کیا آپ موت کا انتظار کر رہے ہیں؟


میں یہ مضمون اپنے ایک بچپن کے دوست کے والد کی زندگی کی کہانی سے شروع کر رہا ہوں۔ میرے دوست ارشد محمود کے والد چوہدری سلیم احمد 1950 میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک مضافاتی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میاں محمد بخش کالج میرپور سے گریجویشن کرنے کے بعد واپڈا میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ انسپکٹر آف ورکس تعینات ہو گئے۔ اگلی ایک دہائی کے دوران ان کے ہاں تین بیٹیاں اور ایک بیٹے نے جنم لیا۔ وہ محنتی اور منظم ہونے کے ساتھ ساتھ زمانہ شناس شخص بھی تھے جو رائج الوقت طور طریقوں سے بھی اچھی طرح واقف تھا لہٰذا ’’ہذٰا من فضلَ ربی ‘‘ کے تحت اوپر کی ایک اچھی خاصی آمدن بھی جاری تھی۔ جس کی مدد سے سروس کے دوران انہوں نے ایک معقول رقم بچوں کی شادیوں اور اپنا کشادہ مکان تعمیر کرنے کے لیے پس انداز کر لی۔ سلیم احمد نوکری سے فراغت تک تینوں بیٹیوں کی شادیاں دھوم دھام سے کر چکے تھے۔ میرپور میں واپڈا کی ایک ہاؤسنگ اسکیم میں الاٹ شدہ پلاٹ پر اپنا مکان تعمیر کرنے کے بعد بیٹے کی بھی شادی کر کے اس کے ساتھ رہنے لگے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے داڑھی رکھ لی اور لگے ہاتھوں حج کی سعادت بھی حاصل کر لی تھی۔ اس اثناء میں ان کی بیگم داغ رفاقت دے گئیں۔ اب سلیم صاحب کو آخرت کی فکر ستانے لگی ، ان کی نمازوں میں مزید خشوع و خضوع آ گیا اور پنجگانہ نماز میں تہجد اور چاشت کی نمازیں بھی شامل ہو گئیں۔ ان کی عمر ستر کی دہائی میں داخل ہو چکی تھی۔ اس دوران ان کو ذیابیطس کے موذی مرض نے پکڑ لیا۔ جس سے ان کی بینائی کے علاوہ مثانہ اور دل بری طرح متاثر ہوئے۔ یوں سلیم صاحب دس سال تک ایک تکلیف دہ زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جب وہ صاحبِ فراش تھے تو تنہائی کا شکار بھی تھے۔ کیونکہ بیٹا اور ایک بیٹی بیرونِ ملک جب کہ دو بیٹیاں مظفرآباد اور مری میں اپنی اپنی عائلی زندگی میں مصروف تھیں۔ میں اکثر جمعے کی شام کو ان کے ہاں چلا جاتا اور ایک دو گھنٹے ان سے باتیں کیا کرتا۔ ایک دن میں نے سلیم صاحب سے پوچھا کہ کیا ان کی زندگی میں کوئی پچھتاوا بھی ہے تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کچھ دیر خاموشی سے مجھے تکتے رہے پھر یوں گویا ہوئے:

’’بیٹا مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی رائیگاں گئی۔ مجھے بچپن سے گانے کا شوق تھا۔ اسکول سے کالج میں پہنچنے تک میں ایک پختہ گلوکار بن چکا تھا۔ جب میں گا رہا ہوتا تو کسی اور ہی دنیا میں ہوتا تھا، مجھے ایسے لگتا جیسے میں فضاؤں میں اُڑ رہا ہوں ، نگری نگری گھوم رہا ہوں جیسے میں ایک آزاد پنچھی ہوں۔ مگر میرے والد صاحب ایک سخت گیر مذہبی شخص تھے جو ریلوے میں ملازم تھے۔ ان کو میرا گانا بجانا پسند نہیں تھا۔ ان کے نزدیک موسیقی نہ صرف دینِ اسلام میں حرام تھی بلکہ معاشرے میں ایک معیوب عمل سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے مجھے سختی سے تنبیہ کی کہ گانا بجانا میراثیوں کا کام ہے۔ وہ ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کے ہوتے ہوئے میراثی نہیں کہلوانا چاہتے۔ چنانچہ والد صاحب کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے بچپن کے شوق سے ناتا توڑ کر ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی۔ اب میں سوچتا ہوں کاش والد کی بات مان کر میں نے موسیقی کو خیر باد نہ کہا ہوتا۔ یہ میرا زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہے۔

دوسرا پچھتاوا میری رُومانوی زندگی کے حوالے سے ہے۔ میں ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا۔ وہ ایک شاعرہ تھی اور موسیقی کی دھنیں بنا لیتی تھی میں نے بہت دفعہ اس کی لکھی ہوئی نظمیں اور غزلیں گائیں۔ وہ لڑکی اور میں شادی کر کے زندگی بھر خوش رہ سکتے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ میرے والد نے اس رشتے سے منع کر دیا کیونکہ لڑکی کا تعلق مغل فیملی سے تھا۔ اور وہ لوگ لوہے کا کام کرتے تھے جب کہ ہم جاٹ زمیندار تھے۔ میرے والدین نے میری شادی اپنے جیسے جاٹ گھرانے میں تو کردی مگر اس رشتے میں محبت کی بجائے ایک شریک سفر کا سا رشتہ تھا۔ میری اہلیہ سکینہ ایک اچھی عورت تھی۔ مگر ہم دونوں زندگی میں ہمسفر ہونے کے باوجود کبھی محبوب اور محبوبہ نہ بن سکے۔ کاش میں نے اپنی محبت غزالہ سے شادی کی ہوتی تو زندگی کتنی خوُبصورت ہوتی۔

میرا اگلا پچھتاوا یہ ہے کہ میں کبھی اپنے بچوں کا دوست نہ بن سکا۔ ان کے ساتھ کبھی کھیلا نہیں۔ زندگی کے جھمیلوں اور پیسہ جمع کرنے کی دوڑ میں اپنے بچوں کو بڑا ہوتے نہ دیکھ پایا۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ میں نے کبھی ان کی سالگرہ میں شرکت کی ہو۔ ہاں البتہ ہر بچے کی سالگرہ پر بیوی کے یاد کروانے پر سالگرہ کا تحفہ ضرور بھجواتا تھا۔ کاش میں نے اتنا زیادہ کام نہ کیا ہوتا۔ کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزارا ہوتا۔ میں نے ان کو تعلیم اور زندگی کی آسائشیں تو دلوائیں مگر ان کا دوست نہ بن سکا۔ کبھی ان کو اپنے پاس بٹھا کر یہ نہ پوچھا کہ کہ ان کو کس شے سے خوشی ملتی ہے۔ ایک روایتی خاندان میں رہتے ہوئے ہمارے درمیان ادب و احترام کا رشتہ تو ضرور تھا مگر دوستی کا نہیں۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا کہ سلیم صاحب کے آنسو ایک تواتر سے ان کے نحیف گالوں کی جھریوں میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

نعیم بیٹا ، میرا ایک پچھتاوا اور بھی ہے۔ سلیم صاحب اپنے آنسوؤں سے بے نیاز بول رہے تھے:

میں نے اپنے آپ کو پیشہ وارانہ کاموں میں اس قدر اُلجھا لیا کہ اپنے بچپن کے دوستوں سے رابطے رکھنا بھول گیا۔ دنیا سے رُخصت ہوتے وقت آج میں چاہتا ہوں کہ میرے دوست میرے پاس ہوتے۔ آج وہ مجھے بہت یاد آرہے ہیں مگر کئی دہائیوں سے میں نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ میں ان کے ساتھ سال میں ایک دفعہ ہی سہی، چاہتا تو مل سکتا تھا ،میں ان کے ساتھ چند لمحے ہنس کھیل لیتا ، دکھ سکھ بانٹ لیتا۔ میں ان کو بچپن کے ناموں سے پکارتا۔ ان کو بچپن کے واقعات یاد دلاتا۔ اور ہم دیر تک ہنستے رہتے۔ یہ تو بہت آسان تھا۔ آجکل تو انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے۔ میں ایسا کر سکتا تھا مگر نہیں کیا۔ کاش! میں نے دوستوں کا ایک حلقہ بنا لیا ہوتا۔

اس کرہ ارض پر جب سے زندگی نمودار ہوئی ہے انسان ایک دائرے میں چکر کاٹ رہے ہیں۔ انسان پیدا ہوتا ہے۔ ایک مخصوص عرصہ یہاں گزارتا ہے اور یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس چار روزہ زندگی میں وہ عموماً کرتا کیا ہے؟ ہوش سنبھالتا ہے تو اپنے آپ کو اسکول میں پاتا ہے۔ ہر طرف سے پڑھو ، محنت کرو ، کچھ بن جاؤ ، بھئی آرام کے لیے ساری زندگی پڑی ہے۔ وغیرہ وغیرہ کی آوازیں سنتے سنتے کالج یا یونیورسٹی میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں سے فارغ ہوتے ہی نوکری ڈھونڈنے لگ جاتا ہے۔ نوکری یا کاروبار شروع ہوتے ہی شادی کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے۔ شادی کر کے بچے پیدا کرتا ہے اور گھر بناتا ہے۔ بچوں کو تعلیم دلوا کر اپنے طے کیے ہوئے چکر میں ڈالتا ہے۔ اس اثناء میں کوئی بیماری پکڑ لیتی ہے اور اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔

اور پھر یہ چکر یوں ہی جاری رہتا ہے۔ اکثر لوگ ساری عمر اپنی زندگی کو کوئی معنی نہیں دے پاتے۔ وہ نہیں جان پاتے کہ وہ کیوں جی رہے ہیں۔ کیا وہ زندگی کو جی رہے ہیں یا اس کے دن پورے کر رہے ہیں یعنی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ پانچ فی صد لوگ ایسے ہونگے جو اپنی زندگی کو کوئی معنی دے پاتے ہو نگے۔ جن کو زندگی سے خوشیاں کشید کرنا آتا ہوگا اور جو اپنی خاندانی ذمہ داریوں ، اپنے پیشے اور اپنے ذاتی شوق یعنی روح کو طمانیت دینے والے مشاغل کے درمیان توازن قائم کر لیتے ہونگےاور اپنی زندگی اپنی مرضی سے یہ سوچے بغیر گزارتے ہوں گے کہ لوگ کیا کہیں گے یا والدین کیا چاہتے ہیں۔ میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اپنے نوجوانوں کو ان کے والدین سے بغاوت پر اکسانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا ان کے لیے کس قدر اہم ہے۔ یونان کے عظیم فلسفی اور مفکر سقراط نے کہا : ’’وہ زندگی جینے کے لائق نہیں ہوتی۔ جس کے اندر خود احتسابی نہ ہو۔ ‘‘

کیا آپ کی زندگی میں کوئی پچھتاوا موجود ہے۔ کیا آپ اس پچھتاوے کو اب بھی کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر نہیں کر سکتے تو کم ازکم ایسا کچھ ضرور کیجیے کہ اس کی کسک کم ہو جائے۔ کیا آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ اگر خوش ہیں تو اس خوشی کو قائم رکھنے اور بڑھاوا دینے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ اور اگر آپ اپنی زندگی سے خوش نہیں ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور ناخوشی کی اس وجہ کو ختم کرنے کے لیے آپ نے ابھی تک عملی طور پر کیا کِیا ہے ؟ اس سے پہلے کہ آپ بھی اپنی زندگانی کو رائیگانی کا نام دے دیں۔ کچھ دیر رک جائیے ، ٹھہر جائیے اور جو درست نہیں اس کو درست کرنے کی کوشش کیجیے تاکہ آپ بھی باقی ماندہ زندگی اطمینان اور خوشی سے بسر کر سکیں۔ اس حوالے سے چلی کے نامور شاعر پابلو نیرودہ کی خوبصورت نظم حاضر خدمت ہے:

خوش رہنا مت بھولو
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو

جب تم سفر نہیں کرتے
جب تم مطالعہ نہیں کرتے

جب تم زندگی کی آوازیں نہیں سنتے
جب تم خود کو نہیں سراہتے

تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو
جب خود اپنی خود اعتمادی کو مار دیتے ہو

جب دوسروں کو اپنی مدد کرنے سے روک دیتے ہو
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو

جب تم اپنی عادتوں کے غلام بن جاتے ہو
انہی راستوں پر ہر روز چلتے ہو

جب تم اپنا معمول نہیں بدلتے
جب تم مختلف رنگ نہیں پہنتے

یا انجان لوگوں سے بات نہیں کرتے
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو

جب تم اپنے شوق اور اس سے جڑے
بھرپور جذبات کے احساسات سے

گریزاں رہتے ہو
وہ جو تمہاری آنکھوں کو روشن

اور دل کی دھڑکن کو تیز کرتے ہیں
تم رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہو

جب تم لا یقینی میں پنہاں
خطرے کو مول نہیں لیتے

جب تم اپنے خواب کے پیچھے نہیں جاتے
جب تم خود کو اجازت نہیں دیتے

کہ اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار
معقول مشورے کو نظر انداز کر سکو

خود کو رفتہ رفتہ مرنے سے روک لو
خوش رہنا مت بھولو

Facebook Comments HS