نعت نجات: سجاد حیدر، تجلیوں کی دھنک


حضورِ اقدس کی ذاتِ مبارکہ کے اوصاف اعمال کا تذکرہ نعت کہلاتا ہے۔ نعت لفظ اپنی بنیاد میں تعریف ہے، تاہم اصطلاح بن کر اس لفظ کا تعلق حضرت محمد کی تعریف سے جڑ گیا ہے اور یوں اس لفظ کا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک عظیم الشان شخصیت کی تعریف کے لیے منتخب ہو گیا ہے۔ نعت روایت اپنی زمانوی حدود و قیود سے آنحضرت سے ہی آغاز لیتی ہے۔ چوں کہ ہمارے یہاں ادب عربی فارسی ادب کی مرہونِ منت ہے۔ اس لیے ہمارے یہاں فکری اور فنی معیارات وہیں سے متعین ہوتے ہیں۔

اردو ادب ان دونوں کے مقابلے میں تازہ اور نو عمر شے ہے۔ اس لیے اس میں ہیئت کے نمونے ان دونوں کے طے کردہ میسر آئے ہیں۔ قصیدہ صنف (عربی) اور غزلیہ صنف (فارسی) میں ڈھلا تو قصیدے کی تشبیب سے ایک ہیئت برامد ہوئی جو غزل کہلائی۔ اس میں حیرت کشا بات یہ تھی کہ مضمون کی رنگا رنگی بدرجہ اتم داخلِ صنفِ سخن ہو گئی تھی۔ ہیئت کے اعتبار سے موجودہ اردو نعت نے بہت سے رنگ دیکھے لیکن غزل کی ہیئت سب سے با اثر اور پر زور رہی۔

ہیئت کے اعتبار سے ان دونوں مصرعوں پر مبنی انتظامی ڈھانچے میں زمین و آسمان کے مضامین کو گنجایش مل گئی اور پھر اسی ہیئت کی برتری میں مختلف اصنافِ سخن کے نمونے تخلیق ہونے لگے۔ یہ بات بہت حد تک جامعیت رکھتی ہے کہ ہماری مذہبی شاعری ( حمد، نعت، مرثیہ) میں فارسی غزل کی ہیئت مکمل طور پر اثر انداز نظر آتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہم نے نعت کے لیے دوسری ہیئتوں کا انتخاب نہیں کیا گیا لیکن اس میں اثر پذیری غزلیہ ہیئت کے دامن میں رہ گئی اور مستحکم ہوتی چلی گئی۔

یہ سبب ہے کہ ہماری موجودہ مذہبی شاعری میں ہیئتِ غزل کا استعمال غیر محسوس طریقے سے داخلِ سخن ہو گیا۔ ذرا بھی حیرت نہیں ہوتی کہ اس صنفِ سخن کے لیے کسی دوسری ہیئت کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا۔ اس پر ایک جامع اور مفصل ڈاکٹریٹ کا مقالہ ”اردو نعت کا ہیئتی مطالعہ“ ڈاکٹر افضال احمد انور کے قلم سے سامنے آ چکا ہے۔ جس میں درج ہے کہ نعت کے مضامین کی ترجمانی کے لیے ہیئت کا کوئی گوشہ خالی نہیں رہ گیا، قریباً تمام ہیئتیں اس متبرک ماحول سے مستفیض ہو چکی ہیں۔

تا ہم انتخابِ ہیئت جو خاص طور پر شعرا کے ہاں مقبول و منظور رہی، وہ غزل کی ہیئت ہے۔ اسی صورتِ حال میں ڈھلی شاعری سجاد حیدر کی کتاب ”تجلیوں کی دھنک“ کے نام سے 2022 ء میں مثال پبلشرز نے شائع کی۔ سجاد حیدر نے بہت محبت سے اس کتاب کا اہتمام کیا ہے۔ یہ بات امر سے واضح ہے کہ اس کتاب کا انتساب ”سرکارِ ختمَ مرتب حضرت محمد مصطفیٰ کے اول نعت نگار کے نام“ کیا ہے۔ یہ کتاب 13 حمدوں اور 79 نعتوں پر مشتمل ہے۔ سجاد حیدر بارگاہِ رسولِ مکرم اور بارگاہِ خانوادہِ رسولِ مکرم کے مداح خواں ہیں۔ اس لیے ان کے نعتیہ اشعار کی تکمیلی و تشکیلی ساخت آنحضرت کے پیاروں کی تعریف سے تعبیر ہے۔ سجاد حیدر بہت سنبھلے ہوئے ہنر آمادہ اندازِ شعر گوئی سے میدانِ نعت میں نمودار ہوئے ہیں۔ شاعر دونوں اعتبار سے یعنی فکری اور فنی معیارات سے واقف ہے اس کا سبب یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے نعت کے بارے میں لفظِ تنقید کا سوچنا بھی عیب کی حد تک کی شے تھا۔ تاہم آج کے زمانے میں اس مقدس صنفِ سخن کے انتظامات و احتیاط میں جو شے داخل ہوئی ہے وہ تنقید ہی ہے جس نے مناصبِ ذات کا تعین کیا اور نئے اور پرانے لکھاریوں کو روش آمادہ کیا کہ نعت کے صحیح مشمولات کیا ہیں۔ شمائل و خصائص و متعلقات نعت کیا ہیں۔ فکرِ قرآن اور نسبتِ احادیث کیا ارشاد فرما ہیں اور کس قسم کے مدارج نعت کی اصل ہیں اور کیا اس میں کم زیادہ ہے یعنی

بخدا دیوانہ باشد با محمد ہوشیار

یہی سبب ہے کہ آج کی نعتیہ شاعری جس بھی بنیادی ماخذ سے لی جاتی ہے۔ اس کی سند شاملِ نعت ہو جاتی ہے یعنی شاعر قرآن سے اکتسابِ علم کرے، حدیث سے حصولِ رزقِ سخن کرے یا متصوفانہ ادراک سے تحریکِ شعرِ نعت لے۔ اسے ”با محمد ہوشیار“ رہنا ہو گا۔ یہ بہت نازک صنفِ سخن ہے جہاں ذرا سی کمی گستاخی اور ذرا سی زیادتی مائل بہ ستم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حمد میں یہ صورتِ حال بالکل مختلف ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ ”بخدا دیوانہ باشد“ سجاد حیدر کی تجلیوں کی دھنک بخدا دیوانہ باشد کے نمونے بھی ہیں، با محمد ہوشیار کے اعلا شعری نمونے سامنے آتے ہیں۔ یعنی حمد و نعت سے مزین اس کتاب میں سجاد حیدر نے رنگِ علم و ہنر سے متبرک ماحول بنا رکھا ہے۔ ڈاکٹر ریاض مجید کا ایک شعر ملاحظہ ہو :

پسِ ہر پردۂ توصیف یا رب تو نکلتا ہے
نبی کی نعت میں بھی حمد کا پہلو نکلتا ہے

سجاد حیدر بھی کچھ یوں ہی توحید پر قلم فرسا ہیں :
رسولِ پاک پر درود اور سلام حمد ہے
یہ نعت اور یہ منقبت کا اہتمام حمد ہے
یہ بزمِ نعت میں آ کر لگا ہے
کہ جیسے میں دیارِ حمد میں ہوں

اللہ تعالیٰ کی صفات کا شمار کرنا انسانی عقل سے باہر ہے۔ الغرض خالقِ کل کے بارے میں انسانی عقل جتنا بھی اڑ لے بلا آخر اس کی پرواز اس لا محدود کو نہیں پہنچ سکتی۔ انسان اپنے تئیں یہ ضرور کہ سکتا ہے کہ مالک تو ستار ہے اور عیب چھپاتا ہے۔ آسان انداز میں مضمون ملاحظہ ہو :

میرے سارے عیبوں پر
تیری چپ کا پر دہ ہے

شاعر حمد اور نعت کے مزاج سے واقف ہے اور اسی لیے یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے :
نور کو نور سے ملانا ہے
حمد سے نعت کو سجانا ہے

نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں :
مہکے گی مری شام میں اب رات کی رانی
آنگن میں مرے نعت کوئی پڑھنے لگا ہے
ان کے احکام سے غفلت نہ ہو، سجاد کبھی
تیرا ہر پل ہو اطاعت کی نگہبانی میں
عشقِ احمد کی تجلی سے ہمیں درک ہوا
کیسے وہ ذاتِ علیٰ ہم پر کرم کرتی ہے
مری تسکین کا رستہ نکالیں
مرے مولا مجھے طیبہ بلا لے
کھولا ہے میں نے نعت کا دیوان یا نبی
یعنی ہے مرے سامنے قرآن یا نبی
یہ سب کرم آپ کے خوش رنگ ذکر کا
آباد ہو گیا دلِ ویران یا نبی

سجاد حیدر کے شعری آہنگ میں لفظیات، روانی اور نئے اندازِ شعر گوئی کا سلیقہ ہے۔ چھوٹی بڑی بحروں میں مضامیں نبھائے۔ فکری اور فنی اعتبار سے سجاد حیدر نے اپنے پہلے مجموعۂ کلام میں پختہ کار ہونے کے شواہد پیش کیے ہیں۔ سجاد حیدر کے کچھ اور نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں :

بحرِ عرفاں میں بدل دے موجِ نامعلوم کو
بوند کو کر دے سمندر آپ کا لطف و کرم
عشق کا مصلیٰ ہے، دل جسے سمجھتے ہو
عشق کے مصلے پر ہر نفس عبادت ہے

سجاد حیدر کی کتاب ”تجلیوں کی دھنک“ اپنے نام کے اعتبار سے بالکل رنگوں سے بھری ہوئی شفق آمادہ عشقیہ داستان ہے۔ جس میں حضرت محمد، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت فاطمہ، حضرت خدیجہ کا ذکر شعری پیکر میں ڈھلا اور اپنی محبت کو صفحۂ قرطاس پر لایا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ سجاد حیدر کی کتاب نعتیہ ادب میں ایک اچھا اضافہ ہے اور مبارک باد کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پرورد گار ِ کون و مکاں اسی طرح ان کی عقیدت اور رزقِ سخن میں وسعتیں عطا فرمائے۔ ان ہی کے ایک شعر پر اختتام کرتا ہوں

ثنا کی ڈوری میں کب ہیں موتی زمین والے
یہ عرشیوں کی دکاں سے گوہر ملے ہیں مجھ کو

Facebook Comments HS