میرے ابو
آج چھ جولائی ہے آپ کو اس دنیا سے گئے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا ہے،
مگر آپ میرے دل میں میری سوچ میری ایک ایک سانس میں موجود ہیں۔ ہر انسان کے لئے اس کے والدین دنیا کا خوبصورت احساس ہوتے ہیں مگر کچھ والدین بیج کی طرح ہوتے ہیں جو خود کو زمین کے اندر دفن کر کے اولاد کو پودا بناتے ہیں جن کی زندگی میں ہر خواہش ہر خواب ہر ضرورت اولاد سے شروع ہوتی ہے اور اولاد پر ہی ختم ہوتی ہے،
آپ وہی ہستی تھے ایک چھوٹے شہر کے بڑے آدمی بڑی سوچ کے مالک اللہ آپ کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے،
آج میرے پاس نہ الفاظ ہیں نہ ہی کچھ لکھنے کی ہمت مگر میری زندگی کے جتنے بھی سال آپ کے بعد اس دنیا میں ہوں گے چھ جولائی کو ضرور قلم اٹھتا رہے گا،
آپ اکثر گھر میں بھٹو صاحب کو پڑھتے تھے جبکہ دادا ابو پاکستانی فوج کو پسند کرتے تھے ایک ہی گھر میں اکثر اختلافات رہتا ہوتا تھا جب بھی الیکشن کا موقع ہوتا یا ویسے کوئی بحث ہوتی تو گھر والے کہتے ہوتے آپ کی بھٹو صاحب کو سپورٹ ہمارا نقصان کرتی ہے ہمیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ کہتے ہوتے میں کسی کا دشمن نہیں ہوں ایک سیاسی شخصیت ایک لیڈر اگر مجھے پسند ہے تو میں اپنی پسند کسی کے دباؤ میں آ کر کبھی نہیں چھوڑ سکتا،
بھٹو صاحب ایک پڑھے لکھے پاکستانی لیڈر تھے جنھوں نے اپنی ذات سے ہٹ کر طالب علموں کو اہمیت دی ان کو پڑھائی کی طرف راغب کیا ان کے بسوں کے کرائے معاف کیے ورنہ مجھ جیسا گاؤں کا بندہ کبھی تعلیم نہ کر سکتا سٹوڈنٹ یونین بنائی نوجوان نسل کے لئے بہت کچھ کیا جبکہ دادا ابو اپنے پوائنٹ آف ویو سے سوچتے ہوتے تھے بزرگ تھے وہ اکثر اختلافات کرتے کہ اس کا ہمیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے آپ تو شہر چلے جاتے ہو پیچھے گاؤں کے چھوٹے چھوٹے لوگ جا کر ہماری شکایتیں لگا دیتے ہیں جو آگے تک جاتی ہیں اور ہم غریب لوگوں کے پاس صرف زمین بھرم اور عزت ہی تو ہوتی ہے اور تو کچھ ہوتا نہیں نہ کوٹھی بنگلہ نہ کار نہ پیسا نہ شہرت،
مگر آپ ان کی کہاں سنتے آپ ہمیشہ سے آزاد سوچ کے ساتھ پیدا ہوئے تھے، آزاد فیصلے کرتے تھے۔ اپنی مرضی کے مالک تھے تو دادا ابو چپ کر جاتے بس اتنا کہتے چلو تیرا اپنا راستہ میرا اپنا راستہ۔ تم اپنی پارٹی رکھو میں اپنی پارٹی رکھوں گا کیونکہ میں بھی تیرا باپ ہوں۔ اب تیرے پیچھے چلنا تو میرا بھی ضمیر اجازت نہیں دیتا۔ یہ بحث اکثر الیکشن پر یا گاؤں میں کوئی عید تہوار پر اکٹھے ہوتے تو ہمیشہ چلتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی ہمیں لگتا لڑائی ہو رہی ہے تو ہم بہنیں مل کر دعا مانگنا شروع کر دیتیں کہ یا اللہ دونوں میں سے ایک چپ کر جائے یا کوئی مہمان آ جائے جب کچھ نہ ہوتا تو ہم جلدی جلدی چائے بنا کر چلے جاتے تاکہ ہم چائے لے جائیں تو ہمیں دیکھ کر چپ ہوں گے اور پھر بات کا موضوع بدل دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوتا۔ ہماری یہ ترکیب اکثر کام کر جاتی پھر ہم دادا ابو سے پیسے مانگتے اور ان کو اپنے ساتھ لگا دیتے اور آپ دوسری طرف منہ کر کے مسکرا رہے ہوتے تھے اور اندر سے خوش ہو رہے ہوتے ہماری دادا ابو سے قربت دیکھ کر میرا اکثر دل کرتا ہے آپ پر ایک کتاب لکھوں میری آج کل صحت اجازت نہیں دیتی،
مگر چھ جولائی کو مجھے آپ کا بچھڑنا بہت غمگین کر دیتا ہے، ہم سب نے ایک دن اس دنیا سے جانا ہے مگر کاش آپ کچھ وقت اور زندہ رہتے ہم آپ کی کمی بہت محسوس کرتے ہیں اللہ آپ کے درجات بلند کرے (آمین ) ،


