سندھ میں لڑکیوں کے تعلیمی مسائل
چند ماہ پہلے امریکہ اور سندھ حکومت کی شراکت سے بیسک ایجوکیشن پروگرام کی کامیاب تکمیل کا جشن کراچی میں منایا گیا۔ جسے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے مالی امداد فراہم کی، اس نے سندھ بھر میں سکولوں کی تعمیر اور تعلیم کے شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے 159.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
اس کے باوجود ضلع بدین کے ٹاؤن کڑیو گہنور، جس میں خواتین کی آبادی ستر ہزار کے قریب ہے اس میں کوئی ہائی سکول موجود نہیں۔ اس شہر کی بچیاں مستقبل کی امید آنکھوں میں لئے سکول اور کالج کے قیام کے لئے منتظر ہیں۔
پریا مہیشوری جس کا تعلق کڑیو گہنور سے ہیں اس کو پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن اپنے علاقے میں ہائی اسکول نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشان ہے۔ کیونکہ ہائی سکول کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر لڑکیاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ نے پر مجبور ہیں۔ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کم عمر میں شادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا گھریلو ملازمہ بنایا دیا جاتا ہے۔
کڑیو گہنور کی تحصیل کی بات کی جائے تو شہید فاضل راہو (گولارچی) جس میں ڈیڑھ لاکھ خواتین کی آبادی شامل ہے اس پوری تحصیل میں لڑکیوں کے لئے ایک گرلز ہائی سکول ہے۔ اس سکول کے دور ہونے کی وجہ سے بیشتر والدین اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے میں گریز کرتے ہیں۔
پریا مہیشوری کا کہنا ہے کہ ہمارا شہر بہت بڑا ہے لیکن یہاں صرف لڑکیوں کے لئے ایک مڈل سکول ہے۔ اور اس میں بھی صاف پینے کا پانی میسر نہیں ہے اور نا ہی بیت الخلاء موجود ہے۔
1993 میں یہ سکول چار کمروں پر مشتمل تھا اور آج بھی وہی چار کمرے ہیں۔ جو کہ خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اس سکول کی چھت لکڑیوں سے بنی ہوئی ہے اور دیواریں اتنی کمزور ہیں کہ کبھی بھی گر سکتی ہیں۔ اگر فرنیچر کی بات کی جائے تو حالت اتنی خراب ہے کہ کچھ دن پہلے ایک چھوٹی بچی کا پاؤں اس سے زخمی ہو گیا۔
1981 سے یہ علاقہ پورے ملک کو تیل اور گیس کے ذخائر مہیا کر رہا ہے۔ اور یہاں کی بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ سندھ میں کئی سالوں سے ہونے والی ترقی کے باوجود لڑکیوں کے لئے آج بھی تعلیم حاصل کرنا مشکل ہے۔ کڑیو گہنور کالج اور گرلز ہائی سکول کے لئے یہاں کے مقامی لوگ پچھلے چار سالوں سے پورے بدین میں احتجاج کر رہے ہیں۔
یہاں کے لوگ اس بنیادی حق کے حصول کے لئے کراچی پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کر چکے ہیں۔ لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
کڑیو گہنور کے رہائشی حسام نظامانی بتاتے ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ممبر اسماعیل راہو نے اپنے والد فاضل راہو ( اس وقت تحصیل کا نام بھی ان ہی کے نام پر ہے ) کے مزار کے سامنے احتجاج کرنے والے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ایک نئے سکول کی بنیاد رکھے گئے۔ لیکن اس واقعے کو گزرے تین سال ہو چکے ہیں۔ اور آج تک وہ بھی اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہے۔
حالانکہ اس حلقے سے موجودہ ایم پی اے اور ایم این اے بدین دونوں کا تعلق کڑیوں گہنور سے ہے۔ جب کے ماضی میں پاکستان کی پہلی خاتون اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھی اسی حلقے سے منتخب ہوتی رہی ہیں۔ لیکن آج تک وہ اس علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کوئی کوشش کرتی نظر نہ آئی۔
یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جس کا تخمینہ 22.8 ملین ہے۔ اور ان کی عمر 5 سے 16 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ جو پاکستان 44 فیصد بچوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور ان میں سے 40 فیصد بچوں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں میں 37 فیصد لڑکیاں ہیں۔ پاکستان میں، جہاں خواندگی کی شرح 62.4 فیصد ہے، اور سندھ میں، 61.8 فیصد، یہ پریشان کن بات ہے۔
زیادہ تر لڑکیاں اپنے آس پاس کے مڈل یا ہائی سکولوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد سکول چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ڈراپ آؤٹ کا یہ رجحان زیادہ تر گریڈ چار سے شروع ہو جاتا ہے۔
بچیاں کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ خیالات، فطری سوچ اور تجسس سے بھرپور بچیاں معاشرے کی دولت ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا تعلیمی نظام اتنا اچھا نہیں کہ بچوں کے اندر موجود خزانے کی پرورش کر سکے۔ جس کی وجہ سے خاندان بچیوں کی کم عمری کی شادی اور گھریلو مزدوری کا انتخاب کرتے ہیں۔
صوبہ سندھ میں مزید ایسے منصوبوں پر کام ہونا چاہیے جن کا مقصد سرکاری سکول آبادی کے لحاظ سے تعمیر کرنا اور دیہی علاقوں میں تعلیم کو بہتر بنانا ہو۔ حکومت کی ٹھوس کوششوں کے ساتھ ہی سندھ کی لڑکیاں ایک ایسے مستقبل کی امید کر سکتی ہیں جہاں تعلیم ان کی دسترس میں ہو، انہیں اپنی برادریوں اور قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے با اختیار بنایا جائے۔



Remarkable