بیرونی مداخلت: غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہمیشہ طاقت ور ممالک اپنی معاشی اور سیاسی قوت کو اپنے مفادات اور پسماندہ ممالک کے استحصال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں پر قابض، سپر پاورز اپنے زیر تسلط غیر ترقی یافتہ ممالک میں مرضی کی معاشی پالیسیوں کا نفاذ کرواتی اور کمزور حکومتوں کی حمایت کرتی ہیں۔ ان کی مالی امداد مخصوص سٹریٹجک مقاصد سے منسلک ہوتی ہے جس سے عملاً پسماندہ ممالک کی خود مختاری ختم ہو جاتی ہے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں بیرونی مداخلت کے عوامل میں معدنی وسائل، منڈیوں، تجارتی راستوں تک رسائی کے ساتھ کمزور حکمرانی، مقامی تنازعات اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ اسی طرح کمزور ممالک کی جغرافیائی اہمیت یا بڑی طاقتوں کے ساتھ سرحدیں ملنا بھی انہیں غیر محفوظ بنا تا ہے جیسے افغانستان کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے پہلے سوویت یونین اور بعد ازاں امریکی مداخلت کا ہدف بنایا۔
پاکستان میں امریکی مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے جس کا اندازہ ان مثالوں سے کیا جاسکتا ہے۔
• 1958 ء میں امریکہ نے ایوب خان کی فوجی بغاوت کی حمایت کی اور یوں پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا۔
• 1970 ء کی دہائی میں امریکہ نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں بظاہر پاکستان کی فوجی اور سفارتی مدد کی لیکن یہ عمل سقوط ڈھاکہ کا سبب بنا۔
• 1980 ء کی دہائی میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔
• 2011 ء میں ایبٹ آباد میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ آپریشن کیا، جس کی پاکستانی حکومت سے پیشگی اجازت نہیں لی گئی۔
• 2011 ء میں دو پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ریمنڈ ڈیوس کو جیل سے بحفاظت امریکہ منتقل کیا گیا۔
جہاں تک قرار دادوں کا تعلق ہے، ماضی میں بھی امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔
• 2009 ءکی قرارداد میں سرحدوں میں سرگرم طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے کہا گیا۔
• 2017 ء میں مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم کے خلاف مذمتی قرارداد میں توہین رسالت کے قوانین منسوخ کرنے اور جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
• 2019 ء میں پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کو دبانے، رہنماؤں کی رہائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد منظور کی۔ حالیہ دنوں میں امریکی کانگریس میں ایک قرارداد جمہوریت اور انسانی حقوق ”کی حمایت میں منظور کی گئی، جس میں پاکستان کے 8 فروری کے عام انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے دعووں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دیا گیا۔ قرارداد کے حق میں 368، جبکہ مخالفت میں سات ووٹ آئے۔
26 جون کو امریکی قرارداد کے چند ہی روز بعد جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست اور انسانی حقوق نے بھی عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قید کیا گیا انہیں فوری رہا کیا جائے۔ سائفر اور توشہ خانہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تاکہ انہیں اور ان کی جماعت کو انتخابات سے دور رکھا جا سکے۔ بظاہر سائفر کیس میں عمران خان کے اقدامات سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
2024 کے عام انتخابات سے قبل عمران خان کی پارٹی کے ارکان کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ریلیوں میں خلل ڈالا گیا۔ ”انتخابات میں درجنوں پارلیمانی نشستوں کو چرایا گیا۔ مناسب یہ ہو گا کہ مسٹر خان کو فوری رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ان کے ساتھ باقی معاملات کیے جائیں۔ ورکنگ گروپ کا یہ بیان کسی بین الاقومی ادارے کا کم اور تحریک انصاف کے کسی سرگرم کارکن کا بیان زیادہ لگتا ہے۔ اگر امریکہ اور اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا واقعی درد رکھتے تو فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے اسرائیل کی امداد بند کر دیتے۔
