دوسرا گھر
”رات کو کہاں سوو گے؟“ ہفتے کے روز امی نے میرے بال بناتے ہوئے پوچھا۔ ”دوسرے گھر!“ میں نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا۔ گویا یہ کسی ان لکھے مگر پیشگی طے شدہ ضابطے کا حصہ تھا کہ ہفتے کے دن اگر امی وہ سوال کریں تو اس کا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں بنتا۔ جبکہ اگلے روز اتوار ہو اور چھٹی ہو۔ اس جواب کے لئے ہرگز کسی سوچ بچار کی ضرورت نہیں تھی: ”دوسرے گھر۔“
دراصل ہم کچھ روز قبل ہی پرانے گھر سے نئے گھر منتقل ہوئے تھے۔ پچھلے ہفتے جب امی نے یہ سوال کیا تھا تو میں نے یہی جواب دیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ پچھلے ہفتے دوسرا گھر نئے والا گھر تھا۔ اس روز پرانا گھر دوسرا گھر بن گیا تھا! بس ہفتے کے روز دوسرے گھر جانا لازمی تھا۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ دوسرا گھر کون سا تھا۔
چند دنوں میں میرا گھر بدل گیا تھا۔ پہلا گھر دوسرا اور دوسرا گھر پہلا بن گیا تھا۔ میرا قبلہ ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شاید جلد یا بدیر ہمیں پہلا گھر چھوڑنا ہوتا ہے۔ لیکن پہلا گھر ہمارے دل سے کبھی دور نہیں ہوتا!
ہم گھر کیوں بدلتے ہیں؟ گھر کے افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ وہ سب کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا۔ سو ہمیں خاندان کو بانٹنا پڑتا ہے۔ اور کچھ افراد دوسرے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔ یا ہم تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ یا گھر خستہ حالت میں پہنچ کر منہدم ہو جاتا ہے۔
گھر کی افزائش ہمارے جسم اور کنبے کی طرح کیوں نہیں ہو سکتی؟ وقت کے ساتھ ساتھ گھر کی جسامت میں اضافہ ہو اور کمروں کی تعداد بڑھتی رہے۔ جب ہم کہیں جائیں تو گھر بھی ہمارے ہمراہ ہو۔ اور گھر آخر مرتا کیوں ہے؟ وہ تو ایک بے جان شے ہے نا۔ پھر گھر کی موت کیوں واقع ہوتی ہے؟ کیا کوئی ایسا آب حیات ہے جسے پی کر گھر زندہ جاوید رہے؟
اور ہمارا معاملہ یہ تھا کہ پہلے ہم سب پرانے گھر میں رہتے تھے۔ پھر چچا کی فیملی نئے گھر میں منتقل ہوئی جو پرانے گھر کے مقابلے میں بڑا تھا۔ پھر ہم بھی نئے گھر میں آ گئے۔ پرانے گھر میں بس تایا ابو کی فیملی رہ گئی۔ ادھر دل کا بھی عجیب قصہ تھا۔ اس نے بھی راتوں رات تفریح کا پیمانہ بدل لیا۔
جب میں پرانے گھر میں تھا تو ہفتے کے روز اس لیے دوسرے گھر جاتا تھا کہ وہاں چچا کے ٹیپ ریکارڈر پر ”گھونگھٹ کی آڑ سے دلبر کا دیدار ادھورا رہتا ہے“ اور ”گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ“ سننا ہوتا تھا۔ اور نئے گھر کی بڑی چھت پر چھٹی کے دن کرکٹ کھیلنی ہوتی تھی۔ اور جب نئے گھر آیا تو دوسرے گھر میں کتابوں، مصوری اور ٹی وی ڈراموں میں کشش محسوس ہونے لگی۔
میرا معمول اب یہ بن گیا۔ میں صبح سویرے نئے گھر سے سکول کے لیے نکلتا۔ رستے میں دوسرے گھر سے اپنے کزنوں کو ساتھ ملا کر سکول پہنچتا۔ سکول سے واپسی پر دوسرے گھر دوپہر کا کھانا کھاتا اور آرام کرتا۔ ان دنوں میں نے بستر پر لیٹے لیٹے ڈیل کارنیگی کی ”انتالیس بڑے آدمی“ اور ”رابطہ“ میگزین کے پرانے شماروں کا مطالعہ کیا۔ پھر شام کو ٹیوشن چلا جاتا۔ رات کو واپس نئے گھر آتا۔ رات کا کھانا کھاتا اور سو جاتا۔ میرا بچپن ان دو گھروں کے بیچ بٹا ہوا تھا۔
