہا۔

” یہی اصل سفر ہے۔ میں دنیا دیکھنے نکلا ہوں۔ شوں کر کے ہوائی جہاز میں جانا سفر کیسے ہو سکتا ہے؟ بس، ریل، اور کشتی کا سفر حقیقت میں سفر ہے۔ آپ کو اطراف میں لوگ اور جگہیں نظر آتی ہیں۔ آپ عوام میں جا سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے بڑے شہر میں پانچ ستارہ ہوٹل میں آپ رہ لئے تو کیا ہوا؟ میں تو لوگوں کے گھروں میں بطور پے انگ گیسٹ ر ہتا ہوں۔ کھانے پینے کے لئے زندگی پڑی ہے۔ موسمی پھل کے ساتھ کبھی چاول اور کبھی روٹی بہترین کھانا ہے۔ جہاں تک تصویروں کا تعلق ہے جاپان میں فلم کی پرنٹنگ بہترین ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میری اِس مختصر سی فوٹوگرافی کی کوئی ایک تصویر بھی ضائع نہ ہو“

” واہ! بہت خوب! اب ذرا یہ بتاؤ تم جاپان میں کرتے کیا تھے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” وہاں میں طالبِ علم تھا۔ کالج تک کی تعلیم مکمل کی۔ مجھے دُنیا دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے اور اِسی لئے میں نے انگریزی بھی سیکھی لہٰذا میں نے اپنا ایک پروگرام مرتب کیا کہ مجھے 5 سال میں دنیا دیکھنی ہے“ ۔ اُس نے جواب دیا۔

” اور اِس کے لئے رقم؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” میں نے والد سے قرض لیا ہے۔ پانچ سال بعد بھرپور کام کروں گا اور کوشش کر کے جلد یہ قرض اُتار دوں گا ’‘ ۔

” تمہاری حکمتِ عملی تو بہت زبردست ہے لیکن ذرا یہ تو بتاؤ کہ اِس کو عملی جامہ کیسے پہناؤ گے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں جِس ملک میں جاتا ہوں وہاں پہلے جاپانی سفارتخانے جا کر اپنی موجودگی ثابت کراتا ہوں۔ دِن تاریخ باقاعدہ درج کراتا ہوں۔ اِس طرح جب میں سیّاحت مکمل کر کے واپس جاپان پہنچوں گا تو والد صاحب کو بھیجی گئی تصاویر اور مختلف ممالک میں اپنی موجودگی ثابت کر کے جو کام مجھے فوراً مِلے گا وہ اسکول ٹیچنگ ہو گی“ ۔

” ارے اسکول ٹیچر؟“ ۔ حیرت سے میں چکرا گیا۔ ”اتنی محنت اور خواری کے بعد اسکول ٹیچنگ؟“ ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا۔

” جاپان میں اسکول ٹیچر کا میرٹ بہت زیادہ ہے۔ جس میں تعلیم کے ساتھ تجربہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پھر معاشرہ میں بہت عزت ہے تنخواہ بھی پُر کشش ہوتی ہے“ ۔

” کیا واقعی؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” میں ٹیچر بن کر ایک سال میں اپنے و الِد کا قرض اُتار سکتا ہوں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اپنی مہمات پر با تصویر کتاب شائع کروانے سے الگ رقم ملے گی“ ۔ ناکا گاوا نے جواب دیا۔

سفر کے اختتام پر اُس نے مجھ سے میرے گھر کا پتا اور فون نمبر لیا اور وعدہ کیا کہ پاکستان کی سیاحت کے دوران وہ مجھ سے ضروررابطہ کرے گا۔

پھر تقریباً سال ڈیڑھ بعد مجھے کراچی میں اُس کا فون آیا۔ میں نے اُس کو اپنے گھر بُلوایا۔ والدین سے مِلوایا۔ اُس وقت میں پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز میں شعبہ پروگرامز سے منسلک تھا۔ مگر آفرین ہے اُس جوان پر کہ اِس عرصہ کے دوران اُس میں رتّی برابر فرق نہیں آیا۔ میری والدہ نے اُس کی دعوت کی۔ یہاں بھی اُس نے پھل کے ساتھ گھر کی بنی ہوئی روٹی بہت شوق سے کھائی۔ میں اُسے ٹیلی وژن اسٹیشن لے گیا۔ اُس کے اخلاق سے وہاں کا سارا عملہ بہت مُتاثر ہوا۔ یہاں ایک دِلچسپ ماجرا پیش آیا۔ وہاں اُس وقت انجینئرنگ کے شفٹ انچارج بولانی صاحب کو کِسی نے خبر دی کہ ایک جاپانی آیا ہوا ہے۔ وہ تقریباً دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آئے اور ناکا گاوا سے درخواست کی ایک وی ٹی آر مشین کی خرابی سمجھ نہیں آ رہی۔ اُس کا مینوئل جاپانی زبان میں ہے۔ چونکہ حضرت کو انگریزی پر بھی عبور تھا لہٰذا تھوڑی سی محنت سے وہ مشین چالو ہو گئی۔ جب ناکا گاوا کو بتایا گیا کہ یہ ( نئی ) مشین، کچھ ٹی وی اسٹوڈیو کیمرے وغیرہ حکومتِ جاپان نے پاکستان کے عوام کو تحفہ میں دیے ہیں تو وہ بہت خوش ہوا۔

یہ میری اُس سے آخری ملاقات تھی لیکن مجھے یقین ہے کہ اُس پرعزم نوجوان نے پانچ سال میں دنیا بھی دیکھی ہو گی اپنے والد کا قرض بھی اتارا ہو گا۔ پھر اُس نے ایک کامیاب اُستاد بن کر اپنے طلباء کی بہترین تربیت کی ہو گی۔ آج وہ کہاں ہے؟ میں اُسے یاد بھی ہوں یا نہیں؟ لیکن وہ میری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

Facebook Comments HS