عابد جنجوعہ: پوٹھوہاری گیت نگاری کا اہم نام


1983 ء میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں پنجابی پوٹھوہاری ادبی پروگرام ”پنجاب رنگ“ کے لئے پنجابی مشاعرے کی ریکارڈنگ ہوئی جس کے میزبان اختر امام رضوی اور پروڈیوسر شاہد اختر چک تھے، شعرا میں سید ضمیر جعفری، جلیل عالی، دلپذیر شاد، امداد ہمدانی، ماجد صدیقی، ڈاکٹر سعد اللہ کلیم، عابد جعفری، رشیدہ سلیم سیمیں، فضل الٰہی بہار، الطاف پرواز اور عابد حسین جنجوعہ تھے، مشاعرے میں ایک نوجوان نے پہلی بار شرکت کی اور اپنی پہلی پنجابی غزل پیش کی، مشاعرے کی ریکارڈنگ کے بعد جب تمام شعراء جا چکے تو اختر امام رضوی نے اس نوجوان شاعر کو اپنے کمرے میں روک لیا اور محبت بھرا گلہ کرنے کے انداز میں کہا کہ ”یہاں پنڈی اسلام آباد میں پنجابی لکھنے والے بہت ہیں، پوٹھوہاری صرف دلپذیر شاد ہی لکھتے ہیں، پنڈی کے پنجابی لکھنے والے دوستوں سے میں کچھ نہ کچھ پوٹھوہاری میں لکھوا لیتا ہوں، آپ مستقل بنیادوں پر پوٹھوہاری لکھیں تاکہ دلپذیر شاد کے ساتھ ایک اور بندے کا اضافہ ہو جائے“ ۔ یہ نوجوان شاعر عابد حسین جنجوعہ تھے جنہوں نے بعد میں دلپذیر شاد اور نثار ناز ٹکالی کی رہنمائی میں پوٹھوہاری زبان و ادب کے لئے بے بہا کام کیا۔

عابد حسین جنجوعہ کی پنجابی اور اردو شاعری پر گفتگو پھر کسی موقع پر چھوڑ رکھتے ہیں، میری دلچسپی ان کی پوٹھوہاری شعر و ادب کے لئے خدمات تک مرکوز ہے، عابد حسین جنجوعہ 04 اپریل 1962 ء کو موہڑہ پیرو والاموضع ڈریال، ڈاکخانہ درکالی معموری، تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے، آج کل ڈھوک صابری پنڈی روڈ کلر سیداں میں رہائش پذیر ہیں۔ گورنمنٹ مڈل سکول مرزا کمبیلی تحصیل گوجر خان سے 1976 ء میں مڈل، گورنمنٹ ہائی سکول کلر سیداں سے 1978 ء میں میٹرک، گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کلر سیداں سے 1985 میں ایف اے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے 1990 میں بی اے، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 1995 میں ایم اے مطالعہ پاکستان کیا۔

گورنمنٹ مڈل سکول مرزا کمبیلی میں دوران تعلیم سکول لائبریری کا انچارج بنایا گیا تو کتب بینی اور ادب کا شوق پیدا ہوا، 1979 ء میں کالج دور میں باقاعدہ شاعری کا آغاز پوٹھوہاری بیت سے کیا، بعد ازاں اردو، پنجابی اور پوٹھوہاری میں حمد، نعت، مناقب، غزل، نظم اور گیت نگاری کی، سینئر صحافی اکرام الحق قریشی کی سربراہی میں انجمن صحافیاں کلر سیداں میں شمولیت اختیار کی اور انجمن کے ہی ایک اجلاس میں پہلی اردو غزل پیش کی جہاں بہت حوصلہ افزائی کی گئی۔