کچھ عرصے بعد ٹیوشن ختم ہو گئی۔ میرا وہ وقت بھی دوسرے گھر گزرنے لگا۔ مطالعہ بھی نئی اڑائیں بھرنے لگا۔ ”اردو ادب کی مختصر تاریخ،“ ”فرعون کی آپ بیتی“ اور ”پکاسو“ انہی دنوں کی یادگار ہیں۔ پھر میں نے مصوری سے بھی دو دو ہاتھ کیے۔ کبھی سکیچنگ، کبھی واٹر کلر اور کبھی خطاطی، یہ سب دوسرے گھر میں رہنے کے ہی بہانے تھے۔ ہفتے کی رات ہم سب کزن مل کر ٹی وی پر ہارر ڈرامہ اور ایڈونچر مووی دیکھتے۔
ایک روز میں رات کو دیر سے نئے گھر پہنچا تو وہ مجھ سے کچھ روٹھا روٹھا محسوس ہوا۔ گویا مجھ سے شکایت کر رہا ہو کہ آج کل میں اسے وقت نہیں دے رہا۔ سارا دن میں دوسرے گھر گزار دیتا ہوں۔ صبح کا نکلا میں رات کو بس سونے آتا ہوں۔ بات اس کی بجا تھی۔ میں نئے گھر کو نظر انداز کر رہا تھا۔ مجھے لگا کہ دونوں گھروں کی آپس میں رقابت چل رہی تھی۔
میں نے دونوں گھروں کے بیچ کچھ انصاف قائم کرنے کی کوشش کی۔ کچھ شامیں میں نئے گھر کی چھت پر کرکٹ کھیلنے، پتنگیں لوٹنے اور غول در غول اڑتے کبوتروں کو دیکھنے میں گزارنے لگا۔ رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ پہلے اور دوسرے گھر کی درجہ بندی غیر ضروری تھی۔ میں بھولنے لگا کہ کون سا گھر پہلا تھا اور کون سا دوسرا۔ دونوں گھر میرے تھے۔ بلکہ گھر تو ایک تھا۔ میرا وجود دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔
اس کھینچا تانی میں مجھ سے وہ دونوں گھر چھوٹ گئے! میں نے اعلی تعلیم کی غرض سے بڑے شہر کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ گھر والے جب مجھے بس ٹرمینل پر الوداع کہنے آئے تو ایسا لگا کہ دونوں گھر بھی وہاں موجود تھے۔ آج وہ ساتھ ساتھ تھے۔ ان میں باہم سلوک نظر آ رہا تھا۔ گویا پکار رہے تھے کہ میں وہ شہر چھوڑ کر نہ جاؤں۔ بھلے ان میں سے کسی بھی گھر میں رہنے کا انتخاب کر لوں۔ دوسرا شکایت نہیں کرے گا۔ لیکن مجھے جانا تھا اور میں چلا گیا۔ کہ مقدر کی ہجرتوں کو کون روک سکتا ہے!
میں نے نئے شہر میں کئی عارضی ٹھکانے بدلے۔ نئے شہر نے پوری طرح مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ میں مڑ کے پھر اپنے دو گھروں کی طرف نہ لوٹ سکا۔ مجھ تک اپنوں اور بیگانوں سے ان کی خبریں پہنچتیں رہیں۔ نئے گھر کے اور بھی بہت سے مکین میری طرح وہاں سے چلے گئے۔ اب وہ گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اور ہر خوشی غمی کے موقع پر اپنے پرانے مکینوں کی راہ دیکھتا تھا۔
دوسرا گھر غیروں کے ہاتھوں فروخت ہو گیا۔ اس کی خستہ حالت کو دیکھتے ہوئے نئے مالکان نے اسے گرانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس خبر کے ساتھ دل بھی پاش پاش ہو گیا۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ اس گھر سے کسی کے کیا جذبات وابستہ تھے۔ گھر والوں نے تو گھر کی فقط زمین بیچی تھی۔ ان کے ذہنوں میں گھر کی یادیں ابھی تک استوار تھیں۔ ان بنیادوں کو کوئی نہیں ہلا سکتا تھا!


