ٹیکس گردی: ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے


ٹیکس دینا ہر شہری کا فرض ہے۔ ملکی مالی معاملات اس کے بغیر چلانا ممکن نہیں۔ پاکستان میں صرف ٹیکس گردی ہے دنیا میں ٹیکس لے کر حکومتیں اپنے شہریوں کو سہولیات دیتی ہیں۔ لیکن یہاں کسی ایک سہولت کا نام ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ پاکستانیوں میں تحمل اور برداشت باقی ہی نہیں بچا، خوشی کے موقع پر بھی ناخوش اور اضمحلال کا شکار خودکشیاں اور ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اس کے اسباب میں، ماحولیاتی تبدیلی، خاندانی نظام کی شکست و ریخت، معاشرے میں خواہ مخواہ کی مسابقت دوڑ، والدین کی عدم توجہی، بے جا نمود و نمائش وغیرہ۔ وجوہات انفرادی ہوں یا اجتماعی زندگی بوجھ بن گئی ہے، ہر فرد لاینحل مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ دوسروں کی نقالی اور شارٹ کٹ نے کسی کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

آئی ایم ایف کے اشارے پر حکمرانوں نے جس طرح بے دریغ ٹیکسوں کا نفاذ کیا ہے اس میں ڈھونڈ نے سے بھی وہ چیزیں نہیں ملتیں جو عوام کو متاثر کرنے والی نہ ہوں۔ قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظوری کر لیا جس کا نفاذ یکم جولائی سے ہو چکا، جانوروں کی کھل اور دیگر سولڈ باقیات سمیت دکانوں پر فروخت کی جا نے والی سویاں، شیر مال، بن اور رس سمیت پولٹری اور مویشی فیڈ، سورج مکھی کے بیج سے تیار خوراک پر بھی 10 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ 500 ڈالر سے کم قیمت اور 18 ڈالر سے زائد کے درآمدی موبائل پر 18 اور 25 فیصد، موبائل کے پرزہ جات کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے، بیٹریاں تیار کرنے والے رجسٹرڈ افراد پر 75 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد، رجسٹرڈ افراد کے لئے سیمنٹ کی تیاری میں استعمال جپسم کی سپلائی پر 80 فیصد، کوئلہ کی سپلائی، پیپر بورڈ اور ویسٹ پیپر کی سپلائی پر بھی 80 فیصد، پلاسٹک ویسٹ، کرش سٹون کی سپلائی پر بھی 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ ہربل اور ہومیو پیتھک ادویات پر ٹیکس رعایت ختم کر دی گئی۔ نزلہ، زکام اور کھانسی کے جوشاندے، ہربل معجون، مربے اور سفوف، مختلف ہربل شربت اور گولیوں، ہومیو پیتھک کی سینکڑوں ادویات سمیت ہومیو پیتھک کے تمام شربت اور کریم پر سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ ٹیکس فراڈ اور ٹیکس چوروں کو جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون بھی منظور کر لیا گیا۔ جو 25 ہزار روپے یا چوری شدہ ٹیکس کے برابر ہو گا۔ 50 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری یا فراڈ پر 5 سال اور ایک ارب جرمانے کے ساتھ 20 سال قید کی سزا ہوگی۔ عام آدمی تو درکنار بچے ٹافی خرید نے پر بھی ٹیکس دیتے ہیں، سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز مرحوم نے سرچارچ لگایا تو لوگوں نے اس کا نام سرچارچ عزیز رکھ دیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں چینی کی قیمت بڑھی تو لوگوں نے انہیں چینی چور کہا، اسحاق ڈار کے دور میں ڈالر کی قیمت بڑھی تو لوگوں نے ان کو اسحاق ڈالر پکارنا شروع کر دیا، موجودہ مشیر خزانہ، اگر عوام اور پاکستان کے نمائندے ہوتے تو آئی ایم ایف کے لئے قرض کی واپسی کے لئے ہی خدمات نہ انجام دے رہے ہوتے، بلکہ عوام کو بھی ریلیف دیتے ایک عام آدمی جو پہلے ہی نان جویں کا محتاج ہو آ خر وہ کیسے یہ سب کچھ برداشت کرسکے گا، ان حالات میں عوام کیسے خوش رہ سکتے ہیں، اس کے لیے انسان کی بنیادی ضروریات پورا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

معاشرے میں قتل و غارت راہزنی اور سٹریٹ کرائم میں آئے روز اضافہ، اور لوٹ مار پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں جینے کا سامان کیسے ہو۔ حکمرانوں نے حکومت چلانی ہے چاہے کسی کی چمڑی ادھڑتی ہے تو ادھڑتی رہے۔ ایسے ہی حالات میں عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو تا ہے اور وہ ایوانوں کا رخ کرتے ہیں کینیا اور سری لنکا سے ہمارے حالات زیادہ مختلف نہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ 5000 سے 6000 ارب روپے کا ٹیکس چوری ہو رہا ہے۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ ٹیکس چوری کو روکنے کے بجائے غریب طبقے پر ٹیکس کا مزید بوجھ ڈال دیا جائے جو پہلے ہی ٹیکس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

یہاں صرف تنخواہ داروں کو ہر سال نچوڑا جاتا ہے۔ پاکستان میں دنیا میں سب سے کم اجرت دی جاتی ہے اور ان سے سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ تنخواہ کے علاوہ اسی سے ہر ہر قدم اور کام پر ٹیکس دوبارہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایک کنبے کے لیے آٹا، گھی، چاول، چائے اور دودھ خریدنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس پر یہ غریب ان ساری چیزوں پر 18 فیصد ٹیکس بھی دیتا ہے۔ بنکوں کو نوازنے کے لیے شرح سود دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس ملک میں سب کچھ تباہی کے دھانے پر ہے مگر بنکوں کی سالانہ آمدنی اربوں کھربوں میں ہے۔ پاکستان میں تنخواہ پر ٹیکس، بجلی کے بل پر سات اقسام کے ٹیکس، گیس کے بل میں تین مختلف ٹیکس، میٹر مکمل قیمت کی ادائیگی کے باوجود، ہر ماہ اس کا کرایہ، ، موبائل کارڈ لوڈ پر 30 فیصد، ٹیلی فون بل پر ٹیکس، دودھ سے دوائی تک ہر چیز پر 18 فیصد ٹیکس، ریسٹورنٹ سے کھانے پر مختلف ٹیکس، پیٹرول یا ڈیزل پر 100 فیصد سے زیادہ، گاڑی خرید داری پر 150 فیصد، زمین یا مکان کی خریداری پر 20 سے 25 فیصد، سڑکوں پر سفر کے بدلے ہوش رُبا ٹیکس، ہوائی جہاز میں سفر پر 100 فیصد سے زیادہ ٹیکس، والد فوت ہو جانے پر جائیداد کی تقیسم پر بھی ٹیکس لازم ہے گویا ایک سرکاری ملازم جو تنخواہ لیتا ہے اس میں سے سارا ٹیکس تنخواہ دینے سے پہلے ہی کاٹ لیا جاتا ہے اور باقی تنخواہ کا نصف سے زیادہ بالواسطہ ٹیکسوں سے ہتھیا لیا جاتا ہے۔ ہر برس کے بجٹ میں ٹیکس سلیب بڑھا نے سے یہ طبقہ فاقوں پر مجبور ہو گیا ہے۔

اس ملک میں ٹیکس اشرافیہ کے شاہانہ خرچے اور عیاشیاں پورے کرنے کے لئے لیا جاتا ہے۔ غریبوں سے ٹیکس لے کر اشرافیہ کو مراعات فراہم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ اس ملک کا ٹیکس دینے والا یہ سوال بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے ٹیکس سے خریدی گئیں لاکھوں قیمتی گاڑیاں اور ان میں استعمال ہونے والا اربوں کا ایندھن اشرافیہ کیوں استعمال کر رہی ہے؟ ان کے گھر، جائیدادیں، بچے اور اثاثے ملک سے باہر ہیں۔ اور وہ شہری جن کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے ان کی کھال ان کے لیے کھینچی جاتی ہے۔ اگر ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں تو اشرافیہ کی مراعات اور اخراجات اور سبسڈیز کیوں ختم نہیں کی جاتیں، خسارے کا سبب بننے والے ادارے ختم کرنے میں کیا مشکلات ہیں۔ مخصوص طبقات کو ہزاروں گنا زیادہ تنخواہ، ٹیکسوں میں چھوٹ اور مراعات کیوں دی جا رہی ہیں۔ سمگلنگ اور شرح سود کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جاتا، مقامی طور پر صنعتیں اور کارخانے لگانے کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کی جاتی، مہنگی بجلی بنانے کے ساتھ اپنے فرنٹ مینوں کو بجلی پیدا نہ کرنے کے عوض چارجز کے نام پر سالانہ ہزاروں اربوں روٹ کیوں ادا کیے جاتے ہیں، اپنی چینی ملوں کو سبسڈیاں کیوں دی جاتی ہیں، ویلفیئر اور چیریٹی کے نام پر افراد اور اداروں کو کھربوں روپے کے ٹیکس کیوں معاف کیے جاتے ہیں۔ انسان بغیر مذہب، بغیر شناخت رہ سکتا ہے مگر وہ بھوکا نہیں رہ سکتا۔ جب اس کو دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کے کپڑے تک اُتار لیے جائیں، اور رزق تک چھین لیا جائے تو وہ ردعمل میں سب کچھ برباد کرنے پر تل جاتا ہے۔ اس ملک میں ایسا ہونے کا انتظار نہ کیا جائے۔ تاجروں، سرمایہ داروں، بڑے زمینداروں اور صاحب حیثیتوں سے جائز ٹیکس وصول کیا جائے۔ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ کسی کو کوئی چھوٹ یا رعایت نہ دی جائے۔ کام کے عوض دی جانے والی رقم سے جس بے دردی کے ساتھ حکومت براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس کاٹ رہی ہے اس کو بند کیا جائے اور ٹیکس کی رقم سے پاکستان کی تعمیر کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر موپ جسٹس کا انتظار کیا جائے۔ جو تباہی کا راستہ ہے۔

Facebook Comments HS