حلقہ احباب سخن کلر سیداں اور پوٹھوہاری ادبی سنگت کلر سیداں میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت کے خطہ پوٹھوہار کے معروف شاعر دلپذیر شاد، نثار ناز ٹکالی، نجمی صدیقی اور آرزو انبالوی نے حوصلہ افزائی کی۔ بزم شعراء پوٹھوہار بیول کے مشاعروں میں نثار ناز ٹکالی کے ساتھ شرکت کرتے، نثار نازٹکالی نے "پوٹھوہار رنگ“ کے نام سے بیت کا انتخاب شائع کیا جس میں پوٹھوہار کے شعرا کا کلام شامل تھا۔ راولپنڈی آئے تو ، علی اصغر ثمر کی بزم احباب قلم میں شامل ہو گئے، سرور انبالوی کی گلزار ادب راولپنڈی کے زیر اہتمام طرحی مشاعروں، ادارہ ادب و ثقافت اسلام آباد میں طارق شاہد اور الطاف پرواز کے ہمراہ علاقائی زبانوں کے مشاعروں میں شرکت کی، سی ڈی اے آڈیٹوریم میں ماہانہ مشاعروں میں پوٹھوہاری کلام پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

کل پاکستان مشاعروں میں کوئٹہ، لاہور، کراچی، پشاور، ایبٹ آباد اور چکوال بطور شاعر شرکت بھی کی۔ حلقہ احباب سخن اور پوٹھوہاری ادبی سنگت کلر سیداں کے بھی عہدیدار رہے۔ 1980 میں تنویر احمد راجہ سے مل کر بزم نوائے ادب کلر سیداں قائم کی بعد میں عظمت مغل اور یاسر کیانی بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ کلر سیداں سے ادبی پرچہ تنویر کے نام سے جاری کیا جس کے 7 شمارے شائع کیے۔ جن میں اردو پنجابی پوٹھوہاری تخلیقات شامل ہوتی تھیں۔
تنویر احمد راجہ اور طاہرہ غزل ”تنویر“ کے معاون ایڈیٹر تھے۔1986 ء میں کچھ عرصہ تک روزنامہ حیدر راولپنڈی کے میگزین ایڈیٹر اور ادبی صفحہ کے انچارج بھی رہے۔

19 جنوری 1988 ء میں پاکستان پوسٹ میں بطور کلرک بھرتی ہوئے اور 04 اپریل 2022 کو بطوراسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر راولپنڈی جی پی او پنشن برانچ سے ریٹائر ہوئے۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی اور پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد کے لئے گیت اور ملی نغمے لکھے جو آواز خزانہ میں موجود ہیں، پوٹھوہاری ملی نغمہ ”سوہنڑیں سوہنڑیں چن تہ تاے“ چن پرویز نے گایا اور ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں ملی نغموں کے مقابلے میں 2013 میں دوسرے نمبر پر آیا اور محمود نظامی ہال میں قومی ایوارڈ بھی دیا گیا، پوٹھوہاری گیت ”گل دِلے نی دَس وے ماہیا“ پی ٹی وی کے پروگرام جی آیاں میں ملکہ ہزارہ رافعہ بانو کی آواز میں چلا اور پی ٹی وی کے قومی ایوارڈ کی تقریب میں بھی چلایا گیا۔

جڑواں شہروں اور مضافات کی ادبی تنظیموں ادارہ ادب و ثقافت اسلام آباد، بزم احباب قلم راولپنڈی، بزم فکروسخن راولپنڈی، حلقہ احباب سخن کلر سیداں، پوٹھوہاری ادبی سنگت کلر سیداں، بزم نوائے ادب کلر سیداں، نوائے سحر راولپنڈی اور پوٹھوہاری رائٹرز کلب کے ساتھ منسلک رہے۔

عابدحسین جنجوعہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے ساتھ 1983 سے بطور رائٹر اور میزبان منسلک ہیں، پروگرام و سنے رہن گراں، جمہور نی واز، سوچاں، راول رویل، پوٹھوہار رنگ، وطن کے نوجوان، جواں سال اور ادبی پروگرام ”سخن مشالاں“ میں بطور میزبان کام کر رہے، آج کل و سنے رہن گراں، جمہور نی واز، سخن مشالاں میں کمپئرنگ، قومی پروگرام زرخیز پاکستان کے لئے ڈاکومنٹریز لکھتے اور انٹرویوز کرتے ہیں۔ادبی پروگرام ”سخن مشالاں“ کی 14 سال سے لگاتار میزبانی کر رہے ہیں اور پروگرام میں خطہ پوٹھوہار اور پنجاب کے متعدد شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز اور انہیں متعارف کر و اچکے، پوٹھوہاری نثر کی بات کریں تو عابدحسین جنجوعہ نے ریڈیو اور ٹی وی کے لئے مختلف موضوعات پر ڈاکومینٹریز، پروگرام سکرپٹ، تحقیقی مضامین لکھ رکھے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر اسلام آباد کے پروگراموں پوٹھوہار دیس، سانجھاں، ککراں نی چھام، سنجھالیاں، آزادی میلہ، سنگتاں، جی آیاں میں پوٹھواری کلام پیش کیا۔ پوٹھوہاری ڈرامہ سیریلزپھلاں نی خشبو، دنیا، ماٹی کی گڑیا، ہک سا بھلو، پلیار میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں۔ اب تک ریڈیو پاکستان راولپنڈی، ریڈیو پاکستان اسلام آباد، ریڈیو پاکستان عالمی سروس، ریڈیو پاکستان کوئٹہ، آزاد کشمیر ریڈیو تراڑ کھل، ایف ایم 99.4 پنجاب رنگ ریڈیو راولپنڈی، ایف ایم 88.6 پولیس ریڈیو کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد، اپنا دیس یوکے، کے ٹو ٹی وی سے باقاعدہ پروگرام کر چکے ہیں۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن اور پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر سے ان کی لکھی ہوئی پوٹھوہاری نعتیں، زرعی گیت، ملی نغمے اور رومانوی گیت ٹیلی کاسٹ اور نشر ہوچکے ہیں، باقی صدیقی کے بعد یہ اعزاز عابد حسین جنجوعہ کے حصے میں آیا ہے کہ ان کا سب سے زیادہ پوٹھوہاری کلام ریڈیو، ٹی وی پر نشر اور ٹیلی کاسٹ ہوا ہے،
عابد حسین جنجوعہ نے اتنے پوٹھوہاری گیت لکھ رکھے ہیں کہ ان سے باآسانی ایک کتاب شائع ہو سکتی ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے ان سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ جلد پوٹھوہاری گیتوں کی کتاب بھی منظر عام پر لائیں گے۔ ذیل میں ان کے چند مقبول پوٹھوہاری گیت قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کیے جا رہے ہیں۔

چھلا چیچی پا نی کُڑئیے
دل نیں ویہڑے آ نی کُڑئیے
چھلا چیچی پا نی کُڑئیے
مست بہار نی توں ایں رانڑی
گُت تہاڑی لارے کھانڑی
گیت خوشی نے گا نی کُڑئیے
چھلا چیچی پا نی کُڑئیے
چوری نا توں تھال سجا کے
لسی ہتھاں نال بنا کے
ڈولہ سر تہ چا نی کُڑئیے
چھلا چیچی پا نی کُڑئیے

ایڈا نہ ترسا وے سجنڑاں
راہ تکھنڑیں آں آوے سجنڑاں
تکھ باغاں وچ پھل کھڑ پئے نے
ایہہ ساز دِلاں نیں چھڑ پئے نے
اینویں نہ تڑفا وے سجنڑاں
راہ تکھنڑیں آں آوے سجنڑاں
بتیاں بال کے رکھنڑیں آں میں
اُٹھ اُٹھ راہواں تکھنڑیں آں میں
نہ ہنڑ دیری لاوے سجنڑاں
راہ تکھنڑیں آں آوے سجنڑاں
اکھیاں و چوں اتھرو سُکسنڑ
ہجر نیاں ایہہ راتاں مُکسنڑ
اپنڑیں د ل نی با وے سجنڑاں
راہ تکھنڑیں آں آ وے سجنڑاں