جب اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ہے کہ ہر ریاست کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے اندرونی معاملات چلانے کا مکمل حق حاصل ہے تو پھر پاکستان میں مداخلت کیوں؟ عمران خان ہوں یا کوئی اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے متعلق کوئی نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے۔ پاکستان میں ہزاروں لوگ سیاسی معاملات کے علاوہ چوری، ڈکیتی، فراڈ اور اخلاقی جرائم کی پاداش میں جیلوں میں بند ہیں۔ ان کے بارے میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کو آج تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی محسوس نہیں ہوئی؟ ماضی میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں توڑ پھوڑ کر کے ق لیگ اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین قائم کی گئیں وزیر اعظم کو قاتل اور ہائی جیکر قرار دیا گیا، ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار اور جلا وطن کیا گیا، پی ٹی آئی کے اقتدار کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کیا گیا اس وقت امریکہ اور اقوام متحدہ خواب خرگوش کے مزے کیوں لیتے رہے۔
آج عمران خان جن مشکلات کا شکار ہیں اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ آرمی چیف اور دیگر سینیئر افسران کے خلاف بد زبانی ان کا معمول ہے۔ وہ بات چیت بھی صرف مقتدرہ سے کرنا چاہتے ہیں اور بد زبانی بھی اسی کے خلاف کرتے ہیں۔ عالمی اخبارات اور جرائد میں مضامین لکھ کر اپنا غصہ نکالتے اور سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے نئے ٹرینڈز بھی چلواتے ہیں۔ اسی لیے مقتدرہ اور ان کے درمیان کوئی بریک تھرو نہیں ہو سکا عمران خان یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ جیل میں رہ کر کمزور ہو گئے ہیں اور مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ کمزور پوزیشن پر ہونے کے باوجود وہ کسی صورت یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ اُسکی وجہ 8 فروری کے الیکشن میں ان کا ووٹ بینک بڑھنا، امریکن سینیٹ کمیٹی کا ڈونلڈ لُو کو بلا کر سائفر پر سماعت کر نا۔ امریکی کانگریس کے 368 ممبران کا پاکستان کے حالیہ انتخابات پر سوالات اٹھانا اور یو این او کے ورکنگ گروپ کی فائنڈنگ ہے۔ خان کا خیال ہے کہ ان کی پوزیشن مقتدرہ کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے لہٰذا مقتدرہ کو ان کی شرائط پر مذاکرات کرنے چاہئیں۔ جواباً خاموشی پر وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کی شرائط یا دھونس پر مذاکرات مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں۔
بہرحال اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ آخر بیرونی قوتوں کو ایسی جماعت اور لیڈر سے اتنی ہمدردی کیوں ہے جو ماضی میں سول نافرمانی کی کالیں دیتے، قومی اداروں پر حملہ آور ہوتے، آئی ایم ایف سے ڈیل ناکام بنانے کے لیے لیٹر بازی اور قومی دفاعی اداروں کے اعلیٰ ترین افسران کو غدار کہتے رہے؟ پاکستان کی فوری مذمتی قراردادیں اپنی جگہ لیکن اس کا سفارتی سطح پر بھی بھر پور ردعمل آنا چاہیے تھا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کو سخت خطوط لکھنے کے ساتھ دوست ممالک کو اعتماد میں لے کر ان سے سفارتی حمایت کی درخواست کی جانی چاہیے تھی۔ عمران خان کے پاس رہائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عوام سڑکوں پر نکلیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ اگر ان کی پارٹی جلسے ’جلوس اور مظاہرے کرے تو ان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھے گا، لیکن اب ان کی پارٹی میں کئی گروپس ہیں۔ ایک گروپ لڑنے اور دوسرا صلح صفائی کا قائل ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ عمران خان کسی کو بھی غلط نہیں کہہ رہے۔ خان صاحب چاہتے تو اپنی پارٹی میں جاری لڑائی ختم کراتے تاکہ سارا فوکس ان کی رہائی اور عوامی دباؤ پر ہوتا لیکن اس وقت وہ ایک نیوٹرل امپائر کی طرح شاید انجوائے کر رہے ہیں۔
اگر ہم بیرونی مداخلت سے بچنا چاہتے ہیں تو :
1۔ سنگا پور کی طرح ملکی ادارے مضبوط، اچھی گورننس اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوگی۔
2۔ برازیل کی طرح اقتصادی خود کفالت پر کام کرنا اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہو گا۔
3۔ عمدہ سفارت کاری اور معاشی و اقتصادی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے ہوں گے۔
4۔ جنوبی کوریا کی طرح فوجی، اقتصادی، اور سیاسی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ دینا ہوگی۔
غیروں کی غلامی سے آزادی کے لیے ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ پاکستان کے قومی مسائل میں امریکی مداخلت پہلے کی طرح آئندہ بھی جاری رہے گی۔ اس مداخلت نے ماضی میں بھی ملک کے سیاسی، سماجی اور فوجی منظر نامے پر اہم اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ مستقبل میں خود انحصاری کی راہ اختیار نہ کی گئی تو نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہوں گے۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا


