فلسطین، مغربی حکومتیں اور عالمی رائے عامہ: ڈاکٹر خالد سہیل کی رائے
میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل
ڈاکٹر صاحب میرے لیے سات اکتوبر سے جون دو ہزار چوبیس تک کا سفر بہت تکلیف دہ رہا کیونکہ جہاں فلسطینیوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا نہ صرف بہت بہادری سے سامنا کیا بلکہ انہوں نے ان مظالم کو ڈاکومنٹ کیا اور ساری دنیا نے پہلی دفعہ مقتول کی آنکھ سے قتل عام کی دہشت کو دیکھا۔ کچھ واقعات آپ کے اندر بہت دکھ اور خاموشی پیدا کرتے ہیں۔ آپ کا ہر چیز سے ایمان اٹھ جاتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا حتی کہ جب میں نے نئی نسل کو احتجاج کرتے دیکھا تب بھی میں بہت دکھی تھی اور میرا دل اور دماغ یہ سوچ رہے تھے کہ کاش کسی طرح ان بچوں کا انسان اور انسانیت پر سے اعتماد نہ اٹھے کہ یہ انسانیت کا مستقبل ہیں لیکن جس قسم کا سلوک ان سے خاص کر کولمبیا یونیورسٹی میں کیا گیا میرے لیے متوقع لیکن پھر بھی لرزہ انگیز تھا کہ میں جنریشن زی کی بہت بڑی فین ہوں اور اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ یہ ایک انتہائی لوجکل تھنکنگ کے مالک لوگوں کی نسل ہے۔
میں اس سارے تنازعے قتل عام اور اسٹوڈنٹس کے پروٹسٹ کے حوالے سے آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس تنازعے کا باریکی سے جائزہ لیا ہے اور اس سرزمین کا جس پر یہ جنگ برپا ہے خود بطور سیاح دورہ کیا ہوا ہے۔ آپ کی اس سلسلے میں کتاب ”ایک باپ کی اولاد“ میری نظر میں انتہائی اہم ہے اور میری خواہش ہے کہ اس کا دوسرا ایڈیشن آئے تاکہ اردو ادب کے قارئین کو اس تنازعے کو ایک انسان دوست سائیکارٹسٹ کی نظر سے دیکھنے کا موقع ملے نہ کہ روایتی مذہبی تقدس کے بہیمانہ ظلم کی نظر سے جس نے لاکھوں لوگوں سے ان کی زندگیاں چھین لی ہیں۔ آپ سے زیادہ انسان دوست لیکن لوجکل شخص میں نے بہت کم دیکھے ہیں اس لیے میں اس سلسلے میں آپ سے تین سوال کرنا چاہتی ہوں جو میرے لیے اس صورتحال کو آسان کر سکیں اور میرے لیے اس دکھ درد اور تکلیف کے سہنے کو سہل کر سکیں جو میں محسوس کرتی ہوں۔
سوال نمبر 1 : ڈاکٹر صاحب یہ دنیا کا وہ واحد جینوسائیڈ ہے جس کو ساری دنیا ایک کرکٹ میچ کی طرح لائیو دیکھ رہی ہے اور عجیب سی خاموشی اور احتجاج کا ملا جلا کمبینیشن ہے۔ اس میں جنریشن زی کے احتجاج نے جان ڈالی ہے میں جاننا چاہتی ہوں کہ بطور سائیکارٹسٹ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کے اثرات ان بچوں کی نفسیات پر کیا ہوں گے؟
سوال نمبر 2 : بطور ہیومنسٹ آپ کو کیا لگتا ہے دنیا ہر اس لائیو قتل عام کے کیا اثرات ہوں گے مجھے تو لگتا ہے میں تھک گئی ہوں ان بڑی طاقتوں کے بھیانک کھیل سے اور مجھے ان لاشوں اور خون سے وحشت ہونے لگی ہے آپ کے خیال میں اس کے لیے قبولیت بڑھ رہی کیونکہ میں تو ہر طرف انتہائی دائیں بازو کا غلبہ دیکھ رہی ہوں لیکن خوش ہوں کہ ساری دنیا کے انسان دوست تمام تر تکلیفوں کے بعد بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں آپ کے خیال میں اس سارے بلڈ شیڈ کا انجام کیا ہو گا؟
سوال نمبر 3 : اس سرزمین کا (جس کو تین مذاہب اپنے لیے مقدس مانتے ہیں ) دورہ ایک ایتھسٹ کے طور پر آپ کے لیے کیسا رہا اور بطور ہیومنسٹ سائکاٹرسٹ آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک سائیڈ کے لوگ اتنے پر اطمینان کیسے ہیں اس جینوسائیڈ سے جو ان سے چند قدم کی دوری پر ہو رہا ہے؟
ڈاکٹر صاحب آپ کے وقت کے لیے میں شکرگزار ہوں اور میری بے پناہ محبت آپ کے لیے اور آپ کے نظریہ انسان دوستی کے لیے
آپ کے جواب کی منتظر
آپ کی دوست، شاگرد اور چھوٹو
سارہ علی
محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!
اگر آپ اپنا خط اور یہ چبھتے ہوئے مشکل سوال کسی ماہر سیاسیات کو بھیجتیں تو وہ ان کا سیر حاصل جواب دیتا۔ میں تو ادب اور نفسیات کا طالب علم ہوں اس لیے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا سیاسی تجزیہ اور آپ کے سوالوں کے تسلی بخش جواب پیش نہیں کر سکتا لیکن چونکہ آپ نے ایک دوست کی حیثیت سے بڑی اپنائیت سے یہ سوال پوچھے ہیں اس لیے ان کے جواب دینا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
چونکہ آپ کے سوال ایک دوسرے سے مربوط ہیں اس لیے ان کے انفرادی جواب کی بجائے فری ایسوسی ایشن سے اجتماعی جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
انسانی نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناتے اگر ہمیں کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو خود کشی یا قتل کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم اپنے آپ سے پہلا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ اس نے یہ حرکت
اس دن کیوں کی؟
اس دن سے ایک ہفتہ پہلے
یا ایک ماہ بعد کیوں نہ کی؟
خاص طور پر اگر اس شخص کا مسئلہ کافی عرصے سے چلا آ رہا تھا۔
اس لیے اسرائیل اور غزہ کے بحران میں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو کیوں کیا؟
جہاں تک میری محدود معلومات کا تعلق ہے اس ماہ سعودی عرب اسرائیل سے معاہدہ امن پر دستخظ کرنے کے لیے تیار تھا اور حماس کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر اس معاہدے پر دستخط ہو گئے تو فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اس لیے اسرائیل پر حملہ کرنے سے حماس نے اس معاہدہ امن کے اسقاط کی کوشش کی اور اس کوشش میں کامیاب رہے۔
حماس کے رہنماؤں کو سن انیس سو تراسی کا اسی انداز کا اسرائیل اور مصر کا معاہدہ امن یاد تھا جس معاہدہ کے بعد یاسر عرفات اور پی ایل او کو بہت نقصان ہوا تھا اور یاسر عرفات کو تیونس منتقل ہونا پڑا تھا۔
مجھے وہ دور یاد ہے جب فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی رہنما یٹزک ربین نے ہاتھ ملائے تھے اور مشرق و سطیٰ میں امن قائم کرنے کے خواب دیکھے تھے۔ انہیں اس معاہدے کی وجہ سے امن کا نوبل انعام بھی ملا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا کسی دہشت پسند بنیاد پرست یہودی نے یٹزک ربین کو قتل کر دیا تھا اور اس معاہدے پر عمل ہونے کا اسقاط ہو گیا تھا۔
پچھلے آٹھ ماہ میں جو کچھ ہوا ہے اس میں میرے لیے چند باتیں غیر متوقع تھیں۔
پہلی غیر متوقع بات
حماس۔ حزب اللہ اور حوثیوں کا مل کر اسرائیل پر حملے کرنا تھا۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ اتنے منظم ہیں۔
میری نگاہ میں ان تینوں طاقتوں نے مل کر مشرق و سطیٰ کی تاریخ کا نیا باب رقم کیا ہے۔
میری نگاہ میں اسرائیلی حکومت اور فوج نے حماس کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ غزہ کی چند میلوں کی زمین کے نیچے سینکڑوں میلوں کی سرنگوں کا ایک خطرناک اور پیچیدہ جال بچھا ہوا ہے۔
میں دو دفعہ اسرائیل جا چکا ہوں اور یہودی، عیسائی، مسلم اور آرمینی علاقوں میں گھوم چکا ہوں مجھے بھی ان سرنگوں کا اندازہ نہ تھا۔
پچھلے آٹھ ماہ کی جنگ نے اسرائیل کو جو اپنی فوجی طاقت پر غرور تھا اور اپنے آئرن ڈوم پر جو گھمنڈ تھا حماس اور ایران نے اس گھمنڈ اور غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔
پچھلے آٹھ مہینوں میں چالیس ہزار کے قریب معصوم فلسطینی جاں بحق اور اسی ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثر عورتیں اور بچے ہیں۔ اگلے آٹھ مہینوں میں نہ جانے کتنے بچے عورتیں اور مرد بھوک اور بیماری سے مر جائیں گے۔
ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!
دوسری بات جو میرے لیے غیر متوقع تھی وہ یہ تھی کہ انیس سو اڑتالیس سے دو ہزار تئیس تک جو اسرائیل اور امریکہ کا گٹھ جوڑ تھا اس گٹھ جوڑ میں ایک دراڑ پڑ گئی ہے۔ امریکہ کے ڈھکے چھپے تضادات اب سب پر عیاں ہو گئے ہیں۔
تیسری بات جو میرے لیے غیر متوقع تھی وہ جنوبی افریقہ کا اسرائیل کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں یہ کہہ کر کھڑا کرنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے۔
چوتھی بات جو میرے لیے غیر متوقع تھی وہ یہ تھی کہ جہاں امریکہ، انگلستان، فرانس اور جرمنی کی مغربی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تھیں وہیں ان ممالک کے عوام فلسطینیوں کے ساتھ تھے۔
فلسطینیوں کے حق میں جہاں عوام نے احتجاج کیا وہیں سپین اور ائرلینڈ کے سیاسی لیڈروں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور جنرل اسمبلی نے بھی جنگ بندی کی کوشش کی اور فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے طلبا نے یونیورسٹی کیمپسوں میں جو احتجاج کیے اور پولیس کا مقابلہ کیا اس احتجاج نے ویت نام کی جنگ کے خلاف احتجاج کی یاد تازہ کر دی۔ ایسے احتجاج سے ان طلبا و طالبات کو اندازہ ہوا کہ وہ عالمی رائے عامہ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میں موجودہ جنگ کے دور رس نتائج کے بارے میں پرامید ہوں۔
اسرائیل کی اور مغربی ممالک کی حکومتیں اس بات کو نہیں سمجھ رہیں کہ حماس کی جنگ ایک گوریلا جنگ ہے اور گوریلا جنگ کا مقصد جیتنے سے زیادہ دشمن کو اس وقت تک الجھائے رکھنا ہوتا ہے جب تک کہ وہ اپنے معاشی دباؤ، سیاسی بوجھ اور اپنے داخلی تضادات سے خود ہی نہ گر جائے۔
اس حوالے سے حماس کامیاب رہی ہے۔
حماس نے اسرائیل سے میڈیا کی جنگ جیت لی ہے اور ساری دنیا کے امن پسند انسانوں اور انسانی حقوق اور آزادی و خود مختاری کے پرستاروں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پچھلے ستر سال سے آزادی و خود مختاری کی دردناک جنگ لڑ رہے ہیں۔
جس طرح انیس سو اسی کی دہائی میں جنوبی افریقہ کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار ہوئی تھی اسی طرح اب فلسطین کے حق مین عالی رائے عامہ بڑھ رہی ہے۔ فلسطینی جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ قربانیاں ایک دن رنگ لائیں گی۔ اسی آزادی کے لیے جوش ملیح آبادی نے کہا تھا
سنو اے ساکنان خاک پستی
صدا یہ آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر
غلامی کی حیات جاوداں سے
قوموں کی زندگی میں ایک صدی انسانوں کی زندگی کی ایک دہائی کی طرح ہوتی ہے۔
اسرائیل انیس سو اڑتالیس میں معرض وجود میں آیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ دو ہزار اڑتالیس تک فلسطینی ریاست بھی معرض وجود میں آ جائے گی۔
گوریلا جنگ لڑنے والے جانتے ہیں کہ
LOSERS ARE TERRORISTS
WINNERS ARE FREEEDOM FIGHTERS
نیلسن منڈیلا بھی ایک ربع صدی تک جیل کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے لیکن جب رہا ہوئے اور اپنے سیاسی مقاصد میں کامیاب ہوئے تو انہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا۔
محترمہ سارہ علی صاحبہ!
آپ بخوبی جانتی ہیں کہ میرا فلسفہ حیات انسان دوستی کا فلسفہ ہے۔ میں زندگی کے انفرادی اور اجتماعی مسائل مکالمے سے پرامن طریقے سے حل کرنے کے حق میں ہوں۔
میری نگاہ میں انسانی زندگی کسی بھی فلسفے، نظریے اور آئیڈیالوجی سے زیادہ اہم اور قیمتی ہے۔
میں ہر اس مذہبی، غیر مذہبی اور لامذہبی نظریے کے خلاف ہوں جو تشدد کو فروغ دیتا ہے اور انسانوں کے قتل کو گلوریفائی کرتا ہے۔
کوئی بھی جنگ ہو اس میں انسان اپنی قیمتی جانیں گنواتے ہیں
بچے یتیم ہو جاتے ہیں
عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں
جو فوجی زندہ بچتے ہیں وہ پی ٹی ایس ڈی کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگلی صدی میں یا وہ ایٹم بموں اور خانہ جنگیوں سے اجتماعی خود کشی کر لے گی اور یا ارتقا اور بلوغت کے اس زینے تک پہنچ جائے گی جب ساری دنیا کے انسان یہ جان لیں گے کہ
چاہے وہ یہودی ہوں مسلمان ہوں یا عیسائی
اسرائیلی ہوں یا عرب
امریکی ہوں یا افغانی
ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
آپ کا امن کے خواب دیکھنے والا دوست
خالد سہیل