پُھل شونکاں نیں کھڑ پئے سارے
تیلہ نک ناں لشکاں مارے
ایہہ تیلہ میں پنڈیوں آندہ
نالے آندہ لال پراندہ
مست ہوا پئی زلفاں دارے
تیلہ نک ناں لشکاں مارے
ست رنگیاں اج پینگھاں پایاں
سُنڑ کے سب ایہہ سکھیاں آیاں
اُچی پینگھ چڑھی اج لارے
تیلہ نک ناں لشکاں مارے
لاہی کے تیلہ مُڑ مپڑ تکھنڑیں
نال دلے نیں لائی کے رکھنڑیں
جان پیاس تہ ہر کوئی وارے
تیلہ نک ناں لشکاں مارے

گل دِلے نی دَس وے ماہیا
نہ دِل اینویں کھس وے ماہیا
ایڈی کیاں باہی اے دوری
دس ہنڑ کہڑی اے مجبوری
دو کھلی نہ ہس وے ماہیا
گل دِلے نی دَس وے ماہیا
یاری لا کے جانڑاں کہہ آ
دل دے کے پچھتانڑاں کہہ آ
نہ ہنڑ اینویں نس وے ماہیا
گل دِلے نی دَس وے ماہیا
اَکھ وی مہاڑی اَج پھڑکی اے
دل نی کُنڈی وی کھڑکی اے
توں ایں مہاڑا بس وے ماہیا
گل دِلے نی دَس وے ماہیا
کہلیوں کہلیوں بہسیں توں وی
دور کدوں تک رہسیں توں وی
نیڑے ہو کے وس وے ماہیا
گل دِلے نی دَس وے ماہیا

عابد حسین جنجوعہ کی پوٹھوہاری غزلوں میں غم عشق بھی ہے اور غم روزگار بھی، ان کی زیادہ تر غزلوں میں مسائل عشق کو ہی موضوع بنایا گیا ہے، ان کی غزلیں بھی ان کے رومانوی گیتوں کا ہی تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔

کرساں نانہہ انکار، کدے اتبار کرو
مِلساں پَتنوں پار، کدے اتبار کرو
لہنڑ کدے نانہہ، اکھیاں اگے پھرنے پئے
کونجاں نے ایہہ ڈار، کدے اتبار کرو

سجنڑاں خاطر ساہڑے نال بغاڑ پیا
پیار نی گُڈی اَدھ اَسمانے چاڑ پیا
دل نے شیشے اندر ہک ای سَجنڑیں اے
لکھ تصویراں اندر خانے باڑ پیا
حرف دِلے نی تختی اپروں ہٍسنے نہیں
چٹھیاں پیار نیاں توں سجنڑاں پھاڑ پیا
چِکڑے آلی مِٹی عابد چنگی اے
کچیاں کندھاں چَنے چُوکاں چاڑ پیا

آپنڑیں کہھر نا بوہا آپوں دَسنی اے
یاد کُسے نی جس ویلے وی اَسنی اے
باہروں دٍسنے پہانویں سبھے رجّے وے
اندر نی ایہہ پُہکھ کدے نہیں گَسنی اے

پُچھیا نینہ اُس جِچرے توڑی حال یرا
گزرے ڈاہڈے اوکھے مہینے سال یرا
اپنڑیں پھاہی اندر آپوں اُوہ پھسنے
ہوراں خاطر لانڑیں جیہڑے جال یرا

اَکھیاں کُھلسن جِسلے سوہنے یار نیاں
پَیسن اُچیاں پینگاں فیر پیار نیاں
خوف دِلے وچ ایہے اُچّی ڈاری نا
کونجاں وچھڑی گیسنڑ ہکے ڈار نیاں

پکّیاں فصلاں نی رکھوالی کرنے تیں
آڑی اپر باڑ لوانڑیں پینڑیں اے

Facebook Comments HS

فیصل عرفان

فیصل عرفان پوٹھوہاری شاعر، محقق، چار کتابوں کے مولف اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں سب ایڈیٹر ہیں

faisal-irfan-chohan has 16 posts and counting.See all posts by faisal-irfan-chohan