پاکستانی سیاست کا سوہارتو
دو ہزار اٹھارہ کے عام اور سینیٹ چیئرمین انتخابات میں پی ایم ایل (ن) ان کے اس وقت کے اتحادیوں اور جمہوریت کا ہر وقت ورد کرنے والے محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو مرحوم اور مولانا فضل الرحمن کی صفوں میں عجیب قسم کا ماتم بچھا ہوا تھا۔ طرح طرح کے دلائل گھڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان انتخابات پہ اسٹیبلشمنٹ اثرانداز ہوئی ہے۔ نون لیگ اور اس کے اتحاد یوں کی کامیابی کو ناکامی میں بدل دیا گیا ہے۔
میں اس وقت یہ بات سمجھنے سے بالکل ہی قاصر تھا کہ ضیاء کی گود میں جنم لینے والے اور اس کے ورثے کو لے کے چلنے والے میاں نواز شریف آخر اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیسے ہو گئے۔ اس کی کون سی انقلابی پالیسیاں ہیں جو موخر الذکر کی آنکھ میں کٹھکتی ہے۔ میاں نواز شریف کی جماعت نے 2009 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ججز کی بحالی کے لئے آصف زرداری کی مخلوط حکومت کو چھوڑ کر لانگ مارچ کیا۔ یوسف رضا گیلانی کی عدالت کے ہاتھوں انتہائی متنازعہ فیصلے کے ذریعے نا اہلی پر ایسے دسیوں وزراء اعظم سپریم کورٹ کے فیصلوں پہ قربان کرنے کے بھاشن دینے والے میاں نواز شریف مکافات عمل کے طور پہ پانامہ کیس میں اسی طرح کے انتہائی غیر منصفانہ فیصلے کے ذریعے وزارت عظمی اور سیاست سے تاحیات نا اہل کر دیے گئے۔
موصوف ماضی میں سپریم کورٹ کا ان کے سرپرست ضیاء کے دور میں بھٹو کے خلاف قتل کے ایک متنازعہ مقدمے میں تین۔ چار کی انتہائی کم مارجن سے پھانسی کی سزا کے جنرل ضیاء کی حکومت کے فیصلے اور افغان جہاد پالیسی کے بہت بڑے مداح تھے۔ افغان مجاہدین کے ہاتھوں ڈاکٹر نجیب کی افغان حکومت کا دھڑن تختہ ہونے پر کابل کی پل چرخی میں شکرانے کے نوافل بھی ادا کرنے گئے تھے۔ محمود خان اچکزئی ان کی اس حرکت پہ سخت برہم تھے۔ لیکن بعد میں شومئی قسمت سے جمہوریت بحالی کے لئے یہ دونوں اتحادی بنتے رہے اور موروثی اور خاندانی سیاست کی مشترکہ وراثت کو ساتھ لے کے چلتے رہے۔
آج وطن عزیز جن داخلی اور خارجی بحرانوں، جن میں دہشتگردی، فرقہ واریت، لسانیت، عدم برداشت، بدامنی، ہمسائیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات، جہادی تنظیموں، سیاسی جماعتوں کی شکست و ریخت جیسے مسائل کا سامنا ہے یہ سب میاں نواز شریف کے پیر و مرشد جنرل ضیاء کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ میاں نواز شریف اور اس کے حواری جب ایک ہی سانس میں جنرل مشرف کی آمرانہ دور کی تباہ کاریوں پر ماتم کناں ہوتے ہیں اور اگلی ہی سانس میں اپنے سرپرست جرنیل کے گیارہ سال دور کی خرابیوں پہ مجرمانہ خاموشی برتتے ہیں، تو ان کی دیدہ دلیری کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔
آج ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپنے والے اور جمہوریت کے خلاف سازشوں کا رونا رونے والے میاں نواز شریف کی اگر ماضی پہ نظر ڈالی جائے تو 1981 میں اپنے سرپرستوں کے ہاتھوں سیاست میں وارد ہونے سے لے کر پچھلے تینتالیس سالوں میں جس طرح یہ موصوف جمہوری آدرشوں کی بیخ کنی کا مرتکب ہوتے رہے ہیں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ 1988 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کے ایماء پر پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے آئی جے آئی جیسا غیر فطری اتحاد کھڑا کیا۔
بینظیر کے پھر بھی جیتنے کے بعد اس کو ہٹانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پہ ان کی حکومت کے خلاف ہر غیر جمہوری سرگرمی کا حصہ بنے۔ حتی کہ 1990 میں بینظیر کو ہٹانے کے لیے اسامہ بن لادن تک سے پیسے لے کے اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے۔ اس میں پھر بھی جب ناکامی ہوئی تو 1990 میں صدر غلام اسحاق خان سے طاقتور حلقوں کے اشارے پہ ساز باز کر کے بینظیر حکومت کو برسر اقتدار آنے کے صرف اٹھارہ ماہ بعد آئین کے آرٹیکل 58 بی 2 کے ذریعے تحلیل کروایا۔
پھر خود ایک دھاندلی سے بھرپور الیکشن کے ذریعے برسر اقتدار آئے۔ لیکن صرف ڈھائی سال بعد صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے اپنی اسمبلیاں تحلیل کروا بیٹھے۔ 1996 میں ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پہ بینظیر کو ہٹانے کے لئے پیپلز پارٹی کے اپنے صدر فاروق لغاری کو اگلی ٹرم کی صدارت کا لالچ دے کر بے نظیر کی حکومت کو آرٹیکل 58 بی 2 کے تحت وزارت عظمی سے دوسری دفعہ ہٹوایا۔ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے دو تہائی اکثریت سے کامیابی کے بعد آئین میں تیرہویں اور چودہویں ترمیم کے ذریعے من مانی ترامیم کر کے امیر المومنین بننے کے خواب دیکھنے شروع کیے ۔
لیکن اقتدار میں آنے کے کچھ عرصہ بعد آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے ایک متنازعہ بیان پہ استعفے لیا اور پھر صدر فاروق لغاری کو بھی صدارت چھوڑنے پہ مجبور کیا۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو اپنے خلاف کیسز کھولنے پہ عدالت کے اندر اپنے من پسند ججز کے ذریعے ہٹا کے گھر کا راستہ دکھایا۔ 1999 اپنی دوسری حکومت میں اپنے ہی لائے ہوئے آرمی چیف جنرل مشرف کو اس کی غیر موجودگی میں، جب وہ ملک سے باہر تھے عہدے سے ہٹا کے اپنے من پسند آرمی چیف ضیاء الدین کو لے آئے۔
پھر فوجی بغاوت کی صورت میں اپنے عہدے سے محروم ہوکے جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ آٹھ سال باہر بیٹھ کر دوبارہ برسر اقتدار آنے صورت میں، سویلین سپریمیسی، اسٹیبلشمنٹ کی کسی ڈکٹیشن کو قبول نہ کرنے، اور ان کی جماعت سے ٹوٹے ہوئے اراکین کو جو اسٹیبلشمنٹ کے چھتری تلے ق لیگ میں شامل ہو گئے تھے کسی صورت بھی واپس نہ لینے کے عزائم ظاہر کرتے رہے۔ اس کے لئے اس نے اپنی مخالف محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ساتھ 2006 میں ایک 35 نکاتی چارٹر آف ڈیموکریسی پہ دستخط بھی کیے لیکن 2024 کے الیکشن میں عمران خان کی واضح کامیابی کو روکنے کے لئے جس طرح اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے بھائی اور بیٹی کے ذریعے ساز باز کر کے اپنی جلا وطنی اور نا اہلی ختم کروائی۔ الیکشن میں بدترین دھاندلی کے ذریعے تحریک انصاف کا راستہ روک کے اپنی جماعت کو فارم 47 کے ذریعے فاتح قرار دلوایا، اس نے نواز شریف کی سیاست پہ کاری ضرب لگا دی ہے اور مستقبل کی سیاست میں اس کے کسی ممکنہ کردار کے چانسز کو بالکل معدوم کر دیا ہے۔